| عنوان: | امام احمد رضا قادری اور فن صرف (قسط: پنجم) |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | نازیہ ظفر بنت محمد شہاب الدین |
| منجانب: | لباب اکیڈمی |
وفی ”تبصیر المنتبہ“ قال النحاس: سمعت الأخفش یقول: سمعت المبرد یقول: ھو بالیاء لا یجوز حذفھا، وقد لہجت العامۃ بحذفھا، قال النحاس: ھذا مخالف لجمیع النحاۃ... الخ. [الزمزمۃ القمریۃ فی الذب عن الخمریۃ، فتاویٰ رضویہ، ج: 22، ص: 540، امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی شریف]
توضیح: قانون صرف کے اعتبار سے عاص، بادی اور موالی وغیرہ - یہ اسما اور اس قسم کے اسما “یاء” کے ساتھ عاصی، بادی اور موالی ہیں، لیکن کتب حدیث و فقہ و دیگر کتابوں میں “یاء” کے حذف کے ساتھ استعمال ہوئے ہیں۔ اخفش بغدادی نحوی، علی بن سلیمان بن فضل، ابو الحسن (315ھ - 380ھ) نے کہا کہ میں نے مبرد بصری، محمد بن یزید بن عبد الاکبر ثمالی ازدی، ابو العباس (210ھ - 282ھ) سے سنا کہ یہ سب الفاظ “یاء” کے ساتھ ہیں اور ان اسما سے “یاء” کو حذف کرنا صحیح نہیں ہے۔ گرچہ عام طور پر لوگ “یاء” کو حذف کر کے بولتے ہیں۔
خلاف قاعدہ اسما ئے منصوب کا استعمال
بہت سے اسمائے منصوب خلاف قاعدہ استعمال ہوتے آ رہے ہیں۔ امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے ان سے متعلق تحریر فرمایا:
-
عامہ علما سجدہ تلاوت کی ایک قسم “صلاتیہ” لکھتے ہیں۔ کم کوئی کتاب اس لفظ سے خالی ہوگی، حالاں کہ صحیح “صلویہ” ہے، نہ “صلاتیہ”۔ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر، پھر علامہ غزی نے فتح الغفار اور دیگر علما نے اپنی اسفار میں اس پر تنبیہ فرمائی:
وَهَذَا لَفْظُ الْمُحَقِّقِ: "صَوَابُ النِّسْبَةِ فِيهِ صَلَوِیَّةٌ" بِرَدِّ الْفَاءِ وَاوًا وَحَذْفِ التَّاءِ، وَإِذَا كَانُوا قَدْ حَذَفُوهَا فِي نِسْبَةِ الْمُذَكَّرِ إِلَى الْمُؤَنَّثِ كَنِسْبَةِ الرَّجُلِ إِلَى بَصْرَةَ مَثَلًا فَقَالُوا: بَصْرِيٌّ، لَا بَصْرِيَّةٌ، كَيْ لَا يَجْتَمِعَ تَاءَانِ فِي نِسْبَةِ الْمُؤَنَّثِ فَيَقُولُونَ: بَصْرِيَّةٌ، فَكَيْفَ بِنِسْبَةِ الْمُؤَنَّثِ إِلَى الْمُؤَنَّثِ. [الزمزمۃ القمریۃ فی الذب عن الخمریۃ، فتاویٰ رضویہ، ج: 22، ص: 532، امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی شریف]
توضیح: صلوۃ اور اسی کے مماثل الفاظ کا اسم منصوب بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ آخر سے “تا”ئے تانیث حذف کر دی جاتی ہے اور اس کی جگہ یائے نسبت لا کر “یاء” سے قبل حرف “و” کی مناسبت کے سبب کسرہ دے دیا جاتا ہے، جیسے “بصرہ” سے “بصری”۔ اسم منصوب آتا ہے، تا ئے تانیث کو اگر حذف نہ کیا جائے تو اسم منصوب مؤنث میں دو “تا” جمع ہو جائے گی، جیسے “بصرۃ” سے “بصریتہ” اسم منصوب ہوگا اور دو “تا” کا جمع ہونا اہل عرب کے یہاں صحیح نہیں۔ اسی طرح صلوۃ کا اسم منصوب “صلویہ” ہوگا، نہ کہ “صلاتیہ”۔
-
اکثر ائمہ متقدمین شافعی کو “شفعوی” لکھتے۔ امام طاہر بن عبد الرشید بخاری “فتاویٰ خلاصہ” میں فرماتے ہیں:
الِاقْتِدَاءُ بِشَفْعَوِيِّ الْمَذْهَبِ يَجُوزُ إِنْ لَمْ يَكُنْ مُتَعَصِّبًا... الخ.
ان کے استاد امام اجل فقیہ النفس قاضی خان فتاویٰ خانیہ میں فرماتے ہیں:
أَمَّا الِاقْتِدَاءُ بِشَفْعَوِيِّ الْمَذْهَبِ، قَالُوا: لَا بَأْسَ بِهِ... الخ.
یوں ہی خزانہ، مختارین وغیرہ کتب کثیرہ میں ہے۔ ہدایہ کے کثرت نسخوں میں واقع ہوا: {دلت المسألة علی جواز الاقتداء بالشفعویۃ}۔ حالاں کہ شافعی کی طرف نسبت بھی شافعی ہے، شفعوی نہیں۔
نَبَّهَ عَلَيْهِ شُرَّاحُ الْهِدَايَةِ: حَيْثُ قَالُوا: وَقَعَ فِي بَعْضِ نُسَخِهَا بِالشَّافِعِيَّةِ وَهُوَ الصَّوَابُ لِمَا عُرِفَ مِنْ وُجُوبِ حَذْفِ يَاءِ النِّسْبَةِ إِذَا نُسِبَ إِلَى مَا هِيَ فِيهِ، وَوَضْعِ الْيَاءِ الثَّانِيَةِ مَكَانَهَا حَتَّى تَتَّحِدَ الصُّورَةُ قَبْلَ النِّسْبَةِ الثَّانِيَةِ وَبَعْدَهَا وَالتَّمَيُّزُ مِنْ خَارِجٍ فَالْيَاءُ الْمُشَدَّدَةُ فِيهِ يَاءُ النِّسْبَةِ لِآخِرِ الْكَلِمَةِ كَسَرْسِيٍّ. هَذَا لَفْظُ "الْبَحْرِ" وَمِثْلُهُ فِي "الْفَتْحِ" وَغَيْرِهِ. [الزمزمۃ القمریۃ فی الذب عن الخمریۃ، فتاویٰ رضویہ، ج: 22، ص: 533، امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی شریف]
توضیح: بہت سی کتابوں میں امام شافعی رضی اللہ عنہ کے مقلد کو “شفعوی” لکھا گیا ہے۔ یہ صحیح نہیں ہے۔ لفظ شافعی خود ہی اسم منصوب ہے اور جب اسم منصوب سے اسم منصوب بنانا ہو تو اسم منصوب سے “یائے نسبت” حذف کر دی جاتی ہے اور پھر دوسری یائے نسبت اسی کی جگہ لاتے ہیں، اس طرح اسم منصوب اور اسم منصوب کا اسم منصوب دونوں صورت میں محذوف ہوتے ہیں، اور دونوں کے مابین فرق و امتیاز سیاق و سباق اور خارجی امور کے سبب ہوتا ہے۔ اس سے ظاہر ہو گیا کہ شافعی کا اسم منصوب بھی شافعی ہوگا، شفعوی نہیں۔
-
اعاظم علما کی تصانیف میں لفظ “مصطفویہ” وارد ہے۔ امام الادیب احمد بن ابو الفضل جلال الدین سیوطی “جامع صغیر” میں فرماتے ہیں:
مِنَ الْحِكَمِ الْمُصْطَفَوِيَّةِ صُنُوفًا.
علامہ محمد عبد الباقی زرقانی شرح مواہب لدنیہ میں فرماتے ہیں:
جَوَاهِرُ اسْتَخْرَجْتُهَا مِنْ قَامُوسِ الْحِكَمِ الْمُصْطَفَوِيَّةِ.
