| عنوان: | امام احمد رضا اور علم عقائد و کلام |
|---|---|
| تحریر: | فیضان المصطفیٰ قادری |
| پیش کش: | مہر تاج |
| منجانب: | اقراء القرآن اکیڈمی |
کراماتِ اولیاء
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ اولیائے کرام سے گہری عقیدت رکھتے تھے، خصوصاً غوثِ صمدانی، محبوبِ سبحانی، شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے تو آپ عاشقِ زار اور شیدائی تھے۔ آپ نے ان کے فضائل و کمالات میں کتابیں لکھیں، فتاویٰ تحریر کیے، قصیدے نظم کیے اور جابجا ان کی کرامات کا تذکرہ کیا۔ اپنے سلسلے کے مشائخ کے علاوہ، آپ نے مشائخِ مارہرہ مطہرہ و بلگرام کے مناقب بھی تحریر فرمائے۔ اسی طرح اپنے سلسلے کے علاوہ دیگر سلاسل کے بزرگوں، بالخصوص خواجہ غریب نواز اور محبوبِ الہی رضی اللہ عنہما کی کرامات و فضائل کا ذکر بھی آپ کے فتاویٰ اور ملفوظات میں کثرت سے موجود ہے۔
اولیاء اللہ کی کرامات کا وافر تذکرہ آپ کے ”الملفوظ“ میں موجود ہے۔ ضمناً ”الامن والعلیٰ“ اور ”فقہ شہنشاہ“ میں بھی کرامات کا تذکرہ ملتا ہے۔
آپ کا رسالہ ”طرد الافاعی عن حمی ہادِ رفع الرفاعی“ خاص حضرت غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں ہے۔ اس پس منظر میں یہ رسالہ لکھا گیا کہ کسی نے حضرت غوثِ اعظم پر حضرت امام رفاعی رضی اللہ عنہما کی افضلیت کے متعلق سوال کیا تھا، جس کے جواب میں آپ نے یہ رسالہ تحریر فرمایا۔
اسی طرح رسالہ ”فتاویٰ کراماتِ غوثیہ“ حضرت غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کے فضائل میں ہے، جو فتاویٰ رضویہ مترجم جلد ۲۸ میں مطبوع ہے۔ اس میں متعدد حکایات اور وقائع ذکر کیے گئے ہیں جو حضرت غوثیت مآب رضی اللہ عنہ کی فضیلت و کرامت پر دلالت کرتے ہیں۔
البتہ بارگاہِ غوثیت مآب میں آپ نے جو منظوم خراجِ عقیدت پیش کیا ہے اس کی اپنی شان ہے، جس میں سے درجِ ذیل قصیدہ حدِ درجہ مقبول و مشہور ہوا:
واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا
اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلیٰ تیرا
(جاری ہے ۔۔۔۔۔۔)
