Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

حضرت صدر الافاضل علیہ الرحمہ کی چند خصوصیات اور درس عبرت|مولانا عبد المبین نعمانی مصباحی

حضرت صدر الافاضل علیہ الرحمہ کی چند خصوصیات اور درس عبرت
عنوان: حضرت صدر الافاضل علیہ الرحمہ کی چند خصوصیات اور درس عبرت
تحریر: مولانا عبد المبین نعمانی مصباحی
پیش کش: سعدیہ نوری قادری
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

حضرت صدرالافاضل علامہ شاہ نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ والرضوان بڑے پایے کے عالم تھے، آپ صرف عالم ہی نہیں تھے بلکہ قائد اہلِ سنت بھی تھے، آپ کے زمانے سے لے کر آج تک آپ جیسا قائد، اہلِ سنت کو نصیب نہیں ہوا۔ ماضی قریب میں حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کو قائد کا درجہ حاصل تھا، بعض حیثیتیں آپ کی نمایاں بھی تھیں وہ یہ کہ آپ نے بہت سے مدارس قائم کیے، ہند ہی نہیں بیرونِ ہند میں بھی اور ایک عالمی سنی تحریکِ دعوتِ اسلامی کے بھی آپ بانی ہیں، جس کے اثرات اس وقت مولانا محمد الیاس عطار قادری کی قیادت و سرپرستی میں پورے عالم پر چھائے ہوئے ہیں، آپ کو امیر بھی آپ ہی نے بنایا، یہ بات حضرت علامہ نے خود مجھ سے بتائی۔

بات چل رہی تھی حضرت صدرالافاضل کی اور آپ کی بعض خصوصیات کی تو میں نے جب آپ کی سوانح حیات کا مطالعہ کیا اور علمائے اہلِ سنت کے ان کے بارے میں تاثرات معلوم کیے تو پتہ چلا کہ آپ ایک بہترین قائد تھے مذہبی اور سیاسی بھی۔ مذہبی اور مسلکی اعتبار سے دیکھا جائے تو جامعہ نعیمیہ مرادآباد اس وقت کا سب سے بڑا سنی مدرسہ تھا اور اس وقت کے بہت سارے اکابر اور علمائے اہلِ سنت آپ ہی کے شاگرد تھے، مثلاً:

  1. مولانا مفتی محمد حسین نعیمی سنبھلی

  2. مولانا محمد عمر نعیمی

  3. مولانا سید نعیم اشرف جائسی

  4. مولانا عبدالوحید شاہ صاحب بنارسی

  5. حضور حافظِ ملت علامہ شاہ عبدالعزیز مرادآبادی

  6. مولانا شاہ نذیر الاکرم نعیمی

  7. مولانا مفتی حبیب اللہ نعیمی

  8. مولانا مفتی اشفاق حسین نعیمی سنبھلی، مفتی اعظم راجستھان

  9. مولانا غلام معین الدین نعیمی مصنفِ حیاتِ صدرالافاضل

  10. مفتی احمد یار خان نعیمی بدایونی

  11. مولانا نور اللہ نعیمی بصیر پوری

  12. پیر کرم شاہ ازہری

  13. مجاہدِ دوراں مولانا سید مظفر حسین کچھوچھوی وغیرہ

ہم حضرت صدرالافاضل کے علاوہ حضرت صدر الشریعہ علامہ شاہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ اپنے دور کے سب سے بڑے مدرس تھے کہ آپ کی درس گاہِ فیض سے جتنے اکابر نکلے اور عالمِ علم و فضل پر چھا گئے اس کی دوسری مثال نہیں ملتی، یوں ہی آپ کے تلمیذِ رشید اور اجل الخلفاء استاذ العلماء حافظِ ملت علامہ شاہ حافظ عبدالعزیز محدث مراد آبادی علیہ الرحمہ بانی الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور معلم اور درس کی سوغات بانٹنے میں فائق الاقران تھے، یعنی ان کے زمانے میں آپ جیسا مرجع الطلبہ والفضلاء نظر نہیں آیا۔

