Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

کیا عورتیں ناقص العقل ہوتی ہیں؟|محمد اسماعیل ازہری

کیا عورتیں ناقص العقل ہوتی ہیں؟
عنوان: کیا عورتیں ناقص العقل ہوتی ہیں؟
تحریر: محمد اسماعیل ازہری
پیش کش: شفا اسماعیل
منجانب: امام ماتریدی انسٹی ٹیوٹ، مالیگاؤں

ایک اعتراض جو آج کل نام نہاد ریشنلسٹس کی طرف سے اسلام پر اٹھایا جا رہا ہے کہ اسلام میں عورتوں کو ناقص العقل بتایا گیا ہے۔ یہ حقیقت میں نسوانیت کی توہین ہے! اور پھر ملحدین اسی سوال کو لے کر آگے بڑھتے ہیں کہ ہم ایسے مذہب کو کیوں مانیں جس میں ہماری معزز بہنوں کو کم عقل بتا کر ان کی توہین کی گئی ہو؟! پھر اسی بے ہنگام ہنگامے میں حقوقِ نسواں کے علم بردار فیمنسٹ حضرات کی چیخ و پکار بھی شامل ہو جاتی ہے: آج کی عورت مرد کے شانہ بشانہ چل کر عقل و خرد کے جوہر دکھا رہی ہے، پھر اسلام ایسا دعویٰ کیوں کر کر سکتا ہے کہ وہ کم عقل ہے؟!

درحقیقت یہ جملہ ایک حدیثِ پاک کا ٹکڑا ہے؛ ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی یا عید الفطر میں (نماز کے لیے) عیدگاہ تشریف لائے، تو عورتوں (کی ایک جماعت) کے پاس سے آپ کا گزر ہوا، آپ نے (انھیں مخاطب کر کے) فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو، اس لیے کہ میں نے تم میں سے اکثر کو دوزخ میں دیکھا ہے، انھوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس کا سبب کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو، میں نے عقل اور دین میں ناقص ہونے کے باوجود ایک ہوشیار مرد کی عقل اڑا لے جانے میں تم سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا، (یہ سن کر) انھوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہماری عقل اور دین کی کمی کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: کیا عورت کی گواہی مرد کی آدھی گواہی کے برابر نہیں؟ انھوں نے عرض کیا: جی ہاں! (ایسا ہی ہے)، آپ نے فرمایا: یہی اس کی عقل کا نقصان ہے، (پھر فرمایا): کیا ایسا نہیں کہ جس وقت عورت حیض کی حالت میں ہوتی ہے، نہ تو نماز پڑھ سکتی ہے اور نہ ہی روزہ رکھ سکتی ہے؟ انھوں نے عرض کیا: جی ہاں! (ایسا ہی ہے)، آپ نے فرمایا: یہی اس کے دین کا نقصان ہے۔ [بخاری: 304]

ان مخالفین کے یہ سارے اعتراضات اس بات کی تلمیح ہیں کہ انھوں نے حدیث کے صحیح مفہوم کو یا تو سمجھا نہیں ہے، یا اگر سمجھا ہے تو اسلاموفوبیا نامی بیماری کا ان پر اتنا شدید حملہ ہے کہ اس کے زیرِ اثر زبان سے حق کا اظہار نہیں ہو پاتا اور اگر کچھ زبان سے نکلتا بھی ہے تو اسلام کے خلاف ہفوات ہی سامنے آتے ہیں! اس لیے آئیے پہلے ہم اس حدیث کا صحیح مفہوم سمجھتے ہیں، اس امید پر کہ اس سے کسی کی بیماری کا علاج ہو سکے:

کسی بھی حدیث کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لیے اس کا سیاق و سباق اور اس کا سببِ ورود سمجھنا بہت ضروری ہے، اور یہ جاننا بھی بہت ضروری ہے کہ کس تناظر میں یہ بات کہی گئی ہے؟ اگر آپ اس حدیث کو دوبارہ پلٹ کر اس کی ابتدائی ایک دو سطر پڑھیں گے تو آپ کو آسانی سے معلوم ہو جائے گا کہ کس تناظر میں یہ بات کہی گئی ہے: “(ایک مرتبہ) صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی یا عید الفطر میں (نماز کے لیے) عیدگاہ تشریف لائے۔” راوی کے ان الفاظ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عید یا بقرہ عید کا موقع تھا، جو کہ اسلامی تاریخ کے لحاظ سے خوشی کا موقع ہوتا ہے۔ جس نے بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا بنظرِ انصاف مطالعہ کیا ہے اس پر یہ بات مخفی نہیں رہ سکتی کہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم عام حالت میں بھی کبھی کسی کا دل نہیں دکھاتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے بعید تر ہے کہ آپ اس خوشی کے موقعے پر ان عورتوں کی توہین کر کے ان کا دل دکھائیں گے! جس سے صاف پتا چلتا ہے کہ “ناقص العقل” سے مراد وہ مفہوم نہیں ہے جو یہ تعصب زدہ لوگ اس حدیث سے نکالنا چاہ رہے ہیں، اور ان الفاظ سے مقصود ان کی توہین نہیں تھی، بلکہ نصیحتوں کے دل پر اثر انداز ہونے کے لیے ان کے ذہن و دل کو ان الفاظ کے ذریعہ مسخر کیا جا رہا تھا!

دوسری بات: یہ بھی قابلِ لحاظ نکتہ ہے کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا وہ کوئی عمومی اور کلی دینی اصول نہیں تھا کہ ہر حال میں اور ہر صورت میں عورت کم عقل ہی ہوتی ہے، کبھی بھی وہ مرد سے زیادہ عقل مند نہیں ہو سکتی، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعجب کرتے ہوئے صرف اسی ایک موقعے پر دیگر نصیحتوں کے ضمن میں فرمایا تھا: “ناقصِ عقل اور ناقصِ دین ہونے کے باوجود تم لوگ جس طرح ایک مضبوط ارادے والے آدمی کی عقل اڑالے جاتی ہو، یہ منظر تمہارے علاوہ اور کہیں میں نے نہیں دیکھا!” جس کو بھی عربی اسلوب کی ذرا سی بھی شد بد ہوگی تو اس کو اس کلام سے یہی سمجھ آئے گا کہ یہ کلام تعجب کے وقت نکلا ہے! اس سے ایک لمحے کے لیے بھی یہ سمجھ نہیں آتا ہے کہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے کہی ہو کہ اس کو اسلام میں اصول کا درجہ دے دیا جائے اور جو بھی عورت کے بے وقوف ہونے کا عقیدہ نہ رکھے اسے اسلام سے خارج قرار دیا جائے! جس طرح سے اس بے ہنگم سی ہنگامہ خیزی میں مبتلا یہ لوگ یہی باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں!

تیسری بات: اسی حدیث میں جب ہم تھوڑا اور آگے بڑھتے ہیں تو اس سے معلوم چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان عورتوں کو ناقص العقل اور ناقصِ دین کہنا، ہر صورت کے لیے نہیں تھا، بلکہ صرف مخصوص صورت کے لیے تھا! یعنی اگر کوئی یہ کہے کہ عورت ہر میدان میں ناقصِ عقل ہوتی ہے، یا ہر جگہ ناقصِ دین ہوتی ہے، تو اس کا یہ کہنا دینِ اسلام کے بھی خلاف ہوگا اور تاریخی حقائق سے بھی روگردانی کرنے کے مترادف ہوگا۔ صرف ایک مقام ایسا ہے کہ جہاں پر عورت کی عقل پر اس کے جذبات غالب آ سکتے ہیں اور وہ ہے “گواہی” کا معاملہ، کیونکہ اس کا دل مرد کے مقابلے میں ذرا نرم ہوتا ہے اور محبت و خوف کے جذبات سے جلدی متاثر ہو جاتا ہے، اس لیے ہو سکتا ہے وہ ان جذبات سے مغلوب ہو کر خلافِ واقعہ گواہی دے دے، جس کی وجہ سے دوسرا انسان جس کے خلاف اس نے گواہی دی ہے ظلم کا شکار ہو جائے۔ اور یہ بھی بایولاجیکل فیکٹ ہے کہ ماہواری کی حالت میں عورت کے جسم میں ہارمونز ریلیز ہوتے ہیں جس کی وجہ سے اس کا مزاج کبھی ایک ڈگر پر نہیں رہتا، بلکہ پل میں شعلہ تو پل میں شبنم والی صورت سے وہ دوچار ہوتی ہے، چنانچہ کبھی تو وہ معمولی سی بات پر بھی غصہ ہو جاتی ہے اور کبھی اچانک سے خوش ہو جاتی ہے، اس وقت اس کے مزاج میں عجیب سا چڑچڑاپن پیدا ہو جاتا ہے، اس لیے بہت ممکن ہے کہ اس حالت میں وہ اگر گواہی دے تو حقیقت کے خلاف گواہی دے دے، اس لیے صرف چند مخصوص حالتوں میں دو عورتوں کی گواہی کو ایک مرد کی گواہی کے برابر رکھا گیا ہے، تاکہ واقعہ کی خوب تحقیق ہو جائے اور معاشرے میں کسی پر بھی کسی طرح کا ظلم نہ ہو سکے!

اور یہ بات اب کوئی افسانہ نہیں رہ گئی ہے، بلکہ ایک سائنسی اور نفسیاتی حقیقت بن کے سامنے آ چکی ہے، میڈیکل سائنس کی تحقیق کے مطابق: خواتین میں “ایسٹروجن” اور “پروجیسٹرون” ہارمون موڈ اور جذبات پر اثر انداز ہوتے ہیں، اسی لیے بعض اوقات وہ زیادہ احساساتی ردِعمل ظاہر کرتی ہیں۔ اور علمِ نفس کے مطابق جذباتی اثرات کے تحت خواتین بعض اوقات رشتوں اور تعلقات کے بارے میں جلد فیصلے کر لیتی ہیں۔ انھیں حقائق کی بنا پر اسلام میں صرف چند مخصوص حالتوں میں ایک عورت کی گواہی کو دو مردوں کے برابر رکھا گیا ہے۔ اب اس بات کا جواب لگے ہاتھ ملحدین اور ان کے یہ ہمنوا بھی دیتے چلیں کہ صحرا میں بسنے والے اس نبیِ امی صلی اللہ علیہ وسلم کو سائنس اور علمِ نفس کی ان باریکیوں کے بارے میں کس نے خبر دی تھی؟ جواب مل جائے تو ہمیں بھی بتا دیجیے گا!

اور ابھی بات صرف یہیں پر آ کر نہیں رک جاتی بلکہ “کارِ جہاں دراز ہے” ابھی! “دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر” والا یہ قضیہ بھی ہر جگہ نہیں چلتا ہے، بلکہ صرف بعض مخصوص حالتوں میں یہ نافذ ہوتا ہے، جیسا کہ اگر کوئی ایسا معاملہ ہے جس کا تعلق صرف عورتوں کے ساتھ خاص ہو تو ایسی صورت میں اگر تنہا کوئی عورت بھی گواہی دے تو اس کی گواہی اتنی ہی معتبر ہوتی ہے جتنی تنہا مرد کی!

اور یہی تفصیل ناقصِ دین کہے جانے کی صورت میں بھی ہے کہ یہ حکم عمومی نہیں ہے، بلکہ صرف ایک صورت میں ہے کہ جب اسے ماہواری کی صورت درپیش ہو تو اس کی رعایت کرتے ہوئے اور اس کی آسانی کے لیے یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس وقت نماز نہ پڑھے اور نہ ہی روزہ رکھے! ظاہر سی بات ہے ایسی صورت میں اس کی نمازوں اور روزوں کی تعداد مرد کے مقابلے میں کم ہو جائے گی، کیونکہ فطری طور پر ان پر یہ حالت طاری نہیں ہوتی، لیکن اس کا اجر کم ہو، یہ کوئی ضروری نہیں ہے، بلکہ اگر وہ اس پر صبر کرے تو ممکن ہے اسے نماز کا بھی اجر ملے اور صبر کرنے کا بھی، اس طرح سے اس کا اجر دوگنا ہو جائے!

اور دوسری طرف اس بات کو بھی دیکھیے کہ اس حالت میں نماز و روزہ کو اس پر سے ساقط کرنے کی وجہ اس کا کوئی فطری نقص یا عیب نہیں ہے، بلکہ وہ اس وقت نماز اس لیے نہیں پڑھے گی کہ نماز کی اولین شرط طہارت ہے اور وہ اس وقت طہارت کی حالت میں نہیں رہتی! اور اسے اس وقت روزہ رکھنے سے اس لیے منع کیا گیا ہے، کیونکہ اس وقت وہ جسمانی و نفسیاتی لحاظ سے کمزوری محسوس کرتی ہے، ایسی صورت میں روزہ اس پر شاق گزرے گا اور بہت ممکن ہے کہ اس کی وجہ سے اس کی صحت پر برا اثر پڑے، اس لیے اس حالت میں ربِ کریم و علیم نے اس پر سے روزہ کی کلفت کو ساقط کر دیا، پھر جب وہ اس حالت سے باہر آ جائے گی تو ان روزوں کی قضا کرے گی!

ہو سکتا ہے کسی کے ذہن میں بار بار یہ خیال آتا ہو کہ عورت دین میں ناقص ہوتی ہے اس لیے اسے رب کا وہ قرب نہیں مل سکتا جو مردوں کو ملتا ہے! تو ان کی فکری اصلاح کے لیے میں عرض کر دوں کہ یہاں پر “ناقصِ دین” کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ عورت تقویٰ و طہارت، دینداری و قربِ الٰہی میں مرد سے کسی صورت کم ہوتی ہے! بلکہ اسلام کا یہ اصول ہے کہ کسی بھی شخص کو چاہے وہ مرد ہو یا عورت، گورا ہو یا کالا، عربی ہو یا عجمی، اسے اس کی جنس، اس کے رنگ، یا اس کے علاقے کی بنا پر ثواب یا عذاب نہیں دیا جاتا، اس کی صنف کو دیکھ کر اسے رب کا قرب نہیں عطا کیا جاتا، بلکہ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ [حجرات: 13] “تم میں سب سے زیادہ اللہ کے نزدیک مکرم وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ تقوے والا ہے” چاہے وہ مرد ہو یا عورت، گورا ہو یا کالا، عربی ہو یا عجمی!

حضرت سمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو کہ مرد نہیں، ایک عورت تھیں، آزاد نہیں ایک کنیز تھیں، وہ ہزاروں نہیں لاکھوں کروڑوں مردوں سے زیادہ افضل ہو گئیں، کروڑوں آزاد لوگوں پر فوقیت لے گئیں، اپنے رب سے قریب ہو گئیں! دوسری طرف حضرت بلال بن رباح رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو عربی نہیں تھے عجمی تھے، اور بظاہر گورے رنگ والے بھی نہیں تھے، لیکن قسمت کا ستارہ دیکھیے کیسا بامِ عروج پر چمک رہا ہے کہ ہزاروں گوروں اور لاکھوں عربیوں پر فضیلت لے گئے، حتیٰ کہ عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے سردار بھی آپ کو “سیدنا بلال” یعنی “ہمارے آقا” بلال کہہ کر پکارتے تھے! عین یقین کے لیے قرآنِ کریم کی یہ آیت بھی دیکھتے چلیے، حالانکہ اس مفہوم میں قرآنِ کریم میں ڈھیروں آیتیں موجود ہیں، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ [نحل: 97] “جو مرد یا عورت نیک عمل کرے اور وہ مسلمان ہو تو ہم ضرور اسے پاکیزہ زندگی دیں گے اور ہم ضرور انہیں ان کے بہترین کاموں کے بدلے میں ان کا اجر دیں گے۔”

اب اس تفصیل کے بعد اس سلسلے میں جوابِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی دیکھ لیجیے، کہ اس پوری تفصیل کو کن مختصر الفاظ میں بیان کر دیا ہے، ایسے جیسے یہ الفاظ آپ کی زبان پر جاری کر دیے گئے ہوں، تاکہ بعد میں آ کر کسی کے ذہن میں یہ سوال اٹھے تو وہ حدیثِ پاک کے یہ الفاظ پڑھے اور اسے جواب مل جائے۔ چنانچہ ان عورتوں نے آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ! ہماری عقل اور دین کی کمی کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: کیا عورت کی گواہی مرد کی آدھی گواہی کے برابر نہیں؟ انھوں نے عرض کیا: جی ہاں! (ایسا ہی ہے)، آپ نے فرمایا: یہی اس کی عقل کا نقصان ہے، (پھر فرمایا): کیا ایسا نہیں کہ جس وقت عورت حیض کی حالت میں ہوتی ہے، نہ تو نماز پڑھ سکتی ہے اور نہ ہی روزہ رکھ سکتی ہے؟ انھوں نے عرض کیا: جی ہاں! (ایسا ہی ہے)، آپ نے فرمایا: یہی اس کے دین کا نقصان ہے۔

اس بات کی گواہی تاریخی واقعات چیخ چیخ کر دے رہے ہیں کہ عورتیں ہر معاملے میں ناقص نہیں ہوتیں، بلکہ بسا اوقات عقل کے معاملے میں وہ مردوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیتی ہیں، کیا تاریخ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نام بھول گئی کہ لاکھوں صحابہ میں صرف چند صحابہ مجتہد تھے، ان میں سے ایک حضرت عائشہ کا نام تھا، اور اسی طرح جن سات صحابہ سے سب سے زیادہ احادیث مروی ہیں ان میں سے ایک نام آپ کا بھی ہے، جب کہ آپ ایک خاتون تھیں، عقل و خرد کے معاملے میں لاکھوں مردوں پر فوقیت لے جانے میں آپ کی نسوانیت آڑے نہ آئی!

