Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

امام احمد رضا اور عربی زبان وادب (قسط: دوم)|فیضان المصطفیٰ قادری

امام احمد رضا اور عربی زبان وادب (قسط: دوم)
عنوان: امام احمد رضا اور عربی زبان وادب (قسط: دوم)
تحریر: فیضان المصطفیٰ قادری
پیش کش: فاطمہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

عربی نثر نگاری

ہم سب سے پہلے سیدنا اعلیٰ حضرت کی عربی نثر نگاری کے متعلق گفتگو کرتے ہیں آپ کو عربی زبان میں وہ ملکہ حاصل تھا کہ بلا تکلف مافی الضمیر کو تحریراً یا تقريراً بڑی برجستگی کے ساتھ ادا فرماتے مہارت تامہ اور ید طولیٰ ہی کا نتیجہ ہے کہ آپ اپنے عربی رسائل اور عربی تصنیفات کا نام ایسا منتخب فرماتے جس سے مضمونِ کتاب کی طرف واضح اشارہ ہوتا اور تاریخِ تصنیف بھی معلوم ہو جاتی، یونہی تصنیفات کے خطبہ یا مقدمہ میں ایسے کلمات اور جملے کا استعمال فرماتے جن سے اصل مضمون کی طرف واضح اشارہ ہوتا حتیٰ کہ کسی استفتا کے جواب میں اگر خطبہ تحریر فرماتے ہیں تو اس سے بھی مسئلہ کی نوعیت معلوم ہو جاتی ہے۔

آپ کی نثر نگاری ظاہری اور معنوی حسن و جمال سے مزین ہوتی ہے، آپ کے کلام میں سجع کی آمد ہوتی ہے اس میں عجمیت کا ذرا بھی شائبہ نہیں ہوتا موقع و محل کے اعتبار سے معانی کے مطابق الفاظ لاتے ہیں اور کبھی کثیر معانی کو مختصر الفاظ میں اس انداز سے بیان فرماتے ہیں کہ عرب بھی دیکھ کر حیران و ششدر رہ جاتے ہیں۔ چنانچہ اپنے وقت کے مشہور شاعر و ادیب ڈاکٹر حسین مجیب مصری صاحب فرماتے ہیں:

”إِنَّهُ نَاصِعُ الْبَيَانِ، مُسْتَقِيمُ الْعِبَارَةِ، وَاللَّفْظُ فِي كَلَامِهِ عَلَى قَدْرِ الْمَعْنَى، نَشْرُهُ الْعَرَبِيُّ أَصِيلٌ لَا أَثَرَ فِيهِ لِلْعُجْمَةِ“ [المنظومة الاسلامية، ص: 32]

(آپ کا بیان واضح ہوتا ہے، عبارت درست ہوتی ہے، الفاظ معانی کے مطابق (برابر) ہوتے ہیں آپ کی عربی نثر، خالص عربی ہے اس میں عجمیت کا ذرا بھی اثر نہیں ہے)

سیدنا اعلیٰ حضرت نے فتاویٰ رضویہ کی پہلی جلد میں جو مقدمہ تحریر فرمایا ہے اس مسجع عبارت اور کثیر معانی کو مختصر الفاظ میں اچھوتے اسلوب میں بیان کرنے کی قدرت پر ڈاکٹر صاحب موصوف یوں رطب اللسان ہیں:

”وَبِالنَّظَرِ فِي هَذَا النَّثْرِ الْفَنِّيِّ يَسْتَبِينُ لَنَا أَنَّهُ يَتَّسِمُ بِالسَّلَاسَةِ، وَالْكَلَامُ فِيهِ يَنْحَدِرُ فِي مَاءٍ وَاحِدٍ آخِذًا بَعْضُهُ بِرِقَابِ بَعْضٍ دُونَمَا تَكَلُّفٍ أَوْ إِقْحَامٍ، إِنَّ جُمَلَهُ قِصَارَى عَلَى غَيْرِ مَا نُصَادِفُ فِي النُّصُوصِ الْعَرَبِيَّةِ الْمَنْسُوبَةِ إِلَى الْعَرَبِ، سَجْعُهُ يَأْتِي عَفْوًا وَالْمَعْنَى فِي ظَاهِرِ اللَّفْظِ يُدْرَكُ مِنْ غَيْرِ كَدٍّ لِلذِّهْنِ وَإِعْنَاتٍ لِلرَّوِيَّةِ“ [المنظومة الاسلامية، ص: 12]

(اس فنی نثر میں غور و فکر سے ہم پر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ سلاست سے بھرپور ہے اور کلام آبشار کی طرح بلا تکلف اور بغیر انقطاع کے ایک ہی اسلوب اور وزن پر ڈھلتا جا رہا ہے، اس کے چھوٹے چھوٹے جملے کثیر معانی پر اس طرح مشتمل ہیں جن کی مثال ان نصوصِ عربیہ میں نہیں ملتی جو عرب کی طرف منسوب ہیں، اس میں سجع کی آمد ہے اور ظاہری لفظ سے بغیر ذہن و فکر پر زور دیے ہوئے معنی سمجھ میں آ جاتا ہے)

اپنے دعوٰی کے ثبوت کے لیے چند کتابوں کے نام، چند خطبے، ایک استفتا اور نمونہ کے طور پر ایک مختصر عبارت پیش کر رہا ہوں:

  1. ”اَلدَّوْلَةُ الْمَكِّيَّةُ بِالْمَادَّةِ الْغَيْبِيَّةِ“ اس کتاب کے نام ہی سے مضمونِ کتاب کا پتہ چلتا ہے اور تاریخِ تصنیف 1323 ہجری بھی معلوم ہوتی ہے۔

  2. حضور سیدنا سیف اللہ المسلول علامہ فضلِ رسول عثمانی بدایونی علیہ الرحمہ والرضوان کی شان میں دو قصیدے کہے جن کا نام ”مَدَائِحُ فَضْلِ الرَّسُول“ اور ”حَمَائِدُ فَضْلِ الرَّسُول“ ہے، یہ دونوں نام بھی تاریخی ہیں جن سے ان کے نظم کا سن 1300 ہجری معلوم ہوتا ہے اور نام ہی سے ظاہر ہو رہا ہے کہ حضور سیف اللہ المسلول علامہ فضل رسول علیہ الرحمہ کی شان میں یہ قصیدے کہے گئے ہیں۔

فتاویٰ رضویہ کا مقدمہ اور خطبہ

”اَلْحَمْدُ لِلَّهِ هُوَ الْفَقِيهُ الْأَكْبَرُ، اَلْجَامِعُ الْكَبِيرُ لِزِيَادَاتٍ، فَيْضُهُ الْمَبْسُوطُ، اَلدُّرُّ الْغُرَرُ بِهِ الْهِدَايَةُ، وَمِنْهُ الْبِدَايَةُ، وَإِلَيْهِ النِّهَايَةُ، بِحَمْدِهِ الْوِقَايَةُ، وَنِقَايَةُ الدِّرَايَةِ، وَعَيْنُ الْعِنَايَةِ، وَحُسْنُ الْكِفَايَةِ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى الْإِمَامِ الْأَعْظَمِ لِلرُّسُلِ الْكِرَامِ، مَالِكِي، شَافِعِي، وَأَحْمَدَ الْكِرَامِ، يَقُولُ الْحَسَنُ بِلَا تَوَقُّفٍ مُحَمَّدٌ الْحَسَنُ أَبُو يُوسُفَ، فَإِنَّهُ الْأَصْلُ الْمُحِيطُ لِكُلِّ فَضْلٍ بَسِيطٍ، وَوَجِيزٍ وَوَسِيطٍ، اَلْبَحْرُ الزَّخَّارُ، وَالدُّرُّ الْمُخْتَارُ، وَخَزَائِنُ الْأَسْرَارِ، وَتَنْوِيرُ الْأَبْصَارِ، وَرَدُّ الْمُحْتَارِ، عَلَى مَنْحِ الْغَفَّارِ، وَفَتْحُ الْقَدِيرِ، وَزَادُ الْفَقِيرِ، وَمُلْتَقَى الْأَبْحُرِ، مَجْمَعُ الْأَنْهَرِ، وَكَنْزُ الدَّقَائِقِ، وَتَبْيِينُ الْحَقَائِقِ، وَالْبَحْرُ الرَّائِقُ، مِنْهُ يَسْتَمِدُّ كُلُّ نَهْرٍ فَائِقٍ فِيهِ الْمُنْيَةُ، وَبِهِ الْغُنْيَةُ، وَمَرَاقِي الْفَلَاحِ، وَإِمْدَادُ الْفَتَّاحِ، وَإِيضَاحُ الْإِصْلَاحِ وَنُورُ الْإِيضَاحِ، وَكَشْفُ الْمُضْمَرَاتِ، وَحَلُّ الْمُشْكِلَاتِ، وَالدُّرُّ الْمُنْتَقَى، وَيَنَابِيعُ الْمُبْتَغَى، وَتَنْوِيرُ الْبَصَائِرِ، وَزَوَاهِرُ الْجَوَاهِرِ، اَلْبَدَائِعُ النَّوَادِرُ، اَلْمُنَزَّهُ وُجُوبًا عَنِ الْأَشْبَاهِ وَالنَّظَائِرِ مُغْنِي لِلسَّائِلِينَ، وَنِصَابُ الْمَسَاكِينِ، اَلْحَاوِي الْقُدْسِيُّ، لِكُلِّ كَمَالٍ قُدْسِيٍّ، وَأُنْسِيٍّ، اَلْكَافِي الْوَافِي الشَّافِي، اَلْمُصَفَّى وَالْمُصْطَفَى الْمُسْتَصْفَى، اَلْمُجْتَبَى، اَلْمُنْتَقَى، اَلصَّافِي، عُدَّةُ النَّوَازِلِ وَأَنْفَعُ الْوَسَائِلِ لِإِسْعَافِ، السَّائِلِ بِعُيُونِ الْمَسَائِلِ عُمْدَةُ الْأَوَاخِرِ وَخُلَاصَةُ الْأَوَائِلِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَأَهْلِهِ وَحِزْبِهِ مَصَابِيحِ الدُّجَى، وَمَفَاتِيحِ الْهُدَى، لَاسِيَّمَا الشَّيْخَيْنِ الصَّاحِبَيْنِ، الْآخِذَيْنِ مِنَ الشَّرِيعَةِ وَالْحَقِيقَةِ بِكِلَا الطَّرَفَيْنِ، وَالْخَتَنَيْنِ الْكَرِيمَيْنِ، كُلٌّ مِنْهُمَا نُورُ الْعَيْنِ، مَجْمَعُ الْبَحْرَيْنِ، وَعَلَى مُجْتَهِدِي مِلَّتِهِ وَأَئِمَّةِ أُمَّتِهِ خُصُوصًا الْأَرْكَانَ الْأَرْبَعَةَ وَالْأَنْوَارَ اللَّامِعَةَ وَابْنَهُ الْأَكْرَمَ الْغَوْثَ الْأَعْظَمَ وَذَخِيرَةَ الْأَوْلِيَاءِ وَتُحْفَةَ الْفُقَهَاءِ، جَامِعَ الْفُصُولَيْنِ، فُصُولِ الْحَقَائِقِ، وَالشَّرْعِ الْمُهَذَّبِ بِكُلِّ زَيْنٍ، عَلَيْنَا مَعَهُمْ وَبِهِمْ وَلَهُمْ، يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ، آمِينَ، آمِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ“

مقدمہ کے آغاز "الحمد لله هو الفقیه الاکبر" ہی سے واضح طور پر معلوم ہو گیا کہ اس کتاب میں فقہی دینی اسلامی مسائل بیان کیے گئے ہیں جن سے انسانوں کو ہدایت ملے گی اور ان پر عمل کر کے جہنم سے آزادی ملے گی اور اس کے بعد کی عبارت سے آخر تک سے واضح ہے کہ اس کتاب میں جتنی فقہی کتابیں ہیں مبسوط ہوں یہاں مختصر سب کے مسائل موجود ہیں یہ کتاب خطبہ میں مذکور تمام کتابوں کو محیط ہے، اس سے ہر سائل کو نفع اور تشفی حاصل ہوگی، یہ کتاب متقدمین فقہا کی کتابوں کا خلاصہ اور متاخرین کے لیے قابلِ بھروسہ ہے اسی کو یعنی مضمونِ کتاب کی طرف اشارہ کرنے کو اصطلاح میں براعۃ الاستہلال کہا جاتا ہے اس مقدمہ میں کتابوں اور ائمہ اربعہ کا جس انداز سے ذکر کیا ہے یہ سیدنا اعلیٰ حضرت ہی کا حصہ ہے کہ جگہ جگہ توریہ اور ایہام کی صنعت موجود ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!