Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

امام احمد رضا اور علم عقائد وکلام (قسط: اٹھارہویں)

امام احمد رضا اور علم عقائد و کلام
عنوان: امام احمد رضا اور علم عقائد و کلام
تحریر: فیضان المصطفیٰ قادری
پیش کش: مہر تاج
منجانب: اقراء القرآن اکیڈمی

خلافت و امامت کا بیان

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ نے حضرات خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کی خلافت اور فضیلت پر مختلف جہتوں سے مختصر اور مفصل فتاویٰ اور رسالے تصنیف فرمائے۔ اس سلسلے میں ایک اہم موضوع خلافت کا ”قریشی“ ہونا ہے۔

تحریک خلافت کے دوران، جب ترکی کی سلطنتِ عثمانیہ کو خلافت تسلیم کرنے کے حوالے سے بحثیں گرم تھیں، اعلیٰ حضرت نے دو اہم نکات پر اس تحریک کے طریقہ کار کی مخالفت فرمائی:

  • سلطنتِ عثمانیہ کی حمایت اور انگریزوں کی مخالفت میں ہندوؤں (بت پرستوں اور مشرکوں) کے ساتھ اتحاد و اشتراک کرنا شرعاً درست نہیں۔
  • سلطنتِ عثمانیہ کے سربراہ ”خلیفہ“ نہیں بلکہ بادشاہ تھے، کیونکہ خلیفہ صرف قریش سے ہی ہو سکتا ہے۔

اس پر مولانا ابوالکلام آزاد اور دیگر حضرات نے اختلاف کیا، جس کے جواب میں اعلیٰ حضرت نے ایک مفصل رسالہ ”دوام العیش بان الائمه من قریش“ تحریر فرمایا، جس میں احادیث، آثار اور تاریخی واقعات سے ثابت کیا کہ مذہبِ اہل سنت میں خلیفہ کے لیے قرشیت شرط ہے۔ آپ کے نزدیک شرعاً خلیفہ وہی ہے جس میں سات شرائط (اسلام، عقل، بلوغ، حریت، ذکورت، قدرت، قرشیت) پائی جائیں۔

خلفائے راشدین کی فضیلت و ترتیب:
آپ نے رسالہ ”عالیة التحقيق في امامة العلى والصديق“ میں یہ تحقیق پیش کی کہ جزئی جانشینی تو حضور ﷺ نے بارہا عطا فرمائی، مگر کلی جانشینی (امامتِ کبریٰ) کے لیے نام کی تصریح کے بجائے اشاراتِ نبوی کافی ہیں۔ اسی رسالے میں آپ نے یہ بھی واضح کیا کہ خلفائے راشدین کی ترتیبِ فضیلت وہی ہے جو ترتیبِ خلافت ہے۔ صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی تفضیل و تقدیم میں آپ نے ”الزلال الانقى من بحر سبقة الابقی“ جیسی گراں قدر عربی تصنیف پیش کی۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی شان میں آپ نے رسالہ ”تنزیہ المكانة الحیدریة عن وصمة عبد الجاہلیة“ تحریر فرمایا، جس میں ثابت کیا کہ آپ ہمیشہ شرک و بت پرستی سے پاک رہے، اسی لیے آپ کے نام کے ساتھ ”کرم اللہ وجہہ“ کا اضافہ کیا جاتا ہے۔

مشاجراتِ صحابہ پر موقف:
رسالہ ”امورِ عشرین در امتیاز سنین“ میں آپ فرماتے ہیں: ”جو مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضرات شیخین پر قربِ الہی میں تفضیل دے وہ گمراہ مخالفِ سنت ہے۔“ نیز جنگِ جمل و صفین کے حوالے سے آپ کا موقف یہ تھا کہ حق حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ تھا، مگر حضراتِ صحابہ کرام کی خطا، خطائے اجتہادی تھی، اس لیے ان پر طعن کرنا سخت حرام اور رفض ہے۔

اصحابِ رسول اور اہل بیتِ اطہار:
آپ رسالہ ”اعتقاد الاحباب“ میں صحابہ و اہل بیت کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں: ”صحابہ وہ مسلمان ہیں جو حالتِ اسلام میں حضور ﷺ کے چہرۂ خدا نما کی زیارت سے مشرف ہوا اور ایمان پر دنیا سے گیا۔ ان کی قدر و منزلت وہ خوب جانتا ہے جو حضور ﷺ کی عظمت سے آگاہ ہے۔ جو ان میں سے کسی پر طعن کرتا ہے، وہ اللہ و رسول کے کمال و منزلت پر حرف رکھتا ہے۔“

آپ فرماتے ہیں کہ تابعین سے لے کر قیامت تک امت کا کوئی ولی کسی بھی صحابی کے ادنیٰ رتبے کو نہیں پہنچ سکتا۔ صحابہ کے باہمی مشاجرات پر فیصلہ کرنے والے ہم کون ہیں؟ ہم ان کے معاملات پر زبان کھولنے کو حرام مانتے ہیں اور ان کے کسی بھی فعل کو حسنِ ظن کے محمل پر اتارتے ہیں۔

(جاری ہے ۔۔۔۔۔۔)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!