Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

حضرتِ اسماعیل علیہ السلام کی داستانِ حیات (قسط: دوم)|ابو التمش اعظمی

حضرتِ اسماعیل علیہ السلام کی داستانِ حیات (قسط: دوم)
عنوان: حضرتِ اسماعیل علیہ السلام کی داستانِ حیات (قسط: دوم)
تحریر: ابو التمش اعظمی
پیش کش: نازیہ فاطمہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

کعبہ کی تعمیر:

کعبہ کی تعمیر ایک ایسی عظیم الشان داستان ہے جس کی عظمت و شان کو وقت کی گرد بھی دھندلا نہیں سکتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ کعبہ کئی بار منہدم ہوا اور تعمیر کیا گیا، مگر اس کی روحانی عظمت اور تقدس ہمیشہ برقرار رہا۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام نے اس مقدس گھر کی تعمیر میں ایسی محنت اور لگن سے کام کیا کہ ہزاروں انسانوں کی کاوشیں بھی اس کا مقابلہ نہ کر سکیں۔ جب اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ مکہ کی وادی میں ایک گھر تعمیر کریں، تو انھوں نے اپنے بیٹے اسماعیل سے مدد مانگی۔ اسماعیل نے فوراً حامی بھری: “میں آپ کی مدد کروں گا”۔

چنانچہ باپ اور بیٹے نے مل کر ایک بلند ٹیلے پر کعبہ کی بنیادیں اٹھائیں۔ اسماعیل علیہ السلام پتھر لاتے اور ابراہیم علیہ السلام دیواریں بناتے۔ جب دیواریں بلند ہوئیں، تو اسماعیل علیہ السلام ایک پتھر (مقام ابراہیم) لائے، جس پر ابراہیم علیہ السلام کھڑے ہوئے اور تعمیر جاری رکھی۔ اس دوران دونوں باپ بیٹے پتھر دیتے اور لیتے ہوئے دعا مانگتے رہے:

اے ہمارے رب! ہماری اس خدمت کو قبول فرما، بے شک تو سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ [سورۃ البقرہ: 127]

اللہ نے کعبہ کی تعمیر کے وقت کا ذکر قرآن میں نہیں کیا، کیونکہ اس سے زیادہ اہم اس گھر کو بنانے والوں کی روحوں کی پاکیزگی اور ان کی دعاؤں کی عظمت ہے۔ وہ دعائیں آج بھی کعبہ کے تقدس کا حصہ ہیں، جو ہر حاجی کے دل میں گونجتی ہیں۔

حجر اسود، جنت کا تحفہ:

حجر اسود، وہ مبارک پتھر جو کعبہ کی جنوب مشرقی دیوار میں جڑا ہے، اپنی عظمت اور تقدس میں بے مثال ہے۔ اس کے بارے میں مختلف روایات ہیں، مگر سب اس کی حرمت اور عزت پر متفق ہیں۔ سب سے معتبر روایت کے مطابق، جب حضرت ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کعبہ کی تعمیر مکمل کر رہے تھے، تو دیوار میں ایک پتھر کی کمی رہ گئی۔ ابراہیم نے اسماعیل سے کہا کہ وہ ایک مناسب پتھر تلاش کریں۔ اسماعیل پتھر کی تلاش میں نکلے، مگر جب وہ واپس لوٹے تو دیکھا کہ وہ جگہ ایک پتھر سے پر ہو چکی تھی۔ انھوں نے اپنے والد سے پوچھا کہ یہ پتھر کہاں سے آیا۔ ابراہیم نے بتایا کہ یہ پتھر فرشتہ جبرائیل علیہ السلام لے کر آئے ہیں۔

یہ حجر اسود جنت سے نازل ہوا تھا، جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “حجر اسود جنت سے نازل ہوا، وہ دودھ سے زیادہ سفید تھا، پھر اسے بنی آدم کے گناہوں نے سیاہ کر دیا۔” [ترمذی: 877]

