| عنوان: | علمِ غیبِ مصطفیٰ قرآن و احادیث کی روشنی میں (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | محمد شہید حسین عطاری |
تمام تعریفیں اس خالقِ کائنات کے لیے جس نے ہمارے پیارے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی بنا کر اس دنیا میں مبعوث فرمایا۔ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ادا اور ہر خصلت بے نظیر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا میں کم و پیش ایک لاکھ یا تقریباً دو لاکھ چوبیس ہزار انبیاءِ کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا۔ ان انبیاءِ کرام علیہم السلام کو مختلف خصوصیات سے نوازا؛ کسی کو مردہ زندہ کرنے کی طاقت عطا فرمائی، تو کسی کے بس میں انسان اور جنات کر دیے، تو کسی کو پتھر پر لاٹھی مار کر اس سے پانی نکالنے کی طاقت عطا فرمائی۔ الغرض ان تمام خصائص کو اللہ پاک نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر جمع فرما دیا۔ آپ کے خصائص میں سے ایک خاصہ یہ بھی ہے کہ اللہ پاک نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے علمِ غیب کا علم عطا فرمایا۔ ہم اسی علمِ غیب کے حوالے سے بحث کریں گے اور قرآنِ کریم، احادیثِ مبارکہ و خوبصورت عقلی دلائل کی روشنی میں ہم پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے علمِ غیب کو ثابت کریں گے۔ بلا تاخیر ہم اصل مضمون کی طرف چلتے ہیں۔
پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے علمِ غیب کا ثبوت قرآنِ کریم، حدیثِ شریف و عقلی دلائل کی روشنی میں
پہلے ہم علمِ غیب کی تعریف کو جانیں گے کہ علمِ غیب کسے کہتے ہیں؟
علمِ غیب ان باتوں کو جاننے کو کہتے ہیں جن کو انسان عادی طور پر اپنی عقل و حواس سے نہ جان سکے۔
علمِ غیب کے متعلق قرآنِ کریم میں بکثرت ذکر موجود ہے۔ اللہ پاک نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو علمِ غیب عطا فرمایا، خود اللہ پاک قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِي مِنْ رُسُلِهِ مَنْ يَشَاءُ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَإِنْ تُؤْمِنُوا وَتَتَّقُوا فَلَكُمْ أَجْرٌ عَظِيمٌ [سورۃ آل عمران: 179]
ترجمہ کنزالایمان: “اے عام لوگو! اللہ تمہیں غیب پر مطلع نہیں کرتا البتہ! اللہ اپنے رسولوں کو منتخب فرما لیتا ہے جنہیں پسند فرماتا ہے تو تم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور اگر تم ایمان لاؤ اور متقی بنو تو تمہارے لیے بہت بڑا اجر ہے۔”
ایک اور مقام پر اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ [سورۃ التکویر: 24]
ترجمہ: “اور یہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں ہیں۔”
علمِ غیب کے ثبوت پر 3 احادیثِ کریمہ
-
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا، اس نے اپنا دستِ قدرت میرے کندھوں کے درمیان رکھا، میرے سینے میں اس کی ٹھنڈک محسوس ہوئی، اسی وقت ہر چیز مجھ پر روشن ہو گئی اور میں نے سب کچھ پہچان لیا۔” [سنن الترمذي، كتاب التفسير، باب ومن سورة ص، 5]
-
حضرت حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور سید المرسلین خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “گزشتہ رات مجھ پر میری امت اس حجرے کے پاس میرے سامنے پیش کی گئی، بے شک میں ان کے ہر شخص کو اس سے زیادہ پہچانتا ہوں جیسا تم میں کوئی اپنے ساتھی کو پہچانتا ہے۔” [تفسیر صراط الجنان، سورہ آل عمران، تحت آیت: 179]
-
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں میں کھڑے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مخلوق کی پیدائش سے بتانا شروع کیا حتیٰ کہ جنتی اپنے منازل پر جنت میں داخل ہو گئے اور جہنمی اپنے ٹھکانے پر جہنم میں پہنچ گئے۔ جس نے اس بیان کو یاد رکھا اس نے یاد رکھا، جو بھول گیا سو بھول گیا۔ [تفسیر صراط الجنان، سورہ آل عمران، تحت آیت: 179]
پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے علمِ غیب کا ثبوت عقلی دلائل کی روشنی میں
-
چند سال کامل استاد کی صحبت میں رہ کر انسان عالم بن جاتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام قبلِ ولادتِ پاک کروڑوں برس رب تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر رہے تو حضور کیوں نہ کامل عالم ہوں۔
-
اگر شاگرد کے علم میں کچھ کمی رہے تو اس کی صرف چار ہی وجہ ہو سکتی ہیں؛ اولاً تو یہ کہ شاگرد نااہل تھا کہ استاد سے پورا فیض نہ حاصل کر سکا۔ دوم یہ کہ استاد کامل نہ تھا کہ مکمل سکھا نہ سکا۔ سوم یہ کہ استاد یا تو بخیل تھا کہ پورا پورا علم اس شاگرد کو نہ دیا یا اس سے زیادہ کوئی اور محبوب شاگرد تھا کہ اس کو سکھانا چاہتا ہے۔ چوتھے یہ کہ جو کتاب پڑھائی وہ ناقص تھی۔ ان چار وجہوں کے سوا اور کوئی وجہ ہو ہی نہیں سکتی۔ یہاں سکھانے والا رب تبارک و تعالیٰ ہے، سیکھنے والے محبوبِ رحمن صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ کیا سکھایا؟ قرآن اور اپنے خاص علوم بتائے۔ رب تعالیٰ کامل استاد نہیں؟ یا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لائق شاگرد نہیں؟ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے زیادہ کوئی اور پیارا ہے؟ یا کہ قرآن مکمل کتاب نہیں؟ جب ان میں سے کوئی بات نہیں، رب تعالیٰ کامل عطا فرمانے والا ہے، محبوب علیہ الصلوٰۃ والسلام کامل لینے والے ہیں، قرآنِ کریم کامل کتاب ہے، وہی سب سے زیادہ مقبولِ بارگاہ، پھر علم کیوں ناقص؟
-
رب تعالیٰ نے ہر بات لوحِ محفوظ میں کیوں لکھی؟ لکھنا تو اپنی یادداشت کے لیے ہوتا ہے کہ بھول نہ جائیں یا دوسروں کے بتانے کے لیے؛ رب تعالیٰ تو بھول سے پاک ہے، لہذا اس نے دوسروں ہی کے لیے لکھا اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تو دوسروں سے زیادہ محبوب ہیں، لہذا وہ تحریر حضور کے لیے ہے۔
-
غیبوں کا غیب رب تعالیٰ کی ذات ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دیدار کی تمنا فرمائی تو فرما دیا گیا “لن ترانی” تم ہم کو نہ دیکھ سکو گے۔ جب محبوب علیہ الصلوٰۃ والسلام نے رب ہی کو معراج میں اپنی ان ظاہری مبارک آنکھوں سے دیدار کر لیا، تو یہ عالم کیا چیز ہے جو آپ سے چھپ سکے۔ اسی لیے تو اعلیٰ حضرت عظیم البرکت مجددِ دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں:
اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا
جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود
خلاصۂ کلام: قرآنِ پاک کی آیتوں اور احادیثِ کریمہ سے ہمیں واضح طور پر ثابت ہوا کہ ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ پاک نے علمِ غیب عطا فرمایا ہے، اور جو ہو چکا ہے اور جو ہونے والا ہے سب کا علم اللہ پاک نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرما دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم عطائی ہے، ذاتی نہیں۔ اور چند خوبصورت عقلی دلائل سے بھی خوب خوب واضح اور ثابت ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے کیسا کمالِ علمِ غیب عطا فرمایا تھا جس کی مثال نہیں ملتی۔
