| عنوان: | امام احمد رضا اور ہندی زبان و ادب (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا محمد زاہد علی مرکزی |
| پیش کش: | زہرہ یاسمین |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَيِّدِ الْمُرْسَلِيْنَ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ۔ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
ہندی زبان کی تاریخ
ہندی زبان کی تاریخ تقریباً ایک ہزار سال پرانی سمجھی جاتی ہے۔ ماہرینِ زبان دسویں گیارہویں صدی عیسوی تسلیم کرتے ہیں۔ ہندی لفظ سنسکرت کے لفظ سندھو سے بنا ہے، سندھو سندھ ندی کو کہتے ہیں، یہی سندھو لفظ ایران میں جا کر “ہندو”، ہندی اور پھر ہند ہو گیا، اسی میں ایرانی کا “ایک” لگنے سے ہند یک بنا۔ یونانی لفظ اندکا یا انگریزی لفظ انڈیا اسی ہند یک کے ہی ترقی یافتہ نام ہیں۔ ہندی زبان کے لیے اس لفظ کا قدیم استعمال شرف الدین یزدی کے ظفر نامہ (1424ء) میں بھی ملتا ہے۔ پروفیسر مہاویر سرن جین اپنے مقالے ہندی اور اردو کا اودیت میں لکھتے ہیں:
کہ ایران کی قدیمی زبان اویستا میں س کا استعمال نہیں ہوتا تھا، “س” کو “ہ” سے بدل کر پڑھا جاتا تھا، جیسے سنسکرت کے “اسر” لفظ کو وہاں “اہر” کہا جاتا تھا۔
ہندی اور اردو دونوں کھڑی بولی اور عربی، فارسی، ترکی، سنسکرت وغیرہ سے مل کر بنی ہیں کیونکہ 1800ء کے آس پاس ہندی لغت میں فارسی کے لگ بھگ 3500 الفاظ، عربی کے 2500، پشتو سے 50 اور ترکی کے 125 الفاظ شامل تھے۔
Encyclopedia of languages of the world
دونوں زبانوں میں فرق یہ ہے کہ ہندی کا جھکاؤ سنسکرت کی طرف زیادہ ہے اور اس کا رسم الخط “دیوناگری” یا دیونگری کہلاتا ہے جب کہ اردو کا جھکاؤ عربی فارسی کی طرف زیادہ ہے اور اس کا رسم الخط “نستعلیق” ہے۔ لسانی خاندان ہند یورپی، ہند ایرانی، ہند آریائی کھڑی بولی وغیرہ ہے۔ ہندی زبان بولنے والے افراد کی مقدار 2007ء کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایک کروڑ ہے، جب کہ اس زبان کے ذریعہ تبادلۂ خیال کرنے والوں کی مقدار 48 کروڑ ہے۔ ہندو پاک کے علاوہ فجی، ماریشس، گیانہ، سورینام اور نیپال میں بھی ہندی زبان کا استعمال ہوتا ہے۔
ہندی کا فروغ بارہویں صدی عیسوی میں ہونے لگا تھا اور 1260ء کے آس پاس ادب میں داخل ہونے لگی تھی، دوہا، چوپائی، گاتھا، چھند میں کلام پیش ہونے لگے تھے۔ حضرت امیر خسرو 1253ء - 1325ء۔ کبیر داس 1390ء - 1518ء۔ تلسی داس 1532ء - 1623ء۔ عبدالرحیم خانِ خاناں 1556ء - 1627ء۔ ہندی ادب کے نظم کے بڑے نام ہیں۔ [مہاویر پرشاد دویدی اور ہندی نو جاگرن، ص: 216]
ہندی شاعروں کی کچھ نظمیں یا اشعار ہم پیش کرتے ہیں ملاحظہ فرمائیں:
حضرت امیر خسرو
چھاپ تلک سب چھینی رے موسے نینا ملائیکے
بات اگم کہہ دینی رے موسے نینا ملائیکے
خسرو نظام کے بل بل جائے
موہے سہاگن کیہنی رے موسے نینا ملائیکے
اپنی چھب بنائی کے جو میں پی کے پاس گئی
جب چھب دیکھی پیہو کی سو اپنی بھول گئی
انگنا تو پربت بھیو د ہری بھئی ودیس
جا بابل گھر آپنے میں چلی پیا کے دیس
عبدالرحیم خانِ خاناں
رحیمن دھاگا پریم کا مت توڑو چٹکائے
جوڑے سے پھر نا جڑے جڑے گانٹھ پڑ جائے
ایسی وانی بولیے من کا آپا کھوئے
اورن کا شیتل کرے اور آپہو شیتل ہوئے
بگڑی بات بنے نہیں لاکھ کرو کن کوئے
رہیمن پھاٹے دودھ کو متھے نا ماکھن ہوئے
کبیر داس
برا جو دیکھن میں چلا تو برا نی ملیا کوئے
جو من کھوجا آپنا تو موسے برا نہ کوئے
رات گنوائی سوئے کے دوس گنوایا کھائے
ہیرا جنم انمول سا کوڑی بدلے جائے
بڑا ہوا تو کیا ہوا جیسے پیڑ کھجور
پنچھی کو سایا نہیں پھل لاگے اتی دور
(کبیر داس)
امامِ سخن کی ہمہ جہت شخصیت
امام احمد رضا علیہ الرحمہ (1856ء - 1921ء) کی ذاتِ گرامی جہاں مختلف علوم کی حامل تھی وہیں مختلف زبانوں جیسے عربی، فارسی اور ہندی بھوجپوری سنسکرت کی بھی منبع تھی۔ چونکہ آپ مجددِ اسلام تھے اس لیے عربی و فارسی زبان کا استعمال تو لازمی تھا کیونکہ اسلامک لٹریچر انہی دونوں زبانوں کے ارد گرد گھومتا ہے۔ آپ کے فتاویٰ میں ان دونوں زبانوں پر عبور دیکھا جا سکتا ہے بلکہ یہ کہنا بھی بیجا نہ ہوگا کہ اہلِ فارس و عرب اپنی اپنی زبان پر جب آپ کے فتاویٰ یا منظوم و منثور پر نظر کرتے ہوں گے تو آپ کو بھی عربی یا فارسی عالم تصور کرتے ہوں گے۔ اردو ادب میں بھی آپ کی ذات گرامی یکتا دکھائی دیتی ہے۔ میر تقی میر، مرزا غالب، اقبال، مرزا محمد ہادی رسوا، امیر مینائی، داغ دہلوی، ذوق، جگر مراد آبادی، ولی دکنی، اکبر الہ آبادی، الطاف حسین حالی، حسرت موہانی، فانی بدایونی، کافی مراد آبادی وغیرہ شعراء کے کلام ایک پلہ میں رکھیں اور امامِ لغت گویاں کے کلام ایک طرف اور انصاف کی عینک لگا کر عقیدت نہیں عقل و شعور علم و آگہی کے میزان پر وزن کیجئے تو آپ جملہ اردو شعراء کے کلام کو امام احمد رضا کے کلام کا پاسنگ بھی نہ پائیں گے۔ آپ کے ہم عصر اردو کے مشہور شاعر محسن کاکوروی ایک بار اپنا کلام لے کر سنانے کی غرض سے بریلی پہنچے، یہ کلام قصیدہ لامیہ کہلاتا ہے اور انھوں نے آقا علیہ السلام کے معراج کے نقشے کو اس کلام میں ابھارا ہے۔ محسن صاحب جب کلام سنانے کے لیے کھڑے ہوئے تو دو چار اشعار کے بعد ہی ظہر کی اذان ہو گئی، طے ہوا کہ آپ کا کلام بعدِ نمازِ عصر سنا جائے گا، مجلس برخاست ہوئی۔ بعد نمازِ عصر پھر کلام پیش کرنے کی اجازت چاہی تو امامِ سخن ارشاد فرماتے ہیں آپ پہلے میرا کلام سن لیں اور پھر امامِ سخن نے اپنا قصیدہ معراجیہ سنایا جو بڑی بحر میں 27 اشعار پر مشتمل ہے۔ پہلے ہم محسن کاکوروی صاحب کے قصیدہ لامیہ کے کچھ اشعار پیش کرتے ہیں:
سمت کاشی سے چلا جانبِ متھرا بادل
برق کے کاندھے پہ لائی ہے صبا گنگا جل
گھر میں اسنان کرے سرو قد انِ گوکل
جا کے جمنا پہ نہانا بھی ہے اک طولِ امل
کبھی ڈوبی کبھی ابھری اچھلی مہ نو کی کشتی
بحرِ خضر میں تلاطم سے پڑی ہے ہلچل
قمریاں کہتی ہیں طوبیٰ سے مزاجِ عالی
لالہ باغ سے ہندوسے فلک کھیلے کسل
نور کے پتلے ہوئے پردۂ ظلمت میں نہاں
چشمِ خورشیدِ جہاں میں ہیں اتھارسُبل
جس طرف سے گئی بجلی پھر ادھر آ نہ سکی
قلعۂ چرخ میں ہے بھول بھلیا بادل
یہ قصیدہ تقریباً 90 اشعار پر مشتمل ہے، مگر یہ چھوٹی بحر میں ہے۔ امامِ لغت گویاں کا قصیدہ بھی ملاحظہ ہو، اور کمال تو یہ ہے کہ امامِ سخن نے اپنا قصیدہ پہلے سے تیار کر کے نہیں رکھا تھا بلکہ اسی ظہر و عصر کے مابین دو ڈھائی گھنٹوں میں ہی برجستہ تیار کیا تھا، ملاحظہ ہو:
وہ سرورِ کشورِ رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے
نئے نرالے طرب کے ساماں عرب کے مہمان کے لیے تھے
اتار کر ان کے رخ کا صدقہ وہ نور کا بٹ رہا تھا باڑا
کہ چاند سورج مچل مچل کر جبیں کی خیرات مانگتے تھے
ستم کیا کیسی مت کٹی تھی قمر وہ خاک ان کے رہ گزر کی
اٹھا نہ لایا کہ ملتے ملتے یہ داغ سب دیکھنا مٹے تھے
جھلک سی اک قدسیوں پر آئی ہوا بھی دامن کی پھر نہ پائی
سواری دولہا کی دور پہنچی برات میں ہوش ہی گئے تھے
[حدائقِ بخشش حصہ اول، ص: 147]
اس قصیدے کے کچھ اشعار آئندہ صفحات پر بھی ہم پیش کریں گے مگر ہمارا مقصود اردو نہیں بلکہ ہندی، بھوجپوری، سنسکرت وغیرہ کا استعمال امام احمد رضا علیہ الرحمہ کی نظم ونثر میں پیش کرنا ہے تو کلامِ رضا میں جہاں بھی ان الفاظ کا استعمال ہوا ہے (نظم) ان کو ہم نے یکجا کر دیا ہے۔ اسے آپ آئندہ صفحات پر ملاحظہ فرمائیں گے۔ یہ امر کتنا مشکل تھا اس کا اندازہ آپ اس اقتباس سے لگا سکتے ہیں۔ ناظرین کی ضیافتِ طبع کی خاطر حدائقِ بخشش حصہ اول سے چند اشعار بطورِ نمونہ پیش ہیں۔ حصہ اول، دوم، سوم میں سنسکرت اور ہندی کے اتنے الفاظ پائے جاتے ہیں کہ ان کو شمار کرنا مشکل ہے۔ [فنِ شاعری اور حسانِ الہند، از علامہ عبدالستار ہمدانی، ص: 64]
اس مشکل کو حل کرنے کے لیے جب ہم نے حدائقِ بخشش کی ورق گردانی شروع کی تو واقعی کچھ ہی صفحات دیکھنے کے بعد خیال آیا کہ جب اس کثرت کے ساتھ ہندی و سنسکرت وغیرہ الفاظ کا استعمال ہوا ہے تو کہاں تک تلاش و جستجو کی جائے گی، کئی مرتبہ تو قلم رکھ دیا مگر پھر یہ سوچ کر کے کہ یہ ایک بہترین خراجِ عقیدت ہوگا، امامِ سخن کی بارگاہ میں تو انھیں سے مدد مانگتے ہوئے کام شروع کر دیا۔ ہم نے آسانی کے لیے مکررات کو حذف کر دیا ہے تاکہ قاری کا من بھی نہ اکتائے اور تلذذ بھی باقی رہے۔
تو آئیے کلامِ رضا میں لسانیت کا استعمال دیکھتے ہیں اور جس خوبی کے ساتھ اشعار میں ہندی الفاظ کو مدغم کیا ہے، اگر واقعی شعر اپنی زبانِ اردو میں ہوتا تو شاید وہ خوبصورتی پیدا نہ ہوتی جو زبانِ غیر کے اختلاط سے شعر میں پیدا ہوئی ہے، ابھی ہم دوسرے شعرا کے یہاں ہندی کا استعمال دکھاتے ہیں اور فیصلہ خود آپ کو کرنا ہے کہ تلذذ، خوبئ استعمال وضع الفاظ کس کے یہاں بہتر ہے، سب سے پہلے ہم میر تقی میر کے یہاں ہندی زبان کا استعمال دیکھتے ہیں۔ میر تقی میر آگرہ میں 1723ء میں پیدا ہوئے اور انتقال 1810ء میں ہوا، اصل نام “میر محمد تقی” تھا، اردو شاعری میں میر کا نام بہت اونچا ہے، انھیں ناقدین و شعرا، متاخرین نے “خدائے سخن” کے خطاب سے نوازا۔ مرزا غالب آپ کی شاعری کا لوہا مانتے ہوئے لکھتے ہیں:
ریختہ کے تمہیں استاد نہیں ہو غالب
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا
[میر تقی میر اور امام احمد رضا]
اشعار میں ہندی الفاظ کے اوپر ہم خط کھینچے دیتے ہیں تاکہ قاری کو الفاظ کی پہچان باآسانی ہو جائے۔
(1) عہدِ جوانی رو رو کاٹا پیری میں لیں آنکھیں موند
یعنی رات بہت تھے جاگے صبح ہوئی آرام کیا
(2) سارے رنداوباش جہاں کے تجھ سے سجو میں رہتے ہیں
بانکے ٹیڑھے ترچھے تیکھے سب کا تجھ کو امام کیا
(3) منہ ٹکاہی کرے ہے جس تس کا
حیرتی ہے یہ آئینہ کس کا
(4) شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہوں
دل ہوا ہے چراغ مفلس کا
(5) ہم خستہ دل ہیں تجھ سے بھی نازک مزاج تر
تیوری چڑھائی تو نے کے یاں جی نکل گیا
(6) ساقی نشے میں تجھ سے لُندھا شیشۂ شراب
چل لب کی دخت تاک کا جو بن تو ڈھل گیا
(7) جو میر اس شور سے روتا رہے گا
تو ہمسایہ کاہے کو سوتا رہے
پرانی ہندی کا استعمال اکثر میر کے یہاں ملتا ہے مگر دوسرے شعرا کے یہاں بہت کم یا پھر بالکل نہیں ملتا وجہ یہ ہے کہ میر اردو شاعری کے اولین شعرا میں سے ہیں اور جوں جوں اردو ترقی کرتی گئی ہندی الفاظ میں بھی تغیر آتا گیا۔
(8) جیون سے جاتے ہیں ناچارہ آہ کیا کیا لوگ
کھبو تو جانبِ عشاق بھی گزر کریے
(9) آتش تیز جدائی میں یکا یک اس بن
دل جلا یوں کہ تک جی بھی جلا یا نہ گیا
(10) نہ خالی رہے گی میری جاگہ گھر میں
نہ ہوں گا تو اندوہ بسیار ہوگا
یہ دس اشعار میر تقی میر کے دیوان سے لیے گئے ہیں، ان میں ہندی کا استعمال اس خوبی سے نظر نہیں آتا جیسا کہ کلامِ رضا میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ کلامِ رضا سے دس اشعار جن میں ہندی الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے ملاحظہ فرمائیں:
عاصیو! تھام لو دامن ان کا
وہ نہیں ہاتھ جھٹکنے والے
ابرِ رحمت کے سلامی رہنا
پھلتے ہیں پودے لچکنے والے
سنیو! ان سے مدد مانگے جاؤ
پڑے بکتے رہیں بکنے والے
شمع یاد رکھ رخِ جاناں نہ مجھے
خاک ہو جائیں بھڑکنے والے
نفس میں خاک ہوا تو نہ مٹا
ہے میری جان کے کھانے والے
ہو گیا دھک سے کلیجہ میرا
ہائے رخصت کی سنانے والے
کشتۂ دشتِ حرم جنت کی
کھڑکیاں اپنے سرہانے والے
کیوں رضاؔ آج گلی سونی ہے
اٹھ میرے دھوم مچانے والے
مے کہاں اور کہاں میں زاہد
یوں بھی تو چکھتے ہیں چکھنے والے
کفِ دریائے کرم میں ہیں رضاؔ
باغ فوّارے چھلکنے والے
یہاں ہم نے ایک ہی بحر کی دو نظموں کے اشعار جمع کر دیے ہیں جن کا مطلع دیکھتے ہی بنتا ہے، ایک ہی مصرع میں دو دو تین تین لفظ ہندی کے مستعمل مگر پڑھیے تو زبان کی روانی نہیں جاتی۔
مرزا غالب اور امام احمد رضا
مرزا غالب کا نام “اسد اللہ بیگ خان” تھا، دسمبر 1797ء میں آگرہ میں پیدا ہوئے، اور 15 فروری 1869ء کو دنیا چھوڑ گئے۔ بہادر شاہ ظفر نے نجم الدولہ، دبیر الملک وغیرہ خطاب دیے۔ اردو شاعری میں مرزا غالب محتاجِ تعارف نہیں۔ امام احمد رضا جب علومِ عقلیہ ونقلیہ سے فارغ ہو کر سندِ افتا وتدریس پر بیٹھے اسی سال مرزا اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔
امام احمد رضا علیہ الرحمہ نے غالب کو کچھ جگہوں پر جواب بھی دیا ہے۔ یعنی ان کی غزلوں کے مقابلے اسی ردیف وقافیہ میں کلام کیا ہے، ملاحظہ فرمائیں:
غالب کی مشہور غزل کے چند شعر:
دل ہی تو ہے نہ سنگ وخشت درد سے بھر نہ آئے کیوں؟
روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں؟
دیر نہیں حرم نہیں در نہیں آستاں نہیں
بیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم غیر ہمیں اٹھائے کیوں؟
ہاں وہ نہیں وفا پرست جاؤ وہ بے وفا سہی
جس کو ہو دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں؟
غالبؔ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں
روئیے زار زار کیا کیجیے ہائے ہائے کیوں؟
امام احمد رضا علیہ الرحمہ نے یہاں اسی بحر پر دو نظمیں کہی ہیں ملاحظہ ہوں:
پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں؟
دل کو جو عقل دے خدا تیری گلی سے جائے کیوں؟
رخصتِ قافلہ کا شور غش سے ہمیں اٹھائے کیوں؟
سوتے ہیں ان کے سائے میں کوئی ہمیں جگائے کیوں؟
بار نہ تھے حبیب کو پالتے ہیں غریب کو
روئیں جو اب نصیب کو چین کہو گنوائے کیوں؟
جاں سفرِ نصیب کو کس نے کہا مزے سے سو
کھٹکا اگر سحر کا ہو شام سے موت آئے کیوں؟
فکرِ معاشِ بد بلا ہول معاد جاں گزا
لاکھوں بلا میں پھنسنے کو روح بدن میں آئے کیوں؟
[رضا بریلوی]
