Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

امام احمد رضا اور علم حدیث (قسط: ششم)|فیضان المصطفیٰ قادری

امام احمد رضا اور علوم حدیث (قسط: ششم)
عنوان: امام احمد رضا اور علوم حدیث (قسط: ششم)
تحریر: فیضان المصطفیٰ قادری
پیش کش: فاطمہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قُدِّسَ سِرُّهُ الْعَزِيْز کی عبقری اور عظیم المرتبت شخصیت پچاس سے زیادہ علوم وفنون کی حامل تھی، اس پر آج بھی ان کی تصانیف شاہدِ عادل ہیں، وہ کون سا علم وفن تھا جس میں آپ نے اپنی یادگار تصانیف نہیں چھوڑیں، بارہ ضخیم جلدوں میں اَلْفَتَاوَى الرَّضَوِيَّة ان کا ایسا فقید المثال تحقیقی کارنامہ ہے جس کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ان فتاویٰ کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ یہ کتنے علوم پر مشتمل ہیں اور اَلْفَتَاوَى الرَّضَوِيَّة جلد اول تو اپنی مثال آپ ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آپ کے تفقہ فی الدین کے قائل صرف معتقدین و متوسلین ہی نہیں بلکہ مسلکی اختلاف رکھنے والے بھی اس بات کے معترف ہیں کہ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ علم فقہ میں ایک کوہِ گراں تھے اور میدانِ فقاہت میں آپ کی مجتہدانہ شان تھی۔

حکیم عبدالحی لکھنوی صاحب لکھتے ہیں:

ان (امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے زمانہ میں فقہ حنفی اور اس کی جزئیات پر آگاہی میں شاید ہی کوئی ان کا ہم پلہ ہو، اس حقیقت پر ان کے فتاویٰ اور ان کی کتاب “كِفْلُ الْفَقِيْه” شاہد ہے جو انہوں نے ۱۳۲۳ھ میں مکہ معظمہ میں لکھی [۱]

لیکن اپنے والد گرامی کے اس اعتراف کے بعد بھی ان کے بیٹے مولوی ابوالحسن علی میاں ندوی نے نہایت متعصبانہ لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے قوسین میں اس عبارت کا بے بنیاد اضافہ کر ڈالا۔

كَانَ قَلِيْلَ الْبِضَاعَةِ فِي الْحَدِيْثِ وَالتَّفْسِيْرِ [۲]

اسی طرح أَنْوَارُ الْبَارِي شَرْح صَحِيْح بُخَارِي کے مقدمہ میں مولوی احمد رضا بجنوری نے بھی آپ کو فقیہ تسلیم کیا، لیکن ساتھ ہی حدیث میں ضعیف قرار دیا۔

حالانکہ یہ سب باتیں بے بنیاد اور آپ کی تصانیف سے عدم واقعیت کا نتیجہ ہیں، حقیقت یہ ہے کہ دیگر علوم وفنون میں تبحر حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ علم حدیث میں بھی آپ کا مقام و مرتبہ نہایت بلند تھا۔ جیسا کہ آپ کی تصانیف سے ظاہر ہے، چشم بینا ہو تو آپ کی تصانیف میں آپ کے تبحر فی علم الحدیث کی کثیر مثالیں مل جائیں گی بلکہ آپ کو علم فقہ میں فقید المثال تسلیم کر لینے کے بعد تو یہ بات بھی ناقابلِ انکار حقیقت بن جاتی ہے کہ آپ جب عظیم فقیہ ہیں تو بلا شبہ عدیم النظیر محدث بھی کہ فقیہ کے لئے علم حدیث میں تبحر لازمی اور لازمی چیز ہے۔

اس مختصر مقالہ میں راقم نے اہل علم اور صاحبِ نظر حضرات کے لیے اس بات کا وافر ثبوت فراہم کیا ہے کہ بلا شبہ امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ علم حدیث میں ہر حیثیت سے یگانۂ روزگار اور اپنی مثال آپ تھے۔

محدثِ اعظم ہند حضرت سید محمد اشرفی کچھوچھوی بیان فرماتے ہیں کہ میں نے استاذِ محترم عمدۃ المحدثین حافظِ بخاری حضرت علامہ شاہ وصی احمد صاحب محدث سورتی رحمۃ اللہ علیہ سے معلوم کیا کہ علم حدیث میں امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کا کیا مرتبہ ہے؟ تو آپ نے فرمایا:

وہ اس وقت امیر المؤمنین فی الحدیث ہیں پھر فرمایا: صاحبزادے! اس کا مطلب سمجھا؟ یعنی اگر میں اس فن میں عمر بھر ان کا تلمذ کروں تو بھی ان کے پاسنگ کو نہ پہنچوں میں نے کہا سچ ہے۔

ولی را ولی شناسد و عالم را عالم می داند [۳]

خود محدثِ اعظم کچھوچھوی فرماتے ہیں:

علم الحدیث کا اندازہ اس سے کیجیے کہ جتنی حدیثیں فقہ حنفی کی ماخذ ہیں، ہر وقت پیشِ نظر، اور جن حدیثوں سے فقہ حنفی پر بظاہر زدپڑتی ہے اس کی روایت ودرایت کی خامیاں ہر وقت ازبر، علم حدیث میں سب سے نازک شعبہ علم اسماء الرجال کا ہے، اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے کوئی سند پڑھی جاتی اور راویوں کے بارے میں دریافت کیا جاتا تو ہر راوی کی جرح وتعدیل کے جو الفاظ فرما دیتے، اٹھا کر دیکھا جاتا تو تَقْرِيْب و تَهْذِيْب اور تَهْذِيْب میں وہی لفظ مل جاتا۔ اس کو کہتے ہیں علم راسخ اور علم سے شغف کامل اور علمی مطالعہ کی وسعت [۴]

امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ سے ایک مرتبہ سوال ہوا کہ آپ نے حدیث کی کون کون سی کتابیں درس کی ہیں؟ تو آپ نے فرمایا:

مُسْنَدُ الْإِمَامِ الْأَعْظَم، مُوَطَّأُ الْإِمَامِ مُحَمَّد، كِتَابُ الْآثَار، كِتَابُ الْخَرَاج، كِتَابُ الْحَجّ، شَرْحُ مَعَانِي الْآثَار، مُوَطَّأُ الْإِمَامِ مَالِك، مُسْنَدُ الْإِمَامِ الشَّافِعِي، مُسْنَدُ الْإِمَامِ أَحْمَد، سُنَنُ الدَّارِمِي، بُخَارِي، مُسْلِم، أَبُوْ دَاوُد، تِرْمِذِي، نَسَائِي، اِبْنِ مَاجَه، خَصَائِصُ النَّسَائِي، مُنْتَهَى الْجَارُوْد، عِلَلٌ مُتَنَاهِيَة، مِشْكَاة، جَامِعٌ كَبِيْر، جَامِعٌ صَغِيْر، مُنْتَقَى ابْنِ تَيْمِيَّة، بُلُوْغُ الْمَرَام، عَمَلُ الْيَوْمِ وَاللَّيْلَة، اَلتَّرْغِيْبُ وَالتَّرْهِيْب، خَصَائِصُ كُبْرَى، اَلْفَرَجُ بَعْدَ الشِّدَّة، كِتَابُ الْأَسْمَاءِ وَالصِّفَات وغیرہ پچاس سے زائد کتبِ حدیث میرے درس وتدریس ومطالعہ میں رہیں۔ [۵]

امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نے چند کتب شمار فرما کر پچاس سے زائد کی بات اجمالاً ذکر کر دی، یعنی آگے شمار کرنے کے لیے میری تصانیف کا مطالعہ کرو، تم پر خود ہی واضح ہو جائے گا کہ میں نے علمِ حدیث میں کن کن کتابوں کو پڑھا اور پڑھایا ہے۔

کتبِ حدیث میں امام احمد رضا کے مراجع:

چنانچہ اس سلسلہ میں جب راقم الحروف نے تلاش و جستجو شروع کی تو اب تک امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی ۳۵۶ کتب و رسائل میں مجھے ۲۴۰ کتبِ حدیث کی نشان دہی ملی جن کی تفصیل اس طرح ہے:

