Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

امام احمد رضا اور فن منطق (قسط: سوم)|علامہ عبد الرحمن مصباحی، زینب ظفر

امام احمد رضا اور فن منطق (قسط: سوم)
عنوان: امام احمد رضا اور فن منطق (قسط: سوم)
تحریر: علامہ عبد الرحمن مصباحی جامعہ امجدیہ گھوسی
پیش کش: زینب ظفر
منجانب: لباب اکیڈمی

منطقی علوم سے اہل یورپ کی تہی دامنی

اہلِ یورپ کے منطقی علوم میں تہی دامن ہونے کی وضاحت کرتے ہوئے امام احمد رضا خان قدس سرہ فرماتے ہیں:

“اول: اہل ہیئتِ جدیدہ کی ساری مہارت ریاضی، ہندسہ اور ہیئت میں منہمک ہے۔ عقلیات میں ان کی بضاعت قاصر یا قریب بہ صفر ہے، وہ نہ نظریاتی استدلال جانتے ہیں نہ آدابِ بحث۔ کسی بڑے مانے ہوئے کے چند دلائل کو اصولِ موضوعہ ٹھہرا کر ان پر بے سر و پا تفریعات کرتے چلے جاتے ہیں، پھر ایسا وثوق، گویا آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ بلکہ مشاہدہ میں غلطی پڑ سکتی ہے، ان کے ہاں نہیں۔ ان کے خلاف دلائلِ قاہرہ ہوں تو سننا نہیں چاہتے، سنیں تو سمجھنا نہیں چاہتے، سمجھیں تو ماننا نہیں چاہتے، دل میں مان بھی جائیں تو اس کبیر (غلطی) سے پھرنا نہیں چاہتے۔” [الغوز المبین، فصل دوم]

الغوز المبین میں ہی یونان کے نظریہ کہ “ہر جسم میں دوسرے کو اپنی طرف کھینچنے کی ایک قوتِ طبعی ہے، جسے جاذبیت کہتے ہیں” کا رد کرتے ہوئے خاص منطقی اسلوب میں فرماتے ہیں:

“اول: فرض کرو کہ سیب گرنے سے زمین پر جاذبیت کا آسیب آیا، مگر اس سے شمس میں جاذبیت کیسے سمجھی گئی، جس کے سبب گردش کا طومار باندھ دیا گیا؟ کیا اس پر کوئی سیب گرتے دیکھا؟ یا یہ ضروری ہے کہ جو کچھ زمین کے لیے ثابت ہو آفتاب میں بھی ہو؟ زمین بے نور ہے، آفتاب سے منور ہوتی ہے، آفتاب بھی بے نور ہوگا اور کسی اور سے روشن ہوگا۔ یوں ہی یہ قیاس اس فاسق کو نہ چھوڑے گا، اس کے لیے رائج و کار ہوگا، اور اسی طرح غیر متناہی چلا جائے گا، یا واپس آئے گا۔ مثلاً شمس، خاشف سے روشن ہے اور ثالث شمس سے، وہ تسلسل تھا، یہ دور ہے، اور دونوں محال۔ منطقِ الطیر اسی بے بنیادی کا نتیجہ ہے جو ان لوگوں کو علومِ عقلیہ میں ہے، ورنہ ہر عاقل جانتا ہے کہ شاہد پر غائب کا قیاس محض وہم و وسواس ہے۔”

یہ ہے امام موصوف کا منطقی طرزِ استدلال، جس سے عقلی علوم میں وسیع تجربے اور نیوٹن و غیرہ یورپی سائنسدانوں کی منطق سے بے خبری کا پتہ چلتا ہے۔ منطق کے اصول و قواعد چونکہ استدلال کے لیے ہیں اور اس میں کوئی دعویٰ نہیں ہوتا، فلاسفہ نے اپنے دعاوی و نظریات کے لیے منطقی اسلوب کو اپنایا ہے، اس لیے امام احمد رضا نے زیادہ توجہ ردِ فلسفہ و سائنس کی طرف رکھی ہے۔

علامہ محمد احمد مصباحی صاحب حفظہ اللہ رسالہ “مقامع الحدید” کے پیش لفظ میں تحریر فرماتے ہیں:

“امام احمد رضا قدس سرہ تمام علومِ عقلیہ و نقلیہ پر ناقدانہ و ماہرانہ نگاہ رکھتے تھے اور اپنی اس بے پناہ بصیرت کو تجدیدِ دین و احیاءِ سنت میں استعمال کرتے تھے۔ سائنس و فلسفہ کے تمام افکار و نظریات اسلام سے متصادم نہیں، لیکن قدیم فلسفہ کے بیشتر نظریات اور موجودہ سائنس کے بعض مرعومات اسلامی افکار و مسائل سے ضرور متصادم ہیں اور مادّہ پرستی تو دونوں کا جڑواں یقین ہے... امام احمد رضا نے فلسفہ اور سائنس کے اصول و مبادی اور مسلمات کا تجزیہ کرتے ہوئے انہیں کی روشنی میں اور مضبوط عقلی دلائل و براہین سے ان غلط افکار و نظریات کا تعاقب کیا ہے جو فلسفی اور سائنسدان کے لیے اسلام کی جانب سے ایک زبردست چیلنج ہے۔” [رسالہ مقامع الحدید، ص: 3]

رسالہ مقامع الحدید کا تعارف

ایک معقولی عالم مولوی محمد حسن سنبھلی نے “المنطق الجدید” نامی کتاب لکھی تھی جس میں غیر اسلامی اور خالص فلسفیانہ نظریات پیش کیے گئے تھے۔ نواب مولانا سلطان احمد بریلوی نے اس کے چند اقوال پر امام احمد رضا سے شرعی احکام دریافت کیے، جس کے رد میں “مقامع الحدید علی خد المنطق الجدید” تحریر کی گئی۔ اس میں درج ذیل کفری اقوال کا رد کیا گیا:

  • اللہ تعالیٰ کے سوا عالم کے دس خالق اور ہیں۔
  • مادہ اجسام قدیم ہے۔
  • عقولِ عشرہ اور نفوس قدیم ہیں۔
  • ہر چیز ہمیشہ سے موجود ہے اور ہمیشہ رہے گی (حدوثِ تغیر کا انکار)۔

امام اہل سنت نے ان اقوال کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ خالقیتِ حقیقی صرف اللہ کے لیے ہے، کسی کو قدرتِ مستفادہ سے خالقیت کا منصب نہیں ملا۔ آپ نے اس ضمن میں “قدرتِ مستفادہ” اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزے (خلقِ طیور) کے فلسفیانہ مغالطے کا بھی علمی جواب دیا اور واضح کیا کہ یہ “ایجاد” نہیں بلکہ “ابداء” (موجود صورت کو تبدیل کرنا) ہے۔

نورِ قمر پر تحقیقی بحث

“جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَاءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا” پر حاشیہ میں امام احمد رضا فرماتے ہیں:

“آیت کریمہ نصِ واضح ہے کہ قمر مستنیر ہو کر انارہِ عالم کرتا ہے۔ عقل کی جہت سے یہی راجح ہے اور محققین کا میلان بھی اسی طرف ہے (جیسے امام رازی وغیرہ)۔ رہا یہ کہ وہ خود نورانی نہیں بلکہ پرتوِ مہر سے روشن ہوتا ہے، تو ہم اس کی نفی نہیں کرتے کیونکہ کوئی نص اس کی تکذیب میں وارد نہیں، نہ اس پر جزم و ضرورت ہے۔ رہا یہ کہ یہ بدیہی ہے، تو یہ کیونکر ہوگا حالانکہ چاند کے بارے میں ابن ہیثم کے قول کے ابطال پر کوئی دلیلِ قطعی نہیں ہے۔”

آپ نے یہاں “معیت” (ساتھ پایا جانا) اور “دوران” (ہمیشہ ساتھ رہنا) کو “علیت” (وجہِ بننا) کی دلیل ماننے والوں کی کج فہمی پر ضرب لگائی ہے۔ آپ کا اصول ہے کہ علیت کے لیے دلیلِ قوی ضروری ہے، معیت و دوران میں تخلف کی نفی پر کوئی دلیل نہیں ہے۔

مادہ کو قدیم ماننے والوں کا رد

مادہ کو قدیم ماننے والوں کا رد کرتے ہوئے امام احمد رضا فرماتے ہیں:

“جو اللہ تعالیٰ کے معبود ہونے اور واحد ہونے کا اقرار کرے لیکن خدا کی ذات و صفات کے علاوہ کسی قدیم کا قول کرے (جیسے فلاسفہ عالم اور عقول کو قدیم مانتے ہیں) تو یہ کفر ہے۔ اور اس کا عقیدہ رکھنے والا باجماعِ مسلمین کافر ہے۔”

شرح المواقف کے حوالے سے آپ نے ثابت کیا کہ اجسام اپنی ذواتِ جوہریہ اور صفاتِ عرضیہ کے ساتھ حادث ہیں، اور اس بات پر تمام اہلِ ملل (مسلمین، یہود، نصاریٰ، مجوس) کا اتفاق ہے کہ عالم حادث ہے، قدیم نہیں۔ (جاری ہے)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!