آپ نے جامعہ نعیمیہ میں بھی کچھ وقت گزارے لیکن زیادہ تر اکتسابِ فیض حضرت صدرالشریعہ سے ہی کیا، یہاں مجھے حضرت صدرالافاضل علیہ الرحمہ پر کچھ لکھنا ہے کہ آپ کی خصوصیات کیا تھیں، تو سنیں:

  1. آپ کسی عالم کی توہین برداشت نہیں کرتے، آج جب کہ ایک عالم دوسرے عالم کی شکایات کا دفتر کھولے بیٹھا ہوا ہے اور مزے لے لے کر عیب بیان کر رہا ہے، یہ ایک ایسا عیب ہے جس سے زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں۔ حضرت صدرالافاضل کے سامنے اگر کوئی کسی عالم کی برائی بیان کرتا یا اس کا نام بگاڑتا تو آپ اس کو سخت تنبیہ کرتے اور اسے فوراً روکتے۔

  2. کسی دینی مدرسے کے جلسے میں جاتے تو نذرانہ تو... کیا کرایہ بھی نہیں لیتے، یہ بہت بڑی قربانی ہے اور ہمارے لیے درسِ عبرت، خصوصاً علماء کے لیے جو اہلِ ثروت ہیں اور بحسن و خوبی یہ ایثار کر سکتے ہیں۔

  3. آج علماء سے توکل اٹھتا جا رہا ہے حضرت صدر الافاضل توکل کی عادت کریمہ پر کاربند تھے اور اس راستے میں اللہ کا ان پر بڑا فضل تھا، یہ بھی آج کے دنیا دار علماء کے لیے درسِ عبرت ہے۔ آج جب بھی کسی سے بات ہوتی ہے اکثر کی زبان پر یہی ہوتا ہے خرچ کیسے چلے گا؟ ایسا لگتا ہے خدا کی رزاقیت پر سے اعتماد و ایمان رخصت ہوتا جا رہا ہے۔ حافظِ ملت فرمایا کرتے تھے “جو دین کا کام کرتا ہے اللہ اس کا خرچ چلاتا ہے یعنی غیب سے اس کی امداد فرماتا ہے” اور توکل کے بارے میں فرمایا: “توکل ہی تو کل ہے” یعنی یہ دولت جسے مل گئی اسے سب کچھ مل گیا، اسے تو اقبال جیسے مفکر شاعر نے کہا تھا:

    یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم
    جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

  4. جامعہ اشرفیہ بمقام خانقاہ اشرفیہ کچھوچھہ شریف کی جب تعمیر لگی تو آپ نے اپنے اہتمام سے مدرسوں کی تعمیر کرائی، یہ بھی بہت بڑا سبق ہے اور نمونہ بھی، ہمارے بعض کروڑ پتی علماء ومشائخ کے لیے جو ذاتی طور پر بہت بھرے پڑے ہیں لیکن دینی مدارس میں ان کی قربانیاں دیکھنے کو نہیں ملتیں۔

  5. حضرت صدرالافاضل علیہ الرحمہ بڑے سخی اور فیاض بھی تھے، آپ کا دسترخوان نہایت وسیع تھا جو آتا آپ کے دسترخوان سے آسودہ اور سیراب ہو کر جاتا۔

  6. آپ (صدر الافاضل) صاف ستھرا کپڑا استعمال کرتے، دیگر معاملات میں بھی صفائی پسند تھے، مدرسے کو بھی صاف ستھرا ہی دیکھنا پسند فرماتے، آپ کے تلامذہ میں بھی نظافت کی یہ صفت پائی جاتی۔ آپ کا لباس بہت باوقار اور عالی شان ہوتا، چال ڈھال شاہانہ تھی، رومال بجائے کاندھے پر رکھنے کے ہاتھ میں لیتے اور کبھی کبھی بغل میں دبا لیتے، یہ کیفیت ان کے ایک شاگرد حضرت مولانا شاہ غلام عاصی ابوالعلائی بلیاوی (برادرِ اکبر علامہ ارشد القادری) نے راقم الحروف سے خود بیان فرمائی (رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى) اور یہ بھی کہ چال میں بڑی تیزی تھی کیوں نہ ہو کہ کام بھی تیزی سے کرنا تھا۔