  1. اَلْأَمَالِي فِي الْحَدِيْث: عبدالملک بن محمد بن بشران، ۴۳۰ھ

  2. اَلْأَجْزَاءُ فِي الْحَدِيْث: عبدالرحمن بن عمر البغدادی ۴۱۶ھ

  3. اَلْإِيْجَازُ فِي الْحَدِيْث: احمد المعروف بابن السنی ۳۶۴ھ

  4. اَلْأَدَبُ الْمُفْرَد: محمد بن اسماعیل البخاری ۲۵۶ھ

  5. اِعْتِلَاءُ الْقُلُوْب: محمد بن جعفر الخرائطی، ۳۲۷ھ

  6. اِحْيَاءُ الْعُلُوْم: محمد بن محمد الغزالی، ۵۰۵ھ

  7. اِرْشَادُ السَّارِي: ۱۰ اجزاء، شہاب القسطلانی ۵۲۳ھ

  8. إِزَالَةُ الْخَفَاء: الشاہ ولی اللہ المحدث الدہلوی

  9. اَلِاكْتِفَاءُ فِي فَضْلِ الْخُلَفَاءِ الْأَرْبَعَة: ابراہیم الشافعی

  10. اَلْأَلْفِيَّة

  11. إِنْسَانُ الْعُيُوْن: شیخ نور الدین علی الشافعی الحلبی ۱۰۴۴ھ

  12. بَهْجَةُ الْمَجَالِس

  13. بَسِيْط

  14. تَفْسِيْرُ مَعَالِمِ التَّنْزِيْل: محی السنہ ابو محمد البغوی ۵۱۶ (مصری)

  15. اَلتَّارِيْخُ الْكَبِيْر: محمد بن اسماعیل البخاری ۲۵۶ھ

  16. تَارِيْخُ بَغْدَاد: ابو بکر احمد بن علی الخطیب البغدادی ۴۶۳ھ

  17. تَلْخِيْصُ الْمُتَشَابِه: ابو بکر احمد الخطیب البغدادی ۴۶۳ھ

  18. اَلتَّارِيْخُ الْكَبِيْرُ لِدِمَشْق: لابن عساکر، ۵۷۱ھ

  19. تَارِيْخُ مَدِيْنَة: لابن عساکر ۵۷۱ھ

  20. تَفْسِيْرُ طَبَرِي جَامِعُ الْبَيَان: محمد بن جریر الطبری ۳۱۰ھ

  21. تَفْسِيْرُ نَيْشَابُوْرِي: نظام الدین النیشاپوری ۷۲۸ھ

  22. تَفْسِيْرُ الدُّرِّ الْمَنْثُوْر: امام جلال الدین السیوطی

  23. اَلتَّفْسِيْرُ الْكَبِيْر: محمد بن عمر الامام فخر الدین رازی ۶۰۶ھ

  24. تَفْسِيْرُ ابْنِ مُنْذِر

  25. تَفْسِيْرُ ابْنِ أَبِيْ حَاتِم

  26. اَلتَّرْغِيْبُ وَالتَّرْهِيْب: الحافظ ذکی الدین، ۶۵۶ھ

  27. اَلتَّوْبِيْخ: ابو الشیخ الاصبہانی

  28. تَارِيْخُ ابْنِ النَّجَّار: محمد بن محمود ابن النجار البغدادی

  29. تَارِيْخ: سلیمان بن احمد الطبرانی ۳۶۰ھ

  30. ثَوَابُ الْعِبَادَات: ابو الشیخ الاصبہانی

  31. جُزْءٌ حَدِيْثِيّ: ابو الحاتم محمد الخزاعی

  32. جُزْءٌ حَدِيْثِيّ: عبد الصمد بن عبد الرحمن البزار

  33. جُزْءٌ حَدِيْثِيّ: شاذان الفضلی

  34. جُزْءٌ حَدِيْثِيّ: حسن ابن عرفہ

  35. جَامِع: ابو بکر عبد الرزاق ابن ہمام الصنعانی ۲۱۱ھ

  36. اَلْجَامِعُ لِلْبُخَارِي: محمد ابن اسمعیل البخاری، ۲۵۶ھ

  37. اَلْجَامِعُ لِلتِّرْمِذِي: ابو عیسیٰ محمد ابن عیسیٰ الترمذی ۲۷۹ھ

  38. اَلْجَامِعُ لِمُسْلِم: مسلم بن حجاج القشیری، ۲۶۱ھ

  39. اَلْجَامِعُ الصَّغِيْر: جلال الدین ابن عبد الرحمن السیوطی ۹۱۱ھ

  40. جَعْدِيَّات: حسین ابن منصور البغوی ۵۱۶ھ

  41. حِصْنٌ حَصِيْن: محمد بن محمد بن محمد الجزری، ۸۳۳ھ

  42. حِلْيَةُ الْأَوْلِيَاء: ابو نعیم احمد بن عبد اللہ الاصبہانی، ۴۳۰ھ

  43. حِلْيَةٌ مُجَلَّى: محمد بن محمد بن امیر الحاج الحلبی، ۸۷۹ھ

  44. اَلْخَصَائِصُ الْكُبْرَى: جلال الدین السیوطی ۹۱۱ھ

  45. خِلَافِيَّات: ابو بکر احمد بن حسین البیہقی، ۴۵۸ھ

  46. دَلَائِلُ النَّبُوَّة: ابو نعیم احمد بن عبد اللہ الاصبہانی ۴۳۰ھ

  47. دَلَائِلُ النَّبُوَّة: ابو بکر احمد بن حسین البیہقی ۴۵۸ھ

  48. ذَمُّ الْغِيْبَة: عبد اللہ بن محمد ابن ابی الدنیا القرشی ۲۸۱ھ

  49. ذَخَائِرُ الْعُقْبَى: محمد بن جریر الطبری ۳۱۰ھ

  50. رَدُّ الْمُحْتَار: محمد امین بن عمر عابدین الشامی، ۱۲۵۲ھ

  51. اَلرِّيَاضُ النَّضِرَة: حافظ محب الدین الطبری

  52. أَمَالِي: ابو جعفر محمد طوسی، ۴۶۰ھ

  53. زِيَادَاتُ مَغَازِي: محمد ابن اسحاق ابن خزیمہ ۳۱۱ھ

  54. اَلسُّنَنُ لِلدَّارَقُطْنِي: علی ابن عمر دارقطنی، ۳۸۵ھ

  55. اَلسُّنَنُ لِلدَّارِمِي: عبد اللہ ابن عبد الرحمن الدارمی، ۲۵۵ھ

  56. اَلسُّنَنُ لِابْنِ مَنْصُوْر: ابو عبد اللہ محمد ابن یزید ابن ماجہ ۲۷۳ھ

  57. اَلسُّنَنُ لِابْنِ مَنْصُوْر: سعید ابن منصور الخراسانی

  58. اَلسُّنَنُ لِأَبِيْ دَاوُد: ابو داؤد سلیمان ابن اشعث ۲۷۵ھ

  59. اَلسُّنَنُ لِلنَّسَائِي: ابو عبد الرحمن احمد بن شعیب النسائی ۳۰۳ھ

  60. اَلسُّنَنُ الْكُبْرَى: ابو بکر احمد بن حسین البیہقی ۴۵۸ھ

  61. اَلسُّنَنُ الصُّغْرَى: ابو بکر احمد بن حسین البیہقی ۴۵۸ھ

  62. اَلطِّبُّ النَّبَوِيّ: احمد بن محمد المعروف بابن السنی ۳۶۴ھ

  63. سِيْرَت: ملا عمر بن محمد

  64. سِيْرَتِ كُبْرَى: ابن اسحاق

  65. شَرَفُ الْمُصْطَفَى: حافظ ابو سعید

  66. شَرْحُ الشِّفَاء: علی بن سلطان ملا علی قاری ۱۰۱۴ھ

  67. شَرْحُ مَوَاهِب: محمد بن عبد الباقی الزرقانی ۱۱۲۲ھ

  68. شَرْحُ مَعَانِي الْآثَار: ابو جعفر احمد بن محمد الطحاوی ۳۲۱ھ

  69. شَمَائِلُ تِرْمِذِي: ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ الترمذی ۲۷۹ھ

  70. شُعَبُ الْإِيْمَان: ابو بکر احمد بن حسین البیہقی ۴۵۸ھ

  71. شَرْحُ السُّنَّة: حسین بن مسعود البغوی ۵۱۶ھ

  72. صَحِيْحُ أَبُوْ عَوَانَة

  73. صَحِيْحُ ابْنِ حِبَّان: محمد بن حبان التمیمی ۳۵۴ھ

  74. صَحِيْحُ ابْنِ خُزَيْمَة: محمد بن اسحاق ابن خزیمہ ۳۱۱ھ

  75. صَفْوَةُ الصَّفْوَة: عبد الرحمن الشہیر بابن الجوزی ۵۹۷ھ

  76. صَوَاعِقُ مُحْرِقَة: ابن حجر المکی الشافعی ۹۷۳ھ

  77. طُوْرِيَّات: ابو طاہر سلفی

  78. اَلطَّبَقَاتُ الْكَبِيْر: ابن سعد الزہری الواقدی ۲۳۰ھ

  79. اَلطِّبُّ النَّبَوِيّ: ابو نعیم احمد بن عبد اللہ الاصبہانی ۴۳۰ھ

  80. عِلَلٌ مُتَنَاهِيَة: حافظ ابو الفرج ابن جوزی ۵۹۷ھ

  81. عُمْدَةُ الْقَارِي: بدر الدین ابو محمد بن احمد العینی ۸۵۵ھ

  82. اَلْعَظَمَة: ابو الشیخ الاصبہانی ۳۶۹ھ

  83. عَمَلُ الْيَوْمِ وَاللَّيْلَة: ابن السنی ۳۶۴ھ

  84. اَلْفَرَجُ بَعْدَ الشِّدَّة: ابن ابی الدنیا القرشی ۲۸۱ھ

  85. فَوَائِدُ تَمَام: تمام بن محمد بن عبد اللہ البجلی ۴۱۴ھ

  86. فَوَائِدُ ابْنِ عَبْدِ الْبَرّ: ابو عمر و یوسف بن عبد اللہ القرطبی ۴۶۳ھ

  87. فَوَائِدُ سَمَوَيْه: اسمعیل بن عبداللہ الملقب بہ سمویہ، 267ھ

  88. فَوَائِدُ مُخْلِص

  89. فَوَائِدُ حَاجِبِ طُوْسِي

  90. فَوَائِدُ شَاشِي: ہیثم بن کلاب الشاشی

  91. فَوَائِدُ حَسَنِ بْنِ سُفْيَان

  92. فَوَائِدُ خَلَعِي

  93. فَوَائِدُ ثَقَفِيَّات

  94. فَوَائِدُ ابْنِ الْفَرَس

  95. فَوَائِدُ ابْنِ عَرَبِي

  96. فَضَائِلُ الصَّحَابَة: خیثمہ بن سلیمان

  97. فَضَائِلُ الصِّدِّيْق: ابو طالب عشاری

  98. فَضَائِل: در لانی

  99. فَتَاوَى سِرَاجِ الدِّيْنِ بِلْقِيْنِي

  100. فَتْحُ الْبَارِي: شہاب الدین ابن حجر العسقلانی، 852ھ

  101. قَضَاءُ الْحَوَائِج: عبداللہ بن محمد بن ابی الدنیا، 281ھ

  102. كِتَابُ أَلْقَابِ الرُّوَاة: احمد الشیرازی، 407ھ

  103. كِتَابُ الْمَغَازِي: یحییٰ بن سعید القطان، 198ھ

  104. كِتَابُ الزُّهْد: ابو بکر احمد بن حسین البیہقی، 458ھ

  105. كِتَابُ الْأَسْمَاءِ وَالصِّفَات: ابو بکر البیہقی، 458ھ

  106. كِتَابُ الْآخِرَة: احمد بن محمد المعروف بابن السنی، 364ھ

  107. كِتَابُ الْجَامِع: ابو بکر احمد الخطیب البغدادی، 463ھ

  108. كِتَابُ الْأَفْرَاد: علی بن عمر الدار قطنی، 385ھ

  109. كِتَابُ الزُّهْد: احمد بن محمد بن حنبل، 241ھ

  110. كِتَابُ الْآثَار: محمد بن حسن الشیبانی، 189ھ

  111. كِتَابُ الْآثَار: ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم، 182ھ

  112. كِتَابُ الْخَرَاج: ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم، 182ھ

  113. كِتَابُ الضُّعَفَاء: محمد بن حبان التمیمی، 354ھ

  114. كِتَابُ الْجَرْحِ وَالتَّعْدِيْل: محمد ابن حبان رازی، 354ھ

  115. كِتَابُ الْكُنَى: ابو عبد اللہ الحاکم النیساپوری ۴۰۵ھ

  116. كِتَابُ التَّارِيْخ: ابو عبد اللہ الحاکم النیساپوری ۴۰۵ھ

  117. كِتَابُ الرَّدِّ عَلَى الْجَهْمِيَّة: عثمان بن سعید الدارمی ۲۸۰ھ

  118. كِتَابُ الْآثَار: عبد اللہ بن مبارک المروزی ۱۸۱ھ

  119. كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق: عبد اللہ بن مبارک المروزی ۱۸۱ھ

  120. كِتَابُ الْعِلْم: ابو عمر و بن عبد البر

  121. كِتَابُ الْأَفْرَاد: ابن شاہین

  122. كِتَابُ السُّنَّة: احمد بن محمد بن حنبل ۲۴۱ھ

  123. كِتَابُ الْأَمْوَال: ابو عبید قاسم بن سلام

  124. كِتَابُ الطَّاعَةِ وَالْمَعْصِيَة: علی بن سعید

  125. كِتَابُ الصَّلَوَاة: ابو محمد ابراہیم

  126. كِتَابُ الْإِبَانَة: ابو طاہر سنجری

  127. كِتَابُ السُّنَّة: لامکانی

  128. كِتَابُ الْفُتُوْح: ۸ اجزاء ابو محمد احمد

  129. كِتَابُ الْأَمْثَال: سامہری مری

  130. كِتَابُ الْأَمْثَال: للعسکری

  131. كِتَابُ السُّنَّة: بلخی

  132. كِتَابُ الْمُتَّفِقِ وَالْمُفْتَرِق

  133. كِتَابُ الْفِتَن: نعیم بن حماد

  134. كِتَابُ الصَّلَوَاة: محمد بن النصر

  135. كِتَابُ فَضْلِ الْعِلْم: موہبی

  136. كِتَابُ الشِّفَاء: ابو الفضل قاضی عیاض بن موسیٰ

  137. كِتَابُ مَكَّة: عمرو بن ابی شیبہ

  138. كِتَابُ مُوْسَى: ابو قرہ ابن طارق

  139. كِتَابُ خَيْرِ الْبَشَر: ابن ظفر

  140. كِتَابُ الْوَفَاء: حافظ ابو الفرج ابن الجوزی

  141. اَلْكَامِل: ابو احمد عبد اللہ بن عدی ۳۶۵ھ

  142. كَنْزُ الْعُمَّال: علاء الدین علی المتقی بن حسام الدین ۹۷۵ھ

  143. كِتَابُ الْإِخْوَان: ابن ابی الدنیا القرشی ۲۸۱ھ

  144. كِتَابُ الصَّمْت: ابن ابی الدنیا القرشی ۲۸۱ھ

  145. كِتَابُ الدُّعَاء: سلیمان بن احمد الطبرانی ۳۶۰ھ

  146. مُسْنَدُ بَزَّار: ابو بکر احمد بن عمرو بن عبد الخالق البزار ۲۹۲ھ

  147. مُسْنَدُ أَبِيْ دَاوُد: سلیمان بن داؤد الطیالسی ۲۰۴ھ

  148. مُسْنَدُ أَبِيْ يَعْلَى: احمد بن علی الموصلی ۳۰۷ھ

  149. مُسْنَدُ إِسْحَاق: حافظ اسحاق راہویہ ۲۳۸ھ

  150. مُسْنَدُ إِمَامٍ أَعْظَم: ابو حنیفہ نعمان بن ثابت الکوفی ۱۵۰ھ

  151. مُسْنَدُ الْفِرْدَوْس: ابو نصر شہردار بن شیرویہ الدیلمی ۵۵۸ھ

  152. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ حُمَيْدِ الْكَشِّي: ۲۴۹ھ

  153. مُسْنَدُ مُسَدَّد: ابو الحسن محمد مسدد

  154. مُسْنَدُ أَحْمَد: احمد بن محمد بن حنبل ۲۴۱ھ

  155. مُسْنَدُ فِرْيَابِي

  156. مُسْنَدُ حَسَنِ بْنِ سُفْيَان

  157. مُسْنَدُ الشِّهَاب: قضاعی

  158. مُسْنَدُ شَافِعِي

  159. مُسْنَدُ عَقِيْل: ابو جعفر عقیلی

  160. مُسْنَدُ وَكِيْع

  161. مُسْنَدُ ابْنِ سَنْجَر

  162. اَلْمُعْجَم: حسین بن منصور البغوی ۵۱۶ھ

  163. مُسْنَدُ حَارِث: ابن ابی اسامہ الحارث بن محمد التمیمی

  164. مُسْنَدُ ابْنِ أَبِيْ عُمَر: ابو عبد اللہ محمد بن یحییٰ العدنی

  165. مُسْنَدُ رَزِيْن

  166. مُسْنَدُ ابْنِ مَنِيْع: احمد بن منیع

  167. اَلْمُخْتَارَةُ فِي الْحَدِيْث: ضیاء الدین المقدسی ۶۴۳ھ

  168. مَعْرِفَةُ الصَّحَابَة: ابو نعیم احمد بن عبد اللہ الاصبہانی ۴۳۰ھ

  169. مَعْرِفَةُ الصَّحَابَة: ابو بکر احمد بن حسین البیہقی ۴۵۸ھ

  170. اَلْمَدْخَل: ابو بکر احمد بن حسین البیہقی ۴۵۸ھ

  171. مِشْكَاةُ الْمَصَابِيْح: شیخ ولی الدین العراقی ۷۴۲ھ

  172. مَكَارِمُ الْأَخْلَاق: محمد بن جعفر الخرائطی ۳۲۷ھ

  173. مَدْخَلُ الشَّرْع: ابن الحاج العبدری المالی ۷۳۷ھ

  174. اَلْمُوَطَّأ: امام محمد بن حسین الشیبانی ۱۸۹ھ

  175. اَلْمُسْتَدْرَكُ عَلَى الصَّحِيْحَيْن: الحاکم النیشاپوری ۴۰۵ھ

  176. مُنْتَخَبُ كَنْزِ الْعُمَّال: علاء الدین علی المتقی ۹۷۵ھ

  177. اَلْمُسْتَخْرَجُ عَلَى الْبُخَارِي: احمد بن موسیٰ مردویہ ۴۱۰ھ

  178. اَلْمُعْجَمُ الصَّغِيْر: سلیمان بن احمد الطبرانی ۳۶۰ھ

  179. اَلْمُعْجَمُ الْأَوْسَط: سلیمان بن احمد الطبرانی ۳۶۰ھ

  180. اَلْمُعْجَمُ الْكَبِيْر: سلیمان بن احمد الطبرانی ۳۶۰ھ

  181. اَلْمُصَنَّفُ لِابْنِ أَبِيْ شَيْبَة: ابو بکر النسفی ۲۳۵ھ

  182. اَلْمُصَنَّف: ابو بکر عبد الرزاق بن ہمام الصنعانی ۲۱۱ھ

  183. اَلْمُوَطَّأ: الامام مالک بن انس المدنی ۱۷۹ھ

  184. مِيْزَانُ الِاعْتِدَال: محمد بن احمد الذہبی ۷۴۸ھ

  185. مَوَارِدُ الظَّمْآن: نور الدین علی بن ابی بکر الہیثمی ۸۰۷ھ

  186. مَوَاهِبُ لَدُنِّيَّة: شہاب الدین احمد القسطلانی

  187. مِائَتَيْن: ابو عثمان اسماعیل ابن عبد الرحمن الصابونی

  188. مَدَارِجُ النُّبُوَّة: شیخ عبد الحق المحدث الدہلوی ۱۰۵۲ھ

  189. مَاءٌ مَعِيْنٌ شَرْحُ أَرْبَعِيْن: برہان خجندی

  190. مِهْرَانِيَّات

  191. مَطَالِعُ الْمَسَرَّات: علامہ فاسی

  192. مَشْيَخَة: خلیلی

  193. اَلْمَوَاعِظ: ابو اسحاق ابراہیم بن حرب العسکری السمار

  194. نَوَادِرُ الْأُصُوْل: ابو عبد اللہ الحکیم الترمذی ۲۵۵ھ

  195. نَسِيْمُ الرِّيَاض: شہاب الدین احمد الخفاجی المصری ۱۰۶۹ھ

  196. اَلنَّجْلَاء: ابو بکر احمد بن علی الخطیب البغدادی ۴۶۳ھ

  197. مَاوَرْدِي

  198. كِتَابُ السُّنَّة: خلال

  199. مُسْنَدُ أَبُو الْمَحَاسِنِ رُويَانِي

  200. مُسْنَدُ ابْنِ أَبِيْ عَاصِم: ابو بکر احمد بن عمر الشیبانی (پچاس ہزار حدیثیں)

  201. ابْنُ السَّكَن

  202. ابْنُ لَال

  203. آجُرِّيّ

  204. ابْنُ سَبْعٍ شِفَاءُ الصُّدُوْر

  205. عُرْفِي

  206. وَلَجِي

  207. وَاسِطِي

  208. فَاكِهِي

  209. لَامَكَانِي

  210. ابْنُ مَرْزُوْق

  211. أَبُوْ مُسْلِمٍ كَجِّي

  212. ابْنُ مَنْدَه: ابو عبداللہ محمد ابن ابی یعقوب

  213. ابْنُ قَانِع

  214. رَافِعِي

  215. حَسَنُ بْنُ جَرَّاح

  216. كِتَابُ الرُّؤْيَة: امام بیہقی

  217. مَفَاتِيْحُ الْغَيْب: (تفسیر کبیر) امام رازی

  218. ابْنُ بَشْكُوَال

  219. فِرْيَابِي

  220. مُسْنَدُ ابْنِ شَيْبَة: ابو بکر عبداللہ بن محمد بن القاضی

  221. مُسْنَدُ أَبِيْ هُرَيْرَة: ابو اسحاق ابراہیم بن حرب العسکری السمار

  222. مُسْنَدُ شَاشِي: ہیثم بن کلیب الشاشی

  223. مُسْنَدٌ كَبِيْر: محب الدین محمد بن محمود بن النجار البغدادی

  224. مُصْحَف: ابن الانباری

  225. فَضَائِلُ قُرْآن: ابن الضریس

  226. زَوَائِدُ الزُّهْد: عبد اللہ بن احمد

  227. إِتْحَافُ شَرْحِ إِحْيَاءِ الْعُلُوْم

  228. فُتُوْحَاتُ مُدَافِعِي

  229. ابْنُ شَعْبَان

  230. تَيْسِيْرُ شَرْحِ جَامِعٍ صَغِيْر: علامہ مناوی

  231. تُحْفَة: ابن حجر المکی

  232. فَضْلُ الْعِلْم: موہبی

  233. مَفَاتِيْحُ الْغَيْب: امام رازی

  234. مَطَالِعُ الْمَسَرَّات

  235. فَتْحُ الْمُغِيْث: ابو عبد اللہ محمد بن عبد الرحمن السخاوی ۹۰۲ھ

  236. مُسْنَدُ أَبِيْ عَوَانَة: امام ابو عوانہ الاسفرائنی ۳۱۶ھ

  237. مُسْنَدُ إِمَامٍ شَافِعِيّ: ابو عبد اللہ محمد بن ادریس الشافعی ۲۰۴ھ

  238. مُسْنَدُ الْحُمَيْدِي: ابو بکر عبد اللہ بن الزبیر الحمیدی

  239. إِتْحَافُ السَّادَةِ الْمُتَّقِيْن: الزبیدی الحنفی ۱۲۰۵ھ

  240. أَمَالِي: ابو جعفر محمد طوسی

تفصیلی متن

حدیث کی یہ دو سو چالیس کتابیں ابھی ہماری تحقیق و تلاش کے مطابق ہیں ورنہ امام احمد رضا فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی تمام تصانیف کی تعداد تو تقریباً ایک ہزار ہے۔ تو ابھی یہ کہنا نہایت مشکل ہے کہ حدیث کی تمام کتابوں کی تعداد جو ان کے مطالعہ میں رہیں کتنی ہے۔

ہم ان کتب کے حوالے سے اس بات کی بھرپور وضاحت کر رہے ہیں کہ امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کا علمِ حدیث نہایت وسیع تھا۔ آپ نے جن کتابوں کا بطور حوالہ تذکرہ فرمایا ہے وہ کتابیں بھی کوئی معمولی ضخامت کی حامل نہیں، بلکہ اکثر کتب دس، پندرہ، بیس اور پچیس جلدوں پر مشتمل ہیں۔ مثلاً:

سُنَنُ كُبْرَى لِلْبَيْهَقِي: دس جلدیں

كَنْزُ الْعُمَّالِ لِعَلِي الْمُتَّقِيْن: اٹھارہ جلدیں

مُعْجَمُ كَبِيْر لِلطَّبَرَانِي: پچیس جلدیں

اس عظیم ذخیرۂ حدیث کا استقصاء و احاطہ اور پھر اس استحضار یہ سب آپ ہی کا حصہ تھا۔ متعدد مقامات پر ایک وقت میں ایک ایک حدیث کے حوالے میں دس دس، بیس بیس اور پچیس پچیس کتابوں کا تذکرہ اس بات کی غمازی کر رہا ہے کہ بیک وقت آپ کے پیشِ نظر وہ تمام کتابیں رہتی تھیں بلکہ گویا ان سب کو حفظ کر لیا گیا تھا کہ جب جس مسئلہ میں ضرورت پیش آئی، اس کو فی البدیہہ اور برجستہ تقريراً يا تحريراً فرما دیتے، حافظہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ سے ایسا عظیم الشان عطا فرمایا تھا کہ جو کتاب ایک مرتبہ دیکھ لی حفظ ہو گئی۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!