| عنوان: | شان امام حسین رضی اللہ عنہ |
|---|---|
| تحریر: | محمد عبدالواجد عطاری |
| پیش کش: | متعلم جامعۃ المدینہ آگرہ |
اللہ تبارک و تعالیٰ سورۃ التوبہ کی آیت 36 کے اس ٹکڑے میں ارشاد فرماتا ہے:
إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ [سورۃ التوبہ: 36]
ترجمہ کنزالایمان: بیشک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں اللہ کی کتاب میں جب سے اس نے آسمان و زمین بنائے ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔
ان بارہ مہینوں میں چار مہینے حرمت والے ہیں جن کے بارے میں صراط الجنان میں اس آیت کی تفسیر کے تحت مذکور ہے: ان حرمت والے مہینوں میں سے تین متصل ہیں:
-
ذوالقعدہ
-
ذوالحجہ
-
محرم اور ایک جدا ہے
-
رجب
[صراط الجنان: تحت ہذہ الآیۃ]
معلوم ہوا کہ محرم حرمت والا عظمت و شرافت والا مہینہ ہے۔ اس ماہ کی پہلی تاریخ کو اسلام کے دوسرے خلیفہ حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا وصال ہوا اس ماہ کی دسویں تاریخ یوم عاشورہ کے نام سے موسوم ہے، اس دن اللہ پاک کی بہت ساری نشانیوں کا ظہور ہوا، اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی، اسی دن قیامت کا وقوع ہو گا۔ ماہ محرم الحرام میں جہاں دیگر تاریخی و معجزاتی واقعات کی یادیں تازہ ہوتی ہیں وہیں نواسہ رسول مقبول، جگر گوشہ بتول، امام ہمام، امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ اور آپ کے رفقاء کے کربلا کا دردناک واقعہ نظروں کے سامنے ہوتا ہے جو ہمیں صبر و استقامت، عبادت و ریاضت اور خلوص و للہیت کا درس دے رہا ہوتا ہے اور واقعۂ کربلا ہمارے لیے نمونۂ زندگی ہے۔
ولادت باسعادت
سید الشہدا حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت باسعادت ہجرت کے چوتھے سال 5 شعبان المعظم کو مدینۃ المنورہ میں ہوئی۔
[فضائل امام حسین، ص: 1]
سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی نوازشات
پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو گھٹی دی، آپ کا نام ”حسین“ رکھا اور آپ کو اپنا بیٹا فرمایا۔
[مسند بزار، ج: 2، ص: 315، رقم الحدیث: 743]
حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دنبوں کے ذریعے آپ رضی اللہ عنہ کا عقیقہ فرمایا اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو آپ کا سر مونڈانے اور سر کے بالوں کے برابر چاندی صدقہ کرنے کا حکم دیا۔
[الطبقات الکبیر لابن سعد، ج: 6, ص: 355]
فضائل امام حسین رضی اللہ عنہ
-
حسنین کریمین رضی اللہ عنہما جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔ [فضائل امام حسین، ص: 4]
-
حسن و حسین رضی اللہ عنہما دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔ [شان حسنین کریمین مع عاشورہ کے فضائل، ص: 2]
-
سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اہل بیت میں آپ کو زیادہ پیارا کون ہے؟ فرمایا: حسن اور حسین، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرماتے تھے کہ میرے پاس میرے بچوں کو بلاؤ پھر انہیں سونگھتے تھے اور اپنے سے لپٹاتے تھے۔ [فضائل امام حسین، ص: 6]
-
آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض کی: اے اللہ! میں حسین سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما اور جو اس سے محبت کرے اس سے محبت فرما۔ [ترمذی، ج: 5، ص: 427، رقم الحدیث: 3794]
-
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے عرض کرنے پر آپ رضی اللہ عنہ کو اپنی وراثت سے شجاعت اور سخاوت عطا فرمائی۔ [معجم کبیر، ج: 22، ص: 423، رقم الحدیث: 1041]
مقام امام حسین رضی اللہ عنہ
ایک مرتبہ ایک جنازے میں شرکت کے بعد امام حسین رضی اللہ عنہ واپس تشریف لا رہے تھے تو آپ کو تھکاوٹ محسوس ہوئی اور آپ ایک جگہ آرام فرمانے کے لیے کچھ دیر بیٹھ گئے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی چادر سے امام حسین رضی اللہ عنہ کے مبارک پاؤں سے مٹی وغیرہ صاف کرنے لگے تو امام حسین رضی اللہ عنہ نے انہیں منع فرمایا۔ اس پر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ پاک کی قسم! آپ کی جو عظمت و شان میں جانتا ہوں اگر لوگوں کو پتا چل جائے تو وہ آپ کو اپنے کندھوں پر اٹھالیں۔
[مقام امام حسین کے واقعات، ص: 7]
ضیا پاش چہرہ مبارک
حضرت علامہ جامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حضرت امام عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شان یہ تھی کہ جب اندھیرے میں تشریف فرما ہوتے تو آپ رضی اللہ عنہ کی مبارک پیشانی اور دونوں مقدس رخسار سے انوار نکلتے اور قرب و جوار ضیا بار ہو جاتے۔
[ماخوذ از کرامات امام حسین، ص: 3]
ہم شبیہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم
آپ رضی اللہ عنہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ تھے جیسا کہ حضرت علی المرتضیٰ شیر خدا رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس کی یہ خواہش ہو کہ وہ ایسی ہستی کو دیکھے جو چہرے سے گردن تک سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ مشابہ ہو وہ حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو دیکھ لے اور جس کی یہ خواہش ہو کہ ایسی ہستی کو دیکھے جو گردن سے ٹخنے تک رنگ و جسامت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زِیادہ مشابہ ہو وہ حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو دیکھ لے۔
[معجم کبیر، ج: 3، ص: 95، رقم الحدیث: 2768]
عمر شریف
بوقت شہادت سید الشہداء، امام عالی مقام حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی عمر مبارک 56 سال پانچ ماہ پانچ دن تھی۔
[سوانح کربلا، ص: 170]