یہ پتھر جو کبھی جنت کی سفیدی کا مظہر تھا، انسانوں کے گناہوں کی سیاہی سے اسود ہو گیا، مگر اس کی روحانی پاکیزگی اور تقدس آج بھی برقرار ہے۔ حجرِ اسود نہ صرف کعبہ کی زینت ہے، بلکہ وہ نشانی ہے جو مومنوں کو جنت کی یاد دلاتی ہے اور ان کے دلوں کو توحید کے نور سے منور کرتی ہے۔

اسماعیل علیہ السلام کی نبوت:

اللہ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو نبوت کے عظیم منصب سے نوازا۔ انہیں یمن کے قبیلہ عمالیق کی ہدایت کا فریضہ سونپا گیا۔ بعض روایات کے مطابق، انھوں نے پچاس سال تک اس قوم کو اللہ کا پیغام پہنچایا۔ کچھ لوگ ان پر ایمان لائے، کچھ شرک اور کفر پر ڈٹے رہے۔ قرآن پاک میں اللہ نے ان کی نبوت کی تعریف یوں بیان کی:

اور کتاب (قرآن) میں اسماعیل کا ذکر کرو۔ بیشک وہ وعدے کا سچا تھا، اور وہ رسول اور نبی تھا۔ وہ اپنے گھر والوں اور اپنی قوم کو نماز اور زکوۃ کا حکم دیتا تھا، اور اس کا رب اس سے راضی تھا۔ [سورۃ مریم: 54-55]

اسماعیل علیہ السلام نے ہدایت کا یہ اصول اپنایا کہ پہلے خود دین پر عمل کیا، پھر اپنے گھر والوں کو اس کی تلقین کی، اور آخر میں اپنی قوم کو اللہ کا پیغام پہنچایا۔ ان کی زندگی اطاعت اور ہدایت کا ایک روشن نمونہ تھی۔

وصال:

بعض روایات کے مطابق، حضرت اسماعیل علیہ السلام کا وصال 130 یا 137 سال کی عمر میں ہوا۔ ان کے بارہ بیٹوں نے ان کی نسل کو آگے بڑھایا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی وفات تک مکہ میں رہے اور انھیں ان کی والدہ حضرت ہاجرہ کے قریب، مسجد الحرام میں حجر اسود کے نزدیک دفن کیا گیا، واللہ اعلم۔

ان کا وصال ہو گیا، مگر ان کی میراث آج بھی کعبہ، زمزم، اور صفا و مروہ کی صورت میں زندہ ہے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی زندگی ہر مومن کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان کی والدہ حضرت ہاجرہ کا توکل، ان کے والد حضرت ابراہیم کی اطاعت، اور ان کی اپنی قربانی اور نبوت کا جذبہ، یہ سب وہ جواہرات ہیں جو تاریخ کے اوراق میں انتہائی نفاست کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ وہ نہ صرف آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جد امجد ہیں، بلکہ ان کی زندگی ایک ایسی کتاب ہے جس کا ہر صفحہ ایمان، صبر، محبت، حکمت، تقدس اور ہدایت کی لازوال داستان بیان کرتا ہے۔ آج جب ہم کعبۃ اللہ کو دیکھتے ہیں، تو وہ ہمیں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانی، حضرت ہاجرہ کی جدوجہد، اور حضرت ابراہیم کی دعاؤں کی یاد دلاتا ہے۔ زمزم کا چشمہ، صفا و مروہ کی سعی، حجر اسود کا تقدس، اور کعبہ کی پاک دیواریں ان کے عظیم ایمان کی گواہی دیتی ہیں۔ کعبہ، جو کئی بار منہدم ہوا اور دوبارہ تعمیر ہوا، آج بھی اپنی روحانی عظمت کے ساتھ قائم ہے، گویا یہ بتاتا ہے کہ ایمان کی بنیادیں کبھی کمزور نہیں پڑتیں۔

حضرت اسماعیل علیہ السلام کی داستانِ حیات ہمیں درس دیتی ہے کہ جب دل اللہ کے سپرد ہو، تو صحرا گلزار بن جاتا ہے، تنہائی رحمتوں کا مسکن بن جاتی ہے، اور ایک بنجر وادی دنیا کا روحانی مرکز بن جاتی ہے۔ یہ داستان ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ کی راہ میں کی گئی محبت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ [حوالہ: ماہنامہ اشرفیہ، جولائی 2025]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!