Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

امام احمد رضا اور علوم حدیث (قسط: اول)|فیضان المصطفیٰ قادری

امام احمد رضا اور علوم حدیث (قسط: اول)
عنوان: امام احمد رضا اور علوم حدیث (قسط: اول)
تحریر: فیضان المصطفیٰ قادری
پیش کش: فاطمہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

جملہ اسلامی علوم وفنون میں سب سے زیادہ کثیر الجہات و کثیر الذیول کوئی فن ہے تو وہ فنِ حدیث ہے۔ یہ فن جس قدر محترم و مکرم ہے اسی قدر مشکل ترین اور دشوار ترین بھی ہے، یوں تو کہنے کو صرف دو باتیں ہیں متنِ حدیث اور سندِ حدیث۔ یعنی متون کا علم اور سندوں کا علم۔ لیکن ان دونوں کی معرفت متعدد علوم کے حصول پر موقوف ہوتی ہے، اور وہ علوم بظاہر دورانِ بحثِ حدیث سے بالکل میل کھاتے نظر نہیں آتے ہیں، لیکن جب نتائج سامنے آتے ہیں تو حدیث سے ان کی گہری وابستگی کا پتہ چلتا ہے انہیں ظاہری صورتوں کے سبب وہ مستقل علم شمار کیے جاتے ہیں۔ جب کہ مقصود کے اعتبار سے وہ فنِ حدیث کی ہی ایک ذیلی بحث کی حیثیت رکھتے ہیں، یہی سبب ہے کہ علمائے اسلام نے فرمایا کہ فنِ حدیث ستر مستقل علوم کو شامل ہے۔ امام سیوطی فرماتے ہیں:

اِعْلَمْ أَنَّ أَنْوَاعَ عُلُومِ الْحَدِيثِ كَثِيرَةٌ لَا تُعَدُّ

جان لو کہ علومِ حدیث کے اقسام اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کا شمار نہیں۔

امام سیوطی فرماتے ہیں:

عِلْمُ الْحَدِيثِ يَشْتَمِلُ أَنْوَاعًا كَثِيرَةً تَبْلُغُ مِائَةً، وَكُلُّ نَوْعٍ مِنْهَا عِلْمٌ مُسْتَقِلٌّ لَوْ أَنْفَقَ الطَّالِبُ فِيهِ عُمُرَهُ لَمَا أَدْرَكَ نِهَايَتَهُ [تدريب الراوي، ج: 1، ص: 146]

علمِ حدیث کثیر اقسام پر مشتمل وہ اقسام سو ہیں اور ان میں سے ہر قسم ایک مستقل علم ہے، اگر طالبِ علم ان کی طلب میں پوری عمر لگا دے تب بھی اس کی انتہا کو نہ پائے۔ امام احمد رضا محدث بریلوی نے منصبِ اجتہاد کی اہمیت بتاتے ہوئے علومِ حدیث کے انواعِ کثیرہ کی طرف یوں اشارہ کیا ہے:

منزلِ اول: نقدِ رجال کے مراتب ثقہ و صدوق و حفظ و ضبط اور ان کے بارے میں ائمہ شان کے اقوال و وجوہِ طعن و مراتبِ توثیق، ومواضع تقدیم جرح و تعدیل، وحوامل طعن و مناشی توثیق، ومواضع تحمل و تساہل و تحقیق پر مطلع ہو۔ استخراجِ مرتبہٴ اتقانِ راوی بنقدِ روایات وضبطِ مخالفات واوہام وخطیئات وغیرہا پر قادر ہو، ان کے اسامی والقاب وکنی وانساب ووجوہِ مختلفہ تعبیرِ رواة، خصوصاً اصحابِ تدلیس شیوخ وتعیینِ مبہمات ومتفق ومفترق، ومختلف ومؤتلف سے ماہر ہو۔ ان کے مواليد ووفيات وبلدان ورحلات ولقا وسماعات، واساتذہ وتلامذہ وطرقِ تحمل ووجوہِ ادا وتدليس وتسويه وتغير، واختلاط وآخذين من قبل وآخذين من بعد وسامعين حالين وغيرہما تمام امورِ ضروریہ کا حال اس پر ظاہر ہو۔ ان سب کے بعد صرف سندِ حدیث کی نسبت اتنا کہہ سکتا ہے صحیح یا حسن یا صالح یا ساقط یا باطل یا معضل یا مقطوع یا مرسل یا متصل ہے۔

