| عنوان: | امام احمد رضا کی عروض دانی پر اعتراض کا علمی احتساب |
|---|---|
| تحریر: | مولانا قاری لقمان شاہد |
| پیش کش: | ساریہ فاطمہ رضویہ |
| منجانب: | دو ماہی الرضا انٹرنیشنل، پٹنہ نومبر، دسمبر ۲۰۱۷ |
ایک مہربان نے سیدی اعلیٰ حضرت کے شعر پر اعتراض کرتے ہوئے کہا: “فاضل بریلوی کی صنعتِ اقتباس میں ایک شعر ہے:”
مَنْ زَارَ تُرْبَتِيْ وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَتِيْ
ان پر درود جن سے نویدانِ بشر کی ہے
یہ شعر وزنِ رواں: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن میں ہے لیکن اس کا مصرعِ اول ساقط الوزن ہے کیونکہ ‘لہ’ کی ‘ہ’ کو ساکن کر دیا گیا ہے۔ اگر اشباع ہوتا تو ہم مان لیتے کہ عروضی قاعدہ ہے، لیکن متحرک کو ساکن کر دینا کس قاعدے سے درست ہو گیا؟ اس لیے مان لینا چاہیے کہ امام احمد رضا معصوم عن الخطا نہیں تھے۔
اس مبنی بر جہالت اعتراض پر معترض کو میں کیا کہوں اور کیا نہ کہوں!
دانائی و علم پر تجھے اتنا ناز
پھر اس پہ یہ افہام کا اوجھا انداز
تو کس کو پڑھا رہا ہے، او طفل مزاج!
دیتا ہے کوئی ہوا کو درس پرواز؟
سیدی اعلیٰ حضرت دیگر علوم کے ساتھ علمِ عروض میں بھی ایسے ماہر تھے کہ مثال نہیں ملتی؛ لیکن “ولی را ولی می شناسد” صاحبِ فن کو صاحبِ فن ہی پہچان سکتا ہے۔ نصیر گولڑوی کہتے ہیں:
نکتہ رس، ناقد، رباعی گو، یم فن عروض
پاک جوہر، خوش بیاں، شیریں کلام احمد رضا
یم سمندر کو کہتے ہیں۔ یمِ فنِ عروض کا مطلب ہے “عروض کا سمندر”۔ یہ اس شخص کی بات ہے جس کا باپ دادا بھی شاعر تھا، اور وہ خود بھی شاعرِ ہفت زباں تھا۔ اور ایک معترض صاحب ہیں کہ... کچھ نہ پوچھیے!
سیدی اعلیٰ حضرت کا اقتباس میں شعر سو فی صد درست ہے، لیکن اس کے وزن کو سمجھنے کے لیے کلامِ اساتذہ کے وسیع مطالعے کی ضرورت ہے جس سے معترض کوسوں دور ہیں!
شاعر جب اقتباس کرتا ہے تو اسے وزنِ شعری برقرار رکھنے کے لیے مقتبس الفاظ میں ترمیم و اضافے، اشباع و اسقاط اور تسکین کی اجازت ہوتی ہے؛ اس کی بیسیوں مثالیں اردو فارسی شعرا کے کلام میں موجود ہیں۔ یہاں ہم “مشتے نمونہ از خروارے” صرف متحرک کو ساکن کرنے کی کچھ مثالیں پیش کرتے ہیں، کیونکہ معترض کو اسی پر اعتراض ہے۔
اردو زبان کے عظیم شاعر ولی دکنی (متوفی قریب 1725ء) کہتے ہیں:
تمام پات یسبح بحمدہ کے بہ حکم
زبان حال سوں کرتے ہیں ذکر سبحانی
یہ شعر بحر مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن میں ہے، تفعیل: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن [کلیات ولی، مرتب نور الحسن ہاشمی، در مدح حضرت شاہ وجیہ الدین، ص: 293، الوقار پبلیکیشنز لاہور 2016ء]
اس میں قرآنی آیت:
تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ وَإِنْ مِّنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِيْحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيْمًا غَفُوْرًا [سورۃ بنی اسرائیل: 44]
سے اقتباس کیا ہے لیکن ‘یسبح’ کی ‘ح’ آیت کی طرح متحرک نہیں، ساکن باندھی ہے؛ بالکل اسی طرح جیسے سیدی اعلیٰ حضرت نے ‘وجبت لہ’ کی ‘ہ’ ساکن باندھی ہے۔
یہاں یہ بھی یاد رکھیں کہ ولی دکنی کوئی عام ہستی نہیں، یہ عالم فاضل صوفی طبیعت ہونے کے ساتھ ایسے بلند پایہ شاعر ہیں کہ میر تقی میر بھی جن کا عاشق ہے؛ میر اپنی ایک غزل میں کہتا ہے:
خوگر نہیں ہم یونہی کچھ ریختہ کہنے سے
معشوق جو اپنا تھا، باشندہ دکن کا تھا
[کلیات غزلیات میر، مرتبہ ڈاکٹر علی محمد خان، غ: 170، ص: 148، فیصل ناشران و تاجران کتب لاہور، 2013ء]
خاقانیِ ہند ابراہیم ذوق (متوفی 1854ء) لکھتے ہیں:
گر قتل ہی کرنا ہے، عاشق کہیں ہو جلدی
لا حول ولا قوۃ، کیا دیر لگائی ہے
یہ شعر بحر ہزج مثمن اخرب میں ہے، تفعیل: مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن۔ اس میں الفاظ: ‘لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ’ سے اقتباس کیا ہے اور ‘قُوَّةَ’ کو ‘قوۃ’ باندھا ہے، ایک تو حرکت اڑا دی ہے اور دوسرا ۃ کو ہ کی بجائے ت سے بدل دیا ہے۔ [کلیات ذوق، مرتبہ ڈاکٹر تنویر احمد علوی، غ: 205، ص: 235، مجلس ترقی الادب لاہور 1430ھ]
عالم بے بدل پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی (متوفی 1937ء) کہتے ہیں:
لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ لَّكَ كُفُوًا وَلَمْ
لَيْسَ شَيْئًا مِّثْلُكَ يَا ذَا الْكَرَمِ
یہ شعر بحر رمل مسدس محذوف میں ہے، تفعیل: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن۔ اسے سورہ اخلاص سے اقتباس کیا ہے۔ اس میں پیر صاحب نے احد کی ح کو ساکن باندھا ہے اور کفوا کے ف کو بھی ساکن۔ [کلام حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی رحمہ اللہ، انتخاب پیر سید ارتضی علی کرمانی، مثنوی المعروف گومگو، ص: 65، عظیم اینڈ سنز پبلیکیشنز لاہور 1424ھ]
بالکل اسی طرح جیسے میرے امام نے ‘وجبت لہ’ کی ‘ہ’ کو ساکن باندھا ہے۔ میری طرف سے مقتبس متحرک کو ساکن کرنے کی یہ مثالیں معترض کی علمی ضیافت کے لیے کافی ہیں۔
اب میں “ماہرِ عروض” معترض صاحب کے ذمے بھی کچھ لگاتا ہوں: یہ بتائیں کہ مولانا روم نے صنعتِ اقتباس کے ان اشعار میں کس کس جگہ متحرک کو ساکن باندھا ہے!
تَا إِلَيْهِ يَصْعَدُ أَطْيَابُ الْكَلِم
صَاعِدًا مِنَّا إِلٰى حَيْثُ عَلِم
[د: 1، ش: 882]
لَا جَرَم أَبْصَار مَا لَا تُدْرِكُه
وَهُوَ يُدْرِك بِین تُو از مُوْسٰى وَ كُه
[د: 1، ش: 1135]
بَا هَوَا وَ آرْزُو كَمْ بَاشْ دُوْسْت
چُوْن يُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اُوْسْت
[د: 1، ش: 2957]
دَسْتِ اُوْ رَا حَقْ چُوْن دَسْتِ خُوِيْش خَوَانْد
تَا يَدُ اللّٰهِ فَوْقَ أَيْدِيْهِمْ بَرَانْد
[د: 1، ش: 2972]
(یہ چاروں اشعار مثنوی معنوی مطبوعہ تہران 1387 سے نقل کیے ہیں، علامت ‘د’ سے مراد دفتر اور ‘ش’ سے مراد شعر ہے)
ان دلائل قاہرہ سے بھی اگر معترض “مرحوم” کی تسلی نہ ہوئی تو اللہ کی رحمت سے میں نے سعدی، جامی، کاکوروی، کاشانی، خاقانی، قاآنی، خواجوی، اہلی، ساوجی، اور فیضی جیسے ائمہ سخن کے کلام سے متحرک کو ساکن کرنے کی متعدد مثالیں ڈھونڈ رکھی ہیں۔ آخر میں معترض کو صنعتِ اقتباس میں کچھ نصیحت کرتا ہوں تاکہ آئندہ محتاط رہے:
لیا جس نے ہم سے عداوت کا پنجہ
سَنُلْقِيْ عَلَيْهِمْ عَذَابًا ثَقِيْلًا
کہستاں میں مارے اگر آہ کا دم
فَكَانَتْ جِبَالٌ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا
