| عنوان: | یقین محکم اور عمل پیہم کی ضرورت (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | خطیب اعظم علامہ قمر الزماں خان اعظمی |
| پیش کش: | آفرین فاطمہ رضویہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
اسلام اور مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان اس تصور سے پہنچا ہے کہ اسلام بھی ہندو مت، عیسائیت اور بدھ مت کی طرح صرف فرد کی اصلاح چاہتا ہے، معاشرہ خواہ کیسا ہی ہو، دوسرے لفظوں میں اسلام کسی معاشرے کے قیام کا قائل نہیں جس میں صرف اسلامی اصولوں کی حکمرانی ہو اور غیر اسلامی اقدار کو معاشرے سے باہر نکال دیا گیا ہو، اگر مذہب کے حدودِ عمل کا یہ تعین اسلام کے علاوہ دوسرے مذاہب کے لوگ کرتے ہیں تو وہ بحق بجانب ہیں، کیونکہ ان کے یہاں تاریخ کا کوئی ایسا دور نہیں گزرا ہے جب خالص مذہبی بنیادوں پر دنیا کے اندر کوئی معاشرہ قائم ہوا ہو، لیکن معتقدینِ اسلام جب اس طرح کی بات کرتے ہیں تو میرے اس یقین کو تقویت ملتی ہے کہ یا تو وہ خود فریب خوردہ ہیں یا فریب دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دنیا میں ہمارے حریفوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اسلام دنیا میں ایک مثالی معاشرے کے قیام کے لیے جلوہ گر ہوا ہے، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبرانہ مساعی کا محور بھی یہی اسلامی معاشرہ تھا، چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسا معاشرہ قائم فرمایا تھا جس میں زندگی کے کسی حصے میں غیر اسلامی تصورات کے داخل ہونے کی گنجائش باقی نہ رہ گئی تھی، انھوں نے اسلامی معاشرے کے لیے جو قانون عطا فرمایا، اس میں زندگی کی تمام جزئیات کا استقصاء کر لیا گیا ہے، اور کسی بھی گوشۂ حیات کو تشنۂ قانون نہیں چھوڑا گیا۔
یہ صحیح ہے کہ معاشرہ افراد ہی کے اجتماع سے بنتا ہے، لیکن یہ بھی ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ اس معاشرے کا جذبہ ان افراد میں پوری طرح موجود ہونا چاہیے جو اس نظام کو عملاً قبول کر رہے ہیں، ورنہ کوئی معاشرہ قائم نہ ہوگا، البتہ غیر تربیت یافتہ افراد کی ایک بھیڑ اکٹھی ہو جائے گی، اسلامی اصولوں کی روشنی میں جس معاشرے کا قیام عمل میں لایا جائے اس کے لیے ضروری ہے کہ ہر اعتبار سے نمایاں اور ممتاز ہو اور اپنے افراد کو باعزت و باوقار فیروزمندیوں سے آسودہ زندگی بخشتا ہے، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن تھامنے کے بعد ان کے صدقے میں مسلمانوں کو مکمل کامیابیاں نہ ملتیں اور آٹھ سو سال تک ان کا سیلِ رواں اکنافِ عالم کو سیراب نہ کر چکا ہوتا تو دنیا یہ کبھی اعتراف نہ کرتی کہ اسلام اپنے ماننے والوں کو غلبہ و قوت کی زندگی بخشتا ہے۔
لیکن ٹھیک اس وقت جبکہ پوری دنیا اسلام کے آغوشِ رحمت میں سکون حاصل کرنے کے لیے پیش قدمی کر رہی تھی، مسلمانوں نے دین کی اجتماعی جدوجہد میں کمی شروع کر دی:
زمانہ بڑے غور سے سن رہا تھا
تمہیں سو گئے داستاں کہتے کہتے
رفتہ رفتہ یہ تصور ہی مٹ گیا کہ اسلام تمام ابنائے آدم کا مذہب ہے، اور مسلمانوں کو بحیثیت خیرِ امت “بیگانوں” کو امتِ اجابت میں شامل کرنا ہے۔
یہاں تک کہ ایک دور ایسا بھی آیا کہ لوگوں نے صرف بعض مسلم افراد ہی کی اصلاح کو تبلیغ کا نام دے دیا اور انھوں نے مذہب و سیاست کو الگ الگ خانوں میں تقسیم کر دیا حالانکہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا حاصل یہ ہے کہ جو ہمارا دین ہے وہی ہماری دنیا ہے، جو ہمارا مذہب ہے وہی ہماری سیاست ہے، دین و سیاست کی علیحدگی کے اس رجحان کے پھیلنے کا نتیجہ تھا کہ مسلمانوں میں دو گروہ پیدا ہو گئے۔ ایک طبقہ مذہب سے آزاد ہو کر حکومت و اقتدار کے لیے کوشش کرنے لگا، اور دوسرا طبقہ مذہب کے تحفظ کے لیے گوشہ نشین ہو گیا، اور آج جب آنکھ کھلی تو دنیا بدل چکی تھی:
صد سالہ دورِ چرخ تھا ساغر کا ایک جام
نکلے جو مئے کدے سے تو دنیا بدل گئی
مسلمان آج بھی اگر سابقہ فروگزاشتوں کا کفارہ ادا کرنا چاہیں اور مذہبی بنیادوں پر حصولِ زندگی کی جدوجہد کو تیز تر کر دیں تو مذہب کی بے پایاں قوتوں کا سہارا لے کر ہم صدیوں کا فاصلہ برسوں میں طے کر سکتے ہیں، مگر افسوس صد افسوس! پہلے تو یہ انفرادی رجحان تھا کہ مذہب کا دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے، مگر اب بعض تحریکیں اور جماعتیں اجتماعی طور پر کوشش کر رہی ہیں کہ مذہب کو کسی اجتماعی معاشرے کا اجتماعی نظام نہ قرار دیا جائے اور مذہب پسند لوگ بغیر میدانِ عمل میں اترے ہوئے صرف چلت پھرت کے ذریعے دنیا کے سیاسی، تمدنی، اور معاشرتی معرکے سر کر لیں، صرف یہی نہیں کہ مسلمانوں کو جدوجہد اور حرکت و عمل سے روکا جائے بلکہ ایسا ماحول تیار کیا جائے کہ انھیں دنیا کی ترقیوں کا کوئی علم نہ ہو سکے اور مذہب کو کہاں سے مجروح کیا جا رہا ہے اس کے مطالعے کا موقع ہی نہ مل سکے، پہلے اتنا تو کم از کم ہوتا تھا کہ علمائے کرام تاجداروں سے تعلقات رکھتے تھے، ان کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے تھے، انھیں مفید مشورے دیتے تھے، اور ان کے اندر خوفِ خدا پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے، اور احتسابِ یومِ الدین کو ملحوظ رکھ کر قوم کو آگے بڑھانے کی تلقین کرتے تھے، مگر اب تو حال یہ ہو گیا ہے کہ مسلم معاشرہ اور زعمائے معاشرہ کہاں کہاں غلطیاں کر رہے ہیں، معاشرہ کس طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے اور کون سے محرکات ہیں جن کی وجہ سے تعلیم یافتہ طبقے سے مذہب کی گرفت ڈھیلی پڑتی جا رہی ہے، ان خامیوں کا جائزہ لینا ہی بنامِ مذہب جینے والے طبقے کے لیے دشوار ہو گیا ہے۔
