| عنوان: | اسلام میں منگنی کا تصور |
|---|---|
| تحریر: | فاطمہ تحسین |
| پیش کش: | زہرہ یاسمین |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَيِّدِ الْمُرْسَلِيْنَ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ۔ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
کیا نکاح سے پہلے منگنی کرنا ضروری ہے؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “خَيْرُ الْأُمُوْرِ أَوْسَطُهَا” کہ معاملات کے اندر بہترین معاملہ وہ ہے جس میں اعتدال کی روش اختیار کی جائے، نہ تو افراط ہو، نہ تفریط ہو۔ اسلام کے اندر منگنی کا تصور نہ تو یوں ہے کہ منگنی کوئی چیز ہی نہیں ہے اور نہ اسلام کے اندر منگنی کا تصور یہ ہے کہ منگنی کے اخراجات غریب آدمی کی شادی سے بھی بڑھ کر ہوں اور وہ اس کی وجہ سے پریشانی میں آجائے اور ایک عرصے تک منگنی اس وجہ سے نہ ہو کہ اس کے خرچے پورے نہیں ہو رہے ہیں۔ منگنی کا ذکر قرآن پاک میں بھی موجود ہے۔ ہمارے یہاں منگنی کرتے ہیں۔ یہ ہندی لفظ ہے۔ عربی میں اس کو خطبہ کہتے ہیں اور اردو میں شادی کا پیغام دینا کہتے ہیں۔ تو اصل میں منگنی نکاح کا پیغام اور نکاح کا وعدہ ہوتی ہے۔
منگنی کی شرعی حیثیت
منگنی کی اسلام میں حقیقت یہ ہے کہ منگنی بذات خود ایک جائز عمل ہے اور اس کو نکاح کا پیغام شمار کیا جاتا ہے۔
اسلام میں منگنی کے جواز اور ثبوت پر کئی دلائل ہیں:
-
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی نکاح کا پیغام دیا جاتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو نکاح کا پیغام دیا تھا اور ان سے منگنی کی تھی۔
-
اسی طرح جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمۃ الزہراء کا نکاح فرمانا چاہا تو ان کے لیے بھی نکاح کے پیغامات آئے اور ان نکاح کے پیغامات میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے پیغام نکاح کو قبول فرمایا۔ تو منگنی کی اصل جو ہے پیغام نکاح ہے اور پیغام نکاح دینا اور منگنی کرنا جائز ہے لیکن اس میں ناجائز رسومات نہ کی جائیں اور نہ ہی ایک دوسرے پر زیادہ بوجھ ڈالا جائے۔
منگنی کی حکمت اور فوائد
بنیادی طور پر یہی ہے کہ یہ نکاح کا وعدہ ہے، نکاح کے بارے میں نکاح کا پیغام ہے، ایک مرتبہ مل بیٹھ کے آپس میں نکاح کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں اور لڑکے والے لڑکی والوں سے رشتہ مانگتے ہیں یا اس کے برعکس بھی ہو سکتا ہے کہ لڑکی والے لڑکے والوں سے رشتہ مانگیں۔ اسلام میں دونوں صورتیں جائز ہیں۔ اس کی حکمت ایک دوسرے کو اچھے طریقے سے جان لینا ہے۔ اس کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کو قریب سے دیکھ اور سمجھ لیتے ہیں، جس سے شادی کا فیصلہ کرنے یا مناسب نہ لگنے کی صورت میں انکار کرنے میں آسانی ہو جاتی ہے۔
منگنی کی تقریب
منگنی کی تقریب میں اگر لڑکے والے لڑکی والوں کے یہاں آئیں یا لڑکی والے لڑکے والوں کے یہاں گئے تو بہرحال یہ ایک خوشی کا موقع ہوتا ہے اور خوشی کے موقع پر دعوت بھی کی جاتی ہے۔ اور اسلام کے اندر دعوت ایک پسندیدہ عمل ہے۔ تو اب ایسی صورت کے اندر ایک اوسط درجے کی دعوت کا اہتمام کر لیا جائے۔ کیونکہ دعوت کرنا سنت ہے اور مسلمان کو کھانا کھلانا ایک عبادت کا کام بھی ہے، نیکی کا کام ہے اس طرح کی نیت کی جا سکتی ہے۔
