| عنوان: | رویت باری تعالیٰ دلائل کی روشنی میں (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | سید محمد اکرام الحق قادری مصباحی |
| پیش کش: | سیدہ آمنہ جیلانی و نقشبندی |
| منجانب: | جامعہ فاطمۃ الزہراء، گجرات |
ماہ رجب المرجب کی آمد پر اہلِ سنت و جماعت نہایت والہانہ انداز میں واقعات سیر معراج کو بیان کرتے، الطاف ربانی اور قدرت کی بندہ نوازیوں کا تذکرہ کرتے اور عشق رسالت سے سرشار ہو کر بڑے ہی الفت و محبت کے پیرایہ میں دلائل و شواہد کے ساتھ اس قرآنی حقیقت پر روشنی ڈالتے ہیں کہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم قافلہ نبوت و رسالت کے سالار اور جملہ انبیاء و مرسلین علیہم الصلوۃ والسلام کے سردار ہیں اور احادیث نبویہ، اقوال صحابہ، تصریحات ائمہ اور توضیحات مفسرین سے اکتساب فیض کرتے ہوئے یہ ثابت کرتے ہیں کہ شب معراج میں اللہ کے یہ عبد کامل حسن ازلی کا دیدار کرنے کے لیے حریم قدس میں “دَنَا فَتَدَلَّىٰ” کی منزلیں طے کرتے ہوئے قرب الہی کے اُس مقام رفیع پر فائز ہوئے جس کی تعبیر زبان قدرت نے “فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ” کے پیارے و دل کش کلمات سے فرمائی۔ نہ اس سے مزید قرب کا تصور کیا جاسکتا ہے اور نہ اس قرب خاص کے بیان کے لیے اس سے عمدہ اسلوب اختیار کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب غیر مقلدین اپنی ساری توانائی اس بات پر صرف کرتے ہیں کہ شب معراج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کی آنکھوں سے رب تعالیٰ کا دیدار نہیں کیا اور رویت باری تعالیٰ کا قول کرنے والے اہل سنت و جماعت کی شان میں اپنی زبان طعن و ملامت دراز کرتے اور ان کے لیے نہایت جرات و بیباکی کے ساتھ نامناسب الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر موجود غیر مقلد عالم توصیف الرحمن وغیرہ کی تقریریں اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ حالانکہ دیدار الہی کا مسئلہ قطعیات و یقینیات سے نہیں کہ فریق مخالف کو طعن و ملامت کا شکار بنایا جائے بلکہ ظنیات کے قبیل سے ہے۔ شروع ہی سے کبار صحابہ و تابعین کے مابین اس مسئلہ میں اختلاف رہا ہے، لیکن چونکہ اس ظنی مسئلہ کو لے کر اہل سنت و جماعت پر منکرین تقلید کی جانب سے اعتراضات کی بوچھار کی جا رہی ہے اور انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس لیے محدثین و مفسرین سے اخذ کرتے ہوئے اب سب کے لیے اس مسئلہ پر کچھ اہم باتیں لکھ دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
سب سے پہلے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس دنیا میں بیداری کے عالم میں رب تبارک و تعالیٰ کا دیدار عقلاً ممکن ہے، اس میں کسی کا اختلاف نہیں۔
شَرْحُ الْعَقَائِدِ النَّسَفِيَّةِ میں ہے:
خدا تعالیٰ کو دیکھنے کا مطلب ہے بصارت کے ساتھ مکمل پردہ اٹھانا، جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی چیز کو بصارت کے ذریعے ظاہر کرنا۔ مثال کے طور پر اگر ہم پورے چاند کو دیکھیں اور پھر آنکھیں بند کر لیں تو یہ بات واضح ہے کہ اگرچہ یہ دونوں صورتوں میں ہمارے لیے ظاہر ہے، لیکن اس کی نقاب کشائی اس کو دیکھتے ہوئے زیادہ مکمل اور کامل ہے۔ پھر اس کے حوالے سے ہماری ایک مخصوص کیفیت ہوتی ہے جسے وژن کہتے ہیں۔ یہ استدلال کے اعتبار سے جائز ہے، یعنی اگر وجہ کو اس کے اپنے آلات پر چھوڑ دیا جائے تو وہ کسی چیز کے دیکھنے کے ناممکن ہونے کا فیصلہ نہیں کرے گا جب تک کہ اس کا ثبوت نہ ہو، اگرچہ پہلے سے طے شدہ اس کا عدم ہونا ہے۔ یہ بہت ضروری ہے۔ اس لیے جو بھی ناممکن کا دعویٰ کرتا ہے اسے ثبوت پیش کرنا چاہیے۔
ترجمہ: اور اللہ تعالیٰ کی رؤیت بمعنی بصر سے اس کا انکشاف تام، اور اس سے مراد حاسۂ بصر سے شے کا واقع اور نفس الامر کے مطابق ادراک کرنا اور یہ اس لیے کہ ہم ماہِ کامل کو دیکھتے ہیں پھر آنکھ بند کر لیتے ہیں تو اس بات میں کوئی پوشیدگی نہیں کہ وہ اگر چہ دونوں حالتوں میں ہمارے نزدیک منکشف ہوتا ہے لیکن دیکھنے کے وقت میں اس کا انکشاف کامل و تام ہوتا ہے اور اس کے اعتبار سے ہم کو ایک مخصوص حالت حاصل ہوتی ہے، اس کا نام رؤیت ہے، وہ عقلاً ممکن ہے بایں معنی کہ اگر عقل کو کسی دباؤ سے آزاد رکھا جائے تو وہ اس کے محال ہونے کا حکم نہیں لگائے گی، جب تک اس بات پر اس کے نزدیک دلیل قائم نہ ہو جائے۔ حالانکہ اصل دلیل کا نہ ہونا ہے، اور یہ بات بدیہی ہے تو جو شخص محال ہونے کا دعوی کرے دلیل پیش کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔
نیز اگر دیدار الہی عقلاً ممکن نہیں بلکہ محال ہوتا تو حضرت موسی کلیم اللہ علیہ السلام کبھی اس کا سوال نہیں کرتے، کیوں کہ انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو قطعی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ فلاں چیز ممکن اور فلاں چیز محال و ممتنع ہے۔ اور محال و ممتنع چیز کے بارے میں سوال کرنا انبیائے کرام سے متصور نہیں۔ البتہ اختلاف اس میں ہے کہ یہ رؤیت اس دنیا میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے متحقق ہوئی کہ نہیں۔
ام المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کے متبعین کا مذہب یہ ہے کہ یہ رویت دنیا میں کسی کے لیے متحقق نہیں ہوئی حتی کہ معراج کی شب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی دیدار الہی نصیب نہیں ہوا۔ جب کہ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما بہت سے صحابہ، تابعین اور ان کے پیروکار اس طرف گئے ہیں کہ شب معراج اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب احمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے حسنِ ازلی کے دیدار سے مشرف فرمایا۔ ان کے علاوہ دو قول اور بھی ہیں، چنانچہ حضرت علامہ عبد العزیز فرہاری درس نظامی کی مشہور کتاب شَرْحُ الْعَقَائِدِ النَّسَفِيَّةِ کی شرح النِّبْرَاس میں فرماتے ہیں:
ماضی اور حال کے علماء کے درمیان مختلف آراء ہیں۔ ان میں سے ایک رویت کا انکار ہے، جو عائشہ کا قول ہے اور ابن مسعود اور ابوہریرہ کا مشہور قول ہے، اور مسروق کی روایت ہے، جس نے عائشہ سے کہا: کیا محمد کے لیے اپنے رب کو دیکھنا ہے؟ اس نے کہا: آپ کی بات پر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ جس نے تم سے کہا کہ محمد نے اپنے رب کو دیکھا ہے اس نے جھوٹ بولا۔ اس نے کہا: پھر اس آیت کا کیا ہوگا، “پھر وہ قریب آیا اور نیچے آیا، اور دو کمانوں کی لمبائی یا اس سے بھی قریب تھا”؟ [قرآن 52:19] اس نے کہا: وہ جبرائیل تھے۔ وہ ایک آدمی کی شکل میں اس کے پاس آیا کرتا تھا، اور اس بار وہ اس کے پاس اپنی حقیقی شکل میں، افق کو بھرتا ہوا آیا، جیسا کہ بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔ دوسرا دل سے دیکھنے کا اثبات ہے جو ابن عباس سے مروی ہے۔ قاضی عیاض نے کہا: حدیث میں ہے کہ میں نے اسے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا بلکہ دل سے دو بار دیکھا۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: ان سے پوچھا گیا: کیا تم نے اپنے رب کو دیکھا؟ اس نے کہا، “میں نے اسے اپنے دل سے دیکھا”۔ ابن جریر نے روایت کی ہے۔ تیسرا آنکھ سے دیکھنے کا اثبات ہے جو کہ ابن عباس کی مشہور روایت ہے اور شیخ ابو الحسن اشعری کا قول ہے اور امام محی الدین النووی رحمہ اللہ کی تفسیر مسلم میں ہے اور اکثر اہل علم کے نزدیک یہی پسندیدہ قول ہے۔ چوتھا فیصلہ معطل کرنا ہے جو کہ سعید بن جبیر کا قول ہے۔ [النِّبْرَاس، ص: 295]
ترجمہ: شب معراج دیدار الہی سے متعلق علمائے سلف و خلف کے چار اقوال ہیں:
-
حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اس کا انکار کرتی ہیں، حضرت عبداللہ ابن مسعود اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما کا بھی قول مشہور یہی ہے۔ حضرت امام بخاری اور حضرت امام مسلم رضی اللہ عنہما نے روایت کیا ہے کہ حضرت مسروق رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے رب تعالیٰ کا دیدار کیا؟ انہوں نے جواب دیا، تمہارے اس سوال سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں، جو بھی تم سے یہ بیان کرے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کا دیدار کیا ہے تو اُس نے جھوٹ کہا ہے۔ مسروق نے کہا: پھر اس آیت کریمہ کا کیا جواب ہوگا؟
ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ [سورۃ النجم: 7-8]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ان آیتوں میں حضرت جبریل امین کا قریب ہونا مراد ہے، جبریل انسانی شکل میں آپ کے پاس آتے تھے، اس مرتبہ وہ آپ کے پاس اپنی اصلی صورت میں آئے اور افق کو بھر دیا۔
-
حضرت عبداللہ ابن عباس سے ایک روایت یہ ہے کہ آپ نے اپنے دل سے رب تعالیٰ کا دیدار کیا۔ حضرت قاضی عیاض نے کہا: حدیث پاک میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنی آنکھوں سے رب کو نہیں دیکھا، لیکن میں نے اپنے دل سے دو مرتبہ دیکھا ہے، اور حضرت عبداللہ ابن عباس سے یہ بھی مروی کہ حضور سے پوچھا گیا کہ آپ نے کیا رب کا دیدار کیا؟ تو آپ نے فرمایا: میں نے اپنے دل سے اس کا دیدار کیا ہے۔ اسے امام ابن جریر نے روایت کیا ہے۔
-
حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا مشہور قول اور حضرت امام ابو الحسن اشعری رضی اللہ عنہ کا مذہب یہ ہے کہ شب معراج آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کی نگاہوں سے اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا ہے، چنانچہ شارح مسلم امام محی الدین نووی نے فرمایا کہ اکثر علما کے نزدیک یہی راجح ہے۔
-
حضرت سعید بن جبیر کی رائے یہ ہے کہ اس مسئلہ میں توقف کیا جائے۔
[ماہنامہ پیغام شریعت دہلی، اپریل ۲۰۱۶ء]
