Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

امام احمد رضا اور فن مناقب (قسط: چہارم)|محمد اشرف رضا جیلانی

امام احمد رضا اور فن مناقب (قسط: چہارم)
عنوان: امام احمد رضا اور فن مناقب (قسط: چہارم)
تحریر: محمد اشرف رضا جیلانی
پیش کش: محمد طارق القادری بنارسی
منجانب: مجمع التصانیف

23: مناقب حضرت شاہ آل رسول احمدی قدس سرہ

آپ اپنے پیر و مرشد حضور خاتم الاکابر شاہ آل رسول احمدی مارہروی رحمۃ اللہ علیہ سے بے پناہ عقیدت و محبت رکھتے تھے۔ آپ کی شان میں کئی منقبت بھی تحریر فرمائی ہے۔ حضرت علامہ شاہ فضل رسول بدایونی رحمۃ اللہ علیہ کی شان میں جو قصیدہ آپ نے تحریر فرمایا تھا، اس میں اپنے پیر و مرشد کی بھی تعریف و توصیف فرمائی تھی۔ اسی قصیدہ کے چند اشعار کا ترجمہ ملاحظہ کریں:

  1. (حضرت خاتم الاکابر) مخلوق کی پناہ گاہ (شاہراہ) ہدایت کے محافظ، بلاؤں کو دور کرنے والے اور پیاسوں کی فریاد رسی کے لیے عطا و بخشش کی بارش ہیں۔

  2. (حضرت خاتم الاکابر) ان مشکل مسائل کو حل کرنے والے ہیں جو عقل مندوں کو عاجز کر دیتے ہیں۔ کمزوروں سے دشواری و سختی کو دور کرنے والے ہیں۔

  3. میرے ماں باپ ان پر قربان، ان کی سخاوت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ انھوں نے مجھے چیز (بغیر طلب کے) دی جو سوال کر کے بھی نہیں پائی جا سکتی۔

  4. میں نے اپنی جان ان کے ہاتھ فروخت نہیں کی، بلکہ انھوں نے جود و سخا کے ذریعہ معاندین کے ہاتھوں مجھے خرید لیا۔

  5. اس دن جس دن دشمنوں نے مجھے گھیر لیا اور ہلاکت قریب ہو گئی تو یکا یک وہ اپنی چادر مبارک کھینچتے ہوئے آئے اور میری حفاظت فرمائی۔ (ترجمہ مولانا عاصم اقبال قادری) [قصیدتان رائعتان، ص: 69، 70، تاج الفحول اکیڈمی بدایوں شریف]

24: مناقب حضرت علامہ فضل رسول بدایونی قدس سرہ

سیف اللہ المسلول علامہ فضل رسول قادری بدایونی علیہ الرحمہ ایک زبردست عالم دین، مصنف، متکلم، اور صاحب کشف و کرامت بزرگ ہیں۔ اعلیٰ حضرت نے آپ کی شان میں 313 اشعار پر مشتمل (1) قصیدہ حماد فضل رسول (2) و قصیدہ مدائح فضل رسول عربی زبان میں تحریر فرمایا جو کہ عربی زبان و ادب کا عظیم شاہکار ہے۔ یہ دونوں قصیدے بہت سے مدارس میں داخل نصاب ہیں اور تاج الفحول اکیڈمی سے مع ترجمہ و تشریح “قصیدتان رائعتان” کے نام سے منظر عام پر آچکے ہیں۔ اعلیٰ حضرت نے اپنے ممدوح علامہ فضل رسول بدایونی کا تذکرہ جس انداز میں فرمایا ہے، اس کی نظیر کہیں اور نظر نہیں آتی۔ اسی قصیدہ کے چند اشعار کا ترجمہ پیش خدمت ہے:

  1. وہ نشان منزل ہیں، جاننے والے ہیں، عالم و علام ہیں۔ (یقیناً میرے ممدوح) فضل رسول فاضل ربانی ہیں۔

  2. اگر نام آسمان سے حاصل ہوتے ہیں تو اس وقت ممدوح کی زینت والے نام کی فضیلت کا اندازہ کر۔

  3. آپ نے مکارم اخلاق گھٹی میں پی ہے اور آپ اس کے حقدار و مستحق تھے کہ بزرگی والی دائیوں نے اپنی گود میں آپ کی پرورش کی ہے۔

  4. یہاں تک کہ آپ نے پاکیزگی کے ساتھ اور ہر عیب سے منزہ ہو کر نشو و نما پائی۔ آپ معاصرین و اقران پر فوقیت و برتری پاتے رہے۔

  5. بڑے بڑے سرداروں کی گردنیں ممدوح (کے علم و فضل) کے سامنے خم ہوگئیں۔ سر بر آوردہ لوگوں نے ان کی تابعداری قبول کی۔ (ترجمہ مولانا عاصم اقبال قادری) [قصیدتان رائعتان، ص: 128، 129، تاج الفحول اکیڈمی بدایوں شریف]

25: مناقب حضرت علامہ مفتی نقی علی خان قدس سرہ العزیز

اعلیٰ حضرت کے والد ماجد حضرت علامہ مفتی نقی علی خان علیہ الرحمہ برصغیر ہند و پاک کے جید عالم دین، مناظر، مفتی، مصنف اور خدا رسیدہ بزرگ تھے۔ ان کے بارے میں فرماتے ہیں:

“آہ آہ، آہ آہ! ہندوستان میں میرے زمانہ ہوش میں دو بندۂ خدا تھے جن پر اصول و فروع و عقائد و فقہ سب میں اعتماد کلی کی اجازت تھی۔ اول اقدس حضرت خاتم المحققین سیدنا الوالد قدس سرہ الماجد، حاشا للہ! نہ اس لیے کہ وہ میرے والد و والی، ولی نعمت ہیں، بلکہ اس لیے کہ الْحَقَّ وَالْحَقَّ أَقُولُ أَصْدَقُ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الصِّدْقَ، میں نے اس طبیب صادق کا برسوں مطب پایا اور وہ دیکھا کہ عرب و عجم میں جس کا نظیر نہ آیا۔ اس جناب رفیع قدس اللہ سرہ البدیع کو اصول حنفی سے استنباط فروع کا ملکہ حاصل تھا۔ اگرچہ کبھی اس پر حکم نہ فرماتے، مگر یوں ظاہر ہوتا تھا کہ نادر و دقیق و معضل مسئلہ پیش نہ ہوا کہ کتب متداول میں جس کا پتہ نہیں۔ خادم کمینہ کو مراجعت کتب و استخراج جزئیہ کا حکم ہوتا۔ ارشاد فرماتے: ظاہراً حکم یوں ہونا چاہیے، جو وہ فرماتے، وہی نکلتا، یا بعض کتب میں اس کا خلاف نکلتا۔ زیادت مطالعہ نے واضح کر دیا کہ دیگر کتب میں ترجیح اسی کو دی جو حضرت نے ارشاد فرمایا تھا۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 12، ص: 130، 131، رضا اکیڈمی ممبئی]

26: مناقب حضرت علامہ عبد القادر بدایونی قدس سرہ

تاج الفحول علامہ عبد القادر بدایونی علیہ الرحمہ خانوادہ بدایوں کے متبحر عالم دین و مفتی ہیں، نیز خانقاہ قادریہ بدایوں شریف کی علمی و روحانی وراثتوں کے امین ہیں۔ اعلیٰ حضرت آپ کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں:

“دوم والا حضرت تاج الفحول محب رسول مولانا مولوی عبد القادر صاحب قادری بدایونی قدس سرہ الشریف، پچیس برس فقیر کو اس جناب سے بھی صحبت رہی۔ ان کی سی وسعت نظر و قوت حفظ و تحقیق انیق ان کے بعد کسی میں نظر نہیں آئی۔ ان دونوں آفتاب و ماہتاب کے غروب کے بعد ہندوستان میں کوئی ایسا نظر نہیں آتا جس کی نسبت عرض کروں کہ آنکھیں بند کر کے اس کے فتویٰ پر عمل ہو۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 12، ص: 131، رضا اکیڈمی ممبئی]

ضمیمہ: (مولانا طارق انور مصباحی)

مناقب و فضائل میں امام احمد رضا کی مستقل تصانیف

فن مناقب و فضائل میں امام احمد رضا قادری کی مستقل کتب و رسائل ہیں جن کو آگے درج کیا جاتا ہے۔ ان کے علاوہ امام احمد رضا کے فتاویٰ، تصانیف و ملفوظات میں بہت سے ارباب فضل و کمال کے فضائل و محاسن کا تذکرہ جا بجا ملتا ہے۔ ان منتشر عبارتوں کو جمع کر کے مستقل مجموعات بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں امام اہل سنت علیہ الرحمہ کی تصانیف اور خاص کر فتاویٰ رضویہ میں بیان کردہ فضائل غوث اعظم رضی اللہ عنہ کو یکجا کر کے ایک مستقل مجموعہ شائع ہو چکا ہے۔ اسی طرح آپ کی تصانیف و فتاویٰ میں جا بجا فقہا، محدثین، اولیائے کرام و دیگر معظمین اسلام کے محامد و مناقب کا بیان متفرق طور پر نظر آتا ہے۔

حضور اقدس سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے محاسن و فضائل کے موضوع پر مستقل تصانیف کے علاوہ آپ کی دیگر تصانیف و تالیفات اور فتاویٰ و ملفوظات کا ایک بڑا حصہ فضائل نبویہ و مناقب مصطفویہ کے بیان پر مشتمل ہے۔ اس کا بھی مستقل مجموعہ تیار کرنا نفع بخش ثابت ہوگا۔ محققین و قارئین کو سہولت میسر آئے گی اور منتشر اوراق کی بجائے آسانی کے ساتھ تمام مطلوبہ مضامین یکجا دریافت ہو سکیں گے۔ حضرات انبیائے کرام علیہم السلام اور حضرات اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب کے بیان سے بھی آپ کی تحریریں آراستہ و مزین ہیں۔ ان تمام کے مستقل مجموعات تیار کیے جا سکتے ہیں۔

امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کی تصانیف و فتاویٰ سے متعدد علوم و فنون کے مجموعات کی ترتیب و تہذیب کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ فتاویٰ رضویہ و دیگر تصانیف رضا میں بیان کردہ اصول فقہ و قواعد فقیہہ کا مجموعہ بھی شائع ہو چکا ہے۔ چونکہ آپ نے اپنی تصانیف و تحاریر میں بہت سے علوم و فنون سے متعلق کچھ ایسی نادر و نایاب تحقیقات یا اس کے ایسے اصول و ضوابط کو رقم فرمایا ہے کہ دوسری کتابوں میں ان کا ملنا مشکل ہے۔ حق تو یہ ہے کہ بہت سے اصول و ضوابط آپ کے ایجاد کردہ ہیں اور آپ کی بہت سی تحقیقات دراصل آپ کے اضافات و افادات میں سے ہیں۔ اب یہ کسی دوسری کتاب یا علمی دفاتر میں یقیناً نہیں پائے جا سکتے۔ اللہ تعالیٰ امام اہل سنت رضی اللہ عنہ کے علمی افادات و افاضات سے عالم اسلام کو حیات نو اور تازگی بخشے اور انہیں مسلمانوں کی جانب سے جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین۔

فن مناقب میں اعلیٰ حضرت کی تصانیف

فن مناقب میں اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز کی تصانیف و رسائل کی ایک ناتمام فہرست مندرجہ ذیل ہے:

  1. تَجَلِّي الْيَقِينِ بِأَنَّ نَبِيَّنَا سَيِّدُ الْمُرْسَلِينَ

  2. الْأَمْنُ وَالْعُلَى لِنَاعِتِي الْمُصْطَفَى بِدَافِعِ الْبَلَاءِ

  3. شُمُولُ الْإِسْلَامِ لِأُصُولِ الرَّسُولِ الْكِرَامِ

  4. مُنْيَةُ اللَّبِيبِ أَنَّ التَّشْرِيعَ بِيَدِ الْحَبِيبِ

  5. صَلَاةُ الصَّفَاءِ فِي نُورِ الْمُصْطَفَى

  6. نَفْيُ الْفَيْءِ عَمَّنِ اسْتَنَارَ بِنُورِهِ كُلُّ شَيْءٍ

  7. قَمَرُ التَّمَامِ فِي نَفْيِ الظِّلِّ عَنْ سَيِّدِ الْأَنَامِ

  8. هُدَى الْحَيْرَانِ فِي نَفْيِ الْفَيْءِ عَنْ سَيِّدِ الْأَكْوَانِ

  9. فِقْهُ شَاهَنْشَاه وَأَنَّ الْقُلُوبَ بِيَدِ الْمَحْبُوبِ بِعَطَاءِ اللَّهِ

  10. تَنْزِيهُ الْمَكَانَةِ الْحَيْدَرِيَّةِ عَنْ وَصْمَةِ عَهْدِ الْجَاهِلِيَّةِ

  11. جَمْعُ الْقُرْآنِ وَبِمَ عَزْوُهُ لِعُثْمَانَ

  12. طَرْدُ الْأَفَاعِي عَنْ حِمَى هَادٍ رَفِيعِ الرِّفَاعِي

  13. إِرَاءَةُ الْأَدَبِ لِفَاضِلِ النَّسَبِ

(مذکورہ بالا کتب و رسائل فتاویٰ رضویہ، ج: 19، مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی بریلی شریف میں شامل ہیں۔)

  1. الْكَلَامُ الْبَهِيُّ فِي تَشْبِيهِ الصِّدِّيقِ بِالنَّبِيِّ

  2. وَجْهُ الْمَشُوقِ بِجَلْوَةِ أَسْمَاءِ الصِّدِّيقِ وَالْفَارُوقِ

  3. إِحْيَاءُ الْقَلْبِ الْمَيِّتِ بِنَشْرِ فَضَائِلِ أَهْلِ الْبَيْتِ

  4. ذَبُّ الْأَهْوَاءِ الْوَاهِيَةِ فِي بَابِ الْأَمِيرِ مُعَاوِيَةَ

  5. عَرْشُ الْإِعْزَازِ وَالْإِكْرَامِ لِأَوَّلِ مُلُوكِ الْإِسْلَامِ

  6. رَفْعُ الْعُرُوشِ الْخَاوِيَةِ مِنْ أَدَبِ الْأَمِيرِ مُعَاوِيَةَ

  7. جَمِيلُ ثَنَاءِ الْأَئِمَّةِ عَلَى عَلَمِ سِرَاجِ الْأُمَّةِ

  8. فتاویٰ کرامات غوثیہ

  9. إِنْجَاءُ الْبَرِيءِ عَنْ وَسْوَاسِ الْمُفْتَرِي

  10. مُجِيرٌ مُعَظَّمٌ شَرْحُ قَصِيدَةِ إِكْسِيرِ أَعْظَم

(مذکورہ بالا کتب و رسائل کا ذکر التصنیفات الرضویہ، ص: 37، 38، از: علامہ عبد المبین نعمانی مصباحی میں ہے۔)

  1. سِلْسِلَةُ الذَّهَبِ نَافِيَةُ الْأَرَبِ

  2. ذَرِيعَةٌ قَادِرِيَّةٌ

  3. مَنَاقِبُ صِدِّيقَة

  4. فَضَائِلُ فَارُوق

  5. مشرقستان قدس

  6. چراغ انس

  7. وَظِيفَةٌ قَادِرِيَّةٌ

  8. حَمَائِدُ فَضْلِ رَسُول

  9. مَدَائِحُ فَضْلِ رَسُول

(مذکورہ بالا رسائل کا ذکر حیات اعلیٰ حضرت، ص: 242، ج: 2، اکبر بک سیلر لاہور میں ہے۔)

  1. اولیا کے درمیان غوث اعظم کا مرتبہ

(مذکورہ بالا رسالہ “قصیدہ اکسیر اعظم”، مطبوعہ ادارہ تحقیقات امام احمد رضا کراچی کے اخیر میں شامل اشاعت ہے۔)

  1. حدائق بخشش (نعتیہ مجموعہ)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!