Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

ہندوستان میں مسلمانوں کی مشکلات اور عدالت عظمیٰ کا مایوس کن کردار | احمد رضا صابری

ہندوستان میں مسلمانوں کی مشکلات اور عدالت عظمیٰ کا مایوس کن کردار
عنوان: ہندوستان میں مسلمانوں کی مشکلات اور عدالت عظمیٰ کا مایوس کن کردار
تحریر: احمد رضا صابری
پیش کش: ساریہ فاطمہ رضویہ
منجانب: دو ماہی الرضا انٹرنیشنل، پٹنہ نومبر، دسمبر ۲۰۱۷ء

گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں جہاں بی جے پی کی غیر معمولی کامیابی نے ہندوستان کی سیاست کا رخ ہی موڑ دیا وہیں مسلمانوں کے سیاسی مستقبل اور دستور میں تحریر مذہبی آزادی پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر دیا۔ موجودہ وزیر اعظم کا ماضی مسلم دشمنی کے حوالے سے سیاہ کارناموں سے بھرا پڑا ہے۔ وزارت عظمیٰ کے لیے ان کا انتخاب بی جے پی کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ تھا۔ اپنی تاسیس کے بعد اس جماعت نے بڑی مہارت سے ہندو ووٹ کو جمع کرنے کے لیے ایک طرف آر ایس ایس کی نظریاتی اساس کو استعمال کیا تاکہ ہندو ووٹ کو اکٹھا رکھا جائے اور دوسری طرف واجپائی جیسے نرم خو چہرے عوام کے سامنے رکھے تاکہ اس جماعت کو اعتدال پسند سمجھا جائے۔ یہ سلسلہ اس وقت ٹوٹ گیا جب 2014ء میں چناؤ کا سامنا ہوا، آر ایس ایس نے فیصلہ کیا کہ اب وہ وقت آگیا ہے جب کھل کر ہم اپنے سیاسی تشخص کا اظہار کریں گے اور واجپائی، ایڈوانی جیسے چہروں کی اب ہمیں ضرورت نہیں ہے۔ یہ وہ موقع تھا جب اعتدال پسندوں کی مخالفت کے باوجود آر ایس ایس نے اپنے ایک مستند کارکن نریندر مودی کو بی جے پی کی قیادت دلوانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا اور یوں سخت گیر طبقے کی حمایت سے پارٹی کی قیادت مودی کو سونپ دی گئی۔ اور اس نے 2014ء کی انتخابی مہم چلانا شروع کر دی۔ گجرات کے جرائم مودی کا راستہ روک سکے نہ ہی بی جے پی کی نمائشی اعتدال پسندی۔

مودی کو انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل ہوئی اور 1985ء کے بعد کسی پارٹی کو یہ امتیاز حاصل ہوا کہ بغیر کسی اتحادی پارٹی کی مدد کے اپنی حکومت بنا سکے۔ مودی کی اتنی بڑی کامیابی میں سب سے بڑا کردار بڑے کاروباری اداروں کی سرپرستی کا ہے۔ گجرات میں مودی نے یہ شہرت حاصل کرلی تھی کہ وہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں ماہر ہیں اور ان کی حکومت میں معیشت ترقی کرے گی، لیکن مودی کا حقیقی ایجنڈا ہندوتوا کا پرچار ہے اور وہ اس میں مسلمانوں کو ایک بڑا دشمن تصور کرتے ہیں۔ اس جیت میں انتخابات سے کچھ عرصہ قبل مظفر نگر میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والے فسادات نے ایک اہم کردار ادا کیا، جہاں نہ صرف 62 ہلاک ہونے والوں میں سے 42 مسلمان تھے بلکہ صدیوں سے آباد 50,000 مسلمان بے گھر کر دیے گئے۔ ان فسادات، جن میں بی جے پی کے ایم ایل ایز نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، نے بی جے پی کو یوپی میں بے مثال کامیابی دلوائی جہاں اس نے 80 میں سے 71 نشستیں جیت لیں۔ دو سال بعد ریاستی انتخابات میں اس سے بھی بڑھ چڑھ کر کامیابی حاصل کی جس کا سہرا ایک سادھو کے سر پر سجا جو ریاست کا وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا ہے۔

یوگی آدتیہ ناتھ جو گورکھپور مندر کے 'مہنت' ہیں، ہندوتوا کے اتنے بڑے پرچارک ہیں کہ مودی بہت جلد ان کے سامنے ایک اعتدال پسند سیاستدان نظر آئیں گے۔ نفرت اور تنگ نظر سیاست کا ہمیشہ یہی انجام ہوتا ہے جب اس میں نئے آنے والے بہت تیزی کے ساتھ اپنے پیشرو کے مقابلے میں زیادہ انتہا پسند ثابت ہوتے ہیں۔

آدتیہ ناتھ اور مودی کی جوڑی نے مسلمانوں میں ایک ایسے عدم تحفظ کو جنم دیا ہے جس کی کوئی اور مثال حالیہ ہندوستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس جوڑی نے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ ان کے اقتدار میں چند رونگٹے کھڑے کر دینے والے واقعات رونما ہوئے ہیں۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق، عید سے چند دن قبل ایک 15 سالہ لڑکا اپنے دوستوں کے ساتھ عید کی خریداری کرکے متھرا میں واقع اپنے گھر بذریعہ ٹرین واپس جا رہا تھا۔ ان سب ساتھیوں کا حلیہ ان کے مسلمان ہونے پر دلالت کر رہا تھا۔ سیٹ پر بیٹھنے کے مسئلے پر ایک گروہ سے کچھ تکرار ہوئی جو وقفے وقفے سے جاری رہی لیکن زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ یہ مذہبی رنگ اختیار کر گئی۔ اس گروہ نے جنید کو ٹوپی، مسلمان ہونے اور گائے کا گوشت کھانے پر طعنے دیے اور پھر یہ سارا معاملہ زبردست حملے کی شکل اختیار کر گیا۔ اس گروہ کے لوگ جو جنید اور اس کے بھائی اور دوسروں سے عمر میں بڑے تھے، انہوں نے جلد ہی چاقو نکال لیے اور جنید کو بے رحمی سے قتل کر دیا۔ ایک شہری کا اس قدر سفاکانہ اور بہیمانہ قتل بھارت کی جمہوریت اور اس کے سیکولر آئین پر ایک بدنما داغ ہے۔ مرکزی یا ریاستی حکومت کے کسی ذمہ دار نے اس واقعے کی مذمت میں کوئی بیان نہیں دیا اور یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہوا۔

دو سال پہلے دہلی کے قریب ایک اور واقعے میں ایک 50 سالہ مسلمان اخلاق احمد کو یہ افواہ پھیلا کر کہ اس کے گھر میں گائے کا گوشت کھایا جا رہا ہے، قتل کر دیا گیا۔ راجستھان میں ایک اور واقعے میں جہاں ایک مسلمان بدقسمتی سے گائے منڈی لے جا رہا تھا، ایک ناکردہ گناہ پر بلوائیوں نے بے رحمانہ طریقے سے اسے موقع پر ہلاک کر دیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جون میں اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ اب تک 10 مسلمانوں کو گاؤ رکشا کی بھینٹ چڑھایا گیا ہے۔ یہ سب کچھ ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب ہندو اکثریت والے ملک میں مسلمان اقلیت کے خلاف اسلامو فوبیا پھیلایا جا رہا ہے۔

خصوصاً یہ واقعات ان ریاستوں میں ہو رہے ہیں جہاں بی جے پی کی حکومت ہے۔ مرکزی اور ریاستی اہلکار کسی بھی سطح پر نہ صرف اس کے خلاف اقدامات نہیں اٹھا رہے ہیں بلکہ ان کی دو ٹوک الفاظ میں مذمت بھی نہیں کر رہے ہیں۔ لہٰذا عوام کو یہ پیغام جا رہا ہے کہ ان واقعات کو حکومتی سرپرستی حاصل ہے۔ ایمنسٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر آکار پٹیل کا کہنا ہے کہ:

"مسلمانوں کے خلاف نفرت کی بنیاد پر جرائم کا بلا روک ٹوک ارتکاب ایک ایسا سلسلہ ہے جو پریشان کن ہے۔ بدقسمتی سے وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ نے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جس سے یہ پتہ چلے کہ انہیں یہ غیر قانونی کام قابل قبول نہیں ہے۔"

یہ ظلم و ستم اور اس پر حکمرانوں کی بے حسی اس سطح پر پہنچ گئے ہیں جہاں دنیا بھر میں اس کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ، ٹائم میگزین اور ہندوستان ٹائمز اور دیگر موقر جریدوں میں اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی جا رہی ہے۔ بھارت کی سول سوسائٹی سراپا احتجاج کر رہی ہے۔ اس احتجاج میں سب سے معتبر بینر یہ کہہ رہا تھا کہ: "یہ میرا بھارت نہیں ہے۔"

ہندوستان ایک بہت بڑا ملک ہے اور دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشت ہے۔ اور وہ ایک سپر پاور بننا چاہتا ہے۔ لیکن اس ملک میں ایک آئین بھی ہے جو شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کا دعویدار ہے۔ جس ملک میں قانون کی یہ حالت ہو کہ وہ اقلیتی شہریوں کو دن دہاڑے ٹرین اور بڑی سڑکوں پر بلوائیوں کی وحشیانہ قتل و غارت گری سے نہ روک سکے تو وہاں یہ سوال ضرور ہوگا اور ہو رہا ہے کہ کیا اقلیتوں کے لیے کوئی دوسرا قانون ہے جو ان کے جان و مال کے تحفظ کی ضمانت نہیں دیتا؟

یہ کیونکر ممکن ہے کہ نہ صرف حکومتیں اس بربریت پر خاموش ہیں بلکہ سپریم کورٹ نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ جب سپریم کورٹ کرکٹ بورڈ کے نئے انتخابات میں گڑبڑ کا نوٹس لے کر اس کو درست کر سکتا ہے تو یہ تو بنیادی حقوق کا مسئلہ ہے جس پر عمل درآمد کی براہ راست ذمہ داری آئین ہند کے آرٹیکل 36 کے تحت سپریم کورٹ پر ڈالی گئی ہے۔

ویسے تو اس بات کی بہت چرچا ہے کہ ہندوستان میں سول سروس اب بھی آزاد اور مؤثر ہے خصوصاً ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن اور پولیس۔ لیکن ان حالیہ دل دہلا دینے والے واقعات نے اس مفروضے کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ نامور کالم نگار اے جی نورانی نے اپنے کالم میں اس امر پر تاسف کا اظہار کیا ہے کہ بھارت کی سول سروس اپنی روایتی آزادی اور اختیارات کا غیر جانبدارانہ استعمال کرنے کی صلاحیتوں سے محروم ہو گئی ہے۔ ہمیں، ہندوستان کے باشعور عوام اور مقتدر طبقات کے اکابرین کو بربریت کے ان واقعات کا سنجیدہ نوٹس لینا چاہیے اور ان کے مکمل تدارک کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں، کیونکہ کسی بھی مہذب معاشرے میں اس قدر ظلم اور زیادتی ایک بڑی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!