امام ذہبی فرماتے ہیں کہ آج تک کسی بھی عورت کے بارے میں نہیں سنا گیا کہ اس نے حدیث روایت کرنے میں جھوٹ بولا ہو! یوں ہی شوکانی کہتے ہیں کہ کسی بھی عالم کے بارے میں آج تک نہیں سنا گیا ہے کہ اس نے کسی عورت کی حدیث کو صرف اس لیے رد کر دیا ہو کہ وہ عورت ہے، کتنی احادیث ایسی ہیں کہ اس کو روایت کرنے والی صحابیات میں سے صرف ایک عورت رہی ہیں، لیکن پوری امت نے اسے قبول کیا ہے!

اسی طرح قرآن میں حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹی کے لیے آیا ہے کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بعض عادتوں کو دیکھ کر انہیں اپنے گھر میں خدمت پر رکھنے کا مشورہ اپنے والد کو دے رہی ہیں اور وہ آپ کا مشورہ قبول بھی فرما رہے ہیں: قَالَتْ إِحْدَاهُمَا يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ ۖ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ [قصص: 26] “ان میں سے ایک نے کہا: اے میرے باپ! ان کو ملازم رکھ لو بیشک آپ کا بہتر نوکر وہ ہوگا جو طاقتور اور امانتدار ہو۔” اسی طرح تاریخ میں اور خصوصیت کے ساتھ اسلامی تاریخ میں بے شمار ایسی عورتیں ملیں گی جو عقل و فہم کے معاملے میں مردوں پر فوقیت رکھتی تھیں، یقین نہ ہو تو ایک بار وقت نکال کر شفاء بنت عبد اللہ قرشیہ، فاطمہ بنت محمد سمرقندی، فاطمہ الفہریہ، ست الوزراء بنت عمر التنوخیہ، اور رابعہ بصریہ وغیرہ کے بارے میں پڑھ لیجیے گا تو پھر آپ کو حق الیقین حاصل ہو جائے گا کہ اسلام میں خواتین نہ کل کبھی عقل و خرد میں مردوں سے پیچھے سمجھی گئی ہیں اور نہ آج سمجھی جاتی ہیں! اس بارے میں ان لوگوں کی بھی رائے سن لیجیے جو مسلمان اگرچہ نہیں ہیں لیکن انصاف کے ساتھ تاریخِ اسلام اور اسلامی تہذیب و ثقافت کا مطالعہ کیا ہے، تاکہ آپ کو پتا چلے کہ یہ صرف زبانی دعویٰ ہی نہیں ہے جو ایک مسلمان کر رہا ہے، بلکہ جس نے بھی انصاف کے ساتھ تاریخِ اسلام کا مطالعہ کیا ہے چاہے وہ مسلم ہو یا غیر مسلم اس نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے:

مارسل بوازرڈ (Marcel Boisard) جو کہ ایک فرانسیسی مستشرق ہے وہ اپنی کتاب “Humanism in Islam” میں جس کا اصلی فرانسیسی نام “L'Humanisme de l'Islam” ہے، لکھتے ہیں: عورت کو اسپین میں خلافتِ امویہ کے دور میں سماجی اور ثقافتی زندگی میں مکمل احترام اور آزادی حاصل تھی، وہ اس وقت اجتماعی اور ثقافتی زندگی میں پورے طور سے شرکت کرتی تھی، مرد اس سے محبت اور رغبت کا اظہار کرتے تھے۔ وہ مسلم شُعرا ہی تھے جنہوں نے یورپ کے عیسائیوں کو عورت کا احترام کرنا سکھایا تھا۔

