| عنوان: | علم کلام ایک تعارف (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | فیضان المصطفیٰ قادری/ طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | مہرتاج |
| منجانب: | اقرأ القرآن اکیڈمی |
علم کلام کی تدوین اور تاریخ
دینی علوم کی دو قسمیں ہیں، ایک کا تعلق عمل سے ہے جس کو علم فقہ اور علم الفروع کہا جاتا ہے، دوسرے کا تعلق عقیدے سے ہے جس کو علم کلام اور علم الاصول کہا جاتا ہے۔ علم کلام کو ہی علم العقیدہ اور علم التوحید والصفات بھی کہا جاتا ہے۔ علم فقہ میں عبادات، معاملات، خصومات اور جنایات وہ سارے امور آتے ہیں جو عمل سے متعلق ہوتے ہیں، اور علم العقائد والکلام میں ان امور سے بحث کی جاتی ہے جن کا تعلق ایمان اور عقیدہ سے ہے، مثلاً اللہ تعالیٰ کا وجود، اس کی وحدانیت اور دیگر صفات، فرشتوں کا وجود، وحی، رسالت، تقدیر، معاد حشر و نشر، جنت و جہنم وغیرہ۔
عہد رسالت اور عہد صحابہ میں “علم کلام” ایک فن کی حیثیت سے مدون نہ تھا، کیوں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کی برکت سے صحابہ کرام عقائد میں راسخ تھے، اور دین میں اختلافات بھی کم تھے، جس کے سبب ضرورت نہ تھی کہ عقائد کو ان تفصیلات کے ساتھ بیان کیا جائے جس کا تقاضا تدوین میں ہوتا ہے۔ لیکن عہد صحابہ کے بعد جب اصول دین میں اختلافات پیدا ہوئے، اور الگ الگ فرقے وجود میں آنے لگے تو اصول دین کی ترتیب و تدوین کی ضرورت پڑی، تاکہ نفیاً واثباتاً دین کی تفصیلات کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جائے، اور امور دین کے متعلق جو شبہات وارد کیے جاتے ہیں ان کے تفصیلی جوابات دیے جائیں۔ انھیں دینی عقائد کو تفصیلی دلائل کے ساتھ جاننے کا نام علم کلام اور علم العقیدہ ہے۔ اسے علم کلام نام دینے کا سبب یا تو یہ ہے کہ اس فن کلام کی سب سے اہم اور نزاعی بحث اللہ تعالیٰ کی صفت کلام سے متعلق ہوئی، یا یہ کہ اس فن کو حاصل کرنے کے بعد شرعیات کی تحقیق اور منکرین کے رد و انکار پر کلام کرنے کی قدرت حاصل ہو جاتی ہے۔
اسلام میں معتزلہ وہ پہلا گروہ تھا جس نے عقائد کے باب میں ظاہر سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے مذہب کے خلاف اصول وقواعد کی بنا ڈالی۔
اس کا قصہ یہ ہوا کہ معتزلہ کے سردار واصل بن عطا (متوفی ۱۳۱ھ) نے حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہ (متوفی ۱۱۰ھ) کی مجلس سے یہ کہتے ہوئے علاحدگی اختیار کر لی کہ جو گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرے وہ نہ مومن ہے نہ کافر، یعنی ایمان و کفر کے درمیان ایک منزل کا قائل ہوا، یہ دین میں نئی بات تھی، تو حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ یہ ہم سے الگ ہو گیا، اس طرح ان کا نام معتزلہ (الگ ہونے والا گروہ) پڑا لیکن معتزلہ خود کو اصحاب العدل والتوحید کہتے تھے۔
اسلامی اصول واحکام میں معتزلہ کی ابحاث کچھ لوگوں میں مقبول ہونے لگیں، یہاں تک کہ صحابی رسول حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی نسل سے حضرت امام ابو الحسن اشعری رضی اللہ عنہ (متوفی ۳۲۴ھ) منظر عام پر آئے جو اُس وقت تک معتزلہ کے گروہ میں شامل تھے، ایک بار انھوں نے اپنے استاذ ابوعلی جبائی سے کہا: تین بھائیوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن میں ایک نافرمان ہو کر مرا، دوسرا نیکو کار ہو کر اور تیسرا بچپن ہی میں فوت ہو گیا۔ بولا: پہلا جنت میں جائے گا، دوسرا جہنم میں، اور تیسرے کو نہ ثواب ہوگا نہ عذاب۔ اس پر امام اشعری نے کہا: اگر تیسرا شخص رب سے عرض کرے: اے میرے پروردگار! مجھے صغر سنی میں کیوں وفات دی؟ مجھے بڑا ہونے کیوں نہ دیا کہ تجھ پر ایمان لاتا اور تیری اطاعت کر کے جنت میں داخل ہوتا؟ تو رب کیا فرمائے گا؟ بولا: رب کا ارشاد ہوگا: مجھے تیرے بارے میں معلوم تھا کہ تو بڑا ہو کر نافرمانی کرتا اور جہنم میں جاتا، تو تیرے لیے بہتر تھا کہ تو صغر سنی میں وفات پا جائے۔ امام اشعری نے کہا: اگر دوسرا بولے: اے میرے پروردگار! مجھے چھوٹی عمر میں وفات کیوں نہ دی؟ تاکہ میں تیری نافرمانی نہ کرتا اور جہنم میں نہ جاتا، تو رب کیا ارشاد فرمائے گا؟ اس پر جبائی لاجواب ہو گیا، لہٰذا امام ابوالحسن اشعری نے اس کا مذہب ترک کر دیا، پھر معتزلہ کا رد اور سنت کی حمایت شروع کر دی۔ چنانچہ مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت آپ ہی کی راہ پر چل پڑی جو اہل سنت و جماعت کہلائی۔
متکلمین اہل سنت کی دو جماعتیں
اہل سنت و جماعت کے ذریعہ جو علم کلام مدون ہوا اس کو دو نسج پر تقسیم کیا جا سکتا ہے: (۱) متقدمین کا علم کلام (۲) متاخرین کا علم کلام۔ متقدمین کا علم کلام دلائل قطعیہ پر مبنی تھا جس کی اکثر ابحاث دلائل سمعیہ یعنی قرآن وحدیث سے موید تھیں، یعنی اس میں فلسفہ کا اختلاط نہ تھا، یہی وجہ ہے کہ ان کا زیادہ تر اختلاف اسلامی فرقوں خصوصاً معتزلہ سے تھا۔
پھر یونانی فلسفہ کا عربی میں ترجمہ ہوا اور مسلمانوں نے بھی اس میں دل چسپی لی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ علم کلام کے ساتھ فلسفہ کا خلط ملط شروع ہو گیا۔ علم کلام کے ساتھ فلسفہ کا اختلاط اس لیے ہوا کہ علم کلام کے مباحث کو فلسفہ کے اصول و مباحث پر بھی ثابت کیا جائے اور ساتھ ہی فلسفہ کے فاسد نظریات کا رد و ابطال کیا جائے۔ چنانچہ علم کلام میں طبیعیات، الٰہیات اور ریاضیات شامل کر لیے گئے، یہ متاخرین کا علم کلام ہے۔ [ملخصاً مقدمہ شَرْحُ عَقَائِدِ النَّسَفِيَّة]
متاخرین کے علم کلام میں فلسفہ کے اثر و رسوخ اور اس کی ابحاث کا فلسفیانہ رنگ و آہنگ ہی وہ سبب ہے کہ بہت سارے اکابر علمائے امت نے علم کلام سے منع کیا اور اس سے تعلیم یا تعلم کسی طرح کا شغل رکھنے والوں کی مذمت کی ہے۔ یہ ممانعت دراصل ان لوگوں کو ہے جو اس کے اہل نہیں، کیوں کہ علم کلام کی بحثوں میں اگر خطا ہو جائے تو دین و ایمان کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے، نیز یہ مذمت ان متعصبین کی ہے جو لوگوں کے عقائد میں خلل ڈالنے کے مقصد سے علم کلام سے بحث کرتے ہیں۔
بعد میں اہل سنت و جماعت کا علم کلام بھی دو گروہ میں تقسیم ہو گیا۔ ایک کے سرخیل حضرت امام ابوالحسن اشعری (متوفی ۳۲۴ھ) قرار پائے جن کے متبعین کو اشعری اور اشاعرہ کہا جاتا ہے، اور دوسرے کے قائد حضرت امام ابو منصور ماتریدی (متوفی ۳۳۳ھ) ہوئے جن کے متبعین کو ماتریدی یا ماتریدیہ کہا جاتا ہے۔ ان دونوں کا اختلاف کافی حد تک لفظی یعنی تعبیر و توجیہ کا ہے، ورنہ یہ دونوں اہل سنت و جماعت ہی کے مذہب ہیں، اور دونوں اہل حق ہیں۔ ان کے سوا متعدد گروہ پیدا ہوئے جو جادۂ حق سے ہٹ جانے کے سبب گمراہ اور باطل قرار پائے، جن میں معتزلہ، کرامیہ، جبریہ، قدریہ، مشبہہ، خوارج اور روافض مشہور فرقے ہوئے۔
علم کلام کے لیے امام احمد رضا کے چند رہنما اصول
امکان کذب باری کے قائلین نے ملا عبدالحکیم سیالکوٹی کی ایک عبارت سے استدلال کیا، جس کے رد میں اعلیٰ حضرت نے ایک رسالہ تحریر فرمایا جس کا نام ہے “اَلْمُقْمِعُ الْمُبِينُ لِآمَالِ الْمُكَذِّبِين”۔ اسی رسالہ میں علم کلام کی کتابوں سے متعلق چند بنیادی امور کا تذکرہ کچھ یوں فرماتے ہیں:
عقائد وہ سنت ہیں جو حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ، تابعین اور سلف صالحین سے ثابت ہیں، انھیں کے بیان کے لیے کتب عقائد کے متون ہیں۔ زمانہ خیر میں یہ عقائد صدور والسنہ ائمہ سے تلقی کیے جاتے تھے، پھر جب بدمذہبوں اور گمراہ گروں کا دور آیا تو علمائے اہل سنت کو حاجت ہوئی کہ ان کا رد کریں یہاں سے کلام متاخرین کی بنیاد پڑی، اب استدلال و بحث و مناظرہ کا پھاٹک کھلا، خود اپنے دلائل کی جانچ پرکھ کی بھی حاجت ہوئی، اذہان مختلف ہوتے ہیں، بحث واستخراج میں خطا وصواب آدمی کے ساتھ لگے ہوئے ہیں، ایک نے مذہب پر ایک دلیل قائم کی، دوسرے نے اس پر بحث کر دی کہ اپنے مذہب پر یہ دلیل کمزور ہے، مخالف اس کا یوں رد کر سکتا ہے یا اعتراض کا یہ جواب کافی نہیں، اِس ردّ و بحث کا اثر فقط اسی دلیل و جواب تک ہوتا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اصل مذہب باطل، یا مخالف کا ضلال حق ہے، ہر عاقل جانتا ہے کہ قائم کی ہوئی دلیل ٹوٹ جائے تو اصل مسئلہ باطل نہیں ہو جاتا۔ پھر جب تک زمانہ خیر کا قرب تھا اس رد و کد میں ایک اعتدال باقی تھا، جب فن کلام فلسفہ داں متاخرین کے ہاتھ پڑا اب تو بات بات میں وجہ بے وجہ نکتہ چینی بڑھی، جس سے مقصود رد و اثبات ومنع و نقض میں ذہن آزمائی اور طاقت سخن کی رونمائی ہوتی ہے، وبس۔ نہ کہ معاذ اللہ مذہب سے پھریں، دین و عقائد کو باطل کریں، حاشا للہ! یہاں سے ظاہر ہوا کہ متاخر، شارح، محشی جو کچھ بحث میں لکھ جایا کرتے ہیں وہ مطلقاً خود ان کا اپنا بھی اعتقاد نہیں ہوتا، نہ کہ تمام اہل سنت و جماعت کا عقیدہ، عقیدہ وہ ہوتا ہے جو متون و مسائل میں بیان کر دیا، بالائی تقریریں اُس کے موافق ہیں تو حق ہیں، مخالف ہیں تو وہی ان کی بحث بازیاں اور ذہن آزمائیاں اور قلم کی جولانیاں ہیں، جن کا خود انھیں اقرار ہے کہ ان میں قواعد اہل حق کی پابندی نہیں کی جاتی، اور معرفت سامع پر چھوڑا جاتا ہے کہ عقیدہ اہل حق اُسے معلوم ہے، اس کی مراعات کرلے گا۔ خصوصاً وہ جن پر فلسفہ کا رنگ چڑھا ان کو تو “لِمَ” اور “لَا نُسَلِّم” کا وہ لپکا بڑھا جس کے آگے کھائی، خندق، دریا پہاڑ سب یکساں ہیں، مطارحات میں وہ باتیں کہہ جاتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ یہی وہ باتیں ہیں جنھوں نے اس قسم کے کلام متاخرین کو ائمہ دین کی نگاہ میں سخت ذلیل و بے قدر بنادیا۔ [ملخصاً فتاوی رضویہ مترجم، ج: ۱۵، ص: ۴۷۰ تا ۴۷۲]
علم کلام کی مشہور و متداول کتا بیں
اَلْفِقْهُ الْأَكْبَر
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ (متوفی ۱۵۰ھ) کی کتاب اَلْفِقْهُ الْأَكْبَر علم کلام کی اولین کتاب مانی جاتی ہے۔ جس کی بہت شرحیں لکھی گئیں، جن میں علامہ علی القاری حنفی کی شرح “مِنَحُ الرَّوْضِ الْأَزْهَر” کے نام سے سب سے مقبول ہوئی۔ اس شرح کو قبول عام حاصل ہوا۔ ہمارے پیش نظر ملا علی قاری کی شرح فقہ اکبر کا بیروت کا نسخہ ہے جس میں مصنف نے اَلْفِقْهُ الْأَكْبَر کی مفصل شرح کرنے کے ساتھ ساتھ اس میں امام ابو حنیفہ کے وصایا کو بھی درج کر دیا ہے، وصایا کا پورا متن ایک ساتھ شامل نہیں کیا، بلکہ اس کی مختلف عبارتیں جن مباحث سے متعلق تھیں ان کے ساتھ شامل کر دیں۔ نیز اس کے آخر میں ضمیمہ کے طور پر اپنی طرف سے علم کلام کے چند مباحث کا اضافہ کیا ہے جس میں تمام اہم مباحث کلامیہ خصوصاً ایمان و کفر کی بحث اور اس سے متعلق کلمات علما بیان کیا ہے۔
اَلْعَقِيدَةُ الطَّحَاوِيَّة
امام ابو جعفر طحاوی کی یہ کتاب علم کلام میں اولین مآخذ میں شمار کی جاتی ہے، امام ابو جعفر طحاوی رحمہ اللہ علیہ اپنی کتاب کا آغاز ان کلمات سے کرتے ہیں:
هَذَا ذِكْرُ بَيَانِ عَقِيدَةِ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ عَلَى مَذْهَبِ فُقَهَاءِ الْمِلَّةِ: أَبِي حَنِيفَةَ النُّعْمَانِ بْنِ ثَابِتٍ الْكُوفِيِّ، وَأَبِي يُوسُفَ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْأَنْصَارِيِّ، وَأَبِي عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الشَّيْبَانِيِّ، رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ۔
یعنی یہ ائمہ ثلاثہ کے مذہب کے مطابق اہل سنت و جماعت کے معتقدات کا بیان ہے۔ متن طحاویہ کی بے شمار شروح لکھی گئیں، اور آج یہ کتاب اہل علم میں مقبول و متداول مانی جاتی ہے۔
بَدْءُ الْأَمَالِي اور اس کی شرح نُخْبَةُ اللَّآلِي
“بَدْءُ الْأَمَالِي” علامہ سراج الدین ابوالحسن علی بن عثمان اوشی فرغانی (متوفی ۵۷۵ھ) کی منظوم تصنیف ہے جو ۶۷ اشعار پر مشتمل ہے، جس کا پہلا شعر یوں ہے:
يَقُولُ الْعَبْدُ فِي بَدْءِ الْأَمَالِي
لِتَوْحِيدٍ بِنَظْمٍ كَاللَّآلِي
اس طرح کے ۶۷ اشعار میں مصنف نے اہل سنت و جماعت کے عقائد بڑی جامعیت اور اختصار کے ساتھ نظم کیے ہیں۔ ان کی تصنیفات میں فَتَاوَى سِرَاجِيَّة، مَشَارِقُ الْأَنْوَار اور يَوَاقِيتُ الْأَخْبَار وغیرہ مشہور ہیں۔ بَدْءُ الْأَمَالِي کی شرح کئی علما نے کی، جن میں حضرت محمد بن ابی بکر رازی، شیخ امام عز الدین ابن جماعہ ہیں، لیکن اس کی جس شرح کو شہرت حاصل ہوئی وہ علامہ محمد بن سلیمان حلبی ریحاوی حنفی (متوفی ۱۲۲۸ھ) کی شرح “نُخْبَةُ اللَّآلِي” ہے۔
اَلْبِدَايَةُ فِي أُصُولِ الدِّين
یہ علامہ نور الدین احمد بن محمود بن ابی بکر الصابونی حنفی متوفی ۵۸۰ھ کی تصنیف ہے، جن کے مناظرے امام رازی کے ساتھ مشہور ہیں۔ اصل میں آپ نے علم کلام میں ماتریدیہ کے مذہب پر ایک کتاب لکھی جس کا نام اَلْكِفَايَةُ فِي الْهِدَايَة رکھا جس میں علم کلام کے مسائل پوری تفصیل سے بیان کیے، پھر اس کی تلخیص کی جس میں ان تمام مسائل کو اجمالاً بیان کیا جس کا نام “اَلْبِدَايَةُ فِي أُصُولِ الدِّين” رکھا، دونوں کتابوں میں اجمال اور تفصیل کا فرق ہے۔ لیکن بدایہ کو زیادہ شہرت ہوئی، اور لوگوں نے سب سے زیادہ اس کی نقلیں لیں، اور متداول کتب میں اس کے حوالے اور عبارتیں درج کی گئیں، شَرْحُ عَقَائِدِ النَّسَفِيَّة میں بھی اس کے حوالے دیے گئے ہیں۔
اَلِاقْتِصَادُ فِي الِاعْتِقَاد
یہ امام غزالی کی کتاب ہے جو چار تمہید اور چار مقاصد پر مشتمل ہے، جن کے ضمن میں وجود باری تعالیٰ سے لے کر امامت تک کا مفصل بیان ہے۔ اس کے آخر میں تکفیر کے اصول بیان کیے گئے ہیں۔ اس کتاب کے آغاز میں امام غزالی فرماتے ہیں کہ اعتقاد میں افراط و تفریط کی بجائے اعتدال و میانہ روی ہونا چاہیے نہ کہ وہ جو حشویہ کا طریق کار ہے کہ اندھی تقلید کرنا اور ظواہر کو ہر حال میں ظاہر پر محمول کرنا، اور نہ وہ جو فلاسفہ اور معتزلہ کا طریق کار ہے کہ ہر بات میں عقل کا گھوڑا دوڑانا، بلکہ جادۂ حق یہ ہے کہ تقاضائے عقل اور تقاضائے شرع دونوں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے کہ شرع منقول و حق معقول میں کوئی تضاد نہیں، اسی لیے اس کتاب کا نام آپ نے “اَلِاقْتِصَادُ فِي الِاعْتِقَاد” رکھا۔ یہ کتاب اہل سنت و جماعت کے معتقدات کی بنیادی کتاب مانی جاتی ہے۔
عُمْدَةُ الْعَقَائِد
یہ ابوالبرکات امام عبداللہ بن احمد بن محمود نسفی ماتریدی (متوفی ۷۱۰ھ) کی تصنیف ہے۔ جس کی شرح بھی خود مصنف نے ہی کی ہے جو شَرْحُ الْعُمْدَةِ فِي اعْتِقَادِ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ اور “اَلِاعْتِمَادُ فِي الِاعْتِقَاد” کے نام سے بھی مشہور ہوئی۔ یہ وہی امام ابوالبرکات نسفی ہیں جن کی تصنیفات میں تفسیر مَدَارِكُ التَّنْزِيل، كَنْزُ الدَّقَائِق، وَافِي شَرْحِ كَافِي، رِسَالَةُ مَنَار اور اس کی شرح كَشْفُ الْأَسْرَار مشہور ہیں۔ امام ابوالبرکات نسفی کو اللہ کی بارگاہ سے وہ انفرادی مقام حاصل ہوا کہ مختلف فنون میں آپ کی تصنیفات کو یکساں مقبولیت حاصل ہوئی، چنانچہ تفسیر، فقہ واصول فقہ میں آپ کی تصنیفات جس طرح معتمد ہیں اسی طرح عقیدہ میں یہ شرح عُمْدَةُ الْعَقَائِد بھی علما کے نزدیک معتمد اور مستند ہے۔ اسی قبولیت کے سبب امام احمد رضا قدس سرہ نے “اَلْمُعْتَمَدُ الْمُسْتَنَد” میں ایک مسئلے میں امام ابوالبرکات کا شاندار دفاع کیا ہے جس کا ذکر آگے کے صفحات میں آئے گا۔
اَلْمُسَايَرَة مَعَ الْمُسَامَرَة
مسايرہ امام کمال الدین ابن ہمام (۷۹۰ھ متوفی ۸۶۱ھ) صاحب فَتْحُ الْقَدِير کی تصنیف ہے، جو امام غزالی کی تصنیف اِحْيَاءُ الْعُلُوم کے حصہ عقائد کا خلاصہ ہے۔ امام غزالی نے اِحْيَاءُ الْعُلُوم کے ربع العبادات کی کتاب “قَوَاعِدُ الْعَقَائِد” میں ایک رسالہ لکھا ہے، جسے بیت المقدس میں تصنیف کیا ہے، اسی لیے اس کو “اَلرِّسَالَةُ الْقُدْسِيَّة” کہا جاتا ہے۔ یہ رسالہ چار ارکان پر اور ہر رکن دس اصول پر مشتمل ہے۔ آخر میں امام غزالی نے ایک فصل میں ایمان و اسلام سے متعلق بحث کی ہے۔ امام ابن ہمام نے ان تمام ابواب وفصول میں امام غزالی کی متابعت کی ہے، اسی متابعت کے سبب اس کتاب نام “مُسَامَرَة” رکھا، جس کا معنی ہوتا ہے ساتھ ساتھ چلنا، جگہ جگہ کچھ امور کی قدرے تفصیل بھی فرمائی ہے اور اشاعرہ اور ماتریدیہ دونوں مذہب کی اصطلاحات پیش کی ہے۔ “مُسَامَرَة” کی شرح ان کے تلمیذ علامہ ابن ابی الشریف (۸۲۲ھ متوفی ۸۷۹ھ) نے “مُسَايَرَة” کے نام سے لکھی۔
مَوَاقِف اور شَرْحُ مَوَاقِف
“مَوَاقِف” مصنف حضرت علامہ قاضی عضدالدین عبدالرحمن ایجی (متوفی ۷۵۶ھ) کی کتاب ہے جو علامہ سعدالدین تفتازانی کے استاذ ہیں، علم کلام میں ان کا ایک رسالہ عُضُدِيَّة بھی ہے۔ مواقف کی شرح علامہ سید شریف علی بن محمد جرجانی (متوفی ۸۱۶ھ) نے کی ہے جو “شَرْحُ مَوَاقِف” کے نام سے مشہور ہوئی۔ علامہ سید شریف جرجانی کی شَرْحُ مَوَاقِف کو معقولات اور علم کلام میں درجہ استناد حاصل ہے۔ اس کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ متعدد ماہرین نے شَرْحُ مَوَاقِف پر حواشی لکھے ہیں جن میں علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی کا حاشیہ اور علامہ حسن چلپی کا حاشیہ بہت مشہور ہے جو شَرْحُ مَوَاقِف کے ساتھ بطور حاشیہ شائع بھی ہوتا ہے۔
شَرْحُ الْمَقَاصِد
یہ علامہ سعد الدین تفتازانی متوفی ۷۹۱ھ کی شہرہ آفاق تصنیف ہے، اسے بھرپور فنی انداز میں ترتیب دیا ہے، متن اور شرح دونوں کے مصنف آپ ہی ہیں۔ آپ کے مقدمے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس تصنیف کے دوران آپ انقلابات زمانہ سے گزرے، حالات بدلتے رہے یہاں تک کہ جب دوبارہ حالات سازگار ہوئے تو اس تصنیف کی تکمیل فرمائی۔ مصنف نے اس کتاب کو چھ مقاصد پر ترتیب دیا ہے جس میں پہلا مقصد “مبادی” اور دوسرا “امور عامہ” نے پوری تصنیف کو عقلیات اور حکمت کا شاہکار بنا دیا ہے۔ علما اور طلبہ علامہ تفتازانی کی مختلف فنی کتابوں کے عادی ہو گئے ہیں، اور انھوں نے مختلف فنون میں ایسی تصنیف چھوڑی ہیں جن سے اہل علم بے نیاز نہیں ہو سکتے۔
شَرْحُ عَقَائِدِ النَّسَفِيَّة
اَلْعَقَائِدُ النَّسَفِيَّة امام نجم الدین ابو حفص عمر بن محمد نسفی ماتریدی (متوفی ۵۳۷ھ) کی کتاب ہے، امام احمد رضا قدس سرہ نے آپ کو معلم جن وانس اور مفتی الثقلین کے لقب سے یاد کیا ہے۔ عقائد نسفیہ کی شرح علامہ سعد الدین تفتازانی (متوفی ۷۹۱ھ) نے کی، جو شَرْحُ عَقَائِدِ النَّسَفِيَّة کے نام سے مشہور ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ امام نسفی ماتریدی ہیں اور علامہ تفتازانی اشعری، لہٰذا متن اور شرح میں کہیں کہیں یہ اختلاف بھی ظاہر ہو جاتا ہے۔ علامہ تفتازانی کی یہ شرح ان کی دیگر کتابوں کی طرح ایسی مشہور و مقبول ہوئی کہ اس پر کافی علما نے حواشی لکھے، ان حواشی میں برصغیر میں سب سے زیادہ مقبولیت علامہ عبدالعزیز فرہاری کے حاشیہ “نِبْرَاس” کو حاصل ہوئی۔ اس پر علامہ احمد خیالی، ملا احمد جنیدی، علامہ عصام الدین اسفرائنی کے بھی حواشی ہیں، اور ان حواشی پر بھی حواشی لکھے گئے، جن میں علامہ خیالی پر علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی کا حاشیہ مشہور ہے۔ شیخ احمد فرید مزیدی ازہری نے “نِبْرَاس” کے علاوہ مذکورہ تمام حواشی اور اس کے علاوہ مزید حواشی ایک جگہ جمع کر کے “شُرُوحٌ وَحَوَاشِي الْعَقَائِدِ النَّسَفِيَّة” کے نام سے ۱۴۳۳ھ میں بیروت سے شائع کیا ہے۔ یہ مجموعہ حواشی علم کلام کے شائقین کے لیے کسی تحفہ سے کم نہیں۔
اَلْمُعْتَقَدُ الْمُنْتَقَد وَحَاشِيَةُ الْمُسْتَنَدِ الْمُعْتَمَد
یہ علامہ فضل رسول بدایونی کی کتاب ہے جس پر امام احمد رضا قدس سرہ کا حاشیہ ہے۔ علامہ فضل رسول بدایونی نے اَلْمُعْتَقَدُ الْمُنْتَقَد ۱۲۷۰ھ میں تصنیف کی ہے۔ مصنف اس کتاب میں مسائل کلامیہ بیان کرتے ہوئے جا بجا نجدیہ وہابیہ کے ضلالات اور اہل سنت سے انحراف پر تنبیہ کرتے جاتے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس تصنیف کی ضرورت اسی وجہ سے پڑی کہ نجدی فتنے کے ظہور کے سبب علم کلام کی ایسی تصنیف تقاضائے وقت تھی، تاکہ اصول کلامیہ اور اجماع امت کے ذریعہ نجدیہ کی گمراہیوں کو ظاہر کیا جائے۔ چنانچہ مصنف نے مقدمہ میں لکھا:
إِلَى أَنْ طَلَعَ بِالنَّجْدِ قَرْنُ الشَّيْطَانِ وَصَرَفَ الرَّبُّ شَرَّهُ مِنَ الْعَرَبِ عَلَى يَدِ عَسْكَرِ السُّلْطَانِ۔
کسی نے سفر حج کے دوران مکہ مکرمہ میں مصنف سے گزارش کی تھی کہ عقیدہ میں ایسی کتاب لکھ دیں کہ اہل سنت کے عقائد واضح اور نجدیہ کی گمراہیوں کو ظاہر کر دے جس کے نتیجہ میں یہ کتاب معرض وجود میں آئی۔ [ملخصاً مقدمہ المعتقد صفحہ ۱]
جب یہ کتاب مکمل ہوئی تو اس پر اس عہد کے اکابر مثلاً علامہ فضل حق خیر آبادی، مفتی صدرالدین، شیخ احمد سعید نقشبندی مجددی وغیرہ نے شان دار تقریظیں لکھیں۔ اس میں تقریباً تمام مشہور و متداول کتب کلامیہ مثلاً اَلْعُمْدَةُ فِي الِاعْتِقَاد، اَلِاقْتِصَادُ فِي الِاعْتِقَاد، شَرْحُ الْمَقَاصِد وَالْمَوَاقِف، شِفَاءُ لِلْقَاضِي عِيَاض، اور اس کی شرحیں، شَرْحُ فِقْهِ أَكْبَر وغیرہ سے استفادہ کیا گیا ہے، کہیں اقتباسات نقل کیے اور کہیں بس اشارہ کر دیا گیا ہے، اس لیے یہ کتاب بہت جامع ہوگئی ہے۔ جب یہ کتاب مکمل ہوئی تو اس وقت تو اس کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا، لیکن لگتا ہے کہ بعد میں اس کی اشاعت پر توجہ نہ دی گئی، چنانچہ امام احمد رضا قدس سرہ العزیز اس کے حاشیہ کے مقدمہ میں لکھتے ہیں: اس کی طباعت کی طرف حامی السنن ماحی الفتن مولانا قاضی عبدالوحید حنفی فردوسی عظیم آبادی نے توجہ کی تو اس کی تصحیح کی ذمہ داری مجھے دی، میں نے ان کے جذبہ دینی کو محسوس کرتے ہوئے انکار نہ کیا، مجھے بمبئی سے چھپا ہوا ایک نسخہ ملا جو اس قدر مخدوش حالت میں تھا کہ جیسے کاتب نے حروف تبدیل کر دیے اور کلمات بدل دیے، اس لیے مجھے اس پر بھرپور توجہ دینی پڑی۔
اس پر اعلیٰ حضرت نے علامہ وصی احمد محدث سورتی کے مشورے سے جا بجا حواشی درج فرمائے۔ اعلیٰ حضرت کا یہ حاشیہ “اَلْمُسْتَنَدُ الْمُعْتَمَدُ بِنَاءُ نَجَاةِ الْأَبَد” کے نام سے شائع ہوا۔ آپ نے اس حاشیہ میں تشریحات کے ساتھ ساتھ جا بجا اپنی تحقیقات کے دریا بہائے ہیں، اَلْمُسْتَنَدُ الْمُعْتَمَد علم کلام میں اعلیٰ حضرت کا شاہکار ہے۔
بہار شریعت حصہ اول
صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی کی تصنیف ہے۔ یہ اصل میں بہار شریعت جو کہ فقہی مسائل پر مرتب کی گئی ہے اس کا پہلا حصہ ہے۔ چونکہ بہار شریعت آپ نے افادہ عوام کے لیے تصنیف کیا اس لیے اس کا پہلا حصہ عقائد پر رکھا، کہ جس طرح لوگوں کو شرعی مسائل کی ضرورت ہے اس سے کہیں زیادہ عقائد سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ اس اعتبار سے بہت اہم کتاب ہے کہ اس میں دلائل وابحاث کے بغیر صرف عقائد اہل سنت و جماعت کا خلاصہ درج کیا گیا ہے۔ جگہ جگہ مصنف نے علم کلام کی مشکل ابحاث کو بطور خلاصہ تحقیق چند جملوں میں بیان کر دیا ہے۔ علم کلام کے طالب علم کو بڑی بڑی کتابیں پڑھتے وقت بطور تمہید اس کتاب کو مطالعہ میں رکھنا چاہیے۔
تصانیف رضا میں مذکور کتب علم کلام
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز نے اپنی تصنیفات میں عقیدہ و کلام کے مسائل میں کچھ مزید کتابوں سے استدلال کرتے ہیں مثلاً: وَصَايَا إِمَامِ أَعْظَم أَبُو حَنِيفَة رضی اللہ عنہ، عارف باللہ علامہ عبدالغنی نابلسی کی اَلْمَطَالِبُ الْوَفِيَّة اور اَلْحَدِيقَةُ النَّدِيَّةِ شَرْحُ الطَّرِيقَةِ الْمُحَمَّدِيَّة، امام عبدالوہاب شعرانی کی مِيزَانُ الشَّرِيعَةِ الْكُبْرَى اور اَلْيَوَاقِيتُ وَالْجَوَاهِرُ فِي عَقَائِدِ الْأَكَابِر، شیخ اکبر علامہ محی الدین ابن عربی کی اَلْفُتُوحَاتُ الْمَكِّيَّة، امام ماتریدی کی شَرْحُ فِقْهِ أَكْبَر، امام ابوالحسن اشعری کی اَلْإِبَانَةُ فِي أُصُولِ الدِّيَانَة، امام الحرمین قدس سرہ کی کتاب اَلْإِرْشَاد، ملا علی قاری کی مِنْحُ الرَّوْضِ الْأَزْهَر، مَوَاقِف اور شَرْحُ مَوَاقِف، حَاشِيَةُ حَسَنِ چَلْپِي، فَوَاتِحُ الرَّحَمُوت - امام عبدالعزیز بخاری کی كَشْفُ الْأَسْرَار اور غَايَةُ التَّحْقِيق، علامہ تفتازانی کی شَرْحُ الْعَقَائِد اور سنوسی کی شَرْحُ أُمِّ الْبَرَاهِين، زُبْدَةُ التَّحْرِير، علامہ قاسم ابن قطلو بغا تلمیذ امام ابن ہمام کا مُسَايَرَة پر حاشیہ، شَرْحُ السَّنُوسِيِّ لِلْجَزَائِرِيَّة، علامہ بیضاوی کی طَوَالِعُ الْأَنْوَار اور اس کی شرح شَرْحُ طَوَالِعِ الْأَنْوَار، امام فخر الدین رازی کی التَّفْسِيرُ الْكَبِير، فاضل سیف الدین ابہری کی شَرْحُ مَوَاقِف، شَرْحُ عَقَائِدِ جَلَالِي یعنی اَلدَّوَانِي عَلَى الْعَقَائِدِ الْعُضُدِيَّة، مُسَلَّمُ الثُّبُوت، اس پر مولانا نظام الدین سہالوی کی شَرْحُ مُسَلَّمِ الثُّبُوت، نیز بحرالعلوم علامہ عبدالعلی کی شَرْحُ فَوَاتِحِ الرَّحَمُوت، علامہ خیالی کا حَاشِيَةُ خَيَالِيٍّ عَلَى شَرْحِ الْعَقَائِدِ النَّسَفِيَّة، مُخْتَصَرُ الْعَقَائِد، امام قاضی عیاض کی شِفَاء شریف، اَلْإِعْلَامُ بِقَوَاطِعِ الْإِسْلَامِ مَعَ سُبُلِ النَّجَاةِ، كَنْزُ الْفَوَائِدِ شَرْحُ بَحْرِ الْعَقَائِد۔
