| عنوان: | ہوشیار و خبردار۔ پارلیمانی انتخاب آنے والا ہے |
|---|---|
| مدیر: | مفتی محمد سلیم بریلوی |
| پیش کش: | ناظم اسماعیلی |
انتخابات اور مسلمانوں کی مشکلات: تقسیمِ ہند کے بعد سرزمینِ ہند پر مرکزی اور صوبائی انتخابات میں قومِ مسلم ہمیشہ سے موضوعِ انتخاب رہی ہے۔ ہندوستان کی آزادی کے بعد جتنے بھی انتخابات ہوئے ان سب کی آپ پوری تاریخ پڑھ ڈالیے، آپ کو ان انتخابات کا مرکزی موضوع ”مسلمانانِ ہند“ ہی دکھائی دے گا۔ کسی نہ کسی جہت سے انتخابات میں مسلمانوں کو گھسیٹ کر لے ہی آیا جاتا ہے۔ کچھ سیاسی جماعتیں مسلمر سدھارنے کے نام پر، کوئی مسلمانوں کے مسائل اٹھا کر، کوئی مسلمانوں کی حمایت میں گھڑیالی آنسو بہا کر تو کچھ سیاسی جماعتیں مسلمانوں کو گالیاں دے کر، ان کے خلاف نفرتی بیان جاری کر کے، ان کے خلاف اکثریتی طبقے کے دلوں میں نفرت کا زہر گھول کر اور ان کے خلاف فسادات کے شعلے بھڑکا کر ہر انتخاب کو اقلیت بنام اکثریت اور مسلمان بنام ہندو بنا دیتی ہیں۔
آزادیِ ہند کے بعد سے ہی یہ عمل تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ بہت سی سیاسی جماعتیں مسلمانوں کی حمایتی اور ہمدرد جماعت کا تمغہ لے کر کرسیِ اقتدار تک پہنچیں تو کچھ مسلمانوں کی دشمنی اور مسلم مخالف، اسلام مخالف، اسلامی تہذیب مخالف اور شریعت مخالف پہچان بنا کر تختِ حکومت تک پہنچ گئیں۔ جو کام آزاد ہندوستان کے ابتدائی دور سے شروع ہوا تھا وہ اب تک رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ شاید مہذب دنیا کا ہمارا یہ ملک ہندوستان وہ واحد ملک ہے کہ جہاں عموماً الیکشن اور انتخابات ملک کے بنیادی مسائل پر نہیں ہوتے، نہ یہاں الیکشن میں ترقی اور تنزلی کی کسوٹی پر کسی سیاسی پارٹی کو پرکھا جاتا ہے، نہ ہی کسی کو کرسیِ اقتدار سے اس لیے الگ کیا جاتا ہے کہ اس نے ملکی مسائل کو حل نہیں کیا اور وہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں ناکام رہا۔ بلکہ یہاں الیکشن اسلام، اسلامی کلچر، اسلامی مقاماتِ مقدسہ، شریعتِ اسلامیہ اور مسلمانوں کے نام پر عموماً لڑے جاتے رہے ہیں اور ابھی بھی لڑے جا رہے ہیں۔ ہر الیکشن میں ہندو مسلم، مندر مسجد اور اسلامی کلچر بنام ہندو کلچر کے موضوع سلگا کر ان کے شعلوں پر سیاست کی روٹی پکائی جاتی ہے۔ ہمارے ملک کی عوام اتنی سادہ لوح ہے کہ اس ملک کی اکثریت کبھی بھی برسرِ اقتدار سیاسی جماعت سے یہ سوالات نہیں کرتی کہ انہوں نے ملک کا کتنا بھلا کیا، کتنے بے روزگاروں کو روزگار دیا، کتنے تعلیمی ادارے قائم کیے، کتنے جرائم اب تک روکے، عالمی سطح پر ملک کو ترقی کے کس درجہ تک پہنچایا اور مہنگائی روکنے کے لیے کون سے مؤثر اقدامات کیے۔
بی جے پی سیاسی جماعتوں میں وہ واحد جماعت رہی ہے کہ جس کی پہچان اور جس کی بنیاد مسلم دشمنی پر ہے۔ اس جماعت نے کبھی بھی اپنی اس پہچان کو نہ تو چھپانے کی کوشش کی اور نہ ہی ختم کرنے کی کوشش کی۔ سیکولر کہی جانے والی دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح اس نے نہ کبھی منافقت اختیار کرتے ہوئے مسلمانوں کی جھوٹی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اس جماعت کے سیاسی لیڈر عموماً برسرِ عام اسلام، اسلامی کلچر، اسلامی مقاماتِ مقدسہ، اسلامی شریعت اور قومِ مسلم کے خلاف لکھتے اور بولتے بلکہ عمل کرتے چلے آئے ہیں۔ ہندو مسلم فسادات میں بھی عموماً اسی جماعت سے وابستہ لیڈر اور کارکن ملوث ہوتے نظر آئے ہیں۔ ان فسادات کی تحقیقات کرنے والے کمیشنوں نے زیادہ تر فسادات میں ان ہی کو موردِ الزام ٹھہرایا ہے۔ اس طرح یہ جماعت اپنی مسلم دشمنی کے نام پر ترقی کرتے کرتے آخر کار اس طرح کرسیِ اقتدار تک پہنچی کہ اسے اس سے برطرف کرنا دیگر سیکولر سیاسی جماعتوں کے لیے ”جوئے شیر“ لانے کے مترادف ہو رہا ہے۔ ابھی بھی دور دور تک الیکشن میں اس جماعت کو شکست دینے اور اسے اقتدار سے دور رکھنے کے امکانات نظر نہیں آ رہے ہیں۔
اپنے آپ کو سیکولر جماعت کہلانے والی سیاسی پارٹیوں کے اپنے اپنے مفادات ہیں جس کی وجہ سے بی جے پی کے خلاف وہ کوئی متحدہ محاذ قائم کرنے میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔ مسلم رواداری اور مسلمانوں کی حمایتی جماعت ہونے کا ایسا خوف بی جے پی نے قائم کر رکھا ہے کہ اب ہر سیکولر جماعت مسلمانوں کے مسائل پر بولنے حتیٰ کہ مسلمانوں کا نام تک لینے سے خوفزدہ نظر آ رہی ہے۔ یہ بی جے پی کی بہت بڑی کامیابی ہے کہ اس نے ساری سیاسی جماعتوں کو مسلمانانِ ہند سے دور کر دیا۔ کتنا زمانہ ہو گیا اور کتنے مسلم مسائل سامنے آئے مگر سب یہ کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ کسی بھی سیاسی جماعت نے مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہونے اور ان کی حمایت میں بیان جاری کرنے کی ہمت اور جرأت نہیں کی۔ ان کو یہ ڈر اور خوف ستانے لگا ہے کہ کہیں بی جے پی ان کو مسلم حمایتی اور ہندو مخالف ثابت نہ کر دے۔ اگر ایسا ہو گیا تو پھر ہندو ووٹ ان کی جھولی میں نہیں پڑ پائے گا۔ اس کے برعکس اگر ہم مسلمانوں کے مسائل پر آواز اٹھائیں یا نہ اٹھائیں ان کے پاس سوائے ہمیں ووٹ دینے کے کوئی چارہ اور کوئی دوسرا آپشن بھی نہیں ہے۔
بی جے پی کا یوٹرن
بی جے پی کی بنیادی پالیسی مسلم مخالف رہی ہے یا بتائی گئی ہے۔ مگر حیرت کا شدید جھٹکا اس وقت لگا جبکہ مؤرخہ ۱۷ جنوری ۲۰۲۳ء کو دہلی کی سرزمین پر منعقد ہونے والے بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی ایگزیکٹو اجلاس میں خود وزیرِ اعظم ہند مسٹر مودی نے اپنی پارٹی کے لیڈران کو یہ ہدایت جاری کی کہ وہ مسلمانوں کے خلاف غلط بیان بازی سے پرہیز کریں، مسلمانوں میں جائیں، پسماندہ مسلمانوں اور بوہرہ فرقے کے لوگوں سے میل جول بڑھائیں۔
وزیرِ اعظم کے اس اعلان کے ہوتے ہی تجزیہ نگار حضرات اپنے اپنے طور پر ان کی ان باتوں کے معانی و مطالب نکالنے لگے۔ وزیرِ اعظم کی ان باتوں کے بین السطور تلاش کرنے لگے۔ کسی نے یہ کہا کہ اب وزیرِ اعظم یہ چاہتے ہیں کہ ان کی پارٹی کی مسلم مخالف پہچان ختم ہو۔ کچھ لوگوں نے یہ مطلب اخذ کیا کہ وزیرِ اعظم نے ۲۰۲۴ء کے الیکشن کو دیکھتے ہوئے سیکولر کہی جانے والی سیاسی جماعتوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ کچھ تجزیہ نگار یہ لکھتے نظر آئے کہ بی جے پی اب سیکولر جماعتوں کی جھولی میں تھوک کے بھاؤ جانے والا ووٹ اپنی طرف ٹرانسفر کر کے اپنی سیٹوں میں اور اپنے ووٹ بینک میں مزید اضافہ کرنا چاہتی ہے۔ کچھ مبصرین نے یہ تبصرہ کیا کہ بی جے پی عالمی سطح پر خاص طور پر مسلم ممالک کے درمیان اپنی پہچان کو نکھارنا چاہتی ہے اور پاکستان کے مقابلے میں مسلم ممالک کی حمایت اپنی طرف کرنا چاہتی ہے۔
بہر حال واقعی یہ ایک حیرت انگیز تبدیلی ہے جسے یوٹرن سے تاویل کیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کے لیے اس میں بھلائی کا پہلو صرف اتنا ہے کہ اگر وزیرِ اعظم کی بات ان کے لیڈران نے مان لی اور مسلم مخالف بیانات جاری کرنا بند کر دیے تو ممکن ہے کہ کچھ دن تک ان کے چھوٹے کارکنان اور علاقائی چھٹ بھیّا نتاؤں کی طرف سے پھیلائی جانے والی نفرت کی آگ میں جھلسنے سے وہ مامون و محفوظ ہو جائیں۔ ہماری خوش فہمی یہی ہے کہ مسلمانانِ ہند تعصب پرست اور فرقہ پرست شرارتی طبقوں اور گروہوں کی چیرہ دستیوں سے محفوظ ہو جائیں یا کم سے کم اس میں کچھ کمی آ جائے۔ ورنہ آزادیِ ہند کے بعد کی جو تاریخ ہے وہ مسلمانوں کے لہو سے لکھی ہوئی ہے۔ مسلمانوں کے نام پر اور مسلمانوں کے مسائل پر الیکشن جیتے اور ہارے تو جاتے رہے ہیں مگر مسلمانوں کے مسائل ہمیشہ جوں کے توں رہے ہیں۔ مسلمان آج بھی اسی کس مپرسی اور بدتر حالات میں زندگی گزار رہا ہے کہ جس وقت وہ آزادیِ ہند کے بعد زندگی گزار رہا تھا۔ اس کے حالات نہ کبھی بدلے ہیں اور نہ اب بہت زیادہ بدلنے کی امید نظر آ رہی ہے۔ بلکہ کل کے مقابلے میں آج کے حالات تو مسلمانوں کے لیے نہایت سنگین ہو گئے ہیں۔ پہلے اگرچہ مسلمان سماجی، سیاسی اور معاشی طور پر تقریباً یتیم تھے مگر یہ سب دنیوی معاملات تھے، دینی معاملات پھر بھی کافی حد تک صحیح تھے اور مسلمانوں کا ایمان محفوظ تھا مگر اب تو دنیوی معاملات میں تمام تر ترقیاتی ساز و سامان سے تو وہ محروم ہیں ہی، دینی اعتبار سے بھی وہ محروم ہونے لگے ہیں۔ ہماری بچیاں روز بروز غیر مسلم نوجوانوں کے چنگل میں پھنس کر مرتد بن رہی ہیں۔ ہماری نوجوان نسل اپنے مذہب و مسلک اور اپنی شریعت و طریقت کی باغی بنتی جا رہی ہے۔ دینی اعتبار سے دیکھیں تو اس وقت کے حالات نہایت سنگین رخ اختیار کر چکے ہیں۔ پہلے اس طریقے کے واقعات اگر ہوتے بھی تھے تو ہماری جماعت کا ایک مخلص اور مذہبی طبقہ اس کی روک تھام کے لیے مضبوط لائحہ عمل تیار کر کے جدوجہد شروع کر دیتا تھا مگر آج کا عالم اس اعتبار سے بھی نہایت سنگین ہے کہ بڑے سے بڑا معاملہ کیوں نہ ہو جائے اور بڑے سے بڑا دینی نقصان کیوں نہ ہو جائے مگر ہمارا مذہبی طبقہ اور ہماری مذہبی قیادت إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ سرد مہری کی چادر تانے ہوئے ہے۔ روز بروز ارتداد کے فتنے میں تیزی آتی جا رہی ہے۔ مگر کسی بھی مذہبی طبقے کی جانب سے کوئی بھی روک تھام کی کوشش ہوتی نظر نہیں آ رہی ہے۔ وہ مرکزِ اہل سنت بریلی شریف ہی تھا کہ جب مسلمانوں کو مرتد کرنے کی ”شدھی تحریک“ چلی تو اس کا مقابلہ کرنے کی کامیاب ترین کوشش تمام مشائخِ اہل سنت نے مرکزِ اہل سنت کے پلیٹ فارم سے ہی کی تھی۔ مگر آج ہر طرف ایک گہرا سناٹا نظر آتا ہے۔ اگر کوئی مخلص اس سناٹے کو توڑنے کے لیے آواز بھی بلند کرتا ہے تو اس کی آواز آج ”نقار خانے میں طوطی کی آواز“ بے اثر اور حوصلہ شکن منظر پیش کرتی دکھائی پڑتی ہے۔ اللہ ہمارے حالِ زار پر رحم فرمائے اور ۲۰۲۴ء کے پارلیمانی انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے مسلمانوں کو ”بلی کا بکرا“ بنانے کی جو شاطرانہ چالیں چلی جائیں گی ان سے محفوظ فرمائے۔ مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ اب پارلیمانی انتخاب دستک دے رہا ہے اس لیے خبردار اور ہوشیار رہیں۔ [ماہنامہ اعلیٰ حضرت، مارچ 2023ء، ص: 5-7]