Étienne Dinet جو کہ اپنی ابتدائی زندگی میں ایک فرانسیسی مصور تھے، اور پھر جزائر میں برسوں مسلمانوں کے ساتھ رہنے اور مذہبِ اسلام کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا، جس کی وجہ سے وہ اسلام سے اتنے متاثر ہوئے کہ اسلام قبول کر لیا، جس کے بعد ان کا اسلامی نام “نصر الدین دینی” ہوا، وہ اپنی کتاب “اشعۃ خاصۃ بنور الاسلام” میں لکھتے ہیں: اسلام میں عورت کی تعلیم تمام دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ چلتی تھی، جس وقت مسلمانوں کے عروج کا وقت تھا اس وقت مسلم عورتوں پر خاص توجہ دی جاتی تھی، بلا شبہ اس وقت وہ ثقافت کے معاملے میں یورپین عورتوں سے بہت زیادہ آگے تھیں۔

اسی طرح ایک امریکی مورخ و فلسفی ویل ڈورانٹ (Will Durant) اپنی مشہور کتاب (The Story of Civilization) میں لکھتے ہیں کہ (اسلامی ملکوں میں) لڑکوں کی طرح لڑکیاں بھی اسکول جاتی تھیں، اور ادب و فن کے میدان میں بہت سی مسلم عورتوں نے شہرت حاصل کی ہے۔

اسلام کا انصاف کے ساتھ مطالعہ کرنے والوں کی اس طرح کی شہادتیں اگر گنوائی جائیں تو مکمل کتاب تیار ہو سکتی ہے، لیکن:

طوفانِ نوح لانے سے اے چشم فائدہ
دو اشک بھی بہت ہیں اگر کچھ اثر کریں

یہ تو تھی اسلام کی بات، لیکن یہیں پر اگر آپ سکے کا دوسرا رخ دیکھیں اور اسلام کے بالمقابل دوسری تہذیبوں، معاشروں اور ملکوں کا کیا حال تھا اس پر غور کریں تو دونوں تصویروں میں فرق آپ کو صاف نظر آئے گا، ایک طرف مسلم معاشرے میں عورت عزت و رفعت کے عرش پر بیٹھی نظر آتی ہے تو دوسری طرف دوسرے معاشروں میں اسے ذلت و رسوائی کا طوق پہنا کر کہیں پر بازاروں میں گھمایا جا رہا ہے تو کہیں پر درندہ صفت لوگوں کی للچاتی ہوئی نگاہوں کے سامنے اسے عریاں کیا جا رہا ہے، جسے وہ تہذیب و ثقافت اور ترقی و آزادی کا نام دیتے ہیں! مادیت زدہ ممالک میں شخصی آزادی و مساوات کے نام پر آج عورت کو کیپٹلزم اور کمیونزم جیسی مادی فکروں نے کس دہانے پر لا کر کھڑا کر دیا ہے یہ ان ممالک پر نظر رکھنے والوں پر مخفی نہیں ہے؟ اب بھی اگر تسلی نہیں ہوتی تو اطمینانِ دل کی خاطر ظہورِ اسلام کے وقت پوری دنیا میں عورتوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا تھا اس کو بھی ایک بار پڑھ لیجیے! اگر پڑھ لیا تو پھر بتائیے کیا اب بھی آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسلام نے عورت کو عزت نہیں، اسے ذلیل کیا ہے؟؟

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اسلام نے عورت کو جو عزت و مقام عطا کیا ہے، اس کے ساتھ جو عدل و انصاف کیا ہے اس کی مثال دور دور تک کسی بھی معاشرے میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔ اور اسلام میں عورت کم عقل و کم بخت کبھی بھی نہیں رہی، بلکہ ہمیشہ سے وہ انسانیت کی ترقی اور تہذیب و ثقافت کے قیام میں مرد کے شانہ بشانہ چلی ہے اور ملک و معاشرے کی ترقی میں دونوں نے مل کر برابر کا کردار ادا کیا ہے، نہ کچھ کم نہ کچھ زیادہ۔ اور کسی حدیث میں اگر اسے ناقصِ عقل و ناقصِ دین کہا گیا ہے تو ہر معاملے میں نہیں، بلکہ صرف بعض گواہیوں کے معاملے میں اور صرف بعض مخصوص حالتوں میں اور اس سے ان کی توہین مقصود نہیں تھی، بلکہ شریعتِ اسلامی کا صحیح نفاذ مقصود تھا، جس سے ہر ایک کے ساتھ عدل و انصاف ہو سکے! اور وہ نبیِ انسانیت ان کی توہین کیسے کر سکتا ہے جو زندگی بھر ان کے متعلق یہ نصیحت کرتا رہا اور جاتے جاتے بھی ان کے بارے میں یہ وصیت کر گیا: “عورتوں کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرنا” [بخاری: 5185، 5186، ومسلم: 47، 1468]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!