  7. بلند دماغ عالی فکر تھے، جماعتی سربلندی کے لیے ہمیشہ کوشاں رہتے، اسی لیے اپنا مدرسہ عالی شان اور وسیع بنایا کہ اس وقت ہندوستان میں کوئی مدرسہ سنیوں کا غالباً نہ تھا۔ عمر بہت زیادہ نہ پائی اس لیے سلسلہِ طاہرہ بھی زیادہ دراز نہ ہو سکا اور مدرسے کی ترقی کے رک جانے کا بھی سب سے بڑا سبب یہی تھا، ورنہ جامعہ آج بھی سب سے بڑا مدرسہ ہوتا، توجہ دی جائے موجودہ اربابِ حل و عقد اہتمام کو بروئے کار لا کر ادارے کو ترقی دینا چاہیں تو اب بھی شاہراہِ ترقی پر گامزن ہو سکتا ہے اور یہ حضرت صدرالافاضل کے لیے بڑا ایصالِ ثواب بھی ہوگا۔

  8. حضرت صدر الافاضل علیہ الرحمہ میدانِ صحافت کے بھی شہسوار تھے، آپ نے کئی رسالے اور اخبارات جاری کیے، مثلاً: السواد الاعظم وغیرہ اور صحافت ہی کو فروغ دینے کے لیے آپ نے باضابطہ پریس بھی قائم کیا اور اپنے ہی پریس سے آپ نے سب سے پہلے کنز الایمان ترجمہ قرآن از اعلیٰ حضرت اور تفسیر خزائن العرفان کو شائع کیا اور اس کے کئی ایڈیشن اسی سے شائع ہوئے۔ اعلیٰ حضرت نے کنز الایمان کا مسودہ آپ ہی کے حوالے کیا کہ اس پر تفسیری حواشی لکھ کر منظرِ عام پر لائیں، چنانچہ اس پر عمل بھی کیا۔ ملک کے بعض مشہور اخبارات و رسائل میں بھی دیگر رسائل و اخبارات میں بھی آپ مضامین لکھتے جنھیں قارئین شوق سے پڑھتے۔ زبان بھی بڑی صاف ستھری پائی تھی، آپ کے عہد میں اتنی اچھی زبان شاید ہی کسی کی رہی ہوگی۔

  9. حضرت صدرالافاضل ایک بیدار مغز، زندہ دل اور انقلاب بدوش عالم و مفکر کا نام ہے جو ملک و بیرون ملک کے احوال و کوائف پر گہری نظر رکھتے تھے، ملک کے بڑے بڑے لیڈر آپ سے ملاقاتیں کرتے اور مشورے لیتے، آپ سنی مسلمانوں کے دینی قائد بھی تھے اور سیاسی بھی، آپ کی سیاست حقیقت پسندانہ بھی تھی اور مخلصانہ۔

  10. آپ نے غیر منقسم ہندوستان میں کئی عظیم الشان کانفرنسیں کیں، جن میں سب سے نمایاں اور مؤثر کانفرنس وہ ہے جو 1946ء میں بمقام بنارس منعقد ہوئی، جس میں تقریباً پانچ سو علماء و مشائخ نے شرکت کی جس کے بہتر نتائج سامنے آئے۔

  11. آپ دو درجن سے زیادہ کتابوں کے مصنف ہیں، جن میں تفسیر خزائن العرفان اور الکلمۃ العلیا نمایاں ہیں۔

  12. حضرت صدرالافاضل علیہ الرحمہ نے فتنہ ارتداد کو دفع کرنے میں بھی بھرپور جدوجہد کی، جسے اس وقت شدھی تحریک کہا جاتا تھا۔

  13. حضرت صدرالافاضل کی ایک بہت بڑی خصوصیت تھی اتحادِ اہلِ سنت میں کوشاں رہنا، اس لیے نہ کبھی آپ نے درس گاہی اختلاف کو ہوا دی نہ ہی سلسلوں اور خانقاہوں کے اختلافات کو، یہ ان کے اخلاصِ فی الدین کی علامت تھی۔