منزلِ دوم: صحاح وسنن ومسانيد وجوامع ومعاجيم واجزا وغيرہا کتبِ احادیث میں اس کے طرقِ مختلفہ والفاظِ متنوعہ پر نظر تام کرے کہ حدیث کے تواتر یا شہرت یا فردیتِ نسبیہ یا غرابتِ مطلقہ یا شذوذ یا نكارت واختلافاتِ رفع ووقف وقطع ووصل ومزيد في متصل الاسانيد، واضطراباتِ سند ومتن وغيرہا پر اطلاع پائے، نیز اس جمع طرق واحاطۂ الفاظ سے رفعِ ابہام ودفعِ اوہام واليضاحِ خفي واظہارِ مشکلوابانتِ مجمل و تعیینِ محتمل ہاتھ آئے...... اس کے بعد اتنا حکم کر سکتا ہے کہ حدیث شاذ یا منکر، معروف یا محفوظ و مرفوع یا موقوف یا موقوفِ فرد یا مشہور کس کس مرتبہ ہے۔

منزلِ سوم: اب عللِ خفیہ و غوامضِ دقیقہ پر نظر کرے جس پر صدہا سال سے کوئی قادر نہیں، اگر بعد احاطۂ وجوہِ علل تمام علل سے منزہ پائے تو یہ تین منزلیں طے کر کے صرف صحتِ حدیث بمعنیِ مصطلح اثر پر حکم لگا سکتا ہے۔ تمام حفاظِ حدیث و اجلۂ نقاد و نا و اصلانِ ذروۂ شامخۂ اجتہاد کی رسائی صرف اس منزل تک ہے۔

منزلِ چہارم: منزلِ چہارم سخت ترین منازل، دشوار ترین مراحل جس کے سائر نہیں مگر اقل قلیل، اس کی قدر کون جانے؟

گدائے خاک نشینی تو حافظا مخروش
کہ نظمِ مملکتِ خویش خسروان دانند

اس کے لیے واجب ہے کہ جمیع لغاتِ عرب، وفنونِ ادب و وجوہِ تخاطب و طرقِ تفاہم و اقسامِ نظم و صنوفِ معنی و ادراکِ علل و تنقیحِ مناط و استخراجِ جامع و عرفانِ مانع، ومواردِ تعدیہ ومواضعِ قصر ودلائلِ حکمِ آیات و احادیث و اقاویلِ صحابہ و ائمۂ فقہِ قدیم و حدیث، ومواقعِ تعارض و اسبابِ ترجیح، و مناہجِ توفیق، و مدارجِ دلیل، ومعارکِ تاویل و مسالکِ تخصیص و مناسکِ تقیید و مشارعِ قیود و شوارعِ مقصود وغیرِ ذلک پر اطلاعِ تام و وقوفِ عام و نظرِ غائر و ذہنِ رفیع و بصیرتِ ناقدہ و بصرِ منبج رکھتا ہو۔ [الفضل الموہبی از فتاویٰ رضویہ، ج: 27، ص: 71 تا 75]

مذکورہ چار منازل کے تحت آپ نے جن علومِ حدیثیہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے الحمد للہ آپ خود ان علوم کے ماہر تھے اور بعض میں درجۂ امامت پر فائز تھے۔ پیشِ نظر مقالہ میں صرف بطورِ مثال چند علوم میں آپ کی مہارت و حذاقت پیش کرنا چاہتا ہوں۔ وہ علومِ حدیثیہ حسبِ ذیل ہیں:

  1. عِلمِ مُتُونِ حدیث۔

  2. عِلمِ طُرُق و اِسناد۔

  3. عِلمِ اِختلافِ الحدیث۔

  4. عِلمِ المَوضُوعات۔

  5. عِلمِ اِصطلاحاتِ الحَدیثِیّہ۔

  6. عِلمِ التَّسامُحات۔

  7. عِلمِ الجَرح والتَّعدِیل۔

  8. عِلمِ اَسماءِ الرِّجال۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!