| عنوان: | پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نور ہیں قرآن و حدیث اور عقلی دلائل کی روشنی میں |
|---|---|
| تحریر: | محمد شہید حسین عطاری |
آخری نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت کے اعتبار سے نور اور شکل و صورت کے اعتبار سے مثل بشر ہیں۔ ہم اسی حوالے سے گفتگو کریں گے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نور ہیں۔
پیارے قارئین! حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے نور ہونے کے متعلق اللہ تعالی نے قرآن مجید میں مختلف مقامات پر مختلف انداز سے بیان فرمایا، چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌ۔
ترجمہ کنزالعرفان: بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور اور ایک روشن کتاب آیا۔
اس آیتِ مبارکہ میں نور سے کیا مراد ہے اس کے بارے میں مختلف اقوال ہیں، ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ذات والا صفات ہے۔
فقیہ ابو اللیث سمرقندی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں: ’’وَھُوَ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وَالْقُرْآنُ‘‘ یعنی نور سے مراد محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور قرآن ہیں۔
امام ابو محمد حسین بن مسعود بغوی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ’’یَعْنِیْ مُحَمَّدًا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وَقِیْلَ اَلْاِسْلَامُ‘‘ یعنی نور سے مراد محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہیں۔
علامہ خازن رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی علیہ فرماتے ہیں: ’’یَعْنِیْ مُحَمَّدًاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اِنَّمَا سَمَّاہُ اللہُ نُوْرًا لِاَنَّہٗ یُھْتَدٰی بِہٖ کَمَا یُھْتَدٰی بِالنُّوْرِ فِیْ الظُّلَامِ‘‘ یعنی نور سے مراد محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو نور اس لیے فرمایا کہ جس طرح اندھیرے میں نور کے ذریعے ہدایت حاصل ہوتی ہے اسی طرح آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ذریعے بھی ہدایت حاصل ہوتی ہے۔
علامہ جلال الدین سیوطی کا قول ہے، وہ لفظ ’’نُورْ‘‘ کی تفسیر لکھتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’وَھُوَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ‘‘ نور سے مراد نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہیں۔
علامہ صاوی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: ’’وَ سُمِّیَ نُوْرًا لِاَنَّہٗ یُنَوِّرُ الْبَصَائِرَ وَ یَھْدِیْھَا لِلرَّشَادِ وَ لِاَنَّہٗ اَصْلُ کُلِّ نُوْرٍ حِسِّیٍّ وَ مَعْنَوِیٍّ‘‘ یعنی حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا نام اس آیت میں نور رکھا گیا اس لیے کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بصیرتوں کو روشن کرتے ہیں اور انہیں رُشد و ہدایت فرماتے ہیں اور اس لیے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہر نور حِسّی (وہ نور جسے دیکھا جا سکے) اور مَعْنَوِی (جیسے علم و ہدایت) کی اصل ہیں۔ (صراط الجنان، سورہ مائدہ، آیت 15)
شواہدِ قرآن مجید
اللہ پاک نے ایک اور جگہ پر نبی پاک صلی علیہ وآلہ وسلم کے نور ہونے کو کچھ اس طرح بیان فرمایا:
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ (45) وَ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا (46)
ترجمۂ کنز العرفان: اے نبی! بیشک ہم نے تمہیں گواہ اور خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا۔ اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلانے والا اور چمکادینے والا آفتاب بنا کر بھیجا۔ (پارہ 22، سورہ احزاب، آیت 45، 46)
