| عنوان: | ابن زیاد کی ہلاکت |
|---|---|
| تحریر: | محمد عارف رضا قادری امجدی |
| پیش کش: | جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی |
عبید اللہ ابن زیاد، یزید کی طرف سے کوفہ کا والی (گورنر) کیا گیا تھا۔ اسی بد نہاد کے حکم سے حضرت امام اور آپ کے اہل بیت علیہم الرضوان کو یہ تمام ایذائیں پہنچائی گئیں، یہی ابن زیاد موصل میں تیس ہزار فوج کے ساتھ اترا۔ مختار نے ابراہیم بن مالک اشتر کو اس کے مقابلہ کے لیے ایک فوج کو لے کر بھیجا۔ موصل سے پندرہ کوس کے فاصلہ پر دریائے فرات کے کنارے دونوں لشکروں میں مقابلہ ہوا اور صبح سے شام تک خوب جنگ رہی۔ جب دن ختم ہونے والا تھا اور آفتاب قریبِ غروب تھا، اس وقت ابراہیم کی فوج غالب آئی، ابن زیاد کو شکست ہوئی، اس کے ہمراہی بھاگے۔ ابراہیم نے حکم دیا کہ فوجِ مخالف میں سے جو ہاتھ آئے اس کو زندہ نہ چھوڑا جائے۔ چنانچہ بہت سے ہلاک کیے گئے۔
اسی ہنگامہ میں ابن زیاد بھی فرات کے کنارے محرم کی دسویں تاریخ 67ھ میں مارا گیا اور اس کا سر کاٹ کر ابراہیم کے پاس بھیجا گیا، ابراہیم نے مختار کے پاس کوفہ میں بھجوایا۔ مختار نے دار الامارتِ کوفہ کو آراستہ کیا اور اہل کوفہ کو جمع کر کے ابن زیاد کا سرِ ناپاک اسی جگہ رکھوایا جس جگہ اس مغرورِ حکومت و بندۂ دنیا نے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سرِ مبارک رکھا تھا۔ مختار نے اہل کوفہ کو خطاب کر کے کہا کہ اے اہل کوفہ! دیکھ لو کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خونِ ناحق نے ابن زیاد کو نہ چھوڑا، آج اس نامراد کا سر اس ذلت و رسوائی کے ساتھ یہاں رکھا ہوا ہے۔ چھ سال ہوئے ہیں، وہی تاریخ ہے، وہی جگہ ہے، خداوندِ عالم نے اس مغرور، فرعونِ خصال کو ایسی ذلت و رسوائی کے ساتھ ہلاک کیا، اسی کوفہ اور اسی دار الامارت میں اس بے دین کے قتل و ہلاک پر جشن منایا جا رہا ہے۔ [الکامل فی التاریخ، سنۃ سبع و ستین، ذکر مقتل ابن زیاد، ج: 4، ص: 60-62 ملخصاً؛ والبداية والنهاية، سنۃ سبع و ستین، و ترجمہ ابن زیاد، ج: 6، ص: 37-43 ملخصاً؛ وروضۃ الشہداء (مترجم)، دسواں باب، فصل دوم، ج: 2، ص: 457]
ترمذی شریف کی صحیح حدیث میں ہے کہ جس وقت ابن زیاد اور اس کے سرداروں کے سر مختار کے سامنے لا کر رکھے گئے تو ایک بڑا سانپ نمودار ہوا۔ اس کی ہیبت سے لوگ ڈر گئے، وہ تمام سروں پر پھرا۔ جب عبید اللہ ابن زیاد کے سر کے پاس پہنچا، اس کے نتھنے میں گھس گیا اور تھوڑی دیر ٹھہر کر اس کے منہ سے نکلا، اس طرح تین بار سانپ اس کے سر کے اندر داخل ہوا اور غائب ہو گیا۔ [سنن الترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب ابی محمد الحسن... الخ، الحدیث: 3805، ج: 5، ص: 431]
ابن زیاد، ابن سعد، شمر، قیس ابن اشعث کندی، خولی ابن یزید، سنان بن انس نخعی، عبداللہ بن قیس، یزید بن مالک اور باقی تمام اشقیا جو حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قتل میں شریک تھے اور ساعی تھے، طرح طرح کی عقوبتوں سے قتل کیے گئے اور ان کی لاشیں گھوڑوں کی ٹاپوں سے پامال کرائی گئیں۔ [روضۃ الشہداء (مترجم)، دسواں باب، فصل دوم، ج: 2، ص: 455 ماخوذاً]
حدیث شریف میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے یہ وعدہ ہے کہ خونِ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بدلے ستر ہزار شقی مارے جائیں گے، وہ پورا ہوا۔ دنیا پرستارانِ سیاہ باطن اور مغرورانِ تاریک دروں کیا امیدیں باندھ رہے تھے اور حضرت امام علیٰ جدہ و علیہ الصلاۃ والسلام کی شہادت سے ان دشمنانِ حق کو کیسی کچھ توقعات تھیں۔ لشکریوں کو گراں قدر انعاموں کے وعدے دیے گئے تھے، سرداروں کو عہدے اور حکومت کا لالچ دیا گیا تھا، یزید اور ابن زیاد وغیرہ کے دماغوں میں جہانگیر سلطنت کے نقشے کھنچے ہوئے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ فقط امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کا وجود ہمارے لیے عیشِ دنیا سے مانع ہے، یہ نہ ہوں تو تمام کرۂ زمین پر یزیدیوں کی سلطنت ہو جائے اور ہزاروں برس کے لیے ان کی حکومت کا جھنڈا گڑ جائے؛ مگر ظلم کے انجام اور قہرِ الہیٰ عزوجل کی تباہ کن بجلیوں اور در در سید گانِ اہل بیت کی جہاں برہم کن آہوں کی تاثیرات سے بے خبر تھے۔