حالاں کہ باجماع اہل عرب یائے نسبت میں یا الف ساقط ہوگا، نہ مبدل بوا۔
توضیح: لفظ “مصطفیٰ” سے اسم منصوب “مصطفوی” استعمال ہوتا ہے۔ یہ صحیح نہیں ہے، کیوں کہ قانون صرف کے اعتبار سے یائے نسبت لانے کے وقت ایسے اسما کے آخر میں آنے والا الف مقصورہ حذف ہو جائے گا اور الف سے قبل کے حرف پر یائے نسبت کی مناسبت کی وجہ سے کسرہ آ جائے گا، اس طرح “مصطفى” کا اسم منصوب “مُصطَفِی” ہوگا، مصطفوی نہیں ہوگا۔
قلمی رسالے کے اقتباسات
فعل اصل ہے یا مصدر؟ اس موضوع پر امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے ایک مستقل رسالہ: “تبلیغ الکلام الی درجہ الکمال فی تحقیق اصالۃ المصدر والافعال” تصنیف فرمایا۔ فاضل شہیر حضرت علامہ مفتی فیضانِ مصطفیٰ قادری کے توسط سے رسالہ مذکورہ کے قلمی نسخے کے چند صفحات دستیاب ہوئے۔
اہل کوفہ کا قول ہے کہ باب اشتقاق میں فعل اصل ہے اور اہل بصرہ نے کہا کہ مصدر اصل ہے۔ امام موصوف نے فرمایا کہ یہ دونوں قول اہل کوفہ و اہل بصرہ کے اکابرین کے نہیں ہیں، بلکہ متاخرین کے یہ اقوال ہیں، اور یہ اقوال ان متأخرین نحویوں اور صرفیوں کی جانب اسی طرح منسوب ہو گئے، جس طرح حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے متأخرین کے اقوال امام موصوف کی جانب منسوب ہو جاتے ہیں، کیوں کہ انہیں کے اصول و قواعد کی روشنی میں ان متأخرین کے مسائل مستنبط ہوتے ہیں۔
إِنَّهُ قَدِ اخْتَلَفَ الْمُتَقَدِّمُونَ مِنَ النَّحْوِيِّينَ فِي أَنَّ الْأَصْلَ مَا هُوَ فِي الِاشْتِقَاقِ الْأَصْغَرِ: فَقَالَ الْكُوفِيُّونَ: الْفِعْلُ، وَقَالَ الْبَصْرِيُّونَ: لَا، بَلْ هُوَ الْمَصْدَرُ: وَاسْتَدَلَّ كُلٌّ مِنَ الْفَرِيقَيْنِ بِدَلَائِلَ وَاهِيَةٍ: لَا تَلْتَفِتُ إِلَيْهَا أَذْهَانُ الصَّافِيَةِ: لَا طَائِلَ تَحْتَهَا إِلَّا تَسْوِيدُ الْأَوْرَاقِ: وَلَا غَرَضَ فِيهَا مِنَ الْإِبْطَالِ وَالْإِحْقَاقِ: لَا أَقُولُ إِنَّ ذَلِكَ بِجَهْلِهِمْ: أَوْ قُصُورِ عِلْمِهِمْ: فَإِنَّهُمْ أَسَاسُ النَّحْوِ وَعِمَادُهُ: بَلْ هُمْ مَدَائِنُ الْعُلُومِ وَبِلَادُهُ: فَكَيْفَ يَفُوهُونَ بِهَذَا الْكَلَامِ الْوَاهِي: الَّذِي لَا يَقْبَلُهُ الصَّبِيُّ الشَّاغِلُ بِالْمَلَاهِي: بَلْ أَقُولُ إِنَّمَا هُوَ بِعَدَمِ الْتِفَاتِهِمْ... لَا أَقُولُ، بَلْ لَيْسَتْ مِنْ كَلِمَاتِهِمْ: إِنَّمَا هِيَ مِنْ كَلِمَاتِ أَتْبَاعِهِمُ: الْمُقْتَبِسِينَ بِأَنْوَارِهِمْ وَمَعَهُمْ: نُسِبَتْ إِلَيْهِمْ لِكَوْنِهَا دَلَائِلَ لِمَذَاهِبِهِمْ: كَمَا تَنْسُبُ الْفُقَهَاءُ دَلَائِلَهُمْ إِلَى عُلَمَائِنَا الثَّلَاثَةِ لِكَوْنِهَا مُؤَيِّدًا لِمَذْهَبِهِمْ: لَسْتُ أَقُولُ إِنَّهَا مِنْ أَشْيَاعِهِمُ الْكَمَلَةِ: بَلْ مِنْ أَتْبَاعِهِمُ الْجَهَلَةِ: كَيْفَ أَقُولُ لَسْتُ بِمَجْنُونٍ: أَنَّ الرَّضِيَّ وَغَيْرَهُ مِنْ فُحُولِ الْعُلَمَاءِ جَاهِلُونَ: قَدْ تَحَيَّرَتْ عَقْلِي فِي هَذَا الْمَقَامِ: وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِقَائِلِ الْكَلَامِ: فَأَرَدْتُ بِتَوْفِيقِهِ تَعَالَى أَنْ أُحَرِّرَ فِيهَا رِسَالَةً فِي بَيَانِ الْمَذْهَبِ الْمَنْصُورِ: وَتَحْقِيقِ أَنَّ مَا ذَا الْمَصْدَرُ وَهُوَ الْمَصْدَرُ:: فَأُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَأُحِقَّ الْحَقَّ: فَإِنَّ الْحَقَّ بِالِاتِّبَاعِ أَحَقُّ: وَسَمَّيْتُهَا بَعْدَ تَمَامِهَا بِـ"تَبْلِيغِ الْكَلَامِ إِلَى دَرَجَةِ الْكَمَالِ فِي تَحْقِيقِ أَصَالَةِ الْمَصْدَرِ وَالْأَفْعَالِ". [مخطوط: تبلیغ الکلام الی درجہ الکمال فی تحقیق اصالۃ المصدر والافعال، ص: 2]
ترجمہ: متقدمین نحوی حضرات اس بارے میں مختلف ہیں کہ اشتقاق اصغر میں اصل کیا ہے؟ کوفیوں نے کہا کہ فعل اصل ہے اور اہل بصرہ نے کہا: نہیں، بلکہ مصدر اصل ہے، اور ہر فریق نے کمزور دلائل سے استدلال کیا، جن کی طرف صاف ستھرے ذہن متوجہ نہیں ہوتے۔ اوراق سیاہ کرنے کے علاوہ ان کا کچھ حاصل نہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ ان کے جہل یا کم علمی کے سبب ہے، اس لیے کہ وہ علم نحو کی بنیاد اور اس کے ستون ہیں، بلکہ وہ لوگ علوم و فنون کے شہر ہیں، پس کیسے وہ حضرات ایسی بیکار بات کہیں گے، جسے کھیل کود میں مشغول بچہ بھی قبول نہ کرے، بلکہ میں کہتا ہوں کہ وہ ان کے کلمات نہیں ہیں، یہ ان کے پیروکاروں کے کلمات ہیں جو ان کے انوار سے فیض یافتہ ہیں، یہ کلمات ان حضرات کی جانب اس لیے منسوب ہوئے کہ وہ ان کے مذاہب کے دلائل ہیں۔
اہل بصرہ کے دلائل
اہل بصرہ کا مذہب ہے کہ فعل، مصدر سے مشتق ہے۔ امام اہل سنت نے اہل بصرہ کے پانچ دلائل کو رقم فرمایا:
فَأَقُولُ اسْتَدَلَّ الْبَصْرِيُّونَ عَلَى مَا زَعَمُوا وَأَصَرُّوا عَلَيْهِ بِخَمْسَةِ دَلَائِلَ: الْأَوَّلُ: أَنَّ الْمَصَادِرَ تَسْمِيَتُهُ بِهَذَا الِاسْمِ مَصْدَرٌ لِأَنَّ الْمَصْدَرَ مَا صَدَرَ عَنْهُ الشَّيْءُ، لَا مَا يَصْدُرُ عَنِ الشَّيْءِ، فَيَنْبَغِي أَنْ يَصْدُرَ عَنْهُ الْفِعْلُ وَيُشْتَقَّ مِنْهُ وَلَا يَلِيقُ أَنْ يُشْتَقَّ مِنَ الْفِعْلِ وَيَصْدُرَ عَنْهُ، فَهَذَا اسْتِدْلَالٌ بِالِاسْمِ. [مخطوط: تبلیغ الکلام الی درجہ الکمال فی تحقیق اصالۃ المصدر والافعال، ص: 3، 2]
ترجمہ: پس میں کہتا ہوں کہ اہل بصرہ نے اپنے نظریے پر پانچ دلائل سے استدلال کیا:
دلیل اول: مصدر کا “مصدر” نام رکھا جانا اس لیے ہے کہ مصدر وہ ہے جس سے شے صادر ہو، نہ کہ جو شے سے صادر ہو۔ پس مناسب ہے کہ اس سے فعل صادر ہو، اور اس سے فعل مشتق ہو، اور یہ غیر مناسب ہے کہ وہ فعل سے مشتق اور اس سے صادر ہو۔ پس یہ نام کے ذریعے استدلال ہے۔
