| عنوان: | امام احمد رضا اور فقہ المعاملات، فقہ و فتاویٰ (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | ابو محمد علی اصغر عطاری مدنی |
| پیش کش: | محمد سلمان العطاری |
| منجانب: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
فقہ المعاملات ایک تعارف:
دینِ اسلام کی تعلیمات مرکزی طور پر پانچ چیزوں پر مشتمل ہیں:
-
عقائد
-
اخلاق و آداب
-
عبادات
-
معاملات
-
سزائیں
عقائد سے متعلق گفتگو علمِ کلام میں کی جاتی ہے، جبکہ اخلاق و آداب سے متعلق گفتگو علمِ تصوف میں کی جاتی ہے۔ باقی جو تین عنوانات ہیں، ان سے متعلق گفتگو علمِ فقہ میں کی جاتی ہے۔
عبادات کی پانچ اقسام ہیں:
-
نماز
-
روزہ
-
زکوۃ
-
حج
-
جہاد
اسی طرح معاملات کے متعلق بھی عام طور پر فقہائے کرام نے یہی لکھا ہے کہ پانچ ہیں:
-
معاوضاتِ مالیہ
-
مناکحات
-
مخاصمات
-
امانات
-
ترکہ
سزائیں بھی پانچ ہیں:
-
قصاص
-
حدِ سرقہ
-
حدِ زنا
-
حدِ قذف
-
ارتداد کی سزا
بحرالرائق، جوہرہ نیرہ، فتاویٰ شامی اور دیگر کتبِ فقہ میں یہی تقسیم بندی بیان کی گئی ہے۔ علامہ ابنِ عابدین شامی علیہ الرحمہ اس تقسیم بندی کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
اِعْلَمْ أَنَّ مَدَارَ أُمُورِ الدِّينِ عَلَى الِاعْتِقَادَاتِ وَالْآدَابِ وَالْعِبَادَاتِ وَالْمُعَامَلَاتِ وَالْعُقُوبَاتِ، وَالْأَوَّلَانِ لَيْسَا مِمَّا نَحْنُ بِصَدَدِهِ۔ وَالْعِبَادَاتُ خَمْسَةٌ: الصَّلَاةُ، وَالزَّكَاةُ، وَالصَّوْمُ، وَالْحَجُّ، وَالْجِهَادُ۔ وَالْمُعَامَلَاتُ خَمْسَةٌ: الْمُعَاوَضَاتُ الْمَالِيَّةُ، وَالْمُنَاكَحَاتُ، وَالْمُخَاصَمَاتُ، وَالْأَمَانَاتُ، وَالتَّرِكَاتُ۔ وَالْعُقُوبَاتُ خَمْسَةٌ: الْقِصَاصُ، وَحَدُّ السَّرِقَةِ، وَالزِّنَا، وَالْقَذْفِ، وَالرِّدَّةِ۔
خلاصہ اوپر گزر چکا۔ [رد المحتار، ج: 1، ص: 186، دار المعرفة بيروت]
چونکہ میرا مقالہ “فقہ المعاملات پر اعلیٰ حضرت کی خدمات” کے عنوان پر ہے، لہٰذا پہلے تو علمِ فقہ المعاملات کو سامنے رکھتے ہوئے فتاویٰ رضویہ پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالنا ضروری ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان کردہ تقسیم سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ فقہ المعاملات بہت وسیع موضوع ہے اور صرف خرید و فروخت کو ہی فقہ المعاملات نہیں کہتے، بلکہ فقہ المعاملات لین دین کے تمام امور پر مشتمل ہے۔ ایک معاشرتی زندگی میں فقہ المعاملات ہی وہ موضوع ہے جو سب سے زیادہ درپیش ہوتا ہے۔ اس بات پر علمی بحث میں کافی گنجائش موجود ہے کہ کون کون سے ابواب فقہ المعاملات کے تحت داخل ہوں گے اور کون سے نہیں، لیکن بعض ابواب ایسے ہیں جن کے فقہ المعاملات ہونے پر کوئی شبہ نہیں، جیسا کہ عقودِ معاوضات و عقودِ تبرعات میں وہ تمام امور جو مال میں انتقالِ ملکیت کا سبب بنتے ہیں، سب عقود و معاملات میں داخل ہیں۔ زیرِ بحث مقالے میں راقم الحروف کے پیشِ نظر زیادہ تر عقودِ معاملات و عقودِ تبرعات ہی رہے گا۔ ورنہ فتاویٰ رضویہ شریف کی تقریباً 10 جلدیں فقہ المعاملات کے ابواب پر مشتمل ہیں۔
فتاویٰ رضویہ کی فقہ المعاملات کے پانچ اقسام:
فتاویٰ رضویہ شریف میں فقہ المعاملات پر جو کچھ لکھا گیا اس کی پانچ انداز کی تقسیم بندی کی جا سکتی ہے:
-
انقلابی تحقیق پر مشتمل رسائل
-
مصنف کے دور میں رونما ہونے والے لین دین کے جدید طریقوں پر فقہی کلام
-
مسلمانوں کی معاشی بہتری و ترقی کو سامنے رکھ کر لکھے گئے رسائل
-
مصنف کے دور میں عام فقہِ نوازل پر لکھے گئے تفصیلی رسائل یا مختصر جوابات
-
مصنف کے بیان کردہ وہ ضابطے اور تحقیق جو اکیسویں صدی کے جدید معاشی مسائل کا بہترین حل ہیں
قسمِ اول: انقلابی تحقیق پر مشتمل رسائل:
بیسویں صدی، جدید معاشی ترقی کی بنیاد ثابت ہوئی ہے۔ بیسویں صدی ہی وہ صدی ہے جس میں بہت ساری چیزیں یا تو نئی نئی ایجاد ہو کر پھیلنا شروع ہو چکی تھیں، جیسا کہ ٹیلی گراف، ٹیلی فون، ہوائی جہاز، یا پھر انگریز کی ہندوستان پر حکومت کے نتیجے میں ہندوستان میں یہ چیزیں نئی تھیں، جیسا کہ بینک، انشورنس کمپنیاں اور مختلف تجارتی کمپنیوں کا پھیلاؤ۔ ایک اور بہت بڑی تبدیلی جو بیسویں صدی کے آغاز میں سرزمینِ ہندوستان میں رائج ہو چکی تھی وہ پیپر کرنسی تھی؛ سونے، چاندی اور دھات کے سکوں سے نکل کر کاغذی کرنسی فروغ پا رہی تھی۔ یہ وہ وقت ہے جب سرزمینِ بریلی پر ایک عظیم فقیہ اور بے مثال محقق، امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کے نام سے سامنے آتا ہے جو فقہی جولانی، مہارتِ جاودانی اور اسلاف کی نشانی سے متصف ہے۔ یہ وہ عبقری شخصیت ہے جو اپنے زمانے کے درپیش مسائل کی اہمیت سمجھنے کے ساتھ ساتھ ان کا درست انداز میں ادراک کرنا بھی جانتا ہے اور ان پر فقہی کلام کرنا بھی۔ ان کا سینہ فیضانِ تاجدارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لبریز ہے اور غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کے سلسلے کا جام ان میں وہ توانائی اور قوت پیدا کیے ہوئے ہے جس کی بدولت آپ کی تحقیقات پڑھنے کے بعد ہر عقل و فہم رکھنے والا کہہ اٹھتا ہے کہ اس قدر عرق ریزی، استحضارِ جزئیات، حقیقت کا ادراک، تنقیحِ اقوال کی روشنی میں مسائل کا حل پیش کرنا کسی عام فقیہ کا کام نہیں ہو سکتا۔
میرے پیشِ نظر اس وقت دو ایسے رسائل ہیں جو میرے نزدیک انقلابی تحقیق پر مشتمل ہیں۔ انقلابی تحقیق کا لفظ راقم الحروف نے کیوں استعمال کیا، یہ کچھ سطور کے بعد واضح ہو جائے گا۔
ماضیِ قریب میں فقہ المعاملات میں ایک لفظ بہت زیادہ استعمال ہوا ہے اس کا نام ہے “تکییفِ فقہی”۔ ہوتا یہ ہے کہ جب کوئی نیا لین دین کا نظام یا طریقہ کار سامنے آتا ہے تو اس کو جائز کہنا ہو یا پھر ناجائز، اس نظام کے اجزائے ترکیبی پر بحث کر کے اس نظام کا درست ادراک کیا جاتا ہے اور اس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ کس شق اور جہت کا تعلق فقہ کے کس باب سے ہے اور اس باب کے اصولوں کی روشنی میں یہ پورا نظام یا سسٹم جائز ہے یا ناجائز۔ اس کی ایک واضح سی مثال شیئرز کمپنیوں سے متعلق فقہی تحقیقات پر مشتمل کتب ہیں۔ ان کتب میں سب سے پہلے اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ کمپنیوں کے شیئرز خریدنے کا مطلب کیا ہے؟ پرچی خریدی جاتی ہے یا کچھ اور؟ اچھا کمپنی کے اثاثہ جات خریدے جاتے ہیں تو شرکتِ ملک ہوگی یا شرکتِ عقد؟ شرکتِ عقد ہوگی تو کون سی؟ پھر نفع کی تقسیم، شیئرز کی اقسام، کمپنی کا وجود، اس کے کام کی نوعیت اور دیگر بہت ساری متعلقہ چیزوں کا جائزہ لینے کے بعد کوئی فقیہ یہ بیان کرتا ہے کہ اس لین دین کا شرعی حکم کیا ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت معاشی ترقی کی بنیادی اکائی کارپوریٹ سیکٹر ہے جس کا ہر شعبہ ایک مرکب نظام ہوتا ہے اور ایسے کسی بھی نظام پر فقہی کلام “تکییفِ فقہی” کے بغیر ممکن نہیں۔
گو کہ “تکییفِ فقہی” کی اصطلاح بیان کردہ معانی کے تحت تقریباً 1980ء کے بعد ہی استعمال ہوتی ہوئی نظر آتی ہے، جس کا بڑا سبب یہ تھا کہ سودی بینکوں اور سودی انشورنس کمپنیوں کے مقابلے میں مسلمانوں کی یہ کوشش جاری تھی کہ اسلامک بینک اور تکافل کے نام سے اسلامک انشورنس کمپنیاں ایجاد کی جائیں۔ پہلی تکافل کمپنی 1979ء میں سوڈان میں قائم ہوتی ہے۔ ڈاکٹر صدیق امین الضریر اس کے شرعی ایڈوائزر بنتے ہیں اور تقریباً 1980ء میں ایک عرب ملک میں پہلا اسلامک بینک معرضِ وجود میں آتا ہے۔ ان اعداد و شمار اور تاریخی حقائق کو ذہن میں رکھنا یوں بھی ضروری ہے کہ ہمارے عقیدے کے مخالفین کے بارے میں یہ بات تو زبان زدِ عام ہے کہ وہ اکابر پرست واقع ہوئے ہیں اور جھوٹ کا سہارا لینا تو ان کے نزدیک ایسے معاملات میں کوئی بڑی بات معلوم نہیں ہوتی۔ پاکستان کے ایک دیوبندی اسکالر تقی عثمانی کے متعلق یہ مشہور کر رکھا ہے کہ اس نے اسلامک بینکنگ ایجاد کی ہے۔ حالانکہ یہ بات صریح جھوٹ ہے؛ اسلامک بینکنگ پر بنیادی کام جدہ فقہ اکیڈمی نے کیا ہے جو دنیا بھر کے فقہاء پر مشتمل تھی۔ موصوف تو بہت بعد میں اس اکیڈمی کے رکن بنے ہیں۔ ایک رکن، وہ بھی بہت بعد میں شامل ہونے والا اور اسلامک بینک کھل جانے کے بعد اس فیلڈ کی طرف آنے والا کیسے بانی کہلا سکتا ہے، یہ ایک واضح امر ہے۔
بات اسلامک بینکنگ اور تکافل کی نکلی ہے تو یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ راقم الحروف نے تاحال اس سے اتفاق نہیں کیا ہے، بعض جگہ تھیوری کی اغلاط موجود ہیں اور بعض جگہ پریکٹیکل کی۔ اسلامک بینکنگ کی اساس مذاہبِ اربعہ کے اجتماعی مرکب پر ہے، اور کئی مقامات ایسے ہیں جہاں مذہبِ غیر پر فتویٰ دیے جانے پر تحفظات اس اعتبار سے موجود ہیں کہ وجوہاتِ مسلمہ پائی گئیں یا نہیں۔ جبکہ بعض غلطیوں کو ضرورت قرار دے کر صرفِ نظر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، لیکن ان کے ضرورت ہونے پر کلام بہرحال موجود ہے؛ جیسا کہ اسلامک بینکنگ سب سے زیادہ اپنا پیسہ جس کام میں لگاتی ہے وہ “صکوک پروڈکٹ” ہیں اور اس پروڈکٹ کی آج بھی سودی انشورنس ہوتی ہے۔ اسلامک بینکوں کے نظام کا ہدف بہت عمدہ ہے کہ سود کا خاتمہ ہو، لیکن راقم الحروف کے نزدیک اس نظام میں پائے جانے والے سقم کو دور کرنا ضروری ہے۔
درمیان میں کلامِ معترضہ حائل ہو گیا، اصل کلام کی طرف واپس آتا ہوں۔ اس وقت ہزاروں کتب، پی ایچ ڈی کے مقالے، ایم اے یا ماسٹر کے رسالے اسلامک بینکنگ پر لکھے گئے ہیں اور ہر پروڈکٹ کو اسلامی اصولوں پر ڈالنے کے لیے جو ترکیب یا تکنیک استعمال کی جاتی ہے، اس کا نام ہے “تکییفِ فقہی”۔ لیکن امامِ اہلِ سنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے آج سے تقریباً 130 سال قبل 1311ھ یعنی تقریباً 1893ء میں ایک رسالہ تصنیف کیا جس کا نام ہے:
كِتَابُ الْمُنَى وَالدُّرَرِ لِمَنْ عَمَدَ مَنًى أُدْفِرَ (1311ھ)
(امید بھرے موتیوں کا گلدستہ اس کے لیے جو منی آرڈر کا حکم جاننا چاہے)
راقم الحروف کی نظر میں یہ وہ پہلی کتاب ہے جس میں جدید معاشی نظام کو “تکییفِ فقہی” کی مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے حل کیا گیا ہے۔ یہ رسالہ منی آرڈر کے ذریعے رقوم بھیجنے اور ڈاکخانے کو اجرت دینے کے جواز پر لکھا گیا ہے۔
جب یہ سسٹم رائج ہوا تو مسلمانوں نے اس سے استفادہ شروع کیا اور کئی برس بعد کہیں سے یہ شور اٹھا کہ یہ سسٹم تو ناجائز اور سودی ہے، یوں بعض لوگوں نے اسے سودی کام قرار دے دیا، ایسے میں مولوی عبد السمیع صاحب نے 20 رمضان المبارک 1311ھ کو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کی خدمت میں منی آرڈر کے نظام کی شرعی حیثیت پر سوال نامہ بھیجا۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے اس کے جواب میں یہ تفصیلی رسالہ تحریر فرمایا جو فتاویٰ رضویہ جلد 19 میں موجود ہے۔ اس رسالے میں آپ رحمۃ اللہ علیہ نے نہ صرف فقہی اعتبار سے مسئلے کی تنقیح کی اور ثابت کیا کہ منی آرڈر کا نظام جائز ہے اور جو فقہی اشکالات کیے گئے وہ قابلِ حل ہیں اور ان کا جواب یہ یہ ہے، بلکہ اس مسئلے کی پوری فقہی جانچ پڑتال کر ڈالی۔ “كِتَابُ الْمُنَى وَالدُّرَرِ” کوئی عام رسالہ نہیں بلکہ اس میں دورِ جدید کے ایک پورے نظام سے متعلق آپ سے پوچھا گیا جس میں بہت سارے فقہی اشکالات آپ کے سامنے تھے کہ ادارہ رقم پہنچانے کی اجرت لیتا ہے، اگر رقم اس سے ضائع ہو جائے تب بھی لوٹاتا ہے اور ضمان ادا کرتا ہے حالانکہ یہ چیز اس کے پاس امانت تھی اور امانت پر ضمان نہیں ہوتا۔ پھر یہ کہ ادارہ اجیرِ خاص ہے یا اجیرِ مشترک، جو رقم ڈاکخانے کو دی جاتی ہے وہ قرض تو نہیں۔ ان تمام چیزوں کو سامنے رکھ کر آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اس نظام کی مکمل “تکییفِ فقہی” بیان کرتے ہوئے اسے جائز قرار دیا اور ہر ہر شق پر دلائل مرتب کیے۔
نوٹ: پیارے قارئینِ کرام، اس سے آگے مطالعہ کرنے کے لیے قسطِ دوم اوپن (سرچ) کریں۔
