Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

امام احمد رضا اور علم عقائد وکلام (قسط: سولہویں)

امام احمد رضا اور علم عقائد و کلام
عنوان: امام احمد رضا اور علم عقائد و کلام
تحریر: فیضان المصطفیٰ قادری
پیش کش: مہر تاج
منجانب: اقراء القرآن اکیڈمی

سماع موتی کی بحث

حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے اختتام پر جب مشرکین مکہ کی لاشیں بدر کے کنویں میں ڈال دی گئیں تو اس کی منڈیر پر آکر ایک ایک کا نام لے کر یوں خطاب فرمایا: ”فإنا قد وجدنا ما وعدنا ربنا حقاً فهل وجدتم ما وعد ربكم حقاً“ (یعنی: بیشک ہم نے جو ہمارے رب نے ہمیں وعدہ دیا اسے سچا پایا، تو کیا تمہارے رب نے جو وعدہ دیا تم نے اسے سچا پایا؟)۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: حضور! کیا آپ مردوں سے خطاب کرتے ہیں؟ ارشاد ہوا تم ان سے زیادہ نہیں سنتے، (ما انتم باسمع لما أقول منهم) (رقم الحديث ٣٩٧٦)۔

یہیں سے سماع موتی کی بحث شروع ہوئی۔ اہل سنت نے اس کے اثبات میں اسی حدیث کو بطور اصل اور سیکڑوں روایتیں پیش کیں، جبکہ منکرین—جن میں پہلے معتزلہ اور اب وہابیہ ہیں—نے آیت قرآنی: إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءَ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِين (النمل ۸۰) سے استدلال کیا۔ ان کے استدلال کو ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے اس قول سے تقویت ملی جس میں انھوں نے بظاہر اسی آیت کریمہ سے قلیب بدر کے مذکورہ بيان (ما انتم باسمع لما أقول منهم) کو رد کیا، مگر جمہور اہل علم نے ان کے رد کی تاویل کی۔

امام احمد رضا نے اس بحث کو ہاتھ لگایا تو اہل سنت کے مذہب کو دلائل و شواہد سے اس عروج تک پہنچایا جس کے بعد مزید کی گنجائش محسوس نہیں ہوتی، اور اپنی تحقیقات انیقہ سے منکرین کے تمام شکوک و شبہات کو دفع کر دیا۔ چنانچہ اس مسئلے میں عقیدہ اہل سنت ایک سطر میں یوں تحریر فرماتے ہیں:
”عام اموات احیا کو دیکھتے ، ان کا کلام سنتے سمجھتے ہیں، سماع موتی حق ہے، پھر اولیا کی شان تو ارفع و اعلیٰ ہے۔“ (رسالہ امور عشرین، فتاوی رضویه ۲۹ صفحه ۶۱۶)

اور ۱۳۰۵ھ میں خاص اسی مسئلے پر آپ نے ایک مستقل رسالہ تصنیف فرمایا جس کا نام ہے: ”حياة الموات فی بیان سماع الاموات“۔ اس رسالے کے متعلق خود فرماتے ہیں:
”یہ عجالہ نہ صرف علم و سماع موتی کا ثبوت دے گا بلکہ بحول الله تعالی خوب واضح کرے گا کہ حضرات اولیا بعد الوصال زندہ اور ان کے تصرف و کرامات پایندہ اور اُن کے فیض بدستور جاری، اور ہم غلاموں خادموں محبوں معتقدوں کے ساتھ وہی امداد واعانت دیاری۔“ (فتاوی رضویہ ۶۷۶/۹)

حياة الموات فی بیان سماع الاموات کا خلاصہ:
اس رسالہ کو ایک مقدمہ، تین مقاصد اور ایک خاتمہ پر ترتیب دیا۔ پہلے مقصد میں اعتراضات ذکر کر کے ان کا ازالہ کیا، یہ حصہ اس کتاب کی شان بان ہے، سماع موتی کے مسئلے میں منکرین کے دلائل کا اس قدر جامع اور شافی جواب اسی کا خاصہ ہے اور اس سلسلے میں اتنی تحقیقات یکجا کہیں اور نہ ملیں گی۔ ہم اسی حصے سے دو تین باتیں عرض کرتے ہیں:

منکرین کے استدلال کا پہلا جواب:
منکرین سماع موتی کا استدلال آیت کریمہ: إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى سے ہے، اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ آیت کا صریح منطوق نفی ”اسماع“ ہے، نہ نفی ”سماع“، پھر اسے محل نزاع سے کیا علاقہ؟ اس کی مثال آیت کریمہ: إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ، اسی لیے جس طرح وہاں فرمایا: وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ (یعنی لوگوں کا ہدایت پانا نبی کی طرف سے نہیں خدا کی طرف سے ہے)، یونہی یہاں بھی ارشاد ہوا: إِنَّ اللَّهَ يُسْمِعُ مَنْ يَشَاءُ۔ وہی حاصل ہوا کہ اہل قبور کا سننا تمہاری طرف سے نہیں، اللہ عز وجل کی طرف سے ہے۔

دوسرا جواب:
نفی سماع ہی مراد ہو تو یہاں سماع سے مراد قطعاً ”سماع قبول“ اور ”سماع انتفاع“ ہے۔ باپ اپنے نافرمان بیٹے کے متعلق ہزار بار کہتا ہے: ”وہ میری بات نہیں سنتا“ کسی کے نزدیک یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اس کے کان تک آواز نہیں جاتی۔ بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ سنتا تو ہے، مانتا نہیں۔ اور یہاں کفار سے ”سماع قبول“ ہی کا انتفا ہے نہ کہ اصل سماع کا۔

تیسرا جواب:
مانا کہ اصل سماع ہی کی نفی ہے، مگر کس سے؟ موتی سے۔ موتی کون ہیں؟ ابدان، کہ روح تو کبھی نہیں مرتی، اہل سنت کا یہی مذہب ہے۔ ہاں کس سے نفی فرمائی؟ ”من فی القبور“ سے، جو قبر میں ہے، قبر میں کون ہے؟ جسم، کہ روحیں تو علیین یا جنت یا آسمان یا چاہ زمزم وغیرہا میں ہیں۔ جس طرح ارواح کفار سجین یا نار یا چاہ وادی برہوت وغیر ہا میں۔

”مقصد ثانی“ میں ساٹھ احادیث طیبہ سے سماع و ادارک موتی ثابت کیا، پھر ”مقصد ثالث“ میں ۱۷۵ علمائے کرام کے نام ذکر کیے جو سماع موتی کے قائل ہیں۔ اس کے بعد اپنے موقف کی تائید میں دوسو علمائے امت کے اقوال اور عبارات نقل کیں۔ پھر وہابیہ ہند کے اسکات والزام کے طور پر خاندان ولی اللہی کے بزرگوں کے ۱۰۵ اقوال ذکر کیے جن سے سماع موتی کا ثبوت ہوتا ہے۔ خاتمہ میں علمائے عرب کا فتویٰ اور آخر میں ایک جگہ فرمایا کہ سماع موتی کا انکار گمراہی ہے۔ یہ رسالہ فتاوی رضویہ جلد ۹ صفحہ ۶۷۵ سے ۸۳۶ تک پھیلا ہوا ہے۔

اسی مسئلے و موضوع پر ۱۳۱۶ھ میں ایک اور رسالہ تحریر فرمایا جس کا نام ہے ”الوفاق المتین بین سماع الدفين وجواب الیمین“۔ وہ بھی فتاوی رضویہ مترجم کی نویں جلد میں مطبوع ہے۔

ارواح کا زندہ رہنا اور گھروں پر آنا:
اسی سے متعلق ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ کیا انسان کی موت کے بعد اس کی روح مر جاتی ہے یا باقی رہتی ہے؟ اور کیا مرنے کے بعد روح آزاد ہو کر جہاں چاہتی ہے جاتی ہے؟ اپنے گھروں کو بھی آتی ہے؟ یہ مسئلہ پہلے مسئلے کی اصل ہے، کیونکہ سماع و ادراک، جسم کا نہیں روح کا کام ہے، انسان کے مرنے کے بعد اس کی روح نہیں مرتی، بلکہ باقی رہتی ہے، اور روح باقی تو یہ سارے کام باقی، اور جولوگ مرنے کے بعد روح کے فنا ہونے کے قائل ہیں وہ سماع و ادراک کا بھی انکار کرتے ہیں۔

فتاوی رضویه شریف میں ایک جگہ فرماتے ہیں:
”موت فنائے روح نہیں ، بلکہ وہ جسم سے روح کا جدا ہونا ہے، روح ہمیشہ زندہ رہتی ہے، حدیث میں ہے: انما خُلِقْتُم للابد“ (فتاوی رضویه ۶۵۷/۹)

اسی میں دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:
”ارواح کفار کا آنا کیوں کر ہو سکتا ہے، وہ محبوس و مقید ہیں۔ اور روح مومنین کی نسبت حدیث میں ارشاد ہوا: اذا مات المؤمن يخلى سربه حيث شاء یعنی اس کی راہ کھول دی جاتی ہے جہاں چاہے جاتی ہے۔ جہاں چاہے میں گھر بھی داخل ہے، اور بارہا ارواح صالحین کا اپنے اور اپنے متعلقین کے گھر آنا اور مدد کرنا ثابت ہے۔“ (فتاوی رضویہ ۲۹ صفحہ ۶۳۱)

اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے ۱۳۲۱ھ میں اسی موضوع پر ایک رساله ”اتيان الارواح لديارهم بعد الرواح“ تحریر فرمایا، جس میں ثابت کیا کہ ارواح مومنین مختلف ایام میں اپنے گھروں کو آتی ہیں، اور یہ ایسی روایتوں سے ثابت ہے جن میں صحاح، حسان اور ضعاف سب ہیں۔ ایک روایت میں یوں ہے: فاذا مات المومن يُخلى به يسرح حيث شاء۔ ہاں کفار کی ارواح سجین میں مقید ہوتی ہیں۔ اور ایک روایت میں حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب عید یا جمعہ یا عاشورے کا دن یا شب برات ہوتی ہے اموات کی روحیں آکر اپنے گھروں کے دروازوں پر کھڑی ہوتی ہیں اور کہتی ہیں: ہے کوئی کہ ہمیں یاد کرے، ہے کوئی کہ ہم پر رحم کرے، ہے کوئی کہ ہماری غربت کو یاد کرے۔

اسی طرح متعدد روایتیں درج کرنے کے بعد خلیل احمد انبیٹھوی کی کتاب ”براہین قاطعہ“ کا رد فرمایا، اس کی عبارت یہ ہے: ”ارواح کا اپنے گھر آنا یہ مسئلہ عقائد کا ہے اس میں مشہور و متواتر صحاح کی حاجت ہے، قطعیات کا اعتبار ہے، نہ ظنیات صحاح کا۔“ اس کا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”بالجملہ یہ مسئلہ نہ باب عقائد سے ہے نہ باب حلال و حرام سے، اسے جتنا ماننا چاہیے اس کے لیے اتنی سندیں کافی ووافی، منکر اگر صرف انکار یقین کرے یعنی اس پر جزم و یقین نہیں تو ٹھیک ہے، اور عامہ مسائل سیر و مغازی و اخبار و فضائل ایسے ہی ہوتے ہیں، اس کے باعث وہ مردود نہیں قرار پاسکتے، اور اگر دعوی نفی کرے، یعنی کہے: مجھے معلوم و ثابت ہے کہ روحیں نہیں آتیں، تو جھوٹا کذاب ہے۔“
(فتاوی رضویہ جلد ۹ صفحه ۶۴۹ تا ۶۵۶ ملخصا رساله اتیان الارواح)

(جاری ہے ۔۔۔۔۔۔)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!