حکیم الامت، مفتی احمد یار خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: قرآن شریف نے سورج کو بھی دوسری جگہ سراجِ منیر فرمایا ہے کیونکہ وہ چمکتا بھی ہے اور چمکاتا بھی ہے۔ یہی سورج چاند ستاروں کو نور بناتا ہے، کیونکہ یہ سب آفتاب سے ہی نور پاتے ہیں اور جگمگاتے ہیں۔ اسی طرح حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بھی سراجِ منیر فرمایا کہ حضور خود بھی چمک رہے ہیں اور صحابَۂ کرام اور اولیاء اللہ کو چمکا رہے ہیں کہ وہ سب حضور ہی سے جگمگا رہے ہیں۔ (رسالَۂ نور مع رسائلِ نعیمیہ، ص 12)
اللہ عزوجل نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اس نور سے پیدا کیا، جو عین ذات الٰہی ہے، یعنی اپنی ذات سے بلا واسطہ پیدا فرمایا۔ ہاں عین ذاتِ الٰہی سے پیدا ہونے کے یہ معنی نہیں کہ معاذ اللہ ذاتِ الٰہی ذاتِ رسالت کے لیے مادہ ہے، جیسے مٹی سے انسان پیدا ہو، یا عیاذاً باللہ ذات الٰہی کا کوئی حصہ یا کُل، ذاتِ نبی ہو گیا۔ اللہ عزوجل حصے اور ٹکڑے اور کسی کے ساتھ متحد ہو جانے یا کسی چیز میں داخل ہونے سے پاک ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 30، صفحہ 665، 666)
مقالات کاظمی میں ہے: "اس حدیث میں نور کی اضافت بیانیہ ہے اور نور سے مراد ذات ہے، حدیث کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و سلم کے نور پاک یعنی ذات مقدسہ کو اپنے نور یعنی اپنی ذات مقدسہ سے پیدا فرمایا، اس کے یہ معنی نہیں کہ معاذ اللہ! اللہ تعالیٰ کی ذات حضور کی ذات کا مادہ ہے یا نعوذ باللہ! حضور کا نور اللہ کے نور کا کوئی حصہ یا ٹکڑا ہے۔ تعالی اللہ عن ذلک علوا کبیرا۔" (مقالات کاظمی، جلد 1، صفحہ 56، مکتبۃ ضیائیہ، راولپنڈی)
احادیثِ مبارکہ سے ثبوت
بلکہ خود رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنا نور ہونا بیان فرمایا، چنانچہ امام بخاری اور امام مسلم کے استاذ کے استاذ امام عبد الرزاق رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کرتے ہیں:
قَالَ سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ عَنْ اَوَّلِ شَیْئٍ خَلَقَہُ اللہُ تَعَالٰی؟ فَقَالَ ھُوَ نُوْرُ نَبِیِّکَ یَا جَابِرُ خَلَقَہُ اللہُ۔
یعنی حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں: میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے کس شے کو پیدا فرمایا؟ ارشاد فرمایا: ’’اے جابر! وہ تیرے نبی کا نور ہے جسے اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا۔‘‘ (صراط الجنان، سورہ مائدہ، آیت 15)
نور ہونے پر عقلی دلیل
عقلی دلیل یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور ہونے کی وجہ سے آپ کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا تھا، چنانچہ نور کا لغوی معنی ہے روشنی، اجالا، چمک، تابناکی، ضیاء۔ جیسے آفتاب روشن ہے اس کے لیے کوئی سایہ نہیں کیونکہ جو چیز روشن ہوتی ہے اس کے لیے کوئی سایہ نہیں ہوتا۔ تو ہمارے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی نور ہی نہیں بلکہ اعلیٰ نور ہیں، تو اس لیے ہمارے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسمِ اقدس کا سایہ مبارک نہیں تھا۔
اس کے متعلق امام الزماں حضرت علامہ قاضی عیاض علیہ رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: "یہ جو بیان کیا گیا ہے کہ سورج اور چاند کی روشنی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ نہیں پڑتا تھا، اس لیے کہ حضور نور ہیں۔" (بزرگوں کے عقیدے، ص 351)
حاصلِ کلام (لبِ لباب)
ان تمام دلائل سے معلوم ہوا کہ ہمارے پیارے آقا آخری نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نور ہیں، اور مفسرین کے متعدد اقوال سے بھی خوب صریح طور پر ثابت ہوا کہ ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نور ہیں اور عقلی مثال سے بھی، اس لیے کہ نور کا کوئی سایہ نہیں ہوتا اور ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم تو نور ہی نہیں بلکہ اعلیٰ نور ہیں۔ حقیقت کے اعتبار سے نور ہیں اور شکل و صورت کے اعتبار سے مثلِ بشر ہیں۔ مگر یاد رہے کہ مثل سے یہ مراد ہرگز نہیں کہ ہم لوگوں کی طرح یا عام لوگوں کی طرح، بلکہ افضل البشر ہیں، سید البشر ہیں۔ یہاں یہی مراد ہے۔
