Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

امام احمد رضا قادری اور فن صرف (قسط: سوم)|طارق انور مصباحی

امام احمد رضا قادری اور فن صرف (قسط: سوم)
عنوان: امام احمد رضا قادری اور فن صرف (قسط: سوم)
تحریر: طارق انور مصباحی
پیش کش: نازیہ ظفر بنت محمد شہاب الدین
منجانب: لباب اکیڈمی

فن صرف کا تعارف

فن صرف عربی زبان کے ادبی علوم و فنون میں سے ایک اہم فن ہے۔ اس کی تعریف، غرض و غایت اور موضوع کو بیان کرتے ہوئے حاجی مصطفی بن عبداللہ کاتب چلپی حنفی (م 1067ھ) نے جو کچھ تحریر فرمایا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے:

فن صرف: یہ ایسا علم ہے کہ اس میں کلام عرب کے مفردات کے اعراض ذاتیہ سے بحث ہوتی ہے، ان کی صورت و ہیئت کے اعتبار سے، جیسے اعلال و ادغام، یعنی مفردات کے اعلال و ادغام اور ان کی بدلنے والی شکلوں کے اعتبار سے، جیسا کہ معتل (حرف علت والا کلمہ) کی صورت کا بیان، تعلیل سے پہلے اور تعلیل کے بعد (یعنی صورت اصلیہ اور صورت مبدلہ کا بیان ہوتا ہے) اور ان کلمات کی صورت اصلیہ سے بدلنے کی کیفیت سے بحث ہوتی ہے، کلی طریقے پر قواعد کلیہ کے ساتھ (یہ تبدیلی قانونی طریقے پر ہوتی ہے، ان قوانین کا بیان علم صرف کی کتابوں میں ہوتا ہے) جیسا کہ ماضی اور مضارع کے صیغے اور اس کے معانی اور ان کے مدلولات سے (علم صرف میں) بحث ہوتی ہے، اور اس علم کا موضوع مخصوص صیغے میں مذکورہ حیثیت کے ساتھ، اور اس کی غرض، ایسا ملکہ حاصل کرنا ہے، جس سے مذکورہ احوال کی معرفت ہوتی ہے، اور اس کا مقصد و غایت، ان جہات سے خطا سے بچنا ہے، اور اس علم کے مبادی اہل عرب کے استعمال کے تتبع و تلاش سے مرتب ہونے والے مقدمات ہیں۔ [مترجم کشف الظنون، ج: 2، ص: 213، مکتبہ شاملہ]

فن صرف کا آغاز و فروغ

نواب صدیق حسن خان بھوپالی (1248ھ - 1307ھ) نے کہا:

أَوَّلُ مَنْ دَوَّنَ عِلْمَ التَّصْرِيفِ أَبُو عُثْمَانَ الْمَازِنِيُّ وَكَأَنَّ قُبَيْلَ ذَلِكَ مُنْدَرِجًا فِي النَّحْوِ - ذَكَرَهُ أَبُو الْخَيْرِ. [أبجد العلوم، ج: 2، ص: 152، دار الكتب العلمية بيروت]

ترجمہ: علم صرف کو سب سے پہلے ابو عثمان مازنی (م 249ھ) نے مدون کیا اور ان سے پہلے یہ علم نحو میں مندرج تھا۔ شیخ ابو الخیر عصام الدین احمد بن مصطفی بن خلیل المعروف بہ طاش کبری زادہ (916ھ - 968ھ) نے (مفتاح السعادۃ و مصباح السیادۃ میں) اس کا ذکر کیا۔

قَالَ فِي مَدِينَةِ الْعُلُومِ: إِنَّ أَوَّلَ مَنْ دَوَّنَ عِلْمَ الصَّرْفِ أَبُو عُثْمَانَ الْمَازِنِيُّ الْبَصْرِيُّ. [أبجد العلوم، ج: 2، ص: 34]

ترجمہ: (قاضی موسیٰ بن محمود رومی شارح چغمینی (م 840ھ) کے تلمیذ نے) مدینۃ العلوم میں فرمایا: علم صرف کو سب سے پہلے ابو عثمان مازنی نے مدون کیا۔

قَالَ الرَّضِيُّ: إِنَّ التَّصْرِيفَ جُزْءٌ مِنْ أَجْزَاءِ النَّحْوِ بِلَا خِلَافٍ مِنْ أَهْلِ الصِّيغَةِ وَالتَّصْرِيفِ عَلَى مَا حَكَى سِيبَوَيْهِ عَنْهُمْ. [أبجد العلوم، ج: 2، ص: 34، دار الكتب العلمية]

ترجمہ: رضی استرابادی: محمد بن حسن رضی، نجم الدین (م 686ھ) نے کہا کہ علم صرف علمائے اہل صرف کے کسی اختلاف کے بغیر علم نحو کے اجزاء میں سے ہے، جیسا کہ سیبویہ: عمرو بن عثمان بن قنبر فارسی بصری، ابو بشر (م 180ھ) نے ان سے نقل کیا۔ عبد الحئی رائے بریلوی لکھنوی سابق ناظم ندوہ (م 1341ھ) نے لکھا کہ علم صرف میں سب سے پہلے معاذ بن مسلم ہراء کوفی، ابو مسلم (م 187ھ) نے کتاب لکھی۔ [معارف العوارف فی انواع العلوم والمعارف، ص: 23، دمشق]

فن صرف کے متعلق مشاہیر اور ان کی تالیفات

  1. التصریف: ابو عثمان مازنی، بکر بن محمد بن حبیب بن بقیہ (م 249ھ)

  2. التصریف الملوکی: ابو الفتح ابن جنی، عثمان بن جنی موصلی (322ھ - 392ھ)

  3. نزہۃ الطرف فی علم الصرف: ابو الفضل میدانی، احمد بن محمد (م 518ھ)

  4. الشافیہ: جمال الدین ابن حاجب مالکی، عثمان بن عمر بن ابو بکر بن یونس (م 646ھ)

  5. تصریف العزی: زنجانی، عز الدین عبد الوہاب بن ابراہیم بن عبد الوہاب خزرجی بغدادی (م 655ھ)

  6. الممتع فی التصریف: ابن عصفور، علی بن مومن بن محمد حضرمی اشبیلی ابو الحسن (597ھ - 669ھ)

  7. ایجاز التعريف فی علم التصریف: ابن مالک، محمد بن عبد اللہ، ابن مالک طائی جیانی، ابو عبد اللہ، جمال الدین (600ھ - 672ھ)

  8. مراح الارواح: احمد بن علی بن مسعود، ابو الفضائل، حسام الدین (م 700ھ کے لگ بھگ)

علم صرف کی کتابیں

الحاج خلیفہ مصطفیٰ بن عبداللہ کاتب چلپی حنفی (م 1067ھ) نے اپنی مشہور زمانہ کتاب “کشف الظنون عن اسامی الکتب والفنون” میں فن صرف کی مندرجہ ذیل کتابوں کا ذکر کیا ہے:

  1. اساس الصرف

  2. الباسط شرح التصریف

  3. البیان فی معرفۃ الاوزان

  4. تصریف مازنی

  5. تصریف ملوکی

  6. تصریف افعال

  7. جامع الصرف

  8. الشافیہ

  9. العزی

  10. عنقود الزواہر

  11. عقود الجواہر

  12. القصاری

  13. لامیۃ الافعال

  14. المقصود

  15. مراح الارواح

  16. المضبوط

  17. المطلوب

  18. منازل الابنیہ

  19. نزہۃ الطرف

  20. النجاح

  21. الہارونیہ [کشف الظنون، ج: 2، ص: 108 تا 110، مکتبہ شاملہ]

ہندو پاک میں فن صرف کی اہم درسی کتابیں

  1. میزان الصرف

  2. پنج گنج: آئینہ ہند حضرت اخی سراج، عثمان چشتی اودھی (751ھ - 858ھ)

  3. فصول اکبری: قاضی سید علی اکبر بن علی ہندی الٰہ آبادی

  4. علم الصیغہ: مجاہد آزادی مفتی عنایت احمد کاکوروی (1228ھ - 1279ھ)

علم صرف کی فضیلت و اہمیت

علم نحو و علم صرف کی تعلیم واجب ہے، کیوں کہ قرآن و حدیث سمجھنے کے لیے نحو و صرف کا جاننا لازم ہے۔ امام احمد رضا قادری نے تحریر فرمایا: “واجبات و محرمات ہماری شریعت میں دو قسم ہیں، ایک نوع وہی جس کی نفس ذات میں مقتضی ایجاب و تحریم موجود ہے، جیسے عبادت خدا کی فرضیت اور بت پرستی کی حرمت۔ دوسری غیر وہ یعنی وہ کہ امور خارجہ کا لحاظ ان کی ایجاب و تحریم کا مقتضی کرتا ہے، اگرچہ نفس ذات میں کوئی معنی اس کو مقتضی نہیں، جیسے تعلیم صرف و نحو کا وجوب کہ ہمارے رب تعالیٰ کی کتاب اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام زبان عربی میں ہے اور اس کی فہم بے اس علم کے متعذر ہے، لہٰذا واجب کیا گیا۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 2، ص: 52، لاہور]

امام احمد رضا قادری اور علم صرف

علم صرف میں امام احمد رضا کی تصانیف

علم صرف میں امام احمد رضا قادری کے درج ذیل دو رسالے ہیں۔ نام ہی سے رسالوں کے موضوع کا بھی علم ہو جاتا ہے۔

  1. تنقیح الکلام فی درجۃ الکمال فی تحقیق اصالۃ المصدر و الافعال (عربی: مصدر اور فعل کے اصل ہونے کا بیان)

  2. التاج المکلل فی إبانۃ مدلول کان یفعل (عربی: کان یفعل دوام میں نص نہیں)

امام محدث کے فتاویٰ اور ان کی تصانیف میں فن صرف کے مباحث مرقوم ہیں۔ چند اقتباسات نقل کیے جاتے ہیں، تاکہ ظاہر ہو جائے کہ کس طرح امام موصوف نے علم صرف کی روشنی میں مسائل شرعیہ کی توضیح و تشریح فرمائی ہے۔

امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کے اقتباسات کے درمیان عربی عبارتوں کے ترجمے مرقوم ہیں۔ ان میں سے بہت سے ترجمے خود امام محدث کے تحریر کردہ ہیں، میں نے اگرچہ اقتباس کے درمیان حصوں میں ترجمہ کیا ہے تو اسے قوسین کے مابین رکھا ہے، تاکہ فرق ہو جائے۔

مختلف صیغوں سے مسئلہ طلاق کی تشریح

امام موصوف سے سوال ہوا کہ زید نے اپنی بیوی کو مرتکب زنا سمجھا، اور ناراض ہو کر اس کے باپ کے گھر پہنچایا اور یہ کہا کہ “ہم تجھے نہ رکھیں گے” تو طلاق ہوئی یا نہیں؟ حالاں کہ قرینہ حالیہ دلالت حال اس امر پر موجود ہے کہ زید نے جو کہا تھا، وہ طلاق کا کنایہ ہے اور طلاق کے ارادے سے کہا تھا۔ امام احمد رضا قادری نے جواب میں تحریر فرمایا کہ یہ مستقبل کا صیغہ ہے اور مستقبل کا صیغہ اگر صریح طور پر بھی بولا جائے تو طلاق واقع نہیں ہوگی، جیسے کہا کہ میں تجھے طلاق دے دوں گا تو طلاق نہ ہوگی۔ حال کے صیغے سے طلاق ہو جائے گی، جیسے کہا کہ میں طلاق دیتا ہوں، تو طلاق ہو جائے گی۔ اگر عربی زبان میں “أُطَلِّقُ” کہا تو طلاق واقع نہیں ہوگی، کیوں کہ عربی زبان میں یہ مضارع کا صیغہ ہے اور مضارع حال و مستقبل دونوں کو شامل ہوتا ہے اور اس کی تعیین یہاں نہیں ہو سکتی کہ قائل نے حال مراد لیا ہو یعنی طلاق دیتا ہوں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مستقبل مراد لیا ہو یعنی طلاق دے دوں گا، پس اس شک کی بنا پر طلاق کا حکم نہیں دیا جائے گا۔ امام محدث نے فرمایا:

“ہم تجھ کو نہ رکھیں گے، متمحض للمستقبل والا وعدہ ہے اور ایسا لفظ اگر صریح بھی ہوا، اصلاً موثر نہیں، مثلاً اگر ہزار بار کہے: میں تجھے طلاق دے دوں گا، طلاق واقع نہ ہوگی۔”

وَهَذَا ظَاهِرٌ جِدًّا، وَفِي جَوَاهِرِ الْأَخْلَاطِيِّ: فَقَالَ الزَّوْجُ: طَلَاقْ مِي كُنَمْ، طَلَاقْ مِي كُنَمْ، إِنَّهَا ثَلَاثٌ، لِأَنَّ "مِي كُنَمْ" يَتَمَحَّضُ لِلْحَالِ وَهُوَ تَحْقِيقٌ بِخِلَافِ قَوْلِهِ "كُنَمْ" لِأَنَّهُ يَتَمَحَّضُ لِلِاسْتِقْبَالِ، وَبِالْعَرَبِيَّةِ قَوْلُهُ: أُطَلِّقُ، لَا يَكُونُ طَلَاقًا، لِأَنَّهُ دَائِرٌ بَيْنَ الْحَالِ وَالِاسْتِقْبَالِ فَلَمْ يَكُنْ تَحْقِيقًا مَعَ الشَّكِّ... إِلَخْ. [فتاویٰ رضویہ، ج: 18، ص: 588، 589، جامعہ نظامیہ لاہور]

ترجمہ: یہ بالکل ظاہر ہے، اور جواہر الاخلاطی میں ہے: پس شوہر نے کہا: میں طلاق کرتا ہوں، طلاق کرتا ہوں تو تین طلاقیں ہوں گی، کیوں کہ اس کا قول “می کنم” (کرتا ہوں) صرف حال کے لیے خاص ہے، اور طلاق کو واقع کرتا ہے، اس کے برخلاف اس کا کہنا “کنم” (طلاق کروں گا)، یہ خالص مستقبل کے لیے ہے، اور عربی میں “أُطَلِّقُ” (طلاق دیتا ہوں / طلاق دوں گا) سے طلاق نہ ہوگی، کیوں کہ یہ حال و استقبال دونوں میں مشترک ہے، لہٰذا شک کی بنا پر طلاق واقع نہ ہوگی۔

فعل کے صیغے سے حکم کی تشریح

ایک غیر مقلد نامی نے اپنی کتاب “ظفر المبین” میں قاضی القضاۃ حضرت امام ابو یوسف رضی اللہ عنہ (113ھ - 182ھ) سے متعلق لکھا کہ: “جناب قاضی ابو یوسف صاحب آخر سال پر اپنا مال اپنی بیوی کے نام ہبہ کر دیا کرتے تھے اور اس کا مال اپنے نام پر ہبہ کرا لیا کرتے تھے، تاکہ زکوٰۃ ساقط ہو جائے۔”

یعنی حضرت امام ابو یوسف علیہ الرحمہ اسقاط زکوٰۃ کے لیے یہ حیلہ کیا کرتے تھے کہ اپنا مال اپنی اہلیہ کو ہبہ کر دیتے تھے، اور اس کا مال اپنے لیے ہبہ کرا لیتے تھے۔ اس الزام سے متعلق امام احمد رضا قادری سے سوال ہوا تو آپ نے اس کے جواب میں ایک رسالہ بنام “رد التعسف عن الامام ابی یوسف” تحریر فرمایا۔ اس رسالے میں رقم فرمایا:

“فعل اگر بفرض غلط ایک آدھ بار وقوع بطریق معتبر ثابت بھی ہو جائے تو ‘کرے’ اور ‘کیا کرے’ میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ نہ ‘کَانَ يَفْعَلُ’ تکرار میں نص، کما بیناہ فی التاج المکلل فی إبانۃ مدلول کان یفعل (جیسا کہ ہم نے اس بات کو اپنے رسالہ ‘التاج المکلل فی إبانۃ مدلول کان یفعل’ میں بیان کیا ہے) واقعہ حال محتمل صد احتمال ہوتا ہے۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 10، ص: 195، جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور]

عبارت مذکورہ بالا کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ بفرض غلط اگر کسی معتبر سند سے یہ ثابت بھی ہو جائے کہ حضرت امام ابو یوسف قدس سرہ العزیز نے ایسا کیا تھا اور اس کے بیان کے لیے “کَانَ يَفْعَلُ” یعنی ماضی استمراری کا صیغہ استعمال کیا جائے تو بھی اس سے یہ ثابت نہیں ہوگا کہ آپ بار بار یہ کام کرتے تھے، کیوں کہ ماضی استمراری کا صیغہ تکرار کے لیے نص کے بمنزلہ نہیں ہے، پس ماضی استمراری کے صیغے سے کسی کام کا بار بار کرنا ثابت نہیں ہوگا، جب کہ یہاں حضرت امام ابو یوسف رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایسی کوئی معتبر روایت بھی موجود نہیں۔ ایسی صورت میں صاحب ظفر المبین کا قول کیوں کر قابل تسلیم ہو سکتا ہے۔

فعل ماضی کا حقیقی و مجازی معنی

فعل ماضی کا حقیقی معنی وہی ہے جو زمانہ ماضی کو بتائے۔ فعل ماضی کا ایسا معنی جو زمانہ حال یا زمانہ مستقبل کو بتائے، وہ مجازی معنی ہے، اور بلا ضرورت و بلا قرینہ مجازی معنی مراد لینا درست نہیں۔ دعائے افطار میں “أَفْطَرْتُ” اور “أَفْطَرْنَا” کا لفظ وارد ہوا ہے۔ بعض لوگوں نے “أَفْطَرْتُ” کا ترجمہ کیا: افطار کرتا ہوں۔ محقق علی الاطلاق شیخ عبد الحق محدث دہلوی (958ھ - 1052ھ) نے “اشعۃ اللمعات شرح المشکاۃ” میں اس کا ترجمہ فرمایا: “کشادم روزہ را” (افطار کیا)۔

حضرت شیخ محدث دہلوی نے تحریر فرمایا: “وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ، و بر روزی تو کشادم، کشادم روزہ را”۔ [اشعۃ اللمعات، ج: 2، ص: 83، مکتبہ نوریہ رضویہ کراچی]

سائل نے سوال کیا کہ دونوں میں سے کون سا ترجمہ صحیح ہے؟ نیز ماضی کے ترجمے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلے افطار کرے گا، اس کے بعد دعا پڑھے گا، اور کہے گا کہ میں نے افطار کیا اور افطار کرتا ہوں، کا مفہوم ہوگا کہ افطار کرتے وقت ہی دعا پڑھے گا۔ امام اہل سنت نے حدیث میں وارد ماضی کے صیغوں سے ثابت فرمایا کہ پہلے افطار کرے گا، اس کے بعد دعا پڑھے گا، تاکہ ماضی کے صیغے اپنے حقیقی مفہوم پر باقی رہیں اور حقیقت سے عدول کے لیے یہاں کوئی ضرورت یا کوئی قرینہ موجود نہیں، اس لیے یہاں فعل ماضی کے صیغے اپنے حقیقی مفہوم پر باقی رہیں گے۔ اس سے ثابت ہوا کہ افطار پہلے ہے اور دعائے افطار اس کے بعد ہے۔ اسی پر کلام کرتے ہوئے آپ نے تحریر فرمایا:

“ان ادعیہ میں «أَفْطَرْتُ» (میں نے افطار کیا)، «أَفْطَرْنَا» (ہم نے افطار کیا)، «ذَهَبَ الظَّمَأُ» (پیاس چلی گئی)، «ابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ» (رگیں تر ہو گئیں) سب صیغۂ ماضی ہیں اور افطار باللفظ منصوص نہیں، مثل عقد و انشا مقصود ہو۔ لاجرم اختیار متعین تو تقدیم علی الافطار میں یہ سب بھی ارتکاب تجوز کے محتاج ہوں گے کہ خلاف اصل ہے:”

وَالنُّصُوصُ يَجِبُ حَمْلُهَا عَلَى ظَوَاهِرِهَا مَا لَمْ تَمَسَّ حَاجَةٌ وَأَيْنَ حَاجَةٌ. [فتاویٰ رضویہ، ج: 20، ص: 132، جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور]

(جب تک کوئی ضرورت نہ ہو، نصوص کو ظواہر پر ہی محمول کرنا ضروری ہے، اور یہاں کوئی ضرورت نہیں) یہاں سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ ترجمہ حضرت شیخ محقق نور اللہ مرقدہ الشریف ہی صحیح ہے، اور “افطار کرتا ہوں” بلا وجہ حقیقت سے عدول ہے۔

صیغہ تفضیل و صیغہ مبالغہ میں فرق

آیت کریمہ: «إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ» سے حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا تمام امتیوں سے زیادہ تقویٰ والا ہونا ثابت ہوتا ہے، کیوں کہ اسم تفضیل کا صیغہ تمام مفضولین پر فضل کی ترجیح و قوت کو ثابت کرتا ہے۔ صیغہ مبالغہ تمام پر افضلیت کو نہیں بتاتا ہے، بلکہ فعل میں کثرت کو ثابت کرتا ہے، فعل سے متصف افراد کے مابین تفضیل و ترجیح کو نہیں بتاتا۔ امام اہل سنت نے تحریر فرمایا:

أَقُولُ: وَأَخْذُ الْأَفْعَلِ بِمَعْنَى كَثِيرِ الْفِعْلِ فِطَامٌ لَهُ عَمَّا يَحْتَاجُ إِلَيْهِ فِي أَصْلِ وَضْعِهِ أَعْنِي الْمُفَضَّلَ عَلَيْهِ فَيَكُونُ صَرْفًا عَنِ الْمَعْنَى الْحَقِيقِيِّ الْمُتَبَادَرِ فَلَا بُدَّ مِنْ قَرِينَةٍ وَأَيْنَ الْقَرِينَةُ وَلَكِنْ حَاجَةٌ وَمَا ذَا الْحَاجَةُ؟ نَعَمْ، هَذَا مُفَادُ صِيغَةِ الْمُبَالَغَةِ وَشَتَّانَ مَا بَيْنَهُمَا - فَلْيُتَنَبَّهْ لِهَذَا وَاللَّهُ تَعَالَى الْمُوَفِّقُ. [فتاویٰ رضویہ، ج: 28، ص: 217، لاہور]

ترجمہ: میں کہتا ہوں: افعل (صیغہ اسم تفضیل) کو کثیر الفعل (بمعنی صیغہ مبالغہ) کے معنی میں لینا اس کو اس شے سے جدا کرنا ہے، جس کا وہ اصل وضع کے لحاظ سے محتاج ہے، یعنی مفضل علیہ، پس یہ حقیقی متبادر معنی سے پھرنا ہوگا، پس (حقیقی معنی سے پھرنے کے لیے) قرینہ ضروری ہے اور (یہاں) قرینہ کہاں ہے؟ اور حاجت ہونی چاہیے، اور یہاں کون سی حاجت ہے؟ ہاں، یہ (کثیر الفعل) مبالغہ کے صیغے کا مفاد ہے اور اسم تفضیل و مبالغہ میں فرق ہے۔ پس اس پر متنبہ رہنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ ہی توفیق دینے والا ہے۔

صیغہ مبالغہ و صیغہ اسم تفضیل کا معنی

فَأَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظَّى ۝ لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى ۝ الَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّى ۝ وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَتْقَى ۝ الَّذِي يُؤْتِي مَالَهُ يَتَزَكَّى ۝ [سورۃ اللیل: 14 تا 18]

ترجمہ: تو میں تمہیں ڈراتا ہوں اس آگ سے جو بھڑک رہی ہے۔ نہ جائے گا اس میں مگر بڑا بدبخت، جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا اور بہت جلد اس سے دور رکھا جائے گا جو سب سے بڑا پرہیزگار، جو اپنا مال دیتا ہے کہ ستھرا ہو۔ (کنزالایمان)

سورہ لیل کی آیات مقدسہ میں “الأشقى” اور “الأتقی” اسم تفضیل کے صیغے ہیں۔ ظاہری مفہوم میں اشکال کے سبب علماء نے اس کے دو معنی بتائے، جو اسم تفضیل کے معانی نہیں ہیں۔

  1. بعض نے اشقی سے شقی اور اتقی سے تقی مراد لیا ہے۔

  2. بعض علماء نے “اشقی” سے “شقاوت میں حد سے بڑھا ہوا” مراد لیا ہے۔

یہ دونوں معانی اسم تفضیل کے اصل معنی نہیں ہیں۔ اسم تفضیل کا اصل معنی ہے، وصف میں دوسرے سے بڑھا جانا، اور قرآن مجید کی مذکورہ آیات مقدسہ میں “الأشقى” اور “الأتقی” “الف لام” کے ساتھ ہیں۔ ایسے مواقع پر الف لام اگر عہد کے لیے نہ ہو تو استغراق کے لیے ہوگا۔ اب ظاہری مفہوم یہ ہوتا ہے کہ صرف سب سے بڑا شقی جہنم میں جائے گا اور صرف سب سے بڑا تقی جہنم سے محفوظ رکھا جائے گا۔

چوں کہ یہ مفہوم اسلامی تعلیمات کے خلاف جاتا ہے، اس لیے علمائے کرام نے ان دونوں لفظوں میں حقیقی معنی کو ترک کیا اور مذکورہ بالا دو معانی بیان کیے، جو صیغہ تفضیل کے اصلی معنی نہیں۔ چوں کہ یہ علمائے کرام حسن نیت کے ساتھ اس تاویل کی جانب آئے، اس لیے امام احمد رضا قادری نے ان کے اقوال کی توضیح فرمائی، لیکن آخر بحث میں ان معانی کو برقرار رکھا، بلکہ اسم تفضیل کے حقیقی معنی پر ہی آیات کریمہ کو محمول فرما کر ایسی توضیح فرمائی کہ بے ساختہ ہر قاری کی زبان سے تحسین و آفرین کی صدائے دل نواز بلند ہوتی ہے۔

ان کے قول کی توضیح میں امام احمد رضا قادری نے تحریر فرمایا:

ترجمہ: جواب کی توضیح یہ ہے کہ جب انہوں نے افعل (اسم تفضیل) کو اس کے حقیقی معنی سے مجرد کیا یعنی مصدر سے متصف ہونے میں اپنے ہر مساوی سے زائد ہو تو انہیں یہ پسند نہ ہوا کہ اسم تفضیل کو ایسے مذہب پر لے جائیں جو اس کے حقیقی معنی سے بالکل دور ہو، لہٰذا انہوں نے اشقی سے مراد لیا کہ بدبختی میں حد کو پہنچا ہوا، زیادتی کے مفہوم کو باقی رکھنے کے لیے جس پر صیغہ تفضیل دلالت کرتا ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں تین امور ہیں۔ پہلا مصدر سے موصوف ہونا اور یہ اسم فاعل کا مفاد ہے، اور دوسرا امر اس وصف میں کثرت اور یہ مبالغہ کے صیغے کا مفہوم ہے، اور تیسرا امر اس وصف میں دوسرے سے بڑھا جانا اور یہ مفہوم ہے جس کے لیے اسم تفضیل کی وضع ہوئی ہے۔

(جاری ہے)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!