Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

قربانی کی حقیقت اور حضرت ابراہیم و اسماعیل کی سنت (تیسری قسط) | محمد اشفاق عالم امجدی

قربانی کی حقیقت اور حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام کی سنت (تیسری قسط)
عنوان: قربانی کی حقیقت اور حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام کی سنت (تیسری قسط)
تحریر: محمد اشفاق عالم امجدی علیمی (بچباری آباد پور کٹہار، بہار)
پیش کش: شاہین صبا نوری بنت محمد ظہیر رضوی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی اتر پردیش

قربانی کے لیے تیار

اب باپ اور بیٹے کے درمیان کیا معاملہ ہوا اس کو قرآن مقدس بیان فرماتا ہے:

فَلَمَّا اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِیْنِ

"تو جب ان دونوں نے ہمارے حکم پر گردن رکھی اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹایا اس وقت کا حال نہ پوچھ۔"

مذکورہ بالا آیت کے تحت صاحبِ تفسیر مظہری تحریر فرماتے ہیں: یہ واقعہ منیٰ میں صخرہ کے پاس ہوا، (جب ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لٹا دیا تو) حضرت اسماعیل علیہ السلام نے عرض کیا: اے ابا! میرے بندھن کس کر باندھنا تاکہ میں تڑپ نہ سکوں اور اپنے کپڑے میری طرف سے سمیٹے رکھنا تاکہ میرا خون اچھل کر آپ کے کپڑے پر نہ پڑ جائے اور میرے اجر میں کمی نہ آ جائے اور اس خون کو دیکھ کر میری ماں رنجیدہ نہ ہو جائے اور چھری کو تیز کر لینا اور میرے حلق پر تیزی سے چلا دینا تاکہ میرے لیے دشواری نہ ہو کیوں کہ موت سخت چیز ہے اور آپ جب میری ماں کے پاس جائیں تو ان کو میرا سلام کہنا اور اگر آپ میرا کرتا میری ماں کے پاس واپس لے جانا چاہتے ہیں تو لے جائیں اس سے ان کو بڑی تسلی ہو گی۔

حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے کہا: میرے پیارے بیٹے! اللہ کے حکم کی تعمیل کے لیے تو میرا بہت اچھا مددگار ہے۔ پھر بیٹے نے جو کچھ کہا تھا باپ نے ویسا ہی کیا، اول بیٹے کو پیار کیا پھر باندھ دیا اور رونے لگے، پھر اسماعیل علیہ السلام کے حلق پر چھری رکھ دی لیکن چھری سے حلق پر نشان بھی نہ پڑا۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ حلق پر چھری تیز چلانے لگے لیکن چھری کچھ کاٹ نہ سکی۔ اس کے بعد کیا ہوا، قرآن کریم فرماتا ہے:

وَنَادَيْنَاهُ أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا ۚ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ

"اور ہم نے اسے ندا فرمائی کہ اے ابراہیم، بے شک تو نے خواب سچ کر دکھایا ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو۔"

ایک باپ اپنے بیٹے سے کتنی محبت کرتا ہے، اس کا اندازہ ہر باپ کو ہوتا ہے۔ ایک باپ اپنے بچوں کی اچھی پرورش کے لیے طرح طرح کی مصیبتیں برداشت کرتا ہے، اپنے عزیز شہر یا وطن کو چھوڑ کر دوسرے شہر یا ملک کا سفر کرتا ہے تاکہ رزقِ حلال کما کر اپنے بچوں کے لیے دنیاوی آسائش کے سامان مہیا کر سکے۔ مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا جا رہا ہے کہ اپنے بیٹے کو خود اپنے ہاتھوں سے ذبح کریں۔ اندازہ لگائیے کہ کتنا دردناک منظر ہوگا اور کیسی دل کو ہلا دینے والی کیفیت ہوگی۔

مگر جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ کے فرزندِ ارجمند نے صبر و ضبط کیا اور مرضیِ خدا کا لحاظ کیا تو آئی ہوئی مصیبت کو اللہ نے دور فرما دیا اور باپ بیٹے کو وہ توفیقِ عنایت کی جو کسی اور کو نہیں ملی۔ سارے جہاں پر ان کو برتری عطا فرمائی اور ثوابِ آخرت جو ان کے لیے مقرر فرمایا اس کا اظہار ہی نہیں ہو سکتا۔ ان تمام نعمتوں پر ان دونوں نے اپنے رب کا شکر ادا کیا۔

جب یہ واقعہ درپیش ہوا اس وقت حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عمر 9 سال کی تھی، 9 سال کا بچہ اتنے شعور و فہم کا مالک ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے لیے آرام اور تکلیف دہ چیزوں کے درمیان تمیز کر سکے مگر حضرت اسماعیل علیہ السلام بغیر کسی چون و چرا کے رضامندی کا اظہار کر رہے ہیں اور گلے پر چھری رکھی ہوئی ہے مگر زبان پر حرفِ شکوہ بھی نہیں لاتے، آخر ایسا کیوں ہے؟ غور کرنے پر ہم اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بچپن میں ہی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایسی ذہنی تربیت فرمائی تھی کہ آپ کے ذہن و دماغ میں حکمِ خداوندی کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کا جذبہ موجزن تھا یہی وجہ تھی کہ آپ نے اللہ کی راہ میں پیاری جان کا نذرانہ پیش کرنے میں دریغ نہ کیا۔

قربانی کا مقصد

اللہ عزوجل نے قرآنِ مقدس میں ارشاد فرمایا:

إِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلَآءُ الْمُبِيْنُ

"بے شک یہ روشن جانچ تھی۔" یعنی اس کے ذریعہ مخلص اور غیر مخلص کی جانچ ہوتی ہے کہ "إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ" کا دعویٰ محض دعویٰ ہے یا اس کے ساتھ اس کی کوئی دلیل بھی ہے۔ حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام اس امتحان میں کامیاب ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا میں یہ صلہ دیا کہ ہر سال صاحبِ استطاعت مسلمان پر قربانی کو واجب قرار دے کر ان دونوں حضرات کی یاد منانے کا ذریعہ بنا دیا اور ان شاء اللہ صبحِ قیامت تک آنے والے مسلمان ہر سال ان حضرات کو یاد کرتے رہیں گے۔

حضرت اسماعیل کا فدیہ

جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی گردن پر چھری پھیرنا شروع کیا تو اللہ عزوجل نے انہیں کس طرح بچا لیا، اس کا ذکر کرتے ہوئے رب ذوالجلال ارشاد فرماتا ہے:

وَفَدَيْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِيْمٍ

اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے کر اسے بچا لیا۔

ایک روایت میں آیا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک آواز سنی تو نظر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا، اوپر حضرت جبرئیل علیہ السلام نظر آئے جن کے ساتھ سینگوں والا مینڈھا تھا، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا یہ آپ کے بیٹے کا فدیہ ہے، اس کی قربانی کر دیجیے۔ اس کے بعد جبرئیل علیہ السلام نے تکبیر کہی اور مینڈھے نے بھی تکبیر کہی اور ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے نے بھی تکبیر کہی پھر منیٰ کے قربان گاہ میں جا کر مینڈھے کو ذبح کر دیا۔

[حوالہ:- سہ ماہی القلم شمارہ نمبر 12 ذی الحجہ 1446 تا 1447 ھ ص 28 تا 30]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!