| عنوان: | امام احمد رضا اور علم عقائد وکلام (پہلی قسط) |
|---|---|
| تحریر: | فیضان المصطفیٰ قادری |
| پیش کش: | مہر تاج |
| منجانب: | اقرأ القرآن اکیڈمی |
علم کلام ایک تعارف
دینی علوم کی دو قسمیں ہیں، ایک کا تعلق عمل سے ہے جس کو علم فقہ اور علم الفروع کہا جاتا ہے، دوسرے کا تعلق عقیدے سے ہے جس کو علم کلام اور علم الاصول کہا جاتا ہے۔ علم کلام کو ہی علم العقیدہ اور علم التوحید والصفات بھی کہا جاتا ہے۔ علم فقہ میں عبادات، معاملات، خصومات اور جنایات وہ سارے امور آتے ہیں جو عمل سے متعلق ہوتے ہیں، اور علم العقائد و الکلام میں ان امور سے بحث کی جاتی ہے جن کا تعلق ایمان اور عقیدہ سے ہے، مثلاً اللہ تعالیٰ کا وجود، اس کی وحدانیت اور دیگر صفات، فرشتوں کا وجود، وحی، رسالت، تقدیر، معاد حشر و نشر، جنت و جہنم وغیرہ۔
علم کلام کی تدوین اور تاریخ
عہد رسالت اور عہد صحابہ میں "علم کلام" ایک فن کی حیثیت سے مدون نہ تھا، کیوں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی صحبت کی برکت سے صحابہ کرام عقائد میں راسخ تھے، اور دین میں اختلافات بھی کم تھے، جس کے سبب ضرورت نہ تھی کہ عقائد کو ان تفصیلات کے ساتھ بیان کیا جائے جس کا تقاضا تدوین میں ہوتا ہے۔ لیکن عہد صحابہ کے بعد جب اصول دین میں اختلافات پیدا ہوئے، اور الگ الگ فرقے وجود میں آنے لگے تو اصول دین کی ترتیب و تدوین کی ضرورت پڑی، تاکہ نفیاً واثباتاً دین کی تفصیلات کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جائے، اور امور دین کے متعلق جو شبہات وارد کیے جاتے ہیں ان کے تفصیلی جوابات دیے جائیں۔ انھیں دینی عقائد کو تفصیلی دلائل کے ساتھ جاننے کا نام علم کلام اور علم العقیدہ ہے۔ اسے علم کلام نام دینے کا سبب یا تو یہ ہے کہ اس فن کی سب سے اہم اور نزاعی بحث اللہ تعالیٰ کی صفت کلام سے متعلق ہوئی، یا یہ کہ اس فن کو حاصل کرنے کے بعد شرعیات کی تحقیق اور منکرین کے رد و انکار پر کلام کرنے کی قدرت حاصل ہو جاتی ہے۔
اسلام میں معتزلہ وہ پہلا گروہ تھا جس نے عقائد کے باب میں ظاہر سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے مذہب کے خلاف اصول و قواعد کی بنا ڈالی۔ اس کا قصہ یہ ہوا کہ معتزلہ کے سردار واصل بن عطا (متوفی ۱۳۱ھ) نے حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہ (متوفی ۱۱۰ھ) کی مجلس سے یہ کہتے ہوئے علاحدگی اختیار کر لی کہ جو گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرے وہ نہ مومن ہے نہ کافر، یعنی ایمان و کفر کے درمیان ایک منزل کا قائل ہوا۔ یہ دین میں نئی بات تھی، تو حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ یہ ہم سے الگ ہو گیا، اس طرح ان کا نام معتزلہ (الگ ہونے والا گروہ) پڑا۔ لیکن معتزلہ خود کو اصحاب العدل والتوحید کہتے تھے۔
اسلامی اصول و احکام میں معتزلہ کی ابحاث کچھ لوگوں میں مقبول ہونے لگیں، یہاں تک کہ صحابی رسول حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی نسل سے حضرت امام ابو الحسن اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ (متوفی ۳۲۴ھ) منظر عام پر آئے جو اُس وقت تک معتزلہ کے گروہ میں شامل تھے۔ ایک بار انھوں نے اپنے استاذ ابوعلی جبائی سے کہا: تین بھائیوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن میں ایک نافرمان ہو کر مرا، دوسرا نیکو کار ہو کر اور تیسرا بچپن ہی میں فوت ہو گیا؟ بولا: پہلا جنت میں جائے گا، دوسرا جہنم میں، اور تیسرے کو نہ ثواب ہوگا نہ عذاب۔ اس پر امام اشعری نے کہا: اگر تیسرا شخص رب سے عرض کرے: اے میرے پروردگار! مجھے صغرسنی میں کیوں وفات دی؟ مجھے بڑا ہونے کیوں نہ دیا کہ تجھ پر ایمان لاتا اور تیری اطاعت کر کے جنت میں داخل ہوتا؟ تو رب کیا فرمائے گا؟ بولا: رب کا ارشاد ہوگا: مجھے تیرے بارے میں معلوم تھا کہ تو بڑا ہو کر نافرمانی کرتا اور جہنم میں جاتا، تو تیرے لیے بہتر تھا کہ تو صغر سنی میں وفات پا جائے۔ امام اشعری نے کہا: اگر دوسرا بولے: اے میرے پروردگار! مجھے چھوٹی عمر میں وفات کیوں نہ دی؟ تاکہ میں تیری نافرمانی نہ کرتا اور جہنم میں نہ جاتا، تو رب کیا ارشاد فرمائے گا؟ اس پر جبائی لاجواب ہو گیا، لہذا امام ابوالحسن اشعری نے اس کا مذہب ترک کر دیا، پھر معتزلہ کا رد اور سنت کی حمایت شروع کر دی۔ چنانچہ مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت آپ ہی کی راہ پر چل پڑی جو اہل سنت و جماعت کہلائی۔
متکلمین اہل سنت کی دو جماعتیں
اہل سنت و جماعت کے ذریعہ جو علم کلام مدون ہوا اس کو دو نہج پر تقسیم کیا جا سکتا ہے: (۱) متقدمین کا علم کلام (۲) متاخرین کا علم کلام۔ متقدمین کا علم کلام دلائل قطعیہ پر مبنی تھا جس کی اکثر ابحاث دلائل سمعیہ یعنی قرآن و حدیث سے موید تھیں، یعنی اس میں فلسفہ کا اختلاط نہ تھا، یہی وجہ ہے کہ ان کا زیادہ تر اختلاف اسلامی فرقوں خصوصاً معتزلہ سے تھا۔
پھر یونانی فلسفہ کا عربی میں ترجمہ ہوا اور مسلمانوں نے بھی اس میں دلچسپی لی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ علم کلام کے ساتھ فلسفہ کا خلط ملط شروع ہو گیا۔ علم کلام کے ساتھ فلسفہ کا اختلاط اس لیے ہوا کہ علم کلام کے مباحث کو فلسفہ کے اصول و مباحث پر بھی ثابت کیا جائے اور ساتھ ہی فلسفہ کے فاسد نظریات کا رد و ابطال کیا جائے۔ چنانچہ علم کلام میں طبعیات، الہیات اور ریاضیات شامل کر لیے گئے، یہ متاخرین کا علم کلام ہے۔ (ملخصاً مقدمہ شرح عقائد نسفیہ)
متاخرین کے علم کلام میں فلسفہ کے اثر و رسوخ اور اس کی ابحاث کا فلسفیانہ رنگ و آہنگ ہی وہ سبب ہے کہ بہت سارے اکابر علمائے امت نے علم کلام سے منع کیا اور اس سے تعلیم یا تعلم کسی طرح کا شغل رکھنے والوں کی مذمت کی ہے۔ یہ ممانعت دراصل ان لوگوں کو ہے جو اس کے اہل نہیں، کیوں کہ علم کلام کی بحثوں میں اگر خطا ہو جائے تو دین و ایمان کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے، نیز یہ مذمت ان متعصبین کی ہے جو لوگوں کے عقائد میں خلل ڈالنے کے مقصد سے علم کلام سے بحث کرتے ہیں۔
بعد میں اہل سنت و جماعت کا علم کلام بھی دو گروہوں میں تقسیم ہو گیا۔ ایک کے سرخیل حضرت امام ابوالحسن اشعری (متوفی ۳۲۴ھ) قرار پائے جن کے متبعین کو اشعری اور اشاعرہ کہا جاتا ہے، اور دوسرے کے قائد حضرت امام ابو منصور ماتریدی (متوفی ۳۳۳ھ) ہوئے جن کے متبعین کو ماتریدی یا ماتریدیہ کہا جاتا ہے۔ ان دونوں کا اختلاف کافی حد تک لفظی یعنی تعبیر و توجیہ کا ہے، ورنہ یہ دونوں اہل سنت و جماعت ہی کے مذہب ہیں، اور دونوں اہل حق ہیں۔ ان کے سوا متعدد گروہ پیدا ہوئے جو جادۂ حق سے ہٹ جانے کے سبب گمراہ اور باطل قرار پائے، جن میں معتزلہ، کرامیہ، جبریہ، قدریہ، مشبہہ، خوارج اور روافض مشہور فرقے ہوئے۔
علم کلام کے لیے امام احمد رضا کے چند رہنما اصول
امکان کذب باری کے قائلین نے ملا عبدالحکیم سیالکوٹی کی ایک عبارت سے استدلال کیا، جس کے رد میں اعلیٰ حضرت نے ایک رسالہ تحریر فرمایا جس کا نام ہے 'القمع المبین لآمال المکذبین'۔ اسی رسالہ میں علم کلام کی کتابوں سے متعلق چند بنیادی امور کا تذکرہ کچھ یوں فرماتے ہیں:
عقائد وہ سنت ہیں جو حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم و صحابہ و تابعین و سلف صالحین سے ثابت ہیں، انھیں کے بیان کے لیے کتب عقائد کے متون ہیں۔ زمانہ خیر میں یہ عقائد صدور و السنہ ائمہ سے تلقی کیے جاتے تھے، پھر جب بدمذہبوں اور گمراہ گروں کا دور آیا تو علمائے اہل سنت کو حاجت ہوئی کہ ان کا رد کریں، یہاں سے کلام متاخرین کی بنیاد پڑی۔ اب استدلال و بحث و مناظرہ کا پھاٹک کھلا، خود اپنے دلائل کی جانچ پرکھ کی بھی حاجت ہوئی، اذہان مختلف ہوتے ہیں، بحث و استخراج میں خطا و صواب آدمی کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ ایک نے مذہب پر ایک دلیل قائم کی، دوسرے نے اس پر بحث کر دی کہ اپنے مذہب پر یہ دلیل کمزور ہے، مخالف اس کا یوں رد کر سکتا ہے یا اعتراض کا یہ جواب کافی نہیں۔ اِس ردّ و بحث کا اثر فقط اسی دلیل و جواب تک ہوتا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اصل مذہب باطل، یا مخالف کا ضلال حق ہے۔ ہر عاقل جانتا ہے کہ قائم کی ہوئی دلیل ٹوٹ جائے تو اصل مسئلہ باطل نہیں ہو جاتا۔
پھر جب تک زمانہ خیر کا قرب تھا اس رد و کد میں ایک اعتدال باقی تھا، جب فن کلام فلسفہ داں متاخرین کے ہاتھ پڑا اب تو بات بات میں وجہ بے وجہ نکتہ چینی کی کج بحثی بڑھی، جس سے مقصود رڈ و اثبات و منع و نقض میں ذہن آزمائی اور طاقت سخن کی رونمائی ہوتی ہے، وبس۔ نہ کہ معاذ اللہ مذہب سے پھریں، دین و عقائد کو باطل کریں، حاشا للہ! یہاں سے ظاہر ہوا کہ متاخرین، شارحین و محشین جو کچھ بحث میں لکھ جایا کرتے ہیں وہ مطلقاً خود ان کا اپنا بھی اعتقاد نہیں ہوتا، نہ کہ تمام اہل سنت و جماعت کا عقیدہ۔ عقیدہ وہ ہوتا ہے جو متون و مسائل میں بیان کر دیا، بالائی تقریریں اُس کے موافق ہیں تو حق ہیں، مخالف ہیں تو وہی ان کی بحث بازیاں اور ذہن آزمائیاں اور قلم کی جولانیاں ہیں، جن کا خود انھیں اقرار ہے کہ ان میں قواعد اہل حق کی پابندی نہیں کی جاتی۔ خصوصاً وہ جن پر فلسفہ کا رنگ چڑھا ان کو تو 'لم' اور 'لانسلّم' کا وہ لپکا بڑھا جس کے آگے کھائی، خندق، دریا، پہاڑ سب یکساں ہیں، مطارحات میں وہ باتیں کہہ جاتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ یہی وہ باتیں ہیں جنھوں نے اس قسم کے کلام متاخرین کو ائمہ دین کی نگاہ میں سخت ذلیل و بے قدر بنا دیا۔ (ملخصاً فتاویٰ رضویہ مترجم جلد ۱۵ صفحہ ۴۷۰ تا ۴۷۲)