لہٰذا اس طرح کا مناسب اہتمام کیا جائے کہ جس کے اندر حد سے بڑھنا نہ پایا جائے لیکن بالفرض اگر کوئی نہیں بھی کرتا اور صرف ماں باپ جاکے پیغام دے آتے ہیں اور آپس میں بات چیت ہو جاتی ہے اور رشتے داروں کو جمع نہیں کیا جاتا تو شرعی اعتبار سے اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔
منگنی کے موقع پر رشتے داروں کو بلانا بھی جائز ہے اور اچھے کھانے کھلانا بھی جائز ہے۔ لیکن ان تقریبات میں چند خامیاں پائی جاتی ہیں ایک تو یہ ہے کہ صرف امیروں کو بلایا جائے غریبوں کو چھوڑ دیا جائے، بعض رشتہ داروں کو ترجیح دینا اور بعض کو چھوڑ دینا۔ اور اس سے جو بڑھ کے خامی پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ عام طور پر دعوتیں پردے کی قید سے آزاد ہوتی ہیں، کسی جگہ مرد عورت جمع ہیں ان کے لباس بے پردگی پر مشتمل ہوتے ہیں، ان کا آپس کے اندر اٹھنا بیٹھنا، ایک ہی جگہ بیٹھے ہوئے کھانا کھا رہے سب کچھ ہو رہا ہے، ہنسی مذاق تو یہ جتنے معاملات ہیں جو بے پردگی و بے حیائی کے زمرے میں آتے ہیں یہ سارے کے سارے ناجائز و گناہ ہیں۔ اور یہی چیزیں منگنی کی تقریبات میں فساد اور خرابی کا سبب بنتی ہیں۔
منگیتر کو انگوٹھی پہنانے کا حکم
کیا نکاح سے پہلے منگیتر کے ساتھ بیٹھ کر اسے انگوٹھی پہنانا جائز ہے؟
منگنی نکاح کا وعدہ ہے، نکاح نہیں ہے، منگنی کرنے کے بعد بھی منگیتر دیگر اجنبی لڑکیوں کی طرح نامحرم ہی ہوتی ہے، اور نامحرم لڑکی سے تعلقات رکھنا، ملنا جلنا، اور ہنسی مذاق یا بغیر ضرورت بات چیت کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہ نکاح کا پیغام دینے کے لیے شریعت نے اس بات کی تو اجازت دی ہے کہ ایک مرتبہ محارم کی موجودگی میں اسے دیکھ لے کیونکہ آئندہ زندگی اس کو اس کے ساتھ گزارنی ہے تو ایک دفعہ دیکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ لیکن ہمارے یہاں تو صورت حال بالکل ہی مختلف ہوتی ہے یعنی منگنی ہوئی اور منگنی کے بعد وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہماری محرم ہوگئی (نعوذ باللہ) لہٰذا اپنی منگیتر کو انگوٹھی پہنانا شرعاً جائز نہیں ہے۔
نیز منگنی کے موقع پر انگوٹھی پہنانا محض ایک رسم ہے شریعت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے، اس لیے اس سے اجتناب لازم ہے۔
لمحہ فکریہ
کچھ لوگوں نے تو منگنی کے نام پر لڑکیوں کو دیکھنا، دعوت کھانا، تحائف حاصل کرنا دھندہ بنا لیا ہے، شادی کا پیغام محض ایک بہانہ ہوتا ہے اور جہاں ایک طرف کھا پی کے مزید کنگال بناتے ہیں وہیں طرح طرح کے عیب نکال کر سماج میں بدنام بھی کرتے ہیں۔ اگر منگنی کا یہی مطلب ہے تو اسلام ایسی منگنی کی اجازت نہیں دیتا۔
اصل بات یہ ہے کہ اسلام رسموں کو ختم نہیں کرتا جو رسم اسلام کے خلاف نہیں ہے اسلام کی رو سے وہ جائز ہے لیکن جب اسی رسم کے اندر ایسی شدت پیدا ہو جائے کہ اب اس کے کرنے یا نہ کرنے پر لوگوں کی لعنت، ملامت اور سماجی دباؤ ہونے لگے تو ایسی صورت کے اندر اس رسم سے بچنا ہی چاہیے۔ (وَاللّٰهُ أَعْلَمُ وَرَسُوْلُهٗ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
