Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

ICU میں بیمار اور قرض داروں کا ظلم|عمران رضا عطاری مدنی

ICU میں بیمار اور قرض داروں کا ظلم
عنوان: ICU میں بیمار اور قرض داروں کا ظلم
تحریر: عمران رضا عطاری مدنی
پیش کش: مجمع التصانیف

ICU میں بیمار اور قرض داروں کا ظلم

دینِ اسلام میں بلا ضرورت قرض لینے یا ادھار پر کاروبار کرنے کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی۔ اس لیے جب تک حقیقی ضرورت پیش نہ آئے، انسان کو حتی الامکان قرض اور ادھار کے معاملات سے بچنا چاہیے۔ البتہ اگر مجبوری یا ضرورت کے تحت کسی سے قرض لینا پڑ جائے یا ادھار پر لین دین کرنا ناگزیر ہو، تو شریعتِ مطہرہ کا حکم یہ ہے کہ حتی الامکان جلد از جلد قرض ادا کر دیا جائے۔ اگر کوئی شخص ادائیگی کی قدرت رکھنے کے باوجود جان بوجھ کر قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرے، تو وہ سخت گناہ گار اور وعیدِ الٰہی کا مستحق ہے۔

شادی اور ادھاری

یقین جانیے! ہمارے معاشرے میں ایسے افراد بھی موجود ہیں جو مالی استطاعت رکھنے کے باوجود قرض ادا کرنے میں ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں۔ وہ قرض خواہ کا حق ادا کرنے کے بجائے مختلف حیلے بہانے بناتے ہیں، ہر بار نیا وعدہ کرتے ہیں اور ہر ممکن طریقے سے اسے پریشان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے طرزِ عمل سے نہ صرف ایک مسلمان کا حق تلف ہوتا ہے بلکہ آخرت کی سخت جواب دہی بھی لازم آتی ہے۔ اس حقیقت کو واضح کرنے کے لیے ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیے:

ایک شخص نے ادھار پر مختلف سامان خریدا اور اپنی بہن کی شادی شہر کے ایک معروف شادی ہال میں نہایت دھوم دھام سے کی۔ دل کھول کر اخراجات کیے، ضرورت سے زیادہ رسم و رواج بھی ادا کیے، لیکن افسوس! شادی کو کئی ماہ گزر جانے کے باوجود اس نے ان لوگوں کے حقوق ادا نہ کیے جن سے سامان خریدا تھا۔ یہاں تک کہ شادی میں استعمال ہونے والا پانی جس شخص سے خریدا گیا تھا، آج تک اسے اس کی ایک پائی بھی ادا نہیں کی۔ بیچارہ پانی فروش بارہا اپنے حق کے مطالبے کے لیے اس کے گھر جاتا ہے، مگر ہر مرتبہ اسے ایک نیا بہانہ اور آئندہ کسی دن ادائیگی کا وعدہ ہی سننے کو ملتا ہے۔ یوں وہ غریب اپنا جائز حق حاصل کرنے کے لیے دربدر پھر رہا ہے، لیکن اس کی فریاد سننے والا کوئی نہیں۔

افسوس! ہمارے معاشرے میں ایسے افراد بھی پائے جاتے ہیں جو کسی حقیقی ضرورت کے بغیر محض دکھاوے، نمود و نمائش اور جھوٹی شان و شوکت کی خاطر شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں بے دریغ قرض لیتے ہیں۔ پھر جب قرض ادا کرنے کی باری آتی ہے تو ٹال مٹول، وعدہ خلافی اور غفلت کا رویہ اختیار کر لیتے ہیں۔

بسا اوقات صورتِ حال یہ ہوتی ہے کہ شادی کے اخراجات کے لیے لیا گیا قرض ابھی تک ادا نہیں ہو پاتا، مگر اس دوران میاں بیوی کے ہاں اولاد بھی ہو جاتی ہے۔ گویا مہینوں بلکہ بعض اوقات برسوں گزر جاتے ہیں، لیکن قرض خواہ اپنے جائز حق کا منتظر ہی رہتا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف حقوق العباد کی پامالی ہے بلکہ شریعتِ مطہرہ کی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔ ایک مسلمان کی شان یہ ہے کہ جب اس پر کسی کا حق واجب ہو جائے تو وہ حتی المقدور اسے جلد از جلد ادا کرنے کی فکر کرے اور بلا عذر اس میں تاخیر سے اجتناب کرے۔

ICU میں ایڈمٹ

افسوس! اس سے بھی زیادہ دردناک اور عبرت انگیز صورتِ حال اس وقت سامنے آئی جب ایک شخص کی والدہ انتہائی نازک حالت میں آئی سی یو (ICU) میں وینٹی لیٹر پر زیرِ علاج تھیں۔ پورا گھرانہ شدید پریشانی اور کرب میں مبتلا تھا۔ ایسے موقع پر مالی وسائل کی کتنی شدید ضرورت ہوتی ہے، اس کا اندازہ ہر صاحبِ عقل شخص بخوبی لگا سکتا ہے۔ اسی مجبوری کے عالم میں اس شخص نے اپنے قرض داروں سے نہایت عاجزی، انکساری اور گڑگڑاتے ہوئے کہا: “بھائی! اگر میرے بقایا پیسے دے دو تو بڑی مہربانی ہوگی، میری والدہ ہسپتال میں داخل ہیں، ان کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے اور مجھے فوری طور پر رقم کی سخت ضرورت ہے۔”