علم کلام کی مشہور و متداول کتا بیں
الفقہ الاکبر: امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی (متوفی ۱۵۰ھ) کی کتاب الفقہ الاکبر علم کلام کی اولین کتاب مانی جاتی ہے۔ جس کی بہت شرحیں لکھی گئیں، جن میں علامہ علی القاری حنفی کی شرح 'منح الروض الازہر' کے نام سے سب سے مقبول ہوئی۔ اس شرح کو قبول عام حاصل ہوا۔ مصنف نے الفقہ الاکبر کی مفصل شرح کرنے کے ساتھ ساتھ اس میں امام ابو حنیفہ کے وصایا کو بھی درج کر دیا ہے، نیز اس کے آخر میں ضمیمہ کے طور پر اپنی طرف سے علم کلام کے چند مباحث کا اضافہ کیا ہے جس میں تمام اہم مباحث کلامیہ خصوصاً ایمان و کفر کی بحث اور اس سے متعلق کلمات کفر کو بیان کیا ہے۔
العقیدۃ الطحاویۃ: امام ابو جعفر طحاوی کی یہ کتاب علم کلام میں اولین مآخذ میں شمار کی جاتی ہے، امام ابو جعفر طحاوی رحمہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب کا آغاز ان کلمات سے کرتے ہیں: "یہ ائمہ ثلاثہ کے مذہب کے مطابق اہل سنت و جماعت کے معتقدات کا بیان ہے۔" متن طحاویہ کی بے شمار شروح لکھی گئیں، اور آج یہ کتاب اہل علم میں مقبول و متداول مانی جاتی ہے۔
بدء الامالی اور اس کی شرح نخبۃ اللالی: "بدء الامالی" علامہ سراج الدین ابوالحسن علی بن عثمان اوشی فرغانی (متوفی ۵۷۵ھ) کی منظوم تصنیف ہے جو ۶۷ اشعار پر مشتمل ہے۔ ان اشعار میں مصنف نے اہل سنت و جماعت کے عقائد بڑی جامعیت اور اختصار کے ساتھ نظم کیے ہیں۔ بدا الامالی کی شرح کئی علما نے کی، لیکن جس شرح کو شہرت حاصل ہوئی وہ علامہ محمد بن سلیمان حلبی ریحاوی حنفی (متوفی ۱۲۲۸ھ) کی شرح 'نخبۃ اللالی' ہے۔
البدایۃ فی اصول الدین: یہ علامہ نور الدین احمد بن محمود بن ابی بکر الصابونی حنفی (متوفی ۵۸۰ھ) کی تصنیف ہے۔ آپ نے علم کلام میں ماتریدیہ کے مذہب پر ایک کتاب لکھی جس کا نام 'الکفایۃ فی الہدایۃ' رکھا، پھر اس کی تلخیص کی جس کا نام 'البدایۃ فی اصول الدین' رکھا۔ بدایہ کو زیادہ شہرت ہوئی اور متداول کتب میں اس کے حوالے درج کیے گئے۔
الاقتصاد فی الاعتقاد: یہ امام غزالی کی کتاب ہے جو چار تمہید اور چار مقاصد پر مشتمل ہے۔ امام غزالی فرماتے ہیں کہ اعتقاد میں افراط و تفریط کی بجائے اعتدال و میانہ روی ہونا چاہیے کہ شرع منقول و حق معقول میں کوئی تضاد نہیں، اسی لیے اس کتاب کا نام 'الاقتصاد فی الاعتقاد' رکھا۔ یہ کتاب اہل سنت و جماعت کے معتقدات کی بنیادی کتاب مانی جاتی ہے۔
عمدۃ العقائد: یہ ابوالبرکات امام عبداللہ بن احمد بن محمود نسفی ماتریدی کی تصنیف ہے۔ جس کی شرح بھی خود مصنف نے ہی کی ہے۔ عقیدہ میں یہ شرح علمائے کرام کے نزدیک معتمد اور مستند ہے۔
المسایرۃ مع المسامرۃ: مسایرہ امام کمال الدین ابن ہمام (متوفی ۸۶۱ھ) صاحب فتح القدیر کی تصنیف ہے، جو امام غزالی کی تصنیف احیاء العلوم کے حصہ عقائد کا خلاصہ ہے۔ 'مسامرہ' کی شرح ان کے تلمیذ علامہ ابن ابی الشریف نے لکھی۔
مواقف و شرح مواقف: "مواقف" قاضی عضدالدین عبدالرحمن ایجی (متوفی ۷۵۶ھ) کی کتاب ہے۔ مواقف کی شرح علامہ سید شریف علی بن محمد جرجانی (متوفی ۸۱۶ھ) نے کی ہے جو 'شرح مواقف' کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس کو معقولات اور علم کلام میں درجہ استناد حاصل ہے۔
شرح مقاصد: یہ علامہ سعد الدین تفتازانی (متوفی ۷۹۱ھ) کی شہرہ آفاق تصنیف ہے، متن اور شرح دونوں کے مصنف آپ ہی ہیں۔ مصنف نے اس کتاب کو چھ مقاصد پر ترتیب دیا ہے جس نے پوری تصنیف کو عقلیات اور حکمت کا شاہکار بنا دیا ہے۔
شرح عقائد نسفیۃ: العقائد النسفیۃ امام نجم الدین ابو حفص عمر بن محمد نسفی ماتریدی (متوفی ۵۳۷ھ) کی کتاب ہے۔ عقائد نسفیہ کی شرح علامہ سعد الدین تفتازانی نے کی، جو 'شرح عقائد نسفیہ' کے نام سے مشہور ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ امام نسفی ماتریدی ہیں اور علامہ تفتازانی اشعری۔ اس شرح پر متعدد حواشی لکھے گئے جن میں علامہ عبدالعزیز فرہاری کا حاشیہ 'نبراس' اور علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی کا حاشیہ مشہور ہے۔
المعتقد المنتقد وحاشیۃ المستند المعتمد: یہ علامہ فضل رسول بدایونی کی کتاب ہے جس پر امام احمد رضا قدس سرہ کا حاشیہ ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں مسائل کلامیہ بیان کرتے ہوئے جا بجا نجدیہ وہابیہ کے ضلالات پر تنبیہ کی ہے۔ اس پر اعلیٰ حضرت نے علامہ وصی احمد محدث سورتی کے مشورے سے جابجا حواشی درج فرمائے۔ اعلیٰ حضرت کا یہ حاشیہ 'المستند المعتمد بناء نجاۃ الابد' کے نام سے شائع ہوا اور علم کلام میں آپ کا شاہکار ہے۔
بہار شریعت حصہ اول: صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی کی تصنیف ہے۔ چونکہ بہار شریعت عوام کے افادہ کے لیے تصنیف کی گئی، اس لیے اس کا پہلا حصہ عقائد پر رکھا گیا ہے۔ اس میں دلائل و ابحاث کے بغیر صرف عقائد اہل سنت و جماعت کا خلاصہ نہایت عمدگی سے درج کیا گیا ہے۔
تصانیف رضا میں مذکور کتب علم کلام
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز نے اپنی تصنیفات میں عقیدہ و کلام کے مسائل میں کچھ مزید کتابوں سے استدلال کیا ہے، مثلاً: وصایا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ، عارف باللہ علامہ عبدالغنی نابلسی کی 'المطالب الوفیہ' اور 'الحدیقۃ الندیۃ'، امام عبدالوہاب شعرانی کی 'میزان الشریعۃ الکبری' اور 'الیواقیت والجواہر'، شیخ اکبر علامہ محی الدین ابن عربی کی 'فتوحات مکیہ'، امام ماتریدی کی 'شرح فقہ اکبر'، امام ابوالحسن اشعری کی 'الابانۃ'، امام الحرمین کی 'الارشاد'، علامہ بیضاوی کی 'طوالع الانوار'، امام فخر الدین رازی کی 'تفسیر کبیر' اور قاضی عیاض کی 'شفا شریف' وغیرہ۔ (جاری ہے...)