ایک بڑی ضرورت پوری ہو گئی

سوانح صدرالافاضل دو جلدوں میں منظر عام پر

ایک عرصے سے قائدِ سوادِ اعظم، مفکر و مدبر اعظم صدر الافاضل حضرت علامہ شاہ نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ (متوفی 1367ھ / 1948ء) کی سوانح حیات کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی، مولانا مفتی غلام معین الدین نعیمی نے چھوٹے سائز پر دو جلدوں میں ایک مختصر سوانح لکھی تھی اور شائع کی، اس میں حضرت صدرالافاضل جیسی آفاقی اور گراں قدر شخصیت کی حیات و خدمات کو سمیٹنا مشکل تھا، درمیان میں کافی وقفہ گزرنے کے بعد فاضلِ ذی شان علامہ مفتی محمد ذوالفقار خاں نعیمی حفظہ اللہ نے بڑی عرق ریزی، جانفشانی اور جگر کاوی سے ایک عظیم کتاب 1500 صفحات پر مشتمل سوانح صدرالافاضل کے نام سے دو جلدوں میں مرتب کی اور شائع بھی کر دی۔ تقریباً سو سال قبل کے حالات، دستاویزات اور خدمات کے ریکارڈ کو کھوج کر نکالنا اور انہیں حسین گلدستوں میں سجانا آسان کام نہیں تھا، صحرا نوردی سے کام لینا پڑتا ہے۔ دیدہ ریزی کرنا پڑتی ہے تب جا کر کوئی تحقیقی کاوش منظرِ عام پر آتی ہے، اس کا صحیح اندازہ تو وہی کر سکتا ہے جس نے اس جیسا کوئی جوکھم کام کیا ہو یا اس وادی میں آبلہ پائی کی ہو۔

میں تو مولانا کو بہت بہت بدھائی دیتا ہوں کہ انہوں نے ایک ٹیم کا کام اکیلے کر ڈالا، مولائے کریم انہیں صدرالافاضل علیہ الرحمہ کے فیوض و برکات سے ڈھیروں حصہ عطافرمائے اور اپنی رحمتِ کاملہ سے ان کے دامن کو بھر دے۔ مولانا مفتی ذوالفقار قلم کے دھنی ہیں، خدا انہیں اور غنی کرے، آمین۔ میں تو کتاب پڑھتا جاتا تھا اور حیرتوں میں ڈوبتا جاتا تھا، ایسا لگتا ہے کہ غیبی امداد ان کے ساتھ ہو گی ورنہ یہ کام کچھ آسان نہ تھا۔

سردست یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ حضور صدرالافاضل علیہ الرحمہ کے سوانح حیات ترتیب دینے کے لیے ایک بار حضرت مولانا محمد یامین نعیمی مرحوم سابق مہتمم جامعہ نعیمیہ نے رئیس التحریر حضرت مولانا یٰسین اختر مصباحی سے فرمایا کہ آپ حضرت صدرالافاضل کی سوانح حیات لکھ ڈالیں، میں جہاں تک ہو سکے گا مدد کروں گا، چنانچہ کچھ عرصے لکھتے رہے، اس کا تذکرہ بھی بار بار کیا، عمر کے آخری حصے میں اپنے طور پر اسے مکمل بھی کر لیا، کمپیوٹر بھی کرایا مگر نظر ثانی و تصحیح کا کام رہ گیا تھا کہ اجل کو لبیک کہنا پڑا، مولانا چل بسے، ان کا یہ کام راقم الحروف کے ذمہ ہے، بارہا ہمت کی مگر نظر ثانی کا کام نہ ہو سکا کہ میں شدید بیمار ہو گیا جس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے، اسی حالت میں یہ چند سطریں رقم کر رہا ہوں جو مولانا مفتی ذوالفقار خاں نعیمی کے لیے بطور خراجِ تحسین و تبریک ہے۔ [حوالہ: ماہنامہ اشرفیہ، نومبر 2025]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!