Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

حیا اور پردہ|سمیر احمد فیضی ازہری

حیا اور پردہ: خواتین اور مردوں کی عزت و وقار کا ذریعہ
عنوان: حیا اور پردہ: خواتین اور مردوں کی عزت و وقار کا ذریعہ
تحریر: سمیر احمد فیضی ازہری
پیش کش: فرحین فاطمہ نعمانی
منجانب: جامعہ ازہر شریف، مصر

حیا اور پردہ دینِ اسلام کے نہایت مستحکم اور غیر متبدل اخلاقی اصولوں میں سے ہیں، جو فرد کی طہارتِ قلب و باطن، تزکیۂ نفس، اور روحانی بلندی کے ساتھ ساتھ معاشرتی عفت و عصمت، شرافت و نجابت، اور وقار و شائستگی کے قیام و استحکام میں انتہائی مؤثر اور بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

شریعتِ مطہرہ نے کتاب و سنت کے ذریعے ان کی تاکید و تلقین میں کسی قسم کی گنجائش باقی نہیں چھوڑی، بلکہ ان کی اہمیت کو بار بار اجاگر کیا، تاکہ اسلامی معاشرہ ہر قسم کی فحاشی، عریانی، بے حیائی اور اخلاقی انحطاط سے محفوظ رہے، اور اس میں وہ اعلیٰ اخلاقی اقدار، تقویٰ و طہارت، حیا و پاکدامنی، اور عفت و عصمت کی روح مستحکم ہو، جو ایک صالح، مہذب اور باوقار اسلامی تمدن کے قیام کے لیے ناگزیر ہیں۔

یہی وہ صفاتِ حمیدہ ہیں، جو انسان کے اخلاق و کردار میں استحکام اور صلابت پیدا کرتی ہیں، اس کے باطن کو شیطانی وساوس، نفسانی خواہشات، اور مفسدانہ اثرات کی آلودگی سے محفوظ رکھتی ہیں، اور پورے معاشرے میں اخوت، طہارت، عفت اور نیکی کے فروغ کا مؤثر ذریعہ بنتی ہیں۔ گویا حیا انسان کی فطرتِ سلیمہ اور شرفِ انسانی کا لازمی تقاضا ہے، اور جب یہی صفت کمزور پڑ جائے تو انسان خیر و شر کی تمیز کھو بیٹھتا ہے اور گناہوں کی تاریکی میں جا گرتا ہے۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآنِ حکیم میں حیا کو اہلِ ایمان کی امتیازی صفت قرار دیا اور ارشاد فرمایا:

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَسْتَحْيٖۤ اَنْ يَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَاؕ

(البقرة: ۲۶) ترجمہ: بے شک اللہ اس بات سے نہیں شرماتا کہ وہ (حق واضح کرنے کے لیے) مچھر یا اس سے بھی بڑھ کر کسی چیز کی مثال بیان کرے۔

یہاں "حیا" کے ذکر سے یہ اصول مستنبط ہوتا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ دینِ متین کے احکام بیان کرنے میں کسی ملامت، شرم یا جھجک کا شکار نہیں ہوتا، پس مخلوق کو بھی لازم ہے کہ وہ شرم و حیا کو اپنا شعار بنا کر دینِ حنیف کے جملہ احکام پر بلا تردد عمل پیرا ہو، کیونکہ جس دین کے احکام میں کسی قسم کی کمزوری یا نرمی نہیں، اس کے پیروکاروں کو بھی لازم ہے کہ وہ اپنی عملی زندگی میں اسی مضبوطی اور وقار کا مظاہرہ کریں۔ اسی لیے نبی اکرم ﷺ نے حیا کو ایمان کا جزوِ لاینفک قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

اَلْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْاِيْمَانِ

(صحیح البخاری، حدیث نمبر: ۹) ترجمہ: حیا ایمان کا ایک حصہ ہے۔

یعنی ایمان اور حیا لازم و ملزوم ہیں، اگر انسان میں حیا ہے تو اس کے ایمان میں استحکام ہے، اور اگر حیا زائل ہو جائے تو ایمان کا باقی رہنا بھی دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس حقیقت کو ایک اور جامع ارشاد میں یوں بیان فرمایا:

اِذَا لَمْ تَسْتَحِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ

(صحیح البخاری، حدیث نمبر: ۳۴۸۴) ترجمہ: جب تم میں حیا نہ رہے تو جو چاہے کرو۔

یہ حدیثِ مبارک اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے، کہ حیا انسان کو رذائل اور قبائح سے باز رکھنے والی ایک مضبوط فطری رکاوٹ ہے، اور جب یہ وصف زائل ہو جاتا ہے تو انسان سے حسن و قبح، خیر و شر، اور معروف و منکر کی تمیز اٹھ جاتی ہے، اور وہ اس حدیثِ نبوی کی عملی تفسیر بن جاتا ہے جو بقولِ اہلِ فارس یوں بیان کی گئی ہے:

بے حیاء باش و آنچه خواهی کن

یعنی جب حیا ختم ہو جائے تو جو چاہے کر گزر، کوئی روکنے والا نہیں! یہ مقولہ درحقیقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ فرمان ہی کی ترجمانی کرتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان حیا کو ترک کر دے، تو پھر اس کے لیے گناہ اور بد اعمالی کے دروازے کھل جاتے ہیں، وہ کسی قید و بند کا پابند نہیں رہتا، نہ ہی کسی خیر و شر کی پرواہ کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تعلیمات میں حیا کو بنیادی اخلاقی اصولوں میں شمار کیا گیا ہے، اور اسے ایمان کے لیے لازم و ملزوم قرار دیا گیا ہے، کیونکہ جہاں حیا ختم ہو جاتی ہے، وہاں شرافت، عزت، عفت، اور نیکی کے تمام اصول دم توڑ دیتے ہیں۔

لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی زندگی میں حیا کو رائج کرے، کیونکہ یہی وہ وصف انسان کو ذلت و رسوائی سے محفوظ رکھتا ہے اور اسے کامیابی و نجات کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ حیا در حقیقت انسان کے روحانی و اخلاقی وقار کی ضمانت ہے، اور جب تک یہ صفت باقی رہے، انسان اپنی حدود میں رہ کر زندگی بسر کرتا ہے، لیکن اگر یہ ختم ہو جائے، تو وہ بے راہ روی، گناہ اور تباہی کے دہانے پر جا پہنچتا ہے۔ پس لازم ہے کہ فرد اور معاشرہ، دونوں، حیا اور پردے کی ان اسلامی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں راسخ کریں، جنہیں شارعِ حکیم نے عزت و وقار، طہارتِ اخلاق، اور تحفظِ ناموس کے ضامن کے طور پر متعین فرمایا ہے، تاکہ دین و دنیا کی فلاح و کامرانی مقدر بن سکے۔

اسی اصول کے تحت شریعتِ مطہرہ نے عورت کے لیے پردے کو واجب اور لازم قرار دیا، تاکہ وہ صنفِ نازک ہونے کے باوجود کسی بھی قسم کی آفت، فتنہ و فساد، اور شیطانی ترغیب و تحریص سے محفوظ و مامون رہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ رسول ﷺ میں اس حوالے سے متعدد فرامینِ مبارک وارد ہوئے ہیں، جو پردے کی فرضیت، اس کی حکمت، اور اس کے فوائد پر صریح دلالت کرتے ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے سورۃ النور میں مؤمن عورتوں کو واضح الفاظ میں پردے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ يَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا

(النور: ۳۱) ترجمہ: اور ایمان والی عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں، سوائے اس کے جو ازخود ظاہر ہو۔

یہ آیتِ مبارک عورت کے لیے حیا دار طرزِ زندگی کو لازم قرار دیتی ہے، اور اسے ہر اس رویے سے اجتناب کا حکم دیتی ہے جو اس کے نسوانی وقار, عفت و عصمت، اور شرم و حیا کے منافی ہو۔ اسی مقصد کے پیشِ نظر، اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاحزاب میں مزید تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَبَنٰتِكَ وَنِسَآءِ الْمُؤْمِنِيْنَ يُدْنِيْنَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِهِنَّ ؕ

(الأحزاب: ۵۹) ترجمہ: اے نبی! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی چادروں کو اپنے اوپر ڈال لیا کریں، تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور انہیں تکلیف نہ دی جائے۔

یہ آیتِ کریمہ پردے کی حکمت اور فلسفہ کو واضح کرتی ہے، کہ یہ عورت کے تحفظ، اس کی عزت و حرمت کی پاسداری، اور معاشرتی بگاڑ کے سدِ باب کے لیے ضروری ہے، تاکہ اسلامی معاشرے میں پاکیزگی، حیا، اور تقویٰ کی فضاء قائم رہے۔ اسی حقیقت کو نبی کریم ﷺ نے اپنی مبارک احادیث میں بھی نہایت واضح اور جلی انداز میں بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

الْمَرْأَةُ عَوْرَةٌ، فَإِذَا خَرَجَتْ اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ

(سنن الترمذي، حدیث نمبر: ۱۱۷۳) ترجمہ: عورت سراپا پردہ ہے، جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اس پر نظریں گاڑ دیتا ہے۔

یہ حدیثِ مبارک عورت کی فطری نزاکت اور اس کے فتنے میں مبتلا ہونے یا فتنے کا سبب بننے کی نفسیاتی حقیقت کو اجاگر کرتی ہے، اور اسے اس امر پر متنبہ کرتی ہے کہ اس کا اصل مقام حجاب و ستر، اور حیا داری و وقار ہے، نہ کہ بے حجابی، اختلاط، اور عریانی۔

مزید برآں، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ایک قول اس حقیقت کو مزید واضح کرتا ہے، چنانچہ وہ فرماتی ہیں:

فَوَاللَّهِ مَا دَخَلْتُ إِلَّا وَأَنَا مَشْدُودَةٌ عَلَيَّ ثِيَابِي حَيَاءً مِّنْ عُمَرَ

(مسند احمد، حدیث نمبر: ۲۵۷۰۳) ترجمہ: میں (نبی کریم ﷺ اور والد ابوبکر رضی اللہ عنہ کی قبر کے پاس) آزادانہ آتی جاتی تھی، لیکن جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تدفین وہاں ہوئی تو میں ہمیشہ مکمل حجاب میں رہتی، کیونکہ مجھے ان سے حیا آتی تھی۔

یہ روایت نہایت لطیف انداز میں پردے کی فطری ضرورت کو اجاگر کرتی ہے، کہ ایک حیادار عورت حتیٰ کہ قبر میں مدفون شخص سے بھی حیا محسوس کرتی ہے، تو وہ کیسے کسی غیر محرم کے سامنے بے پردہ ہو سکتی ہے؟

یہ تمام دلائل اس امر پر قطعی دلالت کرتے ہیں، کہ پردہ محض ایک ثقافتی روایت یا معاشرتی رسم نہیں، بلکہ ایک شرعی فریضہ اور ایمان کا تقاضا ہے، جو عورت کی عزت و وقار، عفت و عصمت، اور طہارتِ کردار کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ پس، ضروری ہے کہ مسلم خواتین شریعت کے اس حکم کو پوری دیانت و اخلاص کے ساتھ اپنائیں اور ہر اس چیز سے اجتناب کریں جو ان کی عفت، عزت، اور عصمت کے لیے ضرر رساں ہو، تاکہ اسلامی معاشرہ پاکیزگی، اخلاقی رفعت، اور فتنہ و فساد سے محفوظ رہ سکے۔

حیا اور پردہ اسلامی تہذیب و شریعت کے وہ اساسی اصول ہیں، جو نہ صرف فرد کی عفت و عصمت کے محافظ ہیں بلکہ اجتماعی طہارت، اخلاقی رفعت اور معاشرتی امن کے ضامن بھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں مردوں کو حکم دیا:

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِہِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَہُمْ

(النور: ۳۰) ترجمہ: مومن مردوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔

نیز، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کے پردے کی حدود متعین کرتے ہوئے فرمایا:

لَا یَنْظُرُ الرَّجُلُ اِلٰی عَوْرَۃِ الرَّجُلِ وَلَا الْمَرْاَۃُ اِلٰی عَوْرَۃِ الْمَرْاَۃِ

(صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۳۳۸) ترجمہ: کوئی مرد دوسرے مرد کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے، اور نہ ہی کوئی عورت دوسری عورت کی شرمگاہ کی طرف دیکھے.

یہ احکام مردوں کے لیے بھی شرم و حیا، ستر پوشی اور عفت و عصمت کی حفاظت کو لازم قرار دیتے ہیں، تاکہ اسلامی معاشرہ پاکیزگی، اخلاقی اقدار اور ہر قسم کے فتنہ و فساد سے مامون رہے۔

آخر میں، میں حیا اور پردے کے فوائد پر مختصر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں:

عفت و عصمت: حیا اور پردہ فواحش و منکرات سے بچاؤ کا مضبوط قلعہ ہے، جو طہارتِ نفس اور پاکدامنی کو یقینی بناتا ہے۔
معاشرتی استحکام: بے پردگی اور بے حیائی فساد و انارکی کا موجب بنتی ہیں، جبکہ پردہ امن، وقار اور اجتماعی سکون کا ضامن ہے۔
خاندانی استحکام: حیا ازدواجی زندگی میں وفاداری، اعتماد اور مودّت کو فروغ دیتی ہے، جس سے خاندانی نظام مضبوط ہوتا ہے۔
جرائم کی بیخ کنی: حیا اور پردہ زنا، اختلاطِ مرد و زن، اور چھیڑ چھاڑ جیسے اخلاقی زوال کے دروازے بند کر دیتا ہے۔
نفسیاتی طمانیت: حیا دار افراد عزتِ نفس اور روحانی سکون سے بہرہ مند ہوتے ہیں، جو قلبی راحت و وقار کا ذریعہ بنتا ہے۔

خلاصۂ کلام: حیا اور پردہ محض شرعی احکام ہی نہیں، بلکہ فطرتِ انسانی کے عین مطابق اور معاشرتی فلاح و بقا کے ضامن ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حیا اور پردے کی کامل پاسداری کی توفیق مرحمت فرمائے، تاکہ ہم عزت و شرف کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں۔ آمین یارب العالمین۔

سمیر احمد فیضی الازہری
جامعہ ازہر شریف، مصر

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!