| عنوان: | محرم میں ہونے والے خرافات کا رد |
|---|---|
| تحریر: | محمد احسان مصطفیٰ |
| پیش کش: | جامعۃ المدینہ فیضانِ عطار ناگ پور |
دین اسلام اپنے ماننے والوں کو زندگی کے ہر موڑ اور ہر جہت میں کامل اور عمدہ رہنمائی فراہم کرتا ہے، بلکہ انسان کی پیدائش سے لے کر قبر کی آغوش تک کے تمام مراحل کے لیے بہترین تعلیمات عطا کرتا ہے۔ انہی بابرکت تعلیمات میں بعض ایام و مہینوں کو خصوصی فضیلت و عظمت بھی عطا فرمائی گئی ہے، جن میں ماہ محرم الحرام کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ یہ مہینہ نہ صرف اسلامی سال کا آغاز ہے بلکہ صبر، استقامت، حق پر ثابت قدمی، ایثار، وفا، شجاعت، عزیمت اور قربانی عظیم کی یاد تازہ کرنے والا مہینہ بھی ہے۔
لیکن افسوس! کہ اسی عظمت والے مہینے میں بعض لوگوں نے جہالت اور رسم و رواج کی آمیزش سے ایسی خرافات اور ناجائز رسومات کو رواج دے دیا ہے جو دین اسلام کی اصل تعلیمات کے سراسر خلاف ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ پہلے ان غلط رسومات کی نشاندہی کی جائے، پھر تعلیمات اسلامیہ کی روشنی میں یہ بتایا جائے کہ ماہ محرم کو صحیح اور معتدل طریقے سے کیسے گزارا جائے، تاکہ ہم اس مقدس مہینے کی حقیقی برکتوں سے مستفید ہو سکیں۔
ناجائز رسومات کی نشاندہی
مروجہ تعزیہ بنانا، خواہ کاغذ، کپڑے یا لکڑی کا ہو، اور اسے گلی گلی گھمانا یا چوک پر رکھنا؛ اسی طرح تعزیہ کے پاس شیرینی لے جا کر نیاز و فاتحہ کرنا اور اس سے منتیں مانگنا یہ تمام امور شرعاً ناجائز ہیں۔
محرم کے مہینے میں سات تاریخ کو مٹی کھودنا، آٹھ اور نو تاریخ کو تعزیہ بنا کر ڈنکا بجانا، اور دسویں تاریخ کو اس مٹی کو بطور جنازہ دفن کرنا بھی بے اصل اور ناجائز رسومات ہیں۔
اسی طرح مرثیہ اور نوحہ پڑھنا، موضوع، من گھڑت روایات اور اہل بیت کرام کے متعلق فرضی واقعات بیان کرنا، نیز ماتم کرنا یہ سب ممنوع ہیں۔
تعزیے کے جلوس میں یا دیگر مواقع پر ڈھول تاشے بجانا، مرد و عورت کا اختلاط کے ساتھ گشت کرنا، دلدل بنانا، بچوں کو فقیر بنانا، اور اس مقصد کے لیے چندہ کرنا یا دینا یہ تمام امور ناجائز اور گناہ ہیں۔
ماہ محرم الحرام گزارنے کا صحیح و معتدل طریقہ
قارئین کرام! محرم الحرام ہو یا کوئی اور مہینہ، سب کو خرافات، بدعات اور غیر شرعی رسومات سے پاک رکھتے ہوئے عبادت، ذکر الٰہی اور اعمال صالحہ میں بسر کرنا چاہیے۔
اس بابرکت مہینے میں بالخصوص سید الشہداء، جگر گوشۂ رسول، حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور شہدائے کربلا کی سیرت مبارکہ کو وقار، سنجیدگی اور حقیقت پسندی کے ساتھ بیان کیا جائے؛ تاکہ دلوں میں حق کی محبت، صبر و استقامت اور دین پر ثابت قدمی کا جذبہ پیدا ہو۔
مجالس ذکر میں اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ واقعات کربلا مستند، معتبر اور صحیح روایات کے مطابق بیان کیے جائیں، اور من گھڑت، بے اصل اور مبالغہ آمیز حکایات سے مکمل اجتناب کیا جائے؛ تاکہ دین کی اصل روح محفوظ رہے اور سامعین تک حقائق درست انداز میں پہنچیں۔
گھروں میں تلاوت قرآن مجید، درود پاک، ذکر و اذکار اور ایصال ثواب کا اہتمام کیا جائے، اور اس کا ثواب شہدائے کربلا سمیت تمام مسلمانوں کو پہنچایا جائے۔ فقرا و مساکین کی امداد، صدقہ و خیرات، اور پیاسوں کو پانی پلانے جیسی نیکیوں کا اہتمام کیا جائے۔
شب عاشورہ کو عبادت، نوافل اور ذکر الٰہی میں گزارا جائے، دسویں محرم کے روزے رکھے جائیں، اور یوم عاشورا کے دن اہل و عیال پر حسب توفیق فراخی کی جائے۔ حدیث شریف میں ہے: “جو یوم عاشورا کو اپنے بال بچوں کو فراخی کے ساتھ کھلائے پلائے تو اللہ تعالیٰ سال بھر اسے فراخی عطا فرمائے گا۔” [الْمُعْجَمُ الْكَبِيرُ لِلطَّبَرَانِيّ، ج: 10، ص: 77، الرَّقْم: 10007] [فتاویٰ جامعہ اشرفیہ، ج: 11، ص: 309 تا 347، مجلس البرکات]
ماحاصل یہ کہ ماہ محرم کو صبر، تقویٰ، عبادت، خیر خواہی اور سیرت شہدائے کربلا کی پیروی کے ساتھ گزارنا، اور ہر قسم کی غیر شرعی و بے بنیاد باتوں سے اجتناب کرنا ہی درست اور عمدہ طریقہ ہے۔
یاد رکھیں! حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے محض محبت کا دعویٰ کرنا یہ اصل میں ان سے محبت ہے ہی نہیں بلکہ ان کی تعلیمات و فرامین پر عمل کرنا یہ حقیقی محبت ہے۔ مزید تفصیل کے لیے، امام اہل سنت سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا رسالہ: أَعَالِي الْإِفَادَةِ فِي تَعْزِيَةِ الْهِنْدِ وَبَيَانِ الشَّهَادَةِ کا مطالعہ فرمائیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سید الشہداء، امام عالی مقام، امام عرش مقام، امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحیح تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
