Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

امام احمد رضا اور علم عقائد وکلام (قسط: ہفتم)

امام احمد رضا اور علم عقائد و کلام
عنوان: امام احمد رضا اور علم عقائد و کلام
تحریر: فیضان المصطفیٰ قادری
پیش کش: مہر تاج
منجانب: اقراء القرآن اکیڈمی

فلاسفہ کی گمراہیوں کا رد

فلسفہ کے گمراہ کن نظریات کے رد میں 1338ھ میں ایک مستقل رسالہ تصنیف فرمایا، جس کا نام ہے: ”الکلمۃ الملہمۃ فی الحکمۃ المحکمۃ لوہاء الفلسفۃ المسلمۃ“۔ اس میں فلاسفہ کے نظریات کے رد کو اکتیس حصوں پر تقسیم کیا، اور ہر ایک میں ان کے نظریات کو بیان کر کے عقلی دلائل سے ان کا تفصیلی رد کیا۔ ان میں سے تین اہم مقامات درج ذیل ہیں جن کا تعلق علمِ کلام سے ہے:

مقامِ اول میں یہ ثابت کیا کہ اللہ عزوجل فاعلِ مختار ہے اور یہ بدیہیات سے ہے، پھر اس تعلق سے فلاسفہ کے نظریات درج کر کے ان پر ایرادات قائم کیے اور ان کے مفاسد کو دلائل سے واضح کیا۔

مقامِ دوم میں فرمایا کہ اللہ واحدِ قہار ہی جملہ عالم کا خالق ہے، عقول وغیرہ خالقیت میں اس کے شریک نہیں، نہ ہی تخلیق میں واسطہ ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ”قُلِ اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ“ [سورۃ الرعد: 16]۔ مگر فلاسفہ اس خلاقِ عالم کو صرف ایک عقلِ اول کا خالق جانتے ہیں، اور باقی تمام جہاں کی خالقیت عقول کے سر منڈھتے ہیں۔ اعلیٰ حضرت نے فلاسفہ کے اس قول ”الواحد لا یصدر عنہ الا الواحد“ (یعنی واحدِ محض سے ایک ہی شے صادر ہو سکتی ہے) کے تار و پود بکھیر دیے اور دلائل سے ثابت کیا کہ یہ اصول ان کے اپنے ہی عقائد پر منطبق نہیں ہوتا۔

جزء الذی لا یتجزی (ایٹم) کا مسئلہ

فلاسفہ اس کے ابطال پر دلائل دیتے ہیں، مگر امام احمد رضا نے اس مقام پر فلاسفہ کی تمام حجتیں اور ہندی برہانیں پادر ہوا کر دیں۔ اس بحث کو چار مواقف میں تقسیم کیا:

  1. موقف اول: اعلیٰ حضرت نے اپنے موقف میں فرمایا کہ ہمارے نزدیک ”جزء الذی لا یتجزی“ باطل نہیں، لیکن دو جزؤں کا اتصال محال ہے، اور ہمارا مقصود ہیولیٰ (Materia Prima) کا ابطال ہے جس کی ظلمتیں قدمِ عالم جیسی کفریات لاتی ہیں۔

  2. موقف دوم: اس کے اثبات کی حاجت نہیں بلکہ اس کا امکان کافی ہے۔ ہاں اس کا ثبوت قرآنِ مجید سے دیا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ”وَمَزَّقْنَاهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ“ [سورۃ سبا: 19]۔

  3. موقف سوم: جزء الذی لا یتجزی کے ابطال پر فلاسفہ نے جتنی دلیلیں دیں، اعلیٰ حضرت نے 29 شبہات کے نام سے بیان کر کے ان تمام کو رد کیا اور فرمایا کہ جو ہمارے طریقہ کو سمجھ گیا ہے وہ ان شبہات کو ”ہباءً منثوراً“ (بکھری ہوئی دھول) کر سکتا ہے۔

  4. موقف چہارم: ترکیبِ جسم کے متعلق فرمایا کہ جزء لا یتجزی ممکن بلکہ واقع ہے اور اس سے جسم کی ترکیب بھی ممکن ہے، مگر یہ کلیہ نہیں کہ اس طرح کے اجسام میں تماس ناممکن ہو۔

فلاسفہ کے دیگر کفریات کا رد

ایک صاحب نے ”المنطق الجدید لناطق الہٰ لہ الحدید“ کے نام سے کتاب لکھی جس میں کثیر نظریاتِ فلاسفہ ذکر کیے گئے جن سے اسلامیات کا رد لازم آتا ہے۔ اعلیٰ حضرت نے اس کا مفصل رد ”مقامع الحدید علی خد المنطق الجدید“ کے نام سے لکھا۔ اس میں آپ نے ان تمام اقوال کو دلائل سے رد کیا، مثلاً:

اللہ تعالیٰ کو مادیات کے تصرف و تدبیر سے بے علاقہ ماننا کفر ہے۔ ہیولیٰ، صورتِ جسمیہ، نوعیہ اور عقولِ عشرہ کو قدیم زمانی ماننا صریح گمراہی ہے۔ کلی طبعی کے موجود فی الخارج ہونے کے قائل ہونا تمام انواع کا قدیم ہونا لازم لاتا ہے جو باطل ہے۔ عقولِ عشرہ کو نقائص سے منزہ اور علم کا محیطِ تامہ ماننا خاص صفتِ الٰہیہ میں شرک ہے۔ اسی طرح ”عدمِ زمانی“ کے متعلق ان کے نظریات کو نصوصِ قرآنیہ کا صریح خلاف قرار دیا۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!