| عنوان: | امام احمد رضا اور علم کلام (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | فیضان المصطفیٰ قادری/ طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | مہرتاج |
| منجانب: | اقرأ القرآن اکیڈمی |
امام احمد رضا اور علم کلام
امام احمد رضا قدس سرہ کی علمی خدمات کی جہتیں کثیر ہیں، لیکن آپ کی تجدیدی خدمات کا زیادہ تر حصہ مسائل کلامیہ سے متعلق ہے۔ آپ کے زمانے میں یا آپ سے پہلے عقائد و نظریات سے متعلق جتنے فتنے وجود میں آئے آپ نے تقریباً ان تمام مسائل میں تحقیق حق فرما کر حقانیت کو واضح اور آشکار کر دیا، اور باطل افکار کو کیفر کردار تک پہنچا دیا۔ ہزاروں صفحات پر پھیلے امام احمد رضا کے ان علمی کارناموں کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: کچھ تو ائمہ اعلام کے کلام کا نقل و بیان ہے، کچھ ان کے کلام کی شان دار توضیح و تشریح ہے، اور بہت کچھ ایسی توجیہات و تحقیقات ہیں جو خالص آپ کے قلم سے صفحہ قرطاس پر منتقل ہوئیں اور ان میں آپ کی مجتہدانہ شان نظر آتی ہے۔
ہم ذیل میں مختلف مسائل کلامیہ پر امام احمد رضا کا موقف اور کچھ اقتباسات پیش کریں گے، اور متعلقہ رسائل رضویہ سے کچھ کا خلاصہ، خاص طور سے آپ کا رسالہ “قَوَارِعُ الْقَهَّارِ عَلَى الْمُجَسِّمَةِ الْفُجَّار” جو اللہ تعالیٰ کے جسم و جسمانیات سے پاک ہونے کا وہ مدلل بیان ہے کہ آنکھوں نے دیکھا نہ ہوگا، نیز رسالہ “سُبْحَانُ السُّبُّوحِ عَنْ عَيْبِ كَذِبٍ مَقْبُوح” جو اللہ تعالیٰ کے امکان کذب سے پاک ہونے کو ثابت کرتا ہے، اس کے اُن مباحث کا خلاصہ پیش کریں گے جو علم کلام میں آپ کی نادر تحقیقات سے ہیں جن کی مثال علمی دنیا میں نہ ملے گی، اور ہمیں شوق ہے کہ شائقین علم ان مباحث کو دیکھیں اور ذہن میں رکھیں۔ مصنف نے ان مباحث کو اس شان سے منضبط اور مرتب کیا ہے کہ اہل حق کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں، اور دل “علم الیقین” سے “عین الیقین” کی طرف سفر کرتا ہے۔
کسی کو بار نہیں دیتا۔ تمام عزتیں اس کے حضور پست، اور سب ہستیاں اس کے آگے نیست، بقا اس کے وجہ کریم کے لیے ہے، باقی سب کے لیے فنا، وجود واحد، موجود واحد، باقی سب اعتبارات ہیں، ذرات اکوان کو اُس کی ذات سے ایک نسبت مجہولۃ الکیف ہے جس کے لحاظ سے من و تو کو موجود و کائن کہا جاتا ہے، اور اس کے آفتاب وجود کا ایک پرتو ہے کہ کائنات کا ہر ذرہ نگاہ ظاہر میں جلوہ آرائیاں کر رہا ہے، اگر اس نسبت و پرتو سے قطع نظر کی جائے ہو کا میدان عدم محض کی طرح سنسان، موجود واحد ہے نہ وہ واحد جو چند سے مل کر مرکب ہوا، نہ وہ واحد جو چند کی طرف تحلیل پائے، نہ وہ واحد جو بہ تہمت حلول عینیت اوج وحدت سے حضیض اثنینیت (دوئی کی پستی) میں اتر آئے۔
آیت کریمہ ﴿سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ﴾ جس طرح شرک فی الالوہیت کو رد کرتی ہے یونہی اشتراک فی الوجود کی نفی فرماتی ہے۔ [ملخصاً رسالہ اِعْتِقَادُ الْأَحْبَاب، فتاویٰ رضویہ، ج: ۲۹، ص: ۳۳۹ تا ۳۴۴]
علم کلام کی کتب میں اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات سے متعلق تفصیل سے کلام کیا گیا ہے، مثلاً اس کے واجب الوجود ہونے، اور واحد ہونے پر دلائل، پھر صفات ثبوتیہ اور صفات سلبیہ کے متعلق تفصیلات درج ہیں۔ قرونِ اولیٰ کے بعد ہی سے اللہ تعالیٰ کے جسم وجہت و مکان کے متعلق مختلف نظریات اور توجیہات منظر عام پر آئیں، مجسمہ، مشبہ اور معطلہ جیسے فرقوں کی گمراہیوں کی گرم بازاری رہی، جس کا رد بلیغ ائمہ اعلام نے اسی دور میں کر دیا۔ مگر دور اخیر میں جب وہابیت کا آغاز ہوا انھوں نے سابقہ گمراہ فرقوں کے باقیات کو نیا روپ دے کر پیش کیا، بلکہ ان کے گمراہ کن استدلال کی کچھ اور ہی اونچی اڑان رہی، پھر ان کی بھرپور خبر لینے کو مشیت ایزدی نے مجدد دین و ملت امام احمد رضا قدس سرہ کو پیدا فرما دیا، جنھوں نے اُن کے... یہی سبب ہے کہ ضروریات دین میں تاویل مسموع نہیں ہوتی۔ [رسالہ رَدُّ الرِّفْضَة، فتاویٰ رضویہ، ج: ۱۴، ص: ۲۶۶]
فتاویٰ رضویہ اول کے بالکل شروع میں ہی ضروریات دین کی تشریح یوں فرماتے ہیں:
جس کے علم میں خواص و عوام سب شریک ہوں کہ یہ دین کا حصہ ہے، اقول: یہاں عوام سے مراد وہ لوگ ہیں جو دین سے شغل رکھتے ہیں اور علما سے ملتے جلتے ہیں، ورنہ بہت سے جاہل دیہاتی خصوصاً ہندوستان اور مشرقی علاقوں میں ایسے ہیں جن کو کثیر ضروریات دین کا علم نہیں، اس معنی میں نہیں کہ وہ ان سے منکر ہیں، بلکہ اس معنی میں کہ وہ ان سے غافل ہیں۔ میرے نزدیک تحقیق یہ ہے کہ یہاں ضرورت بداہت کے معنی میں ہے، یہ بات معلوم ہے کہ بداہت و نظریت لوگوں کے اختلاف سے مختلف ہوتی رہتی ہے، کہ بہت سے نظری مسئلے جو دوسرے نظری مسئلے پر مبنی ہوں جب دوسرا واضح ہو جائے تو پہلا جو اپنے ظہور میں دوسرے کے ظہور کا محتاج تھا ان کے نزدیک بدیہیات سے ہو جاتا ہے اگرچہ وہ نظری مسئلہ تھا۔ [ملخصاً مترجماً فتاویٰ رضویہ، ج: ۱، ناشر: رضا اکیڈمی ممبئی]
خَالِصُ الِاعْتِقَاد کے تمہیدی رسالہ “رِمَاحُ الْقَهَّارِ عَلَى كُفْرِ الْكُفَّار” میں ضروریات دین و ضروریات اہل سنت کے تعلق سے تفصیل ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے:
مسائل تین قسم کے ہوتے ہیں: ایک ضروریات دین ان کا منکر بلکہ ادنیٰ شک کرنے والا بالیقین کافر ہوتا ہے ایسا کہ جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر۔
دوم: ضروریات عقائد اہل سنت: ان کا منکر گمراہ ہوتا ہے۔
سوم: وہ مسائل جو علمائے اہل سنت میں مختلف فیہ ہوں، ان میں کسی طرف تکفیر و تضلیل ممکن نہیں۔ یہ دوسری بات ہے کہ کوئی شخص کسی ایک قول کو تحقیقاً راجح جانے کہ دلیل سے اس کو وہی درست لگا، یا تقلیداً راجح مانے کہ اپنے معتمد علما کا قول پایا۔
ضروریات دین و ضروریات اہل سنت کی مثال
کبھی ایک ہی مسئلے میں تینوں قسمیں موجود ہوتی ہیں، اس کی مثال نصوص میں اللہ تعالیٰ کے لیے “ید” اور “عین” کا ثبوت ہے۔ اب جو کہے کہ: جیسے ہمارے ہاتھ آنکھ ہیں ویسے ہی اللہ تعالیٰ کے لیے بھی جسم کے اعضا ہیں، وہ قطعاً کافر ہے، کہ اللہ عز وجل کا ایسے ید و عین سے پاک ہونا ضروریات دین سے ہے۔ اور جو کہے کہ اس کے ید و عین تو جسم ہی ہیں، مگر اجسام کی طرح نہیں، بلکہ اجسام کی مشابہت سے پاک ہیں، وہ گمراہ بددین ہے، کہ اللہ تعالیٰ کا جسم و جسمانیات سے مطلقاً پاک و منزہ ہونا ضروریات عقائد اہل سنت و جماعت سے ہے۔ اور جو کہے کہ اللہ عز وجل کے لیے ید و عین ہیں جو اس کی صفات قدیمہ سے ہیں اور مطلقاً جسمیت سے بری و مبرا ہیں، جن کی حقیقت ہم نہیں جانتے نہ ان میں تاویل کریں، وہ قطعاً مسلم سنی صحیح العقیدہ ہے، اگرچہ تاویل و عدم تاویل کا مسئلہ اہل سنت کا خلافیہ ہے۔
اسی طرح علم غیب کے مسئلہ میں بھی تینوں صورتیں موجود ہیں:
وہ مسئلہ علم غیب جو ضروریات دین سے ہے
اللہ عز وجل ہی عالم بالذات ہے، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیائے کرام کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بعض غیوب کا علم دیا، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا علم اوروں کے علم سے زائد ہے، ابلیس کا علم حضور کے علم سے ہرگز وسیع نہیں، جو علم اللہ عز وجل کی صفت خاصہ ہے وہ ہرگز ابلیس کے لیے نہیں، یہ سب ضروریات دین سے ہیں۔
وہ مسئلہ علم غیب جو ضروریات اہل سنت سے ہے
اللہ عز وجل نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو غیوب خمسہ سے بہت جزئیات کا علم بخشا، اولیائے کرام کو بھی کچھ علوم غیب ملتے ہیں مگر بواسطہ رسل علیہم الصلاۃ والسلام۔ یہ ضروریات اہل سنت سے ہیں۔
وہ مسئلہ علم غیب جو اہل سنت کا خلافیہ ہے
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو غیوب خمسہ کے تمام جزئیات کا علم دیا گیا، آپ کو تعیین وقت قیامت کا علم ملا، روز اول سے روز آخر تک تمام ماکان و ما یکون، جملہ مکنونات قلم و مکتوبات لوح محفوظ اور اس سے بہت زائد کا علم دیا گیا، آپ کو روح کی حقیقت کا علم اور جملہ آیاتِ متشابہات کا بھی علم دیا گیا ہے، یہ اہل سنت کا اختلافی مسئلہ ہے، اس میں ماننے نہ ماننے والے کسی پر کفر کیا ضلال یا فسق کا بھی حکم نہیں ہو سکتا۔ [ملخصاً تمہید خَالِصُ الِاعْتِقَاد، فتاویٰ رضویہ، ج: ۲۹، ص: ۴۱۳ تا ۴۱۵]
