Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

یزید پلید کی حقیقت اور اقوالِ ائمہ

یزید پلید
عنوان: یزید پلید
تحریر: فقیہ ملت الحاج مفتی جلال الدین احمد امجدی
پیش کش: محمد سلمان العطاری
منجانب: مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج

یزید حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیٹا جس کی کنیت ابو خالد ہے، امیہ خاندان کا وہ بدبخت انسان ہے جس کی پیشانی پر نواسۂ رسول، جگر گوشۂ بتول حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قتل کا سیاہ داغ ہے، جس پر ہر زمانے میں لوگ ملامت کرتے رہے اور رہتی دنیا تک ایسے ہی ملامت کرتے رہیں گے۔ یہ بد باطن اور ننگِ خاندان 25ھ میں پیدا ہوا، اس کی ماں کا نام میسون بنت نجدل کلبی ہے۔ یزید بہت موٹا، بد نما، بد خلق، فاسق و فاجر، شرابی، بدکار، ظالم اور بے ادب و گستاخ تھا؛ اس کی بدکاریاں اور بیہودگیاں انتہا کو پہنچ گئی تھیں۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو حضرت حنظلہ غسیل الملائکہ کے صاحبزادے ہیں، وہ فرماتے ہیں:

وَاللَّهِ مَا خَرَجْنَا عَلَى يَزِيدَ حَتَّى خِفْنَا أَنْ نُرْمَى بِالْحِجَارَةِ مِنَ السَّمَاءِ

“اللہ کی قسم! یزید پر ہم نے اس وقت حملہ کی تیاری کی جب ہم لوگوں کو اندیشہ ہو گیا کہ اس کی بدکاریوں کے سبب ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش ہو گی۔” اس لیے کہ فسق و فجور کا یہ عالم تھا کہ لوگ اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں سے نکاح کر رہے تھے، شرابیں پی جا رہی تھیں اور دیگر منہیاتِ شرعیہ کا علانیہ رواج ہو گیا تھا اور لوگوں نے نماز ترک کر دی تھی۔ [تاریخ الخلفاء، ص: 142]

یزید نے مدینہ طیبہ اور مکہ مکرمہ کی بے حرمتی کرائی۔ ایسے شخص کی حکومت گرگ (بھیڑیے) کی چوپانی سے زیادہ خطرناک تھی۔ اربابِ فراست اور اصحابِ اسرار اس وقت سے ڈرتے تھے جبکہ عنانِ سلطنت اس شقی کے ہاتھ میں آئی۔ اسی لیے 59ھ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دعا کی:

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ رَأْسِ السِّتِّينَ وَإِمَارَةِ الصِّبْيَانِ

“یا رب! میں تیری پناہ مانگتا ہوں 60ھ کے آغاز اور لڑکوں کی حکومت سے۔”

اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو حاملِ اسرار تھے، انہیں معلوم تھا کہ سن 60ھ کا آغاز لڑکوں کی حکومت اور فتنوں کا وقت ہے۔ ان کی یہ دعا قبول ہوئی اور انہوں نے سن 59ھ میں بمقام مدینہ طیبہ رحلت فرمائی۔ [سوانح کربلا، ص: 81]

یزید اور احادیثِ کریمہ و اقوالِ ائمہ

راوی اپنی مسند میں صحابیِ رسول حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:

أَوَّلُ مَنْ يُبَدِّلُ سُنَّتِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ يُقَالُ لَهُ يَزِيدُ

“میری سنت کا پہلا بدلنے والا ایک شخص بنی امیہ کا ہوگا جس کا نام یزید ہوگا۔” [تاریخ الخلفاء، ص: 142]

اور ابو یعلیٰ اپنی مسند میں (بسندِ ضعیف) حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ میری امت ہمیشہ عدل و انصاف پر قائم رہے گی یہاں تک کہ پہلا رخنہ انداز بنی امیہ کا ایک شخص ہوگا جس کا نام یزید ہوگا۔ [تاریخ الخلفاء، ص: 142]

اور علامہ صبان تحریر فرماتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ یزید کے کفر کے قائل ہیں اور تجھے ان کا فرمان کافی ہے۔ ان کا تقویٰ اور علم اس امر کا متقاضی ہے کہ انہوں نے یہ بات اس لیے کہی ہو گی کہ ان کے نزدیک ایسے امورِ صریحہ کا یزید سے صادر ہونا ثابت ہوگا جو موجبِ کفر ہیں۔ اس معاملہ میں ایک جماعت نے ان کی موافقت کی ہے مثلاً ابنِ جوزی وغیرہ۔ رہا اس کا فسق تو اس پر اتفاق ہے، بعض علماء نے خاص اس کے نام سے لعنت کو جائز قرار دیا ہے۔ [برکاتِ آلِ رسول، ص: 155]

اور حضرت علامہ سعد الدین تفتازانی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قتل اور اہلِ بیتِ نبوت کی توہین و تذلیل پر یزید کی رضا و خوشنودی تواتر سے ثابت ہے، لہذا ہم اس کی ذات کے بارے میں توقف نہیں کریں گے (اسے برا بھلا کہیں گے)، البتہ اس کے ایمان کے بارے میں توقف کریں گے، نہ اسے کافر کہیں گے اور نہ مومن۔ [شرح عقائد نسفی، ص: 117]

محدث ابنِ جوزی سے پوچھا گیا کہ یزید کو امام حسین کا شہید کرنے والا کہنا کس طرح صحیح ہے جبکہ وہ کربلا میں شہادت کے واقعہ کے وقت ملکِ شام میں تھا؟ تو انہوں نے ایک شعر پڑھا جس کا ترجمہ یہ ہے کہ تیر عراق میں تھا جبکہ تیر مارنے والا ذی سلم میں تھا، اے تیر مارنے والے تیرا نشانہ کس غضب کا تھا۔ [الشرف المؤبد، ص: 69]

نوفل بن ابو الفرات کہتے ہیں کہ میں ایک روز اموی خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ یزید کا کچھ ذکر آ گیا تو ایک شخص نے یزید کو “امیر المؤمنین یزید بن معاویہ” کہا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اس شخص سے فرمایا کہ “تو اسے امیر المؤمنین کہتا ہے؟” پھر آپ نے حکم دیا کہ یزید کو امیر المؤمنین کہنے والے اس شخص کو 20 کوڑے لگائے جائیں۔ [تاریخ الخلفاء، ص: 142]

حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ امیہ خاندان کے ایک فرد ہیں یعنی مروان کے پوتے اور خلیفہ عبدالملک بن مروان کے داماد ہیں، جن کے فضل و کمال اور تقویٰ و پرہیزگاری کے بارے میں صرف اتنا بتا دینا کافی ہے کہ ان کو خلفائے راشدین میں سے شمار کیا جاتا ہے؛ انہوں نے اس شخص کو کہ جس نے یزیدِ بدبخت کو امیر المؤمنین کہا، کوڑے لگوائے اور سزا دی۔ اس واقعہ سے وہ لوگ جو آج کل یزید کی حمایت کرتے ہیں اور اس کو امیر المؤمنین کہتے ہیں، سبق حاصل کریں اور جان لیں کہ وہ یقیناً سزا کے مستحق ہیں۔ اگر آج بھی کوئی حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسا ہوتا تو انہیں کوڑے ضرور لگواتا۔

اور اعلیٰ حضرت پیشوائے اہلِ سنت امام احمد رضا فاضلِ بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں: “یزیدِ پلید علیہ ما یستحقہ من العزیز المجید قطعاً یقیناً باجماعِ اہلِ سنت فاسق و فاجر و جری علی الکبائر تھا۔ اس قدر پر ائمۂ اہلِ سنت کا اطباق و اتفاق ہے۔ صرف اس کی تکفیر و لعن میں اختلاف فرمایا۔ امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے اتباع و موافقین اسے کافر کہتے اور بہ تخصیصِ نام اس پر لعن کرتے ہیں اور آیتِ کریمہ اس پر سند لاتے ہیں:

فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ ۝ أُولَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَهُمْ [سورہ محمد: 22-23]

کیا قریب ہے کہ اگر والیِ ملک ہو تو زمین میں فساد کرو اور اپنے نسبی رشتے کاٹ دو۔ یہ ہیں وہ لوگ جن پر اللہ نے لعنت فرمائی تو انہیں بہرا کر دیا اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں۔ شک نہیں کہ یزید نے والیِ ملک ہو کر زمین میں فساد پھیلایا، حرمینِ طیبین و خود کعبہ معظمہ و روضہ طیبہ کی سخت بے حرمتیاں کیں، مسجدِ کریم میں گھوڑے باندھے ان کی لید اور پیشاب منبرِ اطہر پر پڑے۔ تین دن مسجدِ نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بے اذان و نماز رہی، مکہ و مدینہ و حجاز میں ہزاروں صحابہ و تابعین بے گناہ شہید کیے، کعبہ معظمہ پر پتھر پھینکے، غلافِ شریف پھاڑا اور جلایا، مدینہ طیبہ کی پاک دامن پارسائیں تین شبانہ روز اپنے خبیث لشکر پر حلال کر دیں، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے جگر پارے کو تین دن بے آب و دانہ رکھ کر مع ہمراہیوں کے تیغِ ظلم سے پیاسا ذبح کیا، مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی گود کے پلے ہوئے تنِ نازنین پر بعدِ شہادت گھوڑے دوڑائے گئے کہ تمام استخوانِ مبارک چور ہو گئے۔ سرِ انور کہ محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا بوسہ گاہ تھا کاٹ کر نیزہ پر چڑھایا اور منزلوں پھرایا۔ حرمِ محترم مخدراتِ مشکوئے رسالت قید کیے گئے اور بے حرمتی کے ساتھ اس خبیث کے دربار میں لائے گئے۔ اس سے بڑھ کر قطعِ رحم اور زمین میں فساد کیا ہوگا، ملعون ہے وہ جو ان ملعون حرکات کو فسق و فجور نہ جانے، قرآنِ عظیم میں صراحۃً اس پر لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فرمایا۔ لہٰذا امام احمد اور ان کے موافقین اس پر لعنت فرماتے ہیں، اور ہمارے امامِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ لعن و تکفیر سے احتیاطاً سکوت فرماتے ہیں کہ اس سے فسق و فجور متواتر ہیں، کفر متواتر نہیں، اور بحالِ احتمال نسبتِ کبیرہ بھی جائز نہیں نہ کہ تکفیر، اور امثالِ وعیدات مشروط بعدمِ توبہ ہیں لقولہ تعالیٰ: فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا إِلَّا مَنْ تَابَ اور توبہ تا دمِ غرغرہ مقبول ہے اور اس کے عدم پر جزم نہیں، و یہی احوط و اسلم ہے؛ مگر اس کے فسق و فجور سے انکار کرنا اور امامِ مظلوم پر الزام رکھنا ضروریاتِ مذہبِ اہلِ سنت کے خلاف ہے اور ضلال و بد مذہبیِ صاف ہے، بلکہ انصافاً یہ اس قلب سے متصور نہیں جس میں محبتِ سیدِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا شمہ ہو وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ۔” [فتاویٰ رضویہ]

اور تحریر فرماتے ہیں: “یزید بیشک پلید تھا، اسے پلید کہنا اور لکھنا جائز ہے اور اسے رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نہ کہے گا مگر ناصبی کہ اہلِ بیتِ رسالت کا دشمن ہے۔” [فتاویٰ رضویہ]

پیارے قارئینِ کرام! جلیل القدر علمائے محققین کے بیانات سے خوب اچھی طرح واضح ہو گیا کہ یزید کیسا تھا اور اس نے کیسے کیسے مظالم ڈھائے ہیں، اور یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ ہم اسے کیا کہہ سکتے ہیں اور کیا نہیں کہہ سکتے۔ جو لوگ کہ امام الائمہ حضرت سیدنا امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ماننے والے ہیں اور اپنے آپ کو حنفی کہتے ہیں، ان کو چاہیے کہ وہ اپنے امام کے طریقہ پر چلیں یعنی یزید کے بارے میں لعن و تکفیر سے احتیاطاً سکوت اختیار کریں کہ یہی اسلم ہے۔ اور جو لوگ کہ اس کے فاسق و فاجر ہونے سے انکار کریں اور اس کے لیے امیر المؤمنین و رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہیں یا امامِ مظلوم سیدنا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر الزام رکھیں، ایسے لوگوں کو گمراہ و بد مذہب، اہلِ بیتِ نبوت کا دشمن اور خارجی سمجھیں، ان کا بیان سننے سے پرہیز کریں اور ان کی کتابیں پڑھنے سے بچیں۔

حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ بعض جاہل جو کہتے ہیں کہ امام حسین نے یزید سے بغاوت کی تو یہ اہلِ سنت و جماعت کے نزدیک باطل ہے اور اس طرح کی بولی خارجیوں کے ہذیانات میں سے ہے جو اہلِ سنت و جماعت سے خارج ہیں۔ [شرح فقہ اکبر، ص: 87]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!