| عنوان: | حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی |
| پیش کش: | محمد سلمان العطاری |
| منجانب: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
5۔ صحابہ کرام، محدثینِ عظام اور علمائے اسلام حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعریف و توصیف بیان کرتے ہیں باوجودیکہ وہ حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے فضائل و مناقب سے خوب واقف تھے اور ان کے مابین جو واقعات رونما ہوئے انہیں اچھی طرح جانتے تھے۔
بخاری شریف کی حدیث ہے کہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے کسی شخص نے کہا کہ امیر المؤمنین حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں جبکہ فلاں مسئلہ میں انہوں نے یوں کیا تو آپ نے فرمایا:
أَصَابَ، إِنَّهُ فَقِيهٌ
انہوں نے ٹھیک کیا بے شک وہ فقیہ ہیں۔ [مشکوٰۃ، ص: 112]
یعنی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجتہد ہیں وہ ثواب پائیں گے اگرچہ خطا کریں۔ [مرقاۃ شرح مشکوٰۃ، ج: 2، ص: 160]
پیارے قارئین کرام! دیکھیے رئیس المفسرین حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما جو اجلۂ صحابہ میں سے ہیں اور حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے ایسے خاص ہیں کہ ان کے دشمن پر بہت سخت ہیں وہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعریف کرتے ہیں اور ان کو فقیہ و مجتہد مانتے ہیں۔ تو کتنے بد نصیب ہیں وہ لوگ جو جلیل القدر صحابی رسول کے نقشِ قدم کو چھوڑ کر شیطان کی اتباع کرتے ہیں یعنی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں بے جا کلمات بولتے ہیں اور ان کی توہین و تنقیص کرتے ہیں۔ العیاذ باللہ تعالیٰ۔
اور حضرت علامہ قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ بخاری شریف کی شرح میں تحریر فرماتے ہیں:
مُعَاوِيَةُ ذُو الْمَنَاقِبِ الْجَمَّةِ
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بڑے مناقب اور بڑی خوبیوں والے ہیں۔ [الناہیہ، ص: 17]
اور حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
أَمَّا مُعَاوِيَةُ فَهُوَ مِنَ الْعُدُولِ الْفُضَلَاءِ وَالصَّحَابَةِ الْأَخْيَارِ
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اعدل فضلا اور بہترین صحابہ میں سے ہیں۔ [مرقاۃ شرح مشکوٰۃ، ج: 2، ص: 517]
اسی لیے تمام محدثینِ کرام حضرت امیر معاویہ اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے جس طرح دوسرے صحابہ کے ناموں کے ساتھ رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں، اسی طرح حضرت امیر معاویہ کے نام کے ساتھ بھی رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں۔
6۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ متقی، عادل اور ثقہ ہیں، اسی لیے حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن زبیر، حضرت سائب بن یزید، حضرت نعمان بن بشیر اور حضرت ابو سعید خدری جیسے فقیہ و مجتہدین صحابہ نے آپ سے حدیثیں روایت کیں۔ اسی طرح حضرت جبیر، حضرت ابو ادریس خولانی، حضرت سعید بن مسیب، حضرت خالد بن معدان، حضرت ابو صالح سمان، حضرت ہمام بن عتبہ اور حضرت قیس بن ابو حازم جیسے جلیل القدر تابعین فقہا اور علما نے آپ سے حدیثوں کی روایتیں لیں۔ اگر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں مکر و فریب اور فسق و فجور ہوتا جیسا کہ آج کل بعض جاہلوں نے سمجھ رکھا ہے تو یہ بڑے بڑے صحابہ و تابعین حضرات ان سے حدیثوں کی روایتیں ہرگز قبول نہ کرتے۔
7۔ بخاری، مسلم، ترمذی، ابو داؤد، نسائی، بیہقی اور طبرانی وغیرہ محدثینِ کرام نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کردہ حدیثوں کو قبول کیا اور اپنی اپنی کتابوں میں درج کیا۔ ان میں خاص کر امام بخاری اور امام مسلم ایسی محتاط ہستیاں ہیں کہ اگر کسی راوی میں ذرا بھی عیب پایا تو اس کی روایت لینے سے انکار کر دیا۔ تو ان بزرگوں کا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایتوں کا قبول کر لینا ببانگِ دہل اعلان کر رہا ہے کہ ان سب کے نزدیک حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ متقی، عادل اور ثقہ قابلِ روایت ہیں، حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے اختلاف کے سبب مرتبۂ عدالت سے ساقط نہیں ہیں ورنہ یہ حضرات ان کی روایتیں ہرگز قبول نہ فرماتے ۔
8۔ حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت امیر معاویہ کو دمشق کا حاکم مقرر کیا اور معزول نہ فرمایا جبکہ آپ حاکموں کے حالات پر کڑی نگاہ رکھتے تھے اور ذرا سی لغزش پر معزول فرما دیتے تھے جیسے کہ معمولی شکایت پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسی بزرگ ہستی کو معزول فرما دیا۔
تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے سخت گیر آدمی کا حضرت امیر معاویہ کو دمشق کا حاکم مقرر فرمانا اور اپنی ظاہری حیات کے آخری لمحات تک اس اہم عہدے پر انہیں برقرار رکھنا حضرت امیر معاویہ کی عظمت و رفعت اور ان کی امانت و دیانت کا کھلم کھلا اقرار و اعلان ہے۔
9۔ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے 6 ماہ امورِ خلافت انجام دینے کے بعد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلافت سپرد کر دی اور ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی پھر ان کے سالانہ وظیفے اور نذرانے قبول فرمائے۔ قسم ہے وحدہ لا شریک کی اگر حضرت امیر معاویہ باطل پرست ہوتے تو حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سر کٹا دیتے مگر ان کے ہاتھ میں ہاتھ نہ دیتے۔ اس لیے کہ
مردِ حق باطل سے ہرگز خوف کھا سکتا نہیں
سر کٹا سکتا ہے لیکن سر جھکا سکتا نہیں
اور پھر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت امام حسن کے اس فعلِ مبارک کی ان الفاظ میں تعریف فرمائی:
ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ
میرا بیٹا یہ سردار ہے امید کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں صلح کرا دے گا۔ [بخاری، ج: 1، ص: 530]
اب اگر کوئی بدبخت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نا اہل قرار دے تو حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر الزام آ جائے گا کہ آپ نے نا اہل کو خلافت کیوں سپرد کی اور امت کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں کیوں دی؟ جبکہ یہ سپردگی قلت و ذلت کی وجہ سے تھی اس لیے کہ چالیس ہزار سپاہی جان قربان کرنے کی بیعت آپ کے ہاتھ پر کر چکے تھے۔ [حاشیہ بخاری، ج: 1، ص: 530]
