Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

امام احمد رضا اور عربی زبان وادب (قسط: سوم)|فیضان المصطفیٰ قادری

امام احمد رضا اور عربی زبان وادب (قسط: سوم)
عنوان: امام احمد رضا اور عربی زبان وادب (قسط: سوم)
تحریر: فیضان المصطفیٰ قادری
پیش کش: فاطمہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

الدولۃ المکیہ کا خطبہ

”اَلْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَّامِ الْغُيُوبِ، غَفَّارِ الذُّنُوبِ، سَتَّارِ الْعُيُوبِ، الْمُظْهِرِ مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ عَلَى السِّرِّ الْمَحْبُوبِ، أَفْضَلُ الصَّلَاةِ وَأَكْمَلُ السَّلَامِ عَلَى أَرْضَى مَنِ ارْتَضَى وَأَحَبِّ مَحْبُوبٍ، سَيِّدِ الْمُطَّلِعِينَ عَلَى الْغُيُوبِ الَّذِي عَلَّمَهُ رَبُّهُ تَعْلِيمًا وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْهِ عَظِيمًا فَهُوَ عَلَى كُلِّ غَائِبٍ أَمِينٌ وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ وَلَا هُوَ بِنِعْمَةِ رَبِّهِ بِمَجْنُونٍ مَسْتُورٍ عَنْهُ مَا كَانَ أَوْ يَكُونُ فَهُوَ شَاهِدُ الْمُلْكِ وَالْمَلَكُوتِ وَمُشَاهِدُ الْجَبَّارِ وَالْجَبَرُوتِ، مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى أَفَتُمَارُونَهُ عَلَى مَا يَرَى نَزَلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ فَأَحَاطَ بِعُلُومِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ بِعُلُومٍ لَا تَنْحَصِرُ بِحَدٍّ وَيَنْحَسِرُ دُونَهَا الْعَدَدُ لَا يَعْلَمُهَا أَحَدٌ مِنَ الْعَالَمِينَ فَعُلُومُ آدَمَ وَعُلُومُ الْعَالَمِ وَعُلُومُ اللَّوْحِ وَعُلُومُ الْقَلَمِ كُلُّهَا قَطْرَةٌ مِنْ بِحَارِ عُلُومِ حَبِيبِنَا صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّ عُلُومَهُ وَمَا يُدْرِيكَ مَا عُلُومُهُ عَلَيْهِ صَلَوَاتُ اللَّهِ تَعَالَى وَتَسْلِيمُهُ هِيَ أَعْظَمُ رَشْحَةٍ وَأَكْبَرُ غُرْفَةٍ مِنْ ذَلِكَ الْبَحْرِ الْغَيْرِ الْمُتَنَاهِي أَعْنِي الْعِلْمَ الْأَزَلِيَّ الْإِلَهِيَّ فَهُوَ يَسْتَمِدُّ مِنْ رَبِّهِ وَالْخَلْقُ يَسْتَمِدُّونَ مِنْهُ فَمَا عِنْدَهُمْ مِنَ الْعُلُومِ إِنَّمَا هِيَ لَهُ وَبِهِ وَمِنْهُ وَعَنْهُ. وَكُلُّهُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ مُلْتَمِسٌ ٭ غَرْفًا مِنَ الْبَحْرِ أَوْ رَشْفًا مِنَ الدِّيَمِ. وَوَاقِفُونَ لَدَيْهِ عِنْدَ حَدِّهِمْ ٭ مِنْ نُقْطَةِ الْعِلْمِ أَوْ مِنْ شَكْلَةِ الْحِكَمِ، صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَبَارَكَ وَكَرَّمَ آمِينَ“ [الدولة المكية، الرضا دارالاشاعت بريلي]

اس خطبہ ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتاب علم غیبِ مصطفیٰ ﷺ سے متعلق ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو جمیع ما کان و ما یکون کا علم عطا فرمایا اور اپنے دیدار سے مشرف فرمایا جو سب سے بڑا غیب ہے۔

اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا
جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود

اور ساتھ ہی قرآنی آیات سے دلیل بھی پیش فرمادی میں نے اوپر ذکر کیا ہے کہ استفتاء کے جواب میں اگر خطبہ ہوتا ہے تو اس سے بھی مسئلہ کی نوعیت کا پتہ چلتا ہے، اس کی صرف ایک مثال پر اکتفاء کرتا ہوں۔ بنارس سے مولوی حافظ عبدالسمیع صاحب اور میرٹھ سے مظاہرالاسلام صاحب نے سجدۂ تحیت کے بارے میں استفتاء کیا تو اس کے جواب میں تحریر فرمایا:

”بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. اَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ يَامَنْ خَشَعَتْ لَهُ الْقُلُوبُ وَخَضَعَتْ لَهُ الْأَعْنَاقُ وَسَجَدَتْ لَهُ الْجِبَاهُ، حَرَّمَ السُّجُودَ فِي هَذَا الدِّينِ الْمَحْمُودِ وَالشَّرْعِ الْمَسْعُودِ لِمَنْ سِوَاهُ. صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى أَكْرَمِ مَنْ سَجَدَ لَكَ لَيْلًا وَنَهَارًا وَحَرَّمَ السُّجُودَ لِغَيْرِكَ تَحْرِيمًا جِهَارًا وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ الْفَائِزِينَ بِخَيْرِ الَّذِينَ لَمْ يَشِنِ اللَّهُ وُجُوهَهُمْ بِالْخُرُورِ بِغَيْرِهِ نَوِّرْنَا اللَّهُ بِأَنْوَارِهِمْ وَوَفِّقْنَا لِاتِّبَاعِ آثَارِهِمْ. آمِينَ“ [فتاویٰ رضویہ ج: 9، ص: 213]

اللہ تعالیٰ کی حمد، بارگاہِ رسالت میں درود و سلام اور آپ کی آل و اصحاب پر درود و سلام۔ تینوں جگہوں میں ایسے الفاظ و کلمات لائے ہیں جن سے مسئلہ کی نوعیت اور غیر اللہ کو سجدۂ تحیت کرنے کا حرام ہونا بالکل واضح ہے اس خطبہ کی فصاحت و بلاغت، مسجع عبارت اور برجستگی ہر پڑھنے والا محسوس کرے گا۔

آپ کی ہر تحریر فصاحت و بلاغت، سلاست و روانی سے مزین اور ظاہری معنوی حسنِ جمال سے آراستہ ہوتی جس میں سجع کی آمد اور برجستگی ہوتی ہے نمونہ کے طور پر الدولۃ المکیۃ کی ایک اور عبارت نذرِ ناظرین ہے۔

”اَلنَّظَرُ الرَّابِعُ. اَلْوَهَّابِيَّةُ خَذَلَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى إِذَا عَجَزُوا وَأَيِسُوا جَعَلُوا يَطْلُبُونَ لَهُمُ الْخَلَاصَ وَلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ، فَقَالُوا: نَعَمْ أَطْلَعَ اللَّهُ تَعَالَى مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعْضِ الْمُغَيَّبَاتِ فِي بَعْضِ الْأَوْقَاتِ عَلَى جِهَةِ الْإِعْجَازِ بَيْدَ أَنَّهُ لَا يَعْلَمُ إِلَّا مَا عُلِّمَ قَالُوا وَأَنْتُمْ أَيْضًا لَا تَقُولُونَ إِلَّا بِهَذَا فَارْتَفَعَ الشِّقَاقُ وَحَصَلَ الْوِفَاقُ وَهُمْ إِنَّمَا يُرِيدُونَ أَنْ يَكِيدُوا الْجَاهِلَ وَيَصِيدُوا الْغَافِلَ“ [الدولة المكية، ص: 27]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!