مگر افسوس صد افسوس! ان لوگوں کے دلوں پر اس التجا کا ذرہ برابر بھی اثر نہ ہوا۔ گویا انہوں نے یہ فریاد سنی ہی نہ ہو۔ مالی استطاعت رکھنے کے باوجود انہوں نے قرض کی ایک پائی بھی واپس نہ کی اور اس مجبور انسان کو شدید بے بسی اور پریشانی کے عالم میں چھوڑ دیا۔

ذرا غور کیجیے! جو شخص کسی مسلمان کی ایسی کٹھن گھڑی میں، جب اس کی والدہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہوں، اس کا جائز حق ادا کرنے کے بجائے ٹال مٹول سے کام لے، اس سے خیر خواہی، ہمدردی اور انسانی اقدار کی کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ یقیناً یہ رویہ نہ صرف اخلاقی پستی کی علامت ہے بلکہ حقوق العباد میں سخت کوتاہی بھی ہے، جس کی جواب دہی بارگاہِ الٰہی میں ضرور ہوگی۔

ارشاد اعلیٰ حضرت

عرض: حضور میرے کچھ روپے ایک شخص پر ہیں وہ نہیں دیتے؟

ارشاد: اس زمانہ میں قرض دینا اور یہ خیال کرنا کہ وصول ہو جائے گا، ایک مشکل خیال ہے۔ میرے پندرہ سو روپے لوگوں پر قرض ہیں۔ جب قرض دیا، یہ خیال کر لیا کہ دے دے تو خیر ورنہ طلب نہ کروں گا۔ جن صاحبوں نے قرض لیا دینے کا نام نہ لیا (پھر خود ہی فرمایا) جب یوں قرض دیتا ہوں تو ہبہ کیوں نہیں کر دیتا (یعنی تحفہ کیوں نہیں دے دیتا) اور اس کی وجہ یہ ہے کہ حدیث شریف میں ارشاد فرمایا: جب کسی کا دوسرے پر دین (یعنی قرض) ہو اور اس کی میعاد گزر جائے تو ہر روز اسی قدر روپیہ کی خیرات کا ثواب ملتا ہے جتنا دین (یعنی قرض) ہے۔ اس ثوابِ عظیم کے لیے میں نے قرض دیئے ہبہ نہ کیے کہ پندرہ سو روپے روز میں کہاں سے خیرات کرتا۔ [ملفوظات اعلیٰ حضرت، ص: 91]

قرض ادا نہ کرنے والو سنو!

احادیث میں بغیر مجبوری کے قرض ادا نہ کرنے والوں کے لیے سخت تر وعیدوں کا بیان موجود ہے، سنیے!

بخاری شریف میں ہے:

مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ [صحیح بخاری، ج: 2، ص: 799، حدیث: 2166]

ترجمہ: (قرض دار) غنی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔

شارح مشکوٰۃ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یعنی جس مقروض کے پاس ادائے قرض کے لیے پیسہ ہو پھر ٹالے تو وہ ظالم ہے اسے قرض خواہ ذلیل بھی کر سکتا ہے اور جیل بھی بھجوا سکتا ہے، یہ شخص مقروض گنہگار بھی ہوگا کیونکہ ظالم گنہگار ہوتا ہی ہے۔ [مرآۃ المناجیح، ج: 4، ص: 509]

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دِينَارٌ أَوْ دِرْهَمٌ قُضِيَ مِنْ حَسَنَاتِهِ، لَيْسَ ثَمَّ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ [سنن ابن ماجہ، ج: 2، ص: 807، حدیث: 2414]

ترجمہ: جو اس حالت میں مر گیا کہ اس پر ایک دینار یا ایک درہم کا قرض ہو تو وہ قرض اس کی نیکیوں میں سے وصول کیا جائے گا کیونکہ قیامت کے دن درہم و دینار نہیں ہوں گے۔

قارئین کرام! ہمارا دینِ اسلام ہمیں وعدہ پورا کرنے، امانت و دیانت کی حفاظت کرنے، دوسروں کے حقوق ادا کرنے اور ان کے ساتھ خیر خواہی و بھلائی کا برتاؤ کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اس کے برعکس کسی کا حق دبانا، مالی استطاعت کے باوجود قرض کی ادائیگی میں بلا عذر تاخیر کرنا، قرض خواہ کو بار بار چکر لگوانا، اسے پریشان کرنا اور ذہنی اذیت میں مبتلا کرنا نہایت سنگین گناہ اور ظلم ہے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ اپنے طرزِ عمل پر غور کرے اور یہ سوچے کہ کہیں اس کی وجہ سے کسی بندۂ خدا کی دل آزاری یا حق تلفی تو نہیں ہو رہی۔

دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن، مولانا عبد الحبیب عطاری دامت برکاتہم العالیہ نہایت حکمت آموز بات ارشاد فرماتے ہیں: کبھی بھی یہ نہ ہونے دیں کہ آپ پر کسی کا ایک روپیہ بھی باقی رہے۔

اگر ہر مسلمان یہ ذہن بنا لے کہ حتی الامکان کسی کا حق اپنے ذمے باقی نہیں رکھنا، تو وہ قرض لینے میں بھی احتیاط کرے گا، اور اگر کبھی ضرورتاً قرض لینا پڑ جائے تو اسے جلد از جلد ادا کرنے کی فکر کرے گا۔ اس طرح نہ صرف حقوق العباد کی حفاظت ہوگی بلکہ معاشرے میں اعتماد، خیر خواہی اور باہمی محبت کا ماحول بھی پروان چڑھے گا۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!