Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

امام احمد رضا اور فن منطق (قسط: چہارم)|علامہ عبد الرحمن مصباحی، زینب ظفر

امام احمد رضا اور فن منطق (قسط: چہارم)
عنوان: امام احمد رضا اور فن منطق (قسط: چہارم)
تحریر: علامہ عبد الرحمن مصباحی جامعہ امجدیہ گھوسی
پیش کش: زینب ظفر
منجانب: لباب اکیڈمی

منطقی اصطلاحات کا بہترین استعمال

امام اہل سنت نے اپنی تصنیفات میں مسائل کی تفہیم کے لیے اصطلاحاتِ منطقیہ کو جس خوش اسلوبی سے استعمال کیا ہے، اس سے منطق میں ان کی جلالت و عظمت کے ساتھ ساتھ فنِ منطق کی اہمیت بھی خوب اجاگر ہوتی ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:

(1) ساداتِ کرام اور کفر کا وقوع: امام اہل سنت قدس سرہ نے اپنے رسالہ “جزاء اللہ عدوّہ” کے آخر میں تحریر فرمایا تھا کہ سیدِ حسن النسب سے کفر کا وقوع نہیں ہوگا اور جو کافر ہے وہ قطعاً سید نہیں۔ اس پر ایک استفتاء کے جواب میں امام احمد رضا نے تفصیلی بحث کی جس میں قضیہ، موضوع، وصفِ عنوانی اور وصفِ محمول جیسی منطقی اصطلاحات کا استعمال کرتے ہوئے فرمایا:

“ساداتِ کرام یعنی وہ جو عند اللہ ساداتِ کرام ہیں یا وہ جو بنامِ سیادت مشہور ہیں، عام ازیں کہ نفس الامر و علمِ الٰہی میں کچھ ہو، قطعی جنتی یعنی بلا سبقتِ عذاب جس سے دخولِ نار کی نفی ہو یا قطعی جنتی باعاقبت و انجام کہ خلودِ نار کی نفی ہو۔ اب یہ چار محمل ہیں اور فقیر کے دعویٰ سے ایک کو بھی مس نہیں... لا نفسی اکاد ان اجزم ان حقیقۃ الکفر تنفع، اس لیے کہ جنگ میں اس بات پر جزم کرتا ہوں کہ سید سے حقیقی کفر کا وقوع نہیں ہوتا۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 30، ص: 44]

(2) نسبت، اسناد اور واسطہ فی الثبوت: رسالہ “الامن و العلیٰ” کے مقدمہ میں آپ نے اسناد (حقیقی و مجازی) اور واسطہ (فی الثبوت و فی الاثبات) کی بحث چھیڑی۔ آپ نے فرمایا:

“نسبت و اسناد دو قسم ہے: (1) حقیقی کہ مسند الیہ حقیقت سے متصف ہو۔ (2) مجازی کہ کسی علاقہ سے غیر متصف کی طرف نسبت کر دیں... پھر حقیقی بھی دو قسم ہے: (1) ذاتی کہ خود اپنی ذات سے ہو۔ (2) عطائی کہ دوسرے نے اسے حقیقتاً متصف کر دیا ہو۔”

آپ نے اس فنی مہارت کے ذریعے وہابیہ کے اس مغالطے کو رد کیا جو استعانت و علمِ غیب جیسے امور میں فرق نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔

(3) تناقض اور ایجاب و سلب: رسالہ “باب العقائد والکلام” میں اللہ تعالیٰ کے جاننے کے حوالے سے ہونے والے شبہات کا جواب دیتے ہوئے آپ نے تناقض، لازم، ایجاب و سلب، سالبہ جزئیہ اور سالبہ کلیہ کی اصطلاحات کا استعمال کیا۔ فرمایا:

“ایجاب و سلب متناقض ہیں، جمع نہیں ہو سکتے، وجودِ شے اس کے لوازم کے وجود کا مقتضی ہے... اللہ عزوجل کو جمیع صفاتِ کمال لازمِ ذات اور جمیع عیوب و نقائص اس پر محال بالذات ہیں... اکثر سے نفی سلبِ جزئی ہوئی اور سلبِ جزئی بھی لازم ہے، نہ کہ اس کا منافی۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 5، ص: 332]

تنزیہ و رد (سبحان السبوح) میں منطقی استدلال

امام احمد رضا نے “سبحان السبوح” میں کلامِ الٰہی کے صدق و کذب کے امکان پر بحث کرتے ہوئے منفصلہ حقیقیہ، تضادِ نقیضین، اور سلبِ ضرورت جیسی باریک منطقی اصطلاحات کا استعمال کیا۔ آپ نے واضح کیا کہ کلام میں صدق و کذب کا مرجع “معنی” ہے نہ کہ محض لفظ۔ اگر صدق و کذب میں تضاد نہ مانا جائے تو نقیضین باہم نقیض نہیں رہیں گے، جو کہ باطل ہے۔

آپ کا تفکر و تعقل کا دائرہ تمام حکماءِ عالم سے زیادہ وسیع ہے۔ جہاں عام عقلاء کسی احتمال پر کلام کرتے ہیں، وہاں آپ معلوم و غیر معلوم دونوں پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہیں تاکہ کوئی شق بیان سے خالی نہ رہے۔

خلاصہ کلام: امام احمد رضا کی ذات میں سارا عالمِ علم جمع ہے۔ آپ کی علمی خدمات پر یہ شعر صادق آتا ہے:

ولیس علی اللہ بمستنکر
ان یجمع العالم فی واحد

(خدا کی قدرت سے یہ بعید نہیں کہ وہ ایک فرد میں عالم جمع فرما دے۔)


مآخذ و مصادر

1. النبراس شرح شرح عقائد (علامہ عبدالعزیز فرہاروی)
2. خون کے آنسو (علامہ مشتاق احمد نظامی)
3. حاشیہ قاضی مبارک (علامہ فضل حق خیر آبادی)
4. رد المحتار (علامہ ابن عابدین شامی)
5. ہدایۃ البریہ (علامہ نقی علی خان)
6. فتاویٰ رضویہ (امام احمد رضا خان)
7. الکلمۃ الملہمۃ، الفوز المبین، مقامع الحدید، سبحان السبوح (امام احمد رضا خان)


ایک تاریخی واقعہ: سید وارث علی شاہ کا قول

حضرت حاجی سید وارث علی شاہ (دیوا شریف) بڑے پائے کے بزرگ تھے۔ جب اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان 25 سال کی عمر میں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو ان کا آپس میں کوئی تعارف نہیں تھا۔ جب اعلیٰ حضرت پہنچے تو سید صاحب فوراً سنبھل کر بیٹھ گئے اور فرمایا: “مولانا اعلیٰ حضرت آ گئے”۔ آپ کسی اور کو مولانا یا اعلیٰ حضرت نہیں کہتے تھے، یہ اعزاز سیدی امام احمد رضا خان کو ہی حاصل ہوا۔ [چہرہ و داڑھی، ص: 105]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!