Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

امام احمد رضا اور علم عقائد وکلام (قسط: چودہویں)

امام احمد رضا اور علم عقائد و کلام
عنوان: امام احمد رضا اور علم عقائد و کلام
تحریر: فیضان المصطفیٰ قادری
پیش کش: مہر تاج
منجانب: اقراء القرآن اکیڈمی

نبوت کا بیان

حضور سید المرسلین محمد مصطفے ﷺ کا مقام و مرتبہ:
امام احمد رضا قدس سره العزيز رسالہ ”اعتقاد الاحباب“ میں فرماتے ہیں: ایک ذات جامع البرکات (محمد مصطفے صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) جسے (اللہ تعالیٰ نے) اپنا محبوب خاص فرمایا، مرکز دائرہ و دائرہ مرکز کاف ونون (کن) بنایا، اپنی خلافت کاملہ کا خلعت اس کے قامت موزوں پر سجایا، کہ تمام کائنات اس کے ظل ظلیل اور ذیل جلیل میں آرام کرتے ہیں، اعاظم مقربین جب تک اس مامن جہاں سے توسل نہ کریں بادشاہ تک پہنچنا ممکن نہیں، کنجیاں خزائن علم و قدرت و تدبر و تصرف کی اس کے ہاتھ میں رکھیں، علم وہ وسیع و عزیر عطا فرمایا کہ علوم اولین و آخرین اس کے بحر علوم کی نہریں یا جوشش فیوض کے چھینٹے قرار پائے، ازل سے ابد تک تمام غیب و شہادت پر اطلاع تام حاصل الا ماشاء اللہ، پھر وہ محیط کہ شش جہت اس کے حضور جہت مقابل، سمع والا کے نزدیک پانچ سو برس راہ کی صدا جیسے کان پڑی آواز ہے، اور قدرت کا تو کیا پوچھنا کہ قدرت قدیر جل جلالہ کی نمونہ و آئینہ ہے، عالم علوی وسفلی میں اس کا حکم جاری ہے۔ مردہ کو تم کہیں زندہ اور چاند کو اشارہ کریں فوراً دو پارہ ہو، جو چاہتے ہیں خدا وہی چاہتا ہے کہ یہ وہی چاہتے ہیں جو خدا چاہتا ہے، منشور خلافت مطلقہ و تفویض نام ان کے نام نامی پر پڑھا گیا، اور سکہ و خطبہ ان کا ملاء ادنی سے عالم بالا تک جاری ہوا۔ دنیا ودیں میں جو جسے ملتا ہے ان کی بارگاہ عرش اشتباہ سے ملتا ہے۔ سب اُن کے محتاج اور وہ خدا کے محتاج، اعنی سید المرسلین خاتم النبيين رحمة للعلمين شفیع المذنبين، حاش اللہ کہ عینیت یا مثلیت کا گمان کافر کے سوا مسلمان کو ہو سکے، خزانہ قدرت میں ممکن کے لیے جو کمالات متصور تھے سب پائے، مگر دائرہ عبدیت وافتقار سے قدم نہ بڑھا، نہ بڑھاسکے، العظمة الله، خدائے تعالی سے ذات وصفات میں مشابہت کیسی! نعمائے خداوندی کے لائق جو شکر وثنا ہے اسے پورا پورا بجا نہ لا سکے، نہ ممکن کہ بجالائیں، دیدار الہی بچشم سر دیکھا، کلام الہی بے واسطہ سنا، عبادت ان کی کفر اور بے اُن کی تعظیم کے حبط، ایمان ان کی محبت و تعظیم کا نام، اور مسلمان وہ جس کا کام ہے نام خدا کے ساتھ ان کے نام پر تمام۔ (ملتقطاً رساله اعتقاد الاحباب، فتاوی رضویہ جلد ۲۹ صفحه ۳۴۵ تا ۳۵۱)

دیگر انبیا و مرسلین کا مقام و مرتبہ:
اسی ”اعتقاد الاحباب“ میں عقیدہ ثالثہ میں باقی انبیائے کرام کے متعلق فرماتے ہیں: اس جناب کے بعد مرتبہ اور انبیاء مرسلین کا ہے، کہ باہم اُن میں تفاضل، مگر اُن کا غیر گوکسی مرتبہ ولایت تک پہنچے فرشتہ ہو خواہ آدمی، صحابی ہو خواہ اہل بیت، ان کے درجے تک وصول محال۔ اور جیسے یہ خدا کے محبوب دوسرا ہر گز نہیں، کہ اللہ تعالیٰ خود ان کے مولیٰ کو حکم فرماتا ہے: أُولئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهُ ان کی ادنی توہین مثل سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کفر قطعی۔ (ملتقطاً رساله اعتقاد الاحباب، فتاوی رضویہ جلد ۲۹ صفحه ۳۵۱ تا ۳۵۲)

ان مذکورہ عقائد میں کچھ خاص امور پر مستقل رسالے تصنیف فرمائے، مثلاً حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی وسعت علمی پر کئی رسالے ہیں، عرش تک رسائی اور دیدار الہی کے متعلق مستقل رسالہ لکھا، نور محمدی سے متعلق مستقل رسالہ ہے، سایہ نہ ہونے سے متعلق تین رسالے ہیں۔ ہم ذیل میں کچھ تفصیل عرض کرتے ہیں:

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت:
ختم نبوت کا مسئلہ ضروریات دین سے ہے، جس کا انکار کفر ہے، اور یہ آیت کریمہ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنُ سے ثابت ہے۔ اس مسئلے پر اعلیٰ حضرت نے کافی کام کیا ہے، اس کی وجہ دیوبند سے قاسم نانوتوی کی ختم نبوت کی نئی تشریح اور قادیان سے مرزا غلام کا دعویٰ نبوت ہے۔ اس موضوع پر ایک مستقل رسالہ تحریر فرمایا جس کا نام ”جزاء الله عدوه بآبانه ختم النبوة“ ہے۔ یہ رسالہ بہت مفصل ہے جس میں حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر انبیائے کرام و علمائے کتب سابقہ، واعاظم اکابر امت کے اقوال درج فرمائے اور کثیر روایات واقوال و وجوہ سے حضور اقدس علیہ الصلاۃ والسلام کا آخری نبی ہونا ثابت کیا، کہ ان کے بعد اب کسی نبی کا آنا ممکن نہیں۔ نیز اس رسالے میں جھوٹے مدعیان نبوت کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ دوسرا رسالہ ”السوء والعقاب علی المسیح الکذاب“ ہے جس میں مرزا غلام قادیانی کے دس کفریات شمار کر کے اس پر حکم واضح کیا گیا ہے۔ تیسرا رسالہ ”قہر الدیان علی مرتد بقادیان“ ہے جس میں قادیانی کی طرف سے ایک مضمون ”اطلاع ضروری“ کا جواب ہے، جس میں قادیانی کی حضرت عیسی علیہ السلام کو ۴۴ گالیاں شمار کرائی گئی ہیں اور اس کو مناظرے کا چیلنج کیا گیا ہے۔ چوتھا رسالہ ”الجراز الدیانی علی المرتد القادیانی“، جس میں اس دعوی کا رد کیا گیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام وفات پاچکے ہیں۔ یہ چاروں رسالے فتاوی رضویہ مترجم جلد ۱۵ میں موجود ہیں۔

محبت و تعظیم رسول عليه الصلاة والسلام:
تعلیمات رضا کا سب سے اہم باب یہ ہے کہ محبت رسول دین کا رکن عظیم ہے، جس کے بغیر دین و ایمان مکمل نہیں ہو سکتا، بلکہ حب رسول ہی اصل ایمان ہے۔ اعلیٰ حضرت قدس سرہ کی کتاب زندگی میں عشق رسول کا باب دیگر سارے ابواب پر غالب ہے، آپ نے اپنے فتاوی اور منظوم کلام کے ذریعہ قوم کے افراد میں حب رسول کا چراغ روشن کیا ہے اس سے انکار ممکن نہیں ہے۔ آپ کے فتاوی ورسائل میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمتوں اور فضیلتوں پر جس قدر مواد موجود ہے وہ اصل میں عشق رسالت کا ہی نتیجہ ہے۔ اسی حب رسول کے سبب جب آپ نے دیکھا کہ چند علمائے دیوبند نے شان رسالت میں گستاخی کی تو اولاً مراسلت اور مناظرہ کے ذریعہ تفہیم کی کوشش کی، جب کوششیں ناکام ہوئیں اور وجوہ توہین خوب واضح تھیں تو آپ نے ان کی تکفیر کی۔ ”تمہید ایمان بآیات فرقان“ اسی سلسلے کی تحریر ہے، جس کا آغاز اعلیٰ حضرت ان جملوں سے فرماتے ہیں: "مسلمان بھائیوں سے عاجزانہ دست بستہ عرض" پھر جو پیغام دیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ: اللہ و رسول پر ایمان لائیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کریں، کہ ان کی تعظیم مدار ایمان، مدار نجات، مدار قبول اعمال ہے۔ ان کی محبت کو تمام جہاں پر مقدم رکھے جس کی آزمائش کا طریقہ یہ ہے کہ باپ بھائی استاد پیر احباب کتنی ہی دوستی اور کتنی ہی عقیدت کا علاقہ کیوں نہ ہو جب وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کریں تو تمہارے قلب میں ان کی عظمت اور محبت کا نام ونشان نہ رہے ان سے الگ ہو جاؤ دودھ سے مکھی کی طرح نکال پھینکو۔ اس کے بعد دیوبندیہ وہابیہ کی چند عبارتیں درج کیں کہ انھوں نے شان رسالت میں گستاخی کی، ان سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں: مسلمانو! تمہارا یہ ذلیل خیر خواہ امید کرتا ہے کہ اللہ واحد قہار کی ان آیات اور اس بیان شافی واضح البینات کے بعد اس بارہ میں آپ سے زیادہ عرض کی حاجت نہ ہو۔ قرآنی آیات سے استدلال کرتے ہوئے شان رسالت میں گستاخی کرنے والوں سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں، پھر تکفیر کے اصول کے متعلق بڑی تفصیل سے بحث کی ہے۔

حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا افضل المرسلین ہونا:
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا تمام انبیائے کرام سے افضل ہونے کے موضوع پر آپ نے ۱۳۰۵ھ میں ایک مستقل کتاب تصنیف کی ہے جس کا نام ہے: ”تجلی الیقین بان نبینا سید المرسلین“۔ جس میں ثابت کیا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا افضل المرسلین وسید الاولین والآخرین ہونا قطعی ایمانی اجماعی مسئلہ ہے جس کا خلاف کرنے والا گمراہ ہے۔ اس کے اثبات کے لیے اس رسالے کو دو ہیکل پر مشتمل رکھا، اول میں آیات کریمہ، دوم میں احادیث کریمہ جس کو چار تابشوں پر مشتمل رکھا۔ یہ رسالہ فتاوی رضویہ مترجم جلد ۳۰ میں مطبوع ہے۔

شفاعت رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مقام شفاعت کبری ثابت ہے اور خاص اس مسئلے پر آپ نے ایک رسالہ ”اسماع الاربعین في شفاعة سيد المحبوبین“ تصنیف فرمایا جس میں پانچ آیتیں اور چالیس احادیث طیبہ سے اس مسئلہ کو خوب واضح فرمادیا۔ اس کے علاوہ اسی موضوع پر رسالہ ”سمع و طاعة لاحادیث الشفاعة“ تصنیف کیا جس میں کثیر حدیثیں نقل کیں۔

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے علم غیب کا ثبوت:
اس مسئلے میں اعلیٰ حضرت کے دور میں وہابیہ کی طرف سے اختلافات سامنے آئے جس کے سبب کئی رسالے تصنیف فرمائے، جن میں: ”خالص الاعتقاد“، ”انباء المصطفى بحال سر واخفی“، ”ازاحة العيب بسيف الغيب“، ”اللؤلؤ المكنون في علم البشير ماکان و ما یکون“ ہیں، ایک رسالہ ”انباء الحي بان کلامه المصون بیان لکل شئ“ بھی تصنیف فرمایا، جس میں ثابت کیا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو علوم خمسہ عطا کیے گئے۔ ”الدولة المكية بالمادة الغيبية“ اس مسئلہ پر سب سے جامع اور کامل رسالہ ہے جو عربی زبان میں ہے، جسے ایک سوال کے جواب میں نہایت مختصر وقت میں (چند گھنٹوں میں) مکہ مکرمہ میں تصنیف فرمایا۔

عرش تک رسائی اور دیدار الہی کی سعادت:
اس مسئلے پر ایک مستقل رسالہ ”منبه المنية بوصول الحبيب الى العرش والرؤية“ تحریر فرمایا جو فتاوی رضویہ جلد ۳۰ میں مطبوع ہے۔ آپ سے سوال ہوا کہ کیا شب معراج حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ تعالیٰ کا دیدار کرنا اور عرش تک جانا ثابت ہے؟ اعلیٰ حضرت نے احادیث مرفوعہ اور کثیر آثار صحابہ و تابعین سے ثابت کیا کہ حضور ﷺ نے اپنے رب کا دیدار کیا اور جسم مبارک سے منتہائے عرش تک تشریف لے گئے اور روح اقدس نے وراء الوراء تک ترقی فرمائی۔

حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اختیارات:
اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کریم علیہ الصلاۃ والسلام کو دنیا و آخرت کے وسیع اختیارات عطا فرمائے ہیں۔ اس موضوع پر ایک رسالہ ”فقہ شہنشاہ وان القلوب بیدا محبوب بعطاء اللہ“ ہے جو ۱۳۲۶ھ میں تصنیف ہوا۔ دوسرے رسالے ”سلطنة المصطفے فی ملکوت کل الوریٰ“ اور ”منية اللبيب بان التشريع بيد الحبیب“ میں بھی ان اختیارات کا شافی بیان ہے۔

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو دافع البلا ماننا کیسا ہے؟:
اس موضوع پر ایک مستقل کتاب ”الامن والعلى الناعتي المصطفى بدافع البلاء“ ہے۔ اس میں اسناد حقیقی اور مجازی کی بحث سے ثابت کیا کہ حقیقی عطائی اور مجازی معنی میں حضور ﷺ کو دافع البلا ماننا اور کہنا شرک نہیں، بلکہ کثیر آیات و احادیث سے ثابت ہے۔ یہ کتاب فتاوی رضویہ مترجم کی تیسویں جلد میں مطبوع ہے۔

حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ندا دینا درست ہے:
اس مسئلے پر ایک رسالہ ”انوار الانتباہ فی حل نداء یا رسول اللہ“ فتاوی رضویہ جلد ۲۹ میں موجود ہے۔ انبیا و اولیا کی ارواح سے استمداد کے جواز پر ”بركات الامداد لاهل الاستمداد“ اور ”الاهلال بفیض الاولیاء بعد الوصال“ تصنیف فرمائے۔

نور محمدی علی صاحبہ الصلاۃ والسلام کی حقیقت:
نور محمدی نور خدا سے پیدا ہوا۔ اس پر وہابیہ کا اعتراض کہ اس سے نور الہی کا ٹکڑا جدا ہونا لازم آیا، کا جواب دیا کہ ذاتِ الہی سے انفکاک کا عقیدہ باطل ہے اور جزء ماننا کفر ہے۔ نورِ ذاتی سے پیدا ہونے کا معنی یہی ہے کہ اپنی ذات سے بلا واسطہ پیدا فرمایا۔ اس پر مستقل رسالہ ”صلات الصفا في نور المصطفى“ لکھا۔ حضرت جابر کی مشہور حدیثِ نور بھی اسی میں تفصیلاً پیش فرمائی ہے۔

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سایہ تھا یا نہیں؟:
اس کے جواب میں تین رسالے تحریر فرمائے: ”نفي الفئ عمن استنار بنوره كل شئ“، ”قمر التمام في نفي الظل عن سيد الانام“، ”هدي الحيران في نفي الفئ عن سيد الأكوان“۔ ان میں احادیث، اقوال صحابہ، تابعین اور علمائے سیرت کی تصریحات سے ثابت کیا کہ حضور ﷺ سراپا نور تھے اور آپ کا سایہ مبارک زمین پر نہ پڑتا تھا۔

حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والدین کریمین کے ایمان کا بیان:
اس موضوع پر رسالہ ”شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام“ لکھا، جس میں ثابت کیا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین کریمین حضرت عبداللہ و حضرت آمنہ سے لے کر حضرت آدم علیہ السلام تک سب صاحب ایمان ہیں یا کم از کم اصحابِ توحید سے تھے، اور شرک پر موت نہیں ہوئی۔

(جاری ہے ۔۔۔۔۔۔)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!