انہیں نہیں معلوم تھا کہ خونِ شہداء رنگ لائے گا اور سلطنت کے پرزے اڑ جائیں گے، ایک ایک شخص جو قتلِ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں شریک ہوا ہے طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہو گا، وہی فرات کا کنارہ ہو گا، وہی عاشورہ کا دن، وہی ظالموں کی قوم ہو گی اور مختار کے گھوڑے انہیں روندتے ہوں گے، ان کی جماعتوں کی کثرت ان کے کام نہ آئے گی، ان کے ہاتھ پاؤں کاٹے جائیں گے، گھر لوٹے جائیں گے، سولیاں دی جائیں گی، لاشیں سڑیں گی، دنیا میں ہر شخص تُف تُف کر دے گا، اس ہلاکت پر خوشی منائی جائے گی، معرکہِ جنگ میں اگرچہ ان کی تعداد ہزاروں کی ہو گی مگر وہ دل چھوڑ کر ہیجڑوں کی طرح بھاگیں گے اور چوہوں اور کتوں کی طرح انہیں جان بچانی مشکل ہو گی، جہاں پائے جائیں گے مار دیے جائیں گے، دنیا میں قیامت تک ان پر نفرت و ملامت کی جائے گی۔
حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت حمایتِ حق کے لیے ہے؛ اس راہ کی تمام تکلیفیں عزت ہیں اور پھر وہ بھی اس شان کے ساتھ کہ اس خاندانِ عالی کا بچہ بچہ شیر بن کر میدان میں آیا، مقابل سے اس کی نظر نہ جھپکی، دمِ آخر تک مبارز طلب کرتا رہا اور جب نامردوں کے ہجوم نے اس کو چاروں طرف سے گھیر لیا تب بھی اس کے پائے ثبات و استقلال کو لغزش نہ ہوئی۔ اس نے میدان سے باگ نہ موڑی، نہ حق و صداقت کا دامن ہاتھ سے چھوڑا، نہ اپنے دعوے سے دست برداری کی۔ مردانہ جانبازی کا نام دنیا میں زندہ کر دیا، حق و صداقت کا ناقابلِ فراموش درس دیا اور ثابت کر دیا کہ فیوضِ نبوت کے پرتو سے حقانیت کی تجلیاں ان پاک باطنوں کے رگ و پے میں ایسی جا گزیں ہو گئی ہیں کہ تیر و تلوار اور تیر و سناں کے ہزارہا گہرے گہرے زخم بھی ان کو گزند نہیں پہنچا سکتے۔ آخرت کی زندگی کا دلکش منظر ان کی چشمِ حق بیں کے سامنے اس طرح روکش ہے کہ آسائشِ حیاتِ دنیوی کو وہ بے التفاتی کی ٹھوکروں سے ٹھکرا دیتے ہیں۔
حجاج ابن یوسف کے وقت میں جب دوبارہ حضرت زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسیر کیے گئے اور لوہے کی بھاری قید و بند کا بارِ گراں ان کے تنِ نازنین پر ڈالا گیا اور پہرہ دار متعین کر دیے گئے، زہری علیہ الرحمہ اس حالت کو دیکھ کر رو پڑے اور کہا کہ مجھے تمنا تھی کہ میں آپ کی جگہ ہوتا کہ آپ پر یہ بارِ مصائب دل پر گوارا نہیں ہے۔ اس پر امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ کیا تجھے یہ گمان ہے کہ اس قید و بندش سے مجھے کرب و بے چینی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اگر میں چاہوں تو اس میں سے کچھ بھی نہ رہے مگر اس میں اجر ہے اور تذکر ہے اور عذابِ الہیٰ عزوجل کی یاد ہے۔ یہ فرما کر بیڑیوں میں سے پاؤں اور ہتھکڑیوں میں سے ہاتھ نکال دیے۔ [المستدرک للحاکم، کتاب تواریخ المتقدمين... الخ، قصہ قتل یحییٰ علیہ السلام، الحدیث: 4208، ج: 3، ص: 485]
یہ اختیارات ہیں جو اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے کرامت انہیں عطا فرمائے گئے اور وہ صبر و رضا ہے کہ اپنے وجود اور آسائشِ وجود، گھر بار، مال و متاع سب سے رضائے الہیٰ عزوجل کے لیے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں اور اس میں کسی چیز کی پروا نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ ان کے ظاہری و باطنی برکات سے مسلمانوں کو متمتع اور فیض یاب فرمائے اور ان کی اخلاص مندانہ قربانیوں کی برکت سے اسلام کو ہمیشہ مظفر و منصور رکھے۔ آمین۔ ثم آمین یارب العٰالمین۔
صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَى خَيْرِ خَلْقِهِ مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ
