| عنوان: | امام احمد رضا اور علم اصول حدیث (قسط: چہارم) |
|---|---|
| تحریر: | فیضان المصطفیٰ قادری |
| پیش کش: | رافعہ ریاض |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
النوع الاول، حدیثِ صحیح
حدیثِ صحیح لذاتہ کی تعریف: "وہ حدیث جس کی سند شذوذ و علت کے بغیر عدول و ضابطین کے ذریعہ متصل ہو"۔ (تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی، محدث سیوطی رحمہ اللہ، النوع الاول، ج ۱، ص ۵۹، ط: دارطیبہ)
حدیثِ صحیح لغیرہ کی تعریف: "وہ حدیث جس کی سند شذوذ و علت کے بغیر عدول اور مخفف ضبط راوی کے ذریعہ متصل ہو، نیز اسی کے مثل یا اس سے اقویٰ دوسرا طریقہ بھی موجود ہو"۔ (نزہۃ النظر فی توضیح نخبۃ الفکر، ص ۸۷، ط: مطبعہ سفیر، الریاض)
محدث بریلوی علیہ الرحمہ حدیث کے قابلِ احتجاج ہونے کے ضمن میں صحیح حدیث کی انہیں دو اقسام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "اگر صحیح سے مقابلِ حسن مراد، تو ہرگز حجت اس میں منحصر نہیں، صحیح لذاتہ و صحیح لغیرہ و حسن لذاتہ و حسن لغیرہ سب حجت اور خود مثبتِ احکام ہیں۔" (فتاویٰ رضویہ مترجم، ج ۹، ص ۱۹۰، گجرات)
تلقی بالقبول
ایسی حدیث جس کی سند ضعیف ہو، اگر علماء اس کے مطابق عمل کرتے ہیں، تو ان کا یہ عمل اس ضعیف حدیث کو تقویت دیتا ہے اور یہ ضعیف حدیث علماء کے عمل کرنے کی وجہ سے صحیح قرار پا کر قابلِ احتجاج ہو جاتی ہے۔
خاتم الحفاظ امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "امام نواوی رحمہ اللہ کی صحیح حدیث کی تعریف پر اعتراض کرتے ہوئے کہا گیا: حدیثِ حسن جب دوسرے طریق سے مروی ہو تو وہ درجہ حسن سے صحت کی منزل تک پہنچ جائے گی حالاں کہ یہ صحیح حدیث امام نواوی رحمہ اللہ کی اس تعریف میں داخل نہیں اور اسی طرح وہ حدیث جس سے علماء قبول کر لیں وہ بھی صحیح ہے مگر اس تعریف میں شامل نہیں، بعض علماء نے فرمایا: جب علماء کسی ایسی حدیث کو قبول کر لیں اگرچہ اس کی کوئی سند صحیح نہ ہو، اس حدیث پر صحت کا حکم لگایا جائے گا۔ ۔۔۔۔ جواب: امام نواوی کی اس تعریف سے مراد حدیثِ صحیح لذاتہ کی تعریف مراد ہے، حدیثِ صحیح لغیرہ مراد نہیں اور اعتراضِ صحیح لغیرہ سے کیا گیا ہے؛ اس لیے قابلِ توجہ نہیں۔" (تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی، محدث سیوطی رحمہ اللہ، النوع الاول، ج ۱، ص ۶۵، ط: دارطیبہ)
امام محدث بریلوی رحمہ اللہ اسی اہل علم کے عمل سے حدیث کو تقویت ملنے اور اس کے وجہِ صحت تک پہونچنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "اہلِ علم کے عمل کر لینے سے بھی حدیث قوت پاتی ہے، اگرچہ سند ضعیف ہو، پھر اپنے اس قول کو محدثین کے اقوال سے مزین کرتے ہیں، ان میں سے ایک دو ملاحظہ فرمائیں: 'امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے اور اہل علم کا اس پر عمل ہے، سید میرک رحمہ اللہ نے امام نووی رحمہ اللہ سے نقل کیا کہ اس کی سند ضعیف ہے، تو گویا امام ترمذی عملِ اہل علم سے حدیث کو قوت دینا چاہتے ہیں، واللہ اعلم۔" (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح، محدث علی قاری رحمہ اللہ، باب ما علی الصائم من المباح الملام، ج ۴، ص ۳۵۴، رقم: ۲۰۳۲، ط: دارالفکر بیروت)
خاتم الحفاظ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "محدث علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ اہل علم کا حدیث کو قبول کرنا حدیث صحیح ہونے کی دلیل ہے، اگرچہ اس حدیث کی کوئی قابلِ اعتماد سند نہ ہو۔" (التعقبات علی الموضوعات، محدث سیوطی رحمہ اللہ، فتاویٰ رضویہ مترجم، ج ۵ ص ۷۷، ط: گجرات)
اس کے بعد محدث بریلوی رحمہ اللہ مزید لکھتے ہیں: "یہ ارشاد علما احادیثِ احکام کے بارے میں ہے پھر احادیثِ فضائل تو احادیثِ فضائل ہیں۔" (ایضاً)
"فلاں حدیث صحیح نہیں" کا مطلب
اگر کسی ناقد نے یہ کہہ دیا کہ فلاں حدیث صحیح نہیں، تو بہت سارے لوگ تعصب یا جہل کی وجہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ فلاں حدیث ضعیف یا موضوع ہے، اس بیماری کے وہابیہ زیادہ شکار ہیں، حالاں کہ یہ فیصلہ محدثین کی رائے کے بالکل خلاف ہے، خاتم الحفاظ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اور جب کہا جائے کہ یہ حدیث صحیح نہیں، اور امام نووی رحمہ اللہ اگر غیر صحیح کے بجائے ضعیف کہتے؛ تو زیادہ مستحکم ہوتا اور ان کا یہ قول حدیث حسن کو شامل ہونے سے محفوظ رہتا، بہر حال اس صورت میں اس کا معنیٰ یہ ہوگا کہ اس کی سند شرطِ مذکور کے اعتبار سے صحیح نہیں، نہ یہ کہ وہ نفس الامر میں جھوٹ ہے؛ کیوں کہ جھوٹے کا سچ بولنا جائز اور جو کثرت سے خطا کرتا ہے اس کا صحیح روایت کرنا ممکن ہے۔" (تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی، محدث سیوطی رحمہ اللہ، النوع الاول، ج ۱، ص ۷۶، ط: دار طیبہ)
امام محقق محمد محمد محمد ابن امیر الحاج حلبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "امام ترمذی رحمہ اللہ کا یہ فرمانا کہ اس بات میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی صحیح حدیث نہیں ملی، حدیث حسن اور اس کے مثل حدیث کی نفی نہیں کرتا۔" (فتاویٰ رضویہ مترجم، بحوالہ حلیہ شرح منیہ، امام حلبی رحمہ اللہ، ج ۵، ص ۷۳، برکاتِ رضا، گجرات)
سند الحفاظ امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "صحت کی نفی سے حسن کا انتفا نہیں ہوتا۔" (فتاویٰ رضویہ مترجم، بحوالہ تخریج کلام ابن حاجب للارناؤوط، ج ۵، ص ۳۳۸)
نیز امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "حدیث کے صحیح نہ ہونے سے حدیث کا موضوع ہونا لازم نہیں آتا۔" (القول المسدد فی ذب عن مسند احمد، الحدیث السابع، ص ۳۷، مکتبہ ابن تیمیہ، قاہرہ)
اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمہ اللہ اسی تعصب یا غلط فہمی اور جہل کا ازالہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "محدثین کرام کا کسی حدیث کو فرمانا کہ صحیح نہیں، اس کے یہ معنیٰ نہیں کہ غلط و باطل ہے بلکہ صحیح ان کی اصطلاح میں ایک اعلیٰ درجہ کی حدیث ہے، جس کے شرائط سخت و دشوار اور موانع و علائق بسیار، حدیث میں ان سب کا اجتماع اور ان سب کا ارتفاع کم ہوتا ہے، پھر اس کمی کے ساتھ اس کے اثبات میں سخت دقتیں، اگر اس مبحث کی تفصیل کی جائے کلامِ طویل تحریر میں آئے، ان کے نزدیک جہاں ان باتوں میں کہیں بھی کمی ہوئی فرماتے ہیں: یہ حدیث صحیح نہیں یعنی اس درجہ علیا کو نہیں پہنچی، اس سے دوسرے درجہ کی حدیث حسن کہتے ہیں، یہ با آنکہ صحیح نہیں پھر بھی اس میں کوئی قباحت نہیں ورنہ حسن ہی کیوں کہلاتی، عقلاً اِتاوہتا ہے کہ اس کا پایہ بعض اوصاف میں اس بلند مرتبہ سے جھکا ہوتا ہے، اس قسم کی بھی سیکڑوں حدیثیں صحیح مسلم وغیرہ کتبِ صحاح بلکہ عند التحقیق بعض صحیح بخاری میں بھی ہیں، یہ قسم بھی استناد و احتجاج کی پوری لیاقت رکھتی ہے، وہی علما جو اسے صحیح نہیں کہتے برابر اس پر اعتماد کرتے اور احکامِ حلال و حرام میں حجت بناتے ہیں۔" (فتاویٰ رضویہ مترجم، ج ۵، ص ۳۳)
مزید تفصیل کے لیے علومِ حدیث کی دیگر کتابوں اور محدثِ بریلوی رحمہ اللہ کی