| عنوان: | مغربی بنگال میں عوامی فلاحی اسکیمیں: ایک جائزہ |
|---|---|
| تحریر: | محمد حفیظ الدین |
| پیش کش: | زینب ظفر |
| منجانب: | لباب اکیڈمی |
محمد حفیظ الدین - سکریٹری، گنجریا اتحاد ویلفیئر سوسائٹی
مغربی بنگال کے حالیہ انتخابی نتائج کے بعد اب تمام تر نظریں نئی حکومت کی ترجیحات پر مرکوز ہیں۔ جناب حفیظ الدین نے اپنا یہ مضمون ہمیں مغربی بنگال الیکشن سے قبل ارسال کیا تھا، اس وقت حالات کچھ اور تھے۔ موجودہ مضمون میں انہوں نے جن انقلابی اسکیموں کا ذکر کیا ہے، وہ ریاست کے سماجی و معاشی ڈھانچے میں اس قدر پیوست ہو چکی ہیں کہ ان کا تسلسل عوامی توقعات کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ نئی انتظامیہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج ان اسکیموں کی شفافیت کو برقرار رکھنا اور ان کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینا ہوگا، تاکہ سیاسی تبدیلی کے باوجود عام آدمی کو ملنے والی سہولیات متاثر نہ ہوں۔ اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کیا نئی حکومت ان منصوبوں کو اسی جوش و جذبے کے ساتھ جاری رکھتی ہے یا ان میں اصلاحات کے نام پر کوئی بڑی تبدیلی لائی جاتی ہے، کیونکہ ان اسکیموں کی کامیابی کا دارومدار صرف ان کے نفاذ پر نہیں بلکہ ان کے مستقل اور غیر سیاسی استحکام پر ہے۔ (مہتاب بیگائی)
مغربی بنگال کی موجودہ سیاسی و سماجی فضا میں عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ ریاستی حکومت نے گزشتہ چند برسوں میں جس انداز سے فلاحی اسکیموں کو متعارف کرایا اور انہیں عملی جامہ پہنایا ہے، وہ ایک ایسے ماڈل کی عکاسی کرتا ہے جس میں ترقی کو صرف معاشی پیمانوں تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ سماجی انصاف، انسانی وقار اور عوامی شمولیت کو بھی برابری کی اہمیت دی گئی ہے۔ ان اسکیموں کا مقصد محض وقتی ریلیف فراہم کرنا نہیں بلکہ ایک ایسا منظم اور خود کفیل معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں ہر فرد کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع میسر ہوں۔
ریاست کی آبادی کا ایک بڑا حصہ دیہی علاقوں میں رہتا ہے جہاں بنیادی سہولیات کی کمی، روزگار کے محدود مواقع اور تعلیمی پسماندگی جیسے مسائل درپیش رہے ہیں۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی اسکیمیں ان مسائل کے حل کی ایک سنجیدہ کوشش کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ خاص طور پر خواتین، کسانوں، مزدوروں، طلبہ اور غریب طبقات کے لیے بنائی گئی پالیسیاں اس بات کی غماز ہیں کہ حکومت نے سماج کے ہر طبقے کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کی ہے۔
-
لکشمی بھنڈار اسکیم: خواتین کی معاشی خود مختاری کی جانب ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس اسکیم کے ذریعے خواتین کو ماہانہ مالی امداد فراہم کی جاتی ہے، جس سے وہ نہ صرف اپنے ذاتی اخراجات پورے کر سکتی ہیں بلکہ گھریلو معیشت میں بھی فعال کردار ادا کرتی ہیں۔ اس اسکیم کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس نے خواتین کو مالی طور پر بااختیار بنایا ہے، جس کے نتیجے میں ان کے اندر خود اعتمادی میں اضافہ ہوا ہے اور وہ اپنے فیصلے خود لینے کے قابل ہوئی ہیں۔
-
کنیا شری اسکیم: اس نے تعلیم کے میدان میں ایک مثبت انقلاب برپا کیا ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینا اور کم عمری کی شادیوں کی روک تھام اس اسکیم کے بنیادی مقاصد میں سے ہیں۔ اس کے تحت لڑکیوں کو مختلف تعلیمی مراحل پر مالی امداد فراہم کی جاتی ہے، جس سے نہ صرف ان کی تعلیمی حوصلہ افزائی ہوتی ہے بلکہ والدین کو بھی اپنی بیٹیوں کو تعلیم دلانے کی ترغیب ملتی ہے۔
-
سواستھ ساتھی اسکیم: صحت کے شعبے میں ایک انقلابی قدم ہے۔ اس کے تحت لاکھوں خاندانوں کو ہیلتھ انشورنس کارڈ فراہم کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے وہ سرکاری اور نجی اسپتالوں میں مفت یا کم خرچ پر علاج کرا سکتے ہیں۔ اس اسکیم نے خاص طور پر غریب اور متوسط طبقے کو بڑی راحت فراہم کی ہے۔
-
سبوج ساتھی اسکیم: تعلیم کے فروغ کے لیے ایک عملی اقدام ہے، جس کے تحت طلبہ کو مفت سائیکل فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ بآسانی اسکول جا سکیں۔ یہ اسکیم خاص طور پر دیہی علاقوں کے لیے نہایت مفید ثابت ہوئی ہے، جہاں اسکولوں تک پہنچنا ایک بڑا مسئلہ ہوتا تھا۔
-
کرشک بندھو اسکیم: کسانوں کے لیے ایک جامع فلاحی پروگرام ہے، جس میں انہیں مالی امداد کے ساتھ ساتھ انشورنس کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ اس اسکیم کے ذریعے کسانوں کو موسمی تغیرات اور مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال میں ایک مالی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔
-
روپاشری اسکیم: غریب خاندانوں کے لیے بیٹیوں کی شادی کے بوجھ کو کم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ اس اسکیم کے تحت حکومت شادی کے لیے مالی امداد فراہم کرتی ہے، جس سے خاندان عزت کے ساتھ اپنی ذمہ داری نبھا سکتے ہیں۔
-
کھادیا ساتھی اسکیم: اس کے تحت غریب عوام کو سستی قیمت پر اناج فراہم کیا جاتا ہے، جس سے غذائی تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے۔ یہ اسکیم اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ کوئی بھی فرد بھوکا نہ رہے۔
-
اسٹوڈنٹ کریڈٹ کارڈ اسکیم: اعلیٰ تعلیم کے خواہش مند طلبہ کے لیے ایک اہم سہولت ہے۔ اس کے ذریعے طلبہ کم سود پر قرض حاصل کر کے اپنی تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں۔
-
روزگار و ہنر مندی کی اسکیمیں: کرم شری، یووا ساتھی اور اتکرش بنگلہ جیسی اسکیمیں نوجوانوں کو ہنر مند بنانے اور انہیں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے متعارف کرائی گئی ہیں۔
-
دوآرے سرکار: ایک منفرد اور عوام دوست پہل ہے، جس کے تحت حکومت خود عوام کے دروازے تک جا کر انہیں مختلف اسکیموں کا فائدہ پہنچاتی ہے۔
-
دیگر اسکیمیں: چاسندی اسکیم (چائے کے باغات میں کام کرنے والی خواتین کے لیے)، شیشو ساتھی اسکیم (بچوں کی صحت کے لیے) اور بنگلہ آواس یوجنا (بے گھر افراد کو رہائش فراہم کرنے کے لیے) نہایت اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
