تصوف __ روح اسلام (قسط: سوم)|علامہ محمد احمد مصباحی

تصوف __ روح اسلام (قسط: سوم)
عنوان: تصوف __ روح اسلام (قسط: سوم)
تحریر: علامہ محمد احمد مصباحی
پیش کش: ام حبیبہ واسطی
منجانب: الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

تعلیم صوفیہ کا ایک نمونہ

کتاب و سنت کے ارشادات میں جو جامعیت اور گہرائی ہے اس کی تہہ تک پہنچنا اہل اللہ ہی کا حصہ ہے۔ مثلاً ریا کی مذمت قرآن میں بھی ہے، حدیث میں بھی ہے، مگر اس کی صورتیں اور قسمیں کیا کیا ہیں؟ یہ کس کس طرح اعمال کو فاسد و ناقص کرتی ہے؟ اہل ظاہر اس کی تفصیلات کتاب و حدیث میں دکھانے سے قاصر ہیں۔ مگر صوفیہ انھیں بسط کے ساتھ بتاتے ہیں اور سمجھاتے ہیں جو ان کے فہم قرآن و حدیث اور نظر غائر کا بین ثبوت ہے۔ مزید توضیح کے لیے یہاں حجۃ الاسلام امام غزالی قدس سرہ کی کتاب “احیاء العلوم” باب ریا کے کچھ اقتباسات پیش کیے جاتے ہیں۔ تاکہ ارباب تصوف کے مدارک و مراتب کا قدرے اندازہ ہو سکے اور اہل باطن و اہل ظاہر کے فہم و نظر کا کچھ فرق سمجھ میں آ سکے۔

امام موصوف پہلے ریا سے متعلق آیات و احادیث پھر آثار و واقعات بیان کرتے ہیں۔ ایک حدیث یہاں بھی نقل کی جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے تم پر سب سے زیادہ شرک اصغر کا خطرہ ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! شرک اصغر کیا ہے؟ فرمایا وہ ریا ہے۔ اللہ عزوجل روز قیامت جب بندوں کو ان کے اعمال کی جزا دے گا اس وقت ریا کاروں سے فرمائے گا تم دنیا میں جن کو دکھاتے تھے ان کے پاس جاؤ، دیکھو ان کے یہاں تم کو کچھ جزا ملتی ہے؟ [مسند احمد، شعب الایمان، بیہقی، بروایت محمود بن لبید]

ریا کی حقیقت اور ریاکاری کے ذرائع

ریا رویت سے اور سمعہ سماع سے مشتق ہے۔ ریا کی اصل یہ ہے لوگوں کو خیر کی خصلتیں دکھا کر ان کے دلوں میں اپنی منزلت پیدا کرنا مقصود ہو۔ جاہ و منزلت کی طلب عبادات کے ذریعہ بھی ہوتی ہے اور غیر عبادات سے بھی۔ مگر عرفاً عبادات اور ان کے اظہار کے ذریعہ طلب منزلت کو ریا کہا جاتا ہے اس لیے ریا کی تعریف یہ ہے: “اللہ کی طاعت سے بندوں کو مقصود بنانا۔”

یہاں چند چیزیں ہیں:

  1. ریا کار جو عبادت گزار ہے۔

  2. وہ لوگ جن کو دکھانا اور ان کے ذریعہ دلوں میں اپنی قدر و منزلت پیدا کرنا مقصود ہے۔

  3. وہ خصلتیں جن کا اظہار مقصود ہے۔

  4. ریا یعنی قصد اظہار

ریا کے ذرائع بہت ہیں مگر وہ پانچ اقسام میں سمٹ آتے ہیں۔ یہ وہ ہیں جن کے ذریعہ بندہ لوگوں کے سامنے آراستہ ہوتا ہے: (۱) بدن۔ (۲) لباس۔ (۳) قول۔ (٤) عمل۔ (۵) توابع اور خارجی چیزیں۔ اہل دنیا بھی ریا میں ان ہی ذرائع سے کام لیتے ہیں۔ مگر طاعات کے ذریعہ ریا کاری کی بہ نسبت اس ریا کی خرابی کم ہے جو ایسے اعمال کے ذریعہ ہو جن کا طاعت و عبادت میں شمار نہیں۔

(۱) بدن کے ذریعہ ریا

دین میں اس کی مثال لاغری و زردی کا اظہار تاکہ اس سے اپنی سخت محنت، امر دین پر اپنے حزن عظیم اور خوف آخرت کے غلبے کا خیال دلائے مگر دنیا کی ریا بدن کی فربہی، رنگ کی صفائی، قد و قامت کے اعتدال، چہرے کے حسن، بدن کی نظافت اور اعضا کی طاقت و تناسب کے اظہار سے ہوتی ہے۔

(۲) ہیئت و لباس کے ذریعہ ریا

مثلاً سر کے بال پراگندہ رکھنا، چلنے میں سر جھکائے رکھنا، چہرے پر سجدے کا اثر باقی رکھنا، موٹے جھوٹے کپڑے پہننا، ازار یا پاجامہ پنڈلی تک رکھنا اس طرح کہ ان امور سے پیروی سنت کی نمائش مقصود ہو اور اہل زہد و صلاح کے دلوں میں اپنی وقعت بٹھانی مطلوب ہو۔ اور اگر صالحین اور امرا و وزرا کی نظر میں قدر و منزلت کا ارادہ ہو تو ایسے کپڑے بنانا جو دونوں کے نزدیک پسندیدہ ہوں۔

(۳) کلام کے ذریعہ ریا

اس قسم کے تحت اہل دین کی ریا کاری کے ذرائع یہ ہیں: وعظ و نصیحت، حکیمانہ باتیں، اخبار و آثار یاد کرنا تاکہ بات چیت کے وقت سنا کر وسعت علم کا اظہار ہو، لوگوں کے سامنے ذکر کرتے ہوئے لبوں کو حرکت دینا، اگر آدمیوں کا مجمع ہو تو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر، برائیوں پر غضب، لوگوں کے ارتکاب معاصی پر رنج کا اظہار، حفظ حدیث و لقائے شیوخ کا دعویٰ بیان کرنے والے کی گرفت تاکہ اپنے علم و بصیرت کا اظہار ہو اور اہل دنیا کی ریا کاری اشعار و امثال کے حفظ، چرب زبانی، عبارت کی دل کشی وغیرہ کے ذریعہ ہوتی ہے۔

(4) عمل کے ذریعہ ریا

مثلاً نمازی کا قیام اور رکوع و سجود کو لمبا کرنا، وقار و سکون کی نمائش کرنا، اسی طرح روزہ، صدقہ، حج وغیرہ اعمال میں طرح طرح کے تکلف برتنا، ریاکار کی حالت یہ بھی ہوتی ہے کہ اپنے کام میں بڑی تیزی سے جا رہا تھا کسی دین دار کو دیکھ لیا تو سر جھکا کر آہستہ چلنے لگا کہ کہیں وہ اسے جلد باز اور کم وقار نہ سمجھے، وہ نظر سے غائب ہوا تو پھر اپنی عادت پر آ گیا پھر کوئی ایسا شخص نظر آ گیا تو پھر وقار و سکون اختیار کر لیا۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ تنہائی میں بھی وقار سے چلنے، رہنے، اٹھنے، بیٹھنے کی عادت بنا لیتا ہے تاکہ کوئی باخبر یہ نہ کہہ سکے کہ تنہائی میں اس کا حال اور ہے مجمع میں اور، اس عادت کے بعد وہ بزعم خویش یہ سمجھتا ہے کہ ریا سے پاک ہو گیا حالاں کہ اس کی ریا کاری دوگنا ہو گئی اس لیے کہ تنہائی کا یہ تصنع مجمع ہی کی خاطر ہے۔ خدا سے حیا و خوف کی وجہ سے نہیں ہے۔

اور اہل دنیا کی ریا کاری ناز و انداز سے چلنے، چھوٹے چھوٹے قدم رکھنے، دامن یا ازار کے کنارے پکڑ کر چلنے، شانوں کو گردش دینے وغیرہ سے ہوتی ہے تاکہ جاہ و حشمت کی نمائش ہو۔

(۵) دوستوں اور ملاقاتیوں کے ذریعہ ریا

مثلاً اس بات کی کوشش کہ کوئی عالم یا عابد و وزیر و امیر اس سے ملنے کے لیے آئے تاکہ لوگوں میں اس کی عظمت اور بڑے افراد کے اس کی جانب رجوع کا چرچا ہو، یا شیوخ و اکابر کا کثرت سے تذکرہ کرے تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ اسے کثیر بزرگوں اور عظیم لوگوں سے ملاقات کا شرف حاصل ہے اس قسم کے تحت اور بہت سی صورتیں ہیں۔

ریا کے ارکان و درجات

ریا کے تین ارکان ہیں: (۱) ذریعہ ریا۔ (۲) مقصود ریا۔ (۳) خود قصد ریا۔ پھر ان تینوں کے مختلف درجات و مراتب ہیں:

قصد ریا

اس کے چار درجات ہیں:

اول: یہ سب سے برا ہے۔ وہ یہ کہ عمل سے ثواب بالکل مقصود نہ ہو جیسے وہ شخص جو لوگوں کے درمیان ہو تو نماز پڑھ لے، اکیلا ہو تو نہ پڑھے۔ مجمع ہو تو خیرات کرے، تنہائی ہو تو نہ کرے۔

دوم: ثواب کا قصد تو ہو مگر ضعیف، وہ اس طرح کہ لوگوں کے سامنے ہے تو ثواب کا خیال آیا اور عمل بجا لایا لیکن تنہائی میں ثواب کا خیال آیا تو نہ کیا، یہ درجہ بھی اوپر والے درجہ سے قریب ہی ہے۔

سوم: ثواب اور ریا کاری دونوں کا ارادہ برابر برابر ہو، وہ اس طرح کہ دونوں جمع ہوئے اس کے لیے بنے، اگر صرف ایک امر ہوتا تو اس عمل کی انگیخت نہ ہوتی۔ یہ شخص بھی غضب سے سلامت رہنے والا نہیں۔

چہارم: صرف ثواب کا قصد رکھتا ہے لیکن اگر لوگوں کے سامنے ہے یا ان کے آگاہ ہونے کا موقع ہے تو عمل کے لیے قوت و نشاط ہے اور اگر ایسا موقع نہیں تب بھی اپنی عادت کے مطابق وہ عمل کی بجا آوری کرتا ہے اور تنہا ریا کے ارادے سے یہ عمل نہیں کرتا۔ ہمارا خیال ہے کہ ایسے شخص کا عمل برباد نہ ہو گا مگر اس میں نقص ضرور آ جائے گا ایسے قصد ثواب کے بقدر ثواب اور قصد ریا کے بقدر عتاب ہوگا۔

اور حدیث پاک:

“أَنَا أَغْنَى الْأَغْنِيَاءِ مِنَ الشِّرْكِ”

اس صورت پر محمول ہے جب دونوں قصد مساوی ہوں یا قصد ریا راجح ہو۔

ذریعہ ریا

یہ طاعات ہیں۔ اس کی دو قسمیں ہیں: (۱) عبادات میں ریا کاری۔ (۲) عبادات کے اوصاف میں ریا کاری۔ اول زیادہ سخت ہے اس کے تین درجات ہیں:

اول: اظہار ایمان میں ریا کاری، ایسا شخص منافق ہے جو ہمیشہ جہنم میں رہے گا اور ریا کا یہ باب سب سے بدتر ہے۔

دوم: فرائض میں ریا کاری، یہ بھی بری ہے اس کی مثال یہ ہے کہ اس کا مال دوسرے کے ہاتھ میں ہے تو اسے حکم دیتا ہے کہ اس سے زکوۃ نکال دیتا مگر خدا جانتا ہے کہ وہی مال خود اس کے ہاتھ میں ہوتا تو زکوۃ نہ دیتا یا خلوت میں ترک نماز کا عادی ہے مگر مجمع میں رہتا ہے تو ادا کر لیتا ہے، لوگوں کے ساتھ ہے تو روزہ رکھ لیا مگر منتظر ہے کہ تنہائی پائے تو روزہ توڑ دے۔

سوم: ایمان و فرائض میں ریا کار نہیں مگر نوافل و سنن میں ریا کار ہے مثلاً تنہا ہے تو تہجد نہیں پڑھتا ہے لوگوں کے ساتھ ہے تو پڑھ لیتا ہے ایسے ہی عرفہ و عاشورا کا روزہ جسے مذمت سے بچنے یا مدح و ستائش ملنے کی غرض سے ادا کر لیتا ہے۔

اوصاف عبادت میں بھی ریا کاری کے تین درجے ہیں

اول: براہ ریا کاری ایسا عمل بجا لائے جسے نہ کرتا تو عبادات میں نقص و خلل آتا مثلاً اکیلا نماز پڑھ رہا ہے تو بغیر تعدیل کے جلدی جلدی رکوع سجدہ کر لیا، لوگوں کے سامنے ہے تو تعدیل کے ساتھ سب ارکان ادا کر رہا ہے، اسی طرح کوئی شخص زکوۃ میں خراب سکے دینے کا عادی ہے لیکن اگر لوگوں کے سامنے دیا تو عمدہ سکے دیے۔ روزہ سے ہے تو مخلوق کی مذمت کے خوف سے غیبت و بے ہودہ گوئی سے بچتا ہے۔ تکمیل عبادت مقصود نہیں۔

دوم: براہ ریا کاری ایسا کام کرے جسے نہ کرتا تو عبادت ناقص نہ ہوتی اور کیا تو اس کی حیثیت تکملہ و تتمہ کی ہے۔ جیسے حد تعدیل سے زیادہ طویل رکوع و سجود کرنا، عادت سے زیادہ لمبی قراءت کرنا، روزہ رمضان میں زیادہ تر خلوت میں رہنا، زکوۃ میں عمدہ کی جگہ زیادہ عمدہ دینا مگر جب کہ تنہائی اور لوگوں کے عدم اطلاع کی جگہ ہو تو ان امور کی رعایت نہ کرے۔

سوم: نوافل سے خارج کچھ زائد باتوں کی رعایت کرنا، مثلاً لوگوں سے پہلے جماعت میں پہنچنا، پہلی صف کا قصد کرنا، جب کہ خدا جانتا ہے کہ لوگوں کی اطلاع کا موقع نہ ہوتا تو یہ ان امور کی پروا نہ کرتا۔

مقصود ریا

ریا کار کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہوگا مال یا جاہ یا کچھ اور۔ اس لحاظ سے اس کے بھی تین درجات ہیں:

اول: سب سے زیادہ قبیح و شدید۔ وہ یہ ہے کہ عبادت کی نمائش، ورع و تقویٰ کے اظہار اور نوافل کی کثرت سے کسی گناہ کا ارتکاب اور اس کا موقع پانا مقصود ہو، مثلاً یہ کہ اس کے تقویٰ سے متاثر ہو کر اسے قضا کا عہدہ، اوقاف کی تولیت، مال یتیم کی سرپرستی وغیرہ حاصل ہو جائے۔ اور بے دریغ تصرف کر سکے، یا لباس صالحین، ہیئت صلحا، وعظ و تذکیر سے کسی خوبرو عورت یا لڑکے کا دام فجور میں لانا مقصود ہو۔

دوم: ریا کاری سے کوئی جائز حظ نفس یا مال دنیا حاصل کرنا مقصود ہو جیسے کسی خوب صورت یا معزز خاتون سے نکاح تک رسائی چاہتا ہو، یا وعظ میں گریہ و زاری اور جذبات کی انگیخت کا مقصد یہ ہو کہ لوگوں سے نذرانہ و ہدیہ زیادہ وصول ہو۔

سوم: کسی حظ نفس یا مال دنیا کی طرح نہ ہو مگر اس خوف سے عبادت کی نمائش کرے کہ کہیں خاص زاہدین سے الگ نہ شمار ہو۔ لوگ اسے بنگاہ نقص نہ دیکھیں۔

ریائے خفی جو چیونٹی کی چال سے زیادہ پوشیدہ ہے

ایک ریائے جلی ہے دوسری ریائے خفی:

  1. جلی یہ ہے کہ ثواب بھی مقصود ہو مگر عمل پر برانگیختہ کرنے والی چیز جذبہ نمائش ہے۔

  2. اس سے کچھ خفی۔ وہ یہ ہے کہ عمل کے لیے ریا تنہا محرک تو نہ ہو مگر باعث تخفیف ہو جیسے وہ شخص جو تہجد کا عادی ہو مگر ادائیگی میں گرانی و دشواری محسوس کرتا ہو اور اگر کوئی مہمان آ گیا تو وہی عمل بڑے نشاط اور چستی سے ادا کرتا ہے۔ اور یہ بھی معلوم ہے کہ اسے اگر ثواب کی امید نہ ہوتی تو محض مہمانوں کے لیے نماز نہ پڑھتا۔

  3. اس سے بھی زیادہ خفی۔ جذبۂ نمائش نہ محرک ہے نہ باعث آسانی مگر دل میں چھپا ہوا بیٹھا ہے جس کی علامت یہ ہے کہ لوگ اس کی عبادت گزاری سے مطلع ہو گئے تو سارا احساس مشقت جاتا رہا اور مسرت و راحت محسوس کرنے لگا۔

  4. خفیہ طور پر عبادت کرے کہ لوگوں کو پتہ نہ چلے اور اگر لوگوں کو پتہ چل گیا تو اسے خوشی نہ ہو مگر اس کے دل کی آرزو یہ ہو کہ لوگ اسے پہلے سلام کریں، اس کی تعظیم و توقیر کریں، اگر اس میں کسی سے کوتاہی ہو تو اس کے دل پر گراں گزرے کہ اس قدر عبادت اور اخلاص کے باوجود میرا اعزاز نہیں۔

اس کے بعد یہ تفصیل ہے کہ لوگوں کی آگاہی سے جو مسرت ہوتی ہے اس میں کون سی مذموم ہے اور کون سی محمود؟ اس کی پانچ صورتیں بتائیں ایک مذموم باقی محمود۔ پھر کون وہ ریا ہے جس سے عمل برباد ہو جاتا ہے اور کس سے بالکل برباد نہیں ہوتا۔ پھر ریا کا علاج کیا ہے اور اس بارے میں قلب کی اصلاح کیسے ہوگی ساری تفصیلات ہیں۔ [احیاء العلوم]

یہ دقائق و حقائق ان علوم کا شمہ ہیں جو ان علمائے ربانی کے قلوب میں موجزن ہیں، کیوں کہ جو کچھ سینوں میں تھا کتابوں میں منتقل نہ ہوا اور بہت علوم تو وہ ہیں جو محض دل ہی سے تعلق رکھتے ہیں تحریر کی گرفت میں نہیں آتے۔

بتائیے یہ معارف صوفیہ و اولیا کے سوا کسی ظاہری و غیر مقلد کے یہاں بھی دستیاب ہو سکتے ہیں؟ انھیں تو ان سب کی ہوا بھی نہ لگی، اگر کچھ بیان بھی کرتے ہیں تو وہ ان ہی علما سے سرقہ ہوتا ہے، یہ بھی غور کیجیے کہ کیا ان باتوں میں سے کوئی بات ایسی بھی ہے جو کتاب و سنت سے متصادم اور قابل رد و انکار ہو؟ ہرگز نہیں ۔ وہ حضرات جو کچھ فرماتے ہیں کتاب و سنت میں ان کے طویل غور و فکر اور رب کی خاص نوازشات کا نتیجہ ہوتا ہے، کتاب و سنت میں ان امور کا ذکر ایجاز و اجمال کے ساتھ ہوتا ہے، اور ہر عالم کو اس کی بسط و شرح تک رسائی نہیں ہوتی: مثلاً حدیث میں ہے:

“فِي الرِّيَاءِ شَوَائِبُ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ”

ریا میں ایسی آمیزشیں ہوئی ہیں جو چیونٹی کی چال سے زیادہ پوشیدہ ہوتی ہیں۔ [احمد، طبرانی بروایت ابو موسیٰ اشعری]

یا فرمایا:

“اتَّقُوا هَذَا الشِّرْكَ، فَإِنَّهُ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ”

اس شرک سے بچو کہ یہ چیونٹی کی چال سے زیادہ مخفی ہے۔ [ابن حبان فی الضعفاء بروایت صدیق اکبر دار قطنی]

یہ بہت مجمل کلام ہے جس کی کچھ تفصیلات وہ ہیں جو امام غزالی کی کتاب مبارک سے نقل ہوئیں اگر یہ علمائے ربانیین نہ ہوں تو ان مصائب و مکائد کی شرح کون کرے اور بندوں کو دام شیطان و نفس سے کون بچائے، وہ لوگ جہل مرکب کا شکار ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ کتاب و سنت میں جو کچھ صاف و صریح طور پر بیان ہوا اس سے کچھ اور علوم کے چشمے نہیں نکلتے اور ان پر فکر و تدبر کے نتیجے میں علم باطن کے ہزاروں اسرار و رموز نہیں کھلتے یا علم باطن کوئی چیز نہیں، یا ہے تو اس کی کوئی ضرورت نہیں ورنہ کتاب و سنت نے کھول کر بیان کر دیا ہوتا۔

نادانو! کتاب و سنت میں صریح بیان کے ساتھ فکر و تدبر کی دعوت بھی تو ہے، اہل ذکر سے پوچھنے کی تاکید بھی تو ہے، اہل استنباط کی جانب رجوع کا حکم بھی تو ہے وہ کیوں ہے؟ اگر سب کچھ بیان ہی ہو چکا ہے اور سب پر عیاں و آشکارا ہی ہو چکا ہے تو فکر و تدبر کی دعوت کیوں؟ اہل استنباط کی جانب رجوع کی حاجت کیا؟ اہل ذکر سے پوچھنے کا فائدہ کیا؟

حقیقت یہ ہے کہ جو امور تعلیم خدا و رسول کے بغیر بندوں کی دسترس سے باہر تھے یا دسترس کے باوجود مقام دعوت و ارشاد میں ان کا اعلان و اظہار ضروری تھا وہ ضرور بیان کر دیے گئے، اور ان ہی کو اساس قرار دے کر ان سے استخراج کے لیے دعوت و تاکید فرما دی گئی تاکہ امت کو فکر و تدبر کا ثواب بھی حاصل ہو اور معارف و عطایا کے لحاظ سے بندوں کے رتبہ و مقام کا فرق بھی ظاہر ہو، رب جلیل کی حکمتیں بیان و شمار سے باہر ہیں۔

[مقالات مصباحی، ص: 85 تا 91]

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!