Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

طریقِ مصطفیٰ کو چھوڑنا ہے وجہ بربادی (قسط: دوم)|علامہ مفتی محمد ارسلان رضا خاں قادری

طریقِ مصطفیٰ کو چھوڑنا ہے وجہ بربادی (قسط: دوم)
عنوان: طریقِ مصطفیٰ کو چھوڑنا ہے وجہ بربادی (قسط: دوم)
تحریر: مفتی محمد ارسلان رضا خاں قادری
پیش کش: ناظم اسماعیلی

حضرت تاج الشریعہ نے مفتی اعظم کے نقوش راہ کو حرز جاں بنایا تو عالم یہ تھا کہ:

نگاہِ مفتیِ اعظم کی ہے جلوہ گری
چمک رہا ہے جو اختر ہزار آنکھوں میں

حضرت ریحانِ ملت اور حضرت تاج الشریعہ نے ہمیشہ مفتیِ اعظم کی روش کو اپنانے کی دعوت دی۔

آج بھی اگر ہمیں فتنوں اور آزمائشوں سے نپٹنا ہے تو سرکارِ ریحانِ ملت اور سرکارِ تاج الشریعہ کی طرح سرکارِ مفتیِ اعظم کی روش کو اپنانے کی ضرورت ہے اور اگر یہ نہیں کیا گیا تو خدا کی قسم کھا کر عرض کر رہا ہوں کہ اہل سنت و جماعت میں اختلاف و انتشار اور فتنہ و فساد کے وہ دن بھی دیکھنے پڑیں گے کہ آج کے فتنے اور آج کے اختلافات ان کے آگے بچے نظر آئیں گے، “ارے روشِ مفتیِ اعظم پہ چل کر ہی طریقِ مفتیِ اعظم پہ قائم رہ کر ہی لامرکزیت کا خاتمہ اور فتنہ و فساد کا انسداد کیا جا سکتا ہے” ورنہ یہ دورِ لامرکزیت اور دورِ دورۂ فتنہ و فساد کا خاتمہ کسی طرح ممکن نہیں۔

قارئین! ڈاکٹر اقبال کا یہ شعر بار بار میری زبان پر آتا ہے:

طریقِ مصطفیٰ کو چھوڑنا ہے وجہِ بربادی
اسی سے قوم دنیا میں ہوئی ہے بے اقتدار اپنی

ارے ہندوستان میں “طریقِ مصطفیٰ رضا” کو چھوڑنا بھی طریقِ مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑنے کے مترادف ہے کیوں کہ مجھے بتاؤ کہ وہ کون سی ایسی شاہراہ ہے جس پر “مصطفیٰ رضا” نے مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ اور ان کی سنت کو چھوڑا ہو، ارے ہمارے مفتیِ اعظم کی شان تو یہ تھی کہ آج بخاری و مسلم کی حدیث پڑھنے اور سننے والا یقین و اذعان سے اگر یہ کہہ سکتا ہے کہ میں نے مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال پڑھے یا سنے ہیں تو مفتیِ اعظم مصطفیٰ رضا کے شب و روز دیکھنے والا بھی یقین و اذعان سے کہہ سکتا ہے کہ میں نے مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال و اعمال کا جلوہ دیکھا، اسوۂ حسنہ کا پیکر دیکھا، صراطِ مستقیم کا پتہ اور راہِ خدا کا سراغ پایا کیوں کہ:

ارے ترے غلاموں کا نقشِ قدم ہے راہِ خدا
وہ کیا بہک سکے جو یہ سراغ لے کے چلے

قارئین! اسی لیے میں کہتا ہوں اس مصرعے میں “مصطفیٰ” سے “مصطفیٰ رضا” مراد لے کے بھی پڑھا جا سکتا ہے، تو پڑھیے:

ع: طریقِ مصطفیٰ رضا کو چھوڑنا ہے وجہِ بربادی

قارئین محترم! طریقِ “مصطفیٰ رضا” کو چھوڑنا وجہِ بربادی بھی ہے اور وجہِ اختلاف بھی۔ ارے ہمیں مفتیِ اعظم کے طریقے کو، مفتیِ اعظم کی روش کو ہرگز ہرگز نہیں چھوڑنا چاہیے، مفتیِ اعظم کے نعرے کو بھی نہیں مٹنے دینا چاہیے۔

ارے ازہری دیوانو! ارے تاج الشریعہ کے چاہنے والو! جہاں تم اپنے مرشدِ تاج الشریعہ کی زندہ بادی کا نعرہ لگاتے ہو بستی بستی قریہ قریہ تاج الشریعہ تاج الشریعہ کا نعرہ لگاتے ہو، وہیں پر تمہاری یہ بھی ذمہ داری ہے کہ اپنے دادا مرشد مفتیِ اعظم کا بھی نعرہ لگاؤ، فیضانِ مفتیِ اعظم کا بھی نعرہ لگاؤ، ارے مفتیِ اعظم کو نہ چھوڑنا، مفتیِ اعظم کے ذکر سے، مفتیِ اعظم کے نعرے سے، تقویٰ نصیب ہوتا ہے۔ مصطفیٰ رضا کے طریقے اور روش کو نہ چھوڑنا کیوں کہ بقائے برصغیر ہند و پاک میں:

ع: طریقِ مصطفیٰ رضا کو چھوڑنا ہے وجہِ بربادی

رضویو! جان لو یہ اسی مفتیِ اعظم کی فیضانِ تجلی اور اسی مفتیِ اعظم کی نگاہ کی جلوہ گری ہے کہ:

چمک رہا ہے جو اختر ہزار آنکھوں میں

ارے رضویو! رضویت سرکارِ مفتیِ اعظم کی روش کو چھوڑنے کا نام نہیں، رضویت افراط و تفریط کا نام نہیں۔ رضویت نہ مفتیِ اعظم کے نام پر شریعت کی دھجیاں اڑانے کا نام ہے، نہ مسلکِ اعلیٰ حضرت اور تاج الشریعہ کے نام پر غنڈہ گردی کرنے کا نام ہے، نہ رضویت غیر ضروری اور غیر اہم باتوں میں الجھنے کا نام ہے نہ فروعی مسائل کو اصولی بنانے کا نام ہے، رضویت جہالت اور حماقت کا نام نہیں، رضویت “میں بڑا تو چھوٹا” کرنے کا نام نہیں، ارے رضویت علم و تحقیق کا نام ہے، رضویت اعلیٰ حضرت کے اقوال پر عمل پیرا ہونے کا نام ہے، رضویت حجۃ الاسلام اور مفتیِ اعظم کے ارشادات کو حرزِ جاں بنانے کا نام ہے، رضویت تاج الشریعہ کے حکیمانہ اقوال و ارشادات کی روح کو سمجھنے اور ان کی گہرائیوں میں اترنے کا نام ہے، رضویت مارہرہ مطہرہ کے سادات کی غلامی کا نام ہے، ارے رضویت عشق و محبت کا نام ہے، رضویت تفقہ اور فہمِ دین کا نام ہے، اعلیٰ حضرت کے دادا حضرت مفتی رضا علی خاں رحمۃ اللہ علیہ نے آج سے دو سو سال پہلے جس کی داغ بیل ڈالی تھی، اس فقہ و افتاء کی خدمت کا نام رضویت ہے، قدوۃ الواصلین حضرت مفتی رضا علی خاں جدِ امجد اعلیٰ حضرت نے ۱۲۴۶ھ میں خدمتِ فقہ و افتاء اور خدمتِ علمِ دین کی کھیتی بوئی تھی اور آج ہم اس کھیت کے گیہوں کے آٹے کی بنی ہوئی روٹیاں کھا رہے ہیں۔

قارئین محترم! فقہائے کرام نے علمِ فقہ کے مراتب اور فقہا کے سلسلۃ الذہب کو استعارے کی زبان میں یوں بیان فرمایا تھا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے علم فقہ کی کھیتی بوئی۔ حضرت علقمہ نے اسے سیراب کیا۔ حضرت ابراہیم نخعی نے اسے کاٹا، حضرت حماد بن سلیمان نے بالیوں سے دانے نکالے۔ حضرت امامِ اعظم ابوحنیفہ نے آٹے کو پیسا۔ حضرت امام ابو یوسف نے اس آٹے کو گوندھا، حضرت امام محمد نے اس گندھے ہوئے آٹے کی روٹیاں پکائیں اور آج ہم انہی کی پکائی ہوئی روٹیاں کھا رہے ہیں۔

میں اس استعارے کو فقہائے کرام سے استعارتاً لیتا ہوں اور رضویت اور بریلی کی خدمتِ فقہ و افتاء کے سلسلۃ الذہب کو تمثیلاً و تفہیماً عرض کرتا ہوں: اعلیٰ حضرت کے دادا حضرت مفتی رضا علی خاں رحمۃ اللہ علیہ نے بریلی میں خدمتِ فقہ و افتاء اور رضویت کی کھیتی بوئی۔ اعلیٰ حضرت کے والد ماجد حضرت مفتی نقی علی خاں رحمۃ اللہ علیہ نے اس کھیتی کو سیراب کیا۔ پھر اعلیٰ حضرت امامِ اہل سنت مجددِ دین و ملت نے اس کی حفاظت و صیانت فرمائی اور اسے پروان چڑھایا اور جب پک کر تیار ہو گئی تو کاٹ کر عطا فرمائی۔ پھر حجۃ الاسلام نے بالیوں سے دانے نکالے، مفتیِ اعظم نے آٹا پیسا، مفسرِ اعظم اور ریحانِ ملت نے آٹا گوندھا، پھر تاج الشریعہ بدرالطریقہ نے اس گندھے ہوئے آٹے کی روٹیاں پکائیں اور آج ہم ان ہی کی پکائی ہوئی روٹیاں توڑ رہے ہیں۔

آپ لوگ دعا کریں کہ وہ کھیتی جو حضرت مفتی رضا علی خاں رحمۃ اللہ علیہ نے بوئی تھی اور جس کھیتی کے گیہوں کے آٹے کی پکی ہوئی روٹی ہم سب کھا رہے ہیں، وہ کھیتی ہمیشہ سرسبز و شاداب رہے، وہ گلستانِ علم و حکمت، وہ دبستانِ فقہ و افتاء، وہ گلشنِ فیوض و برکات ہمیشہ سرسبز و شاداب رہے، وہ باغِ رضویت ہمیشہ پھلتا پھولتا رہے اور اعلیٰ حضرت کی زبان میں دعا کیجیے کہ:

سدا وہ چلے کہ باغ پھلے، وہ پھول کھلے کہ دن ہوں بھلے
لوا کے تلے، ثنا میں کھلے، رضا کی زباں تمہارے لیے [ماہنامہ اعلیٰ حضرت، مارچ: 2023، ص: 14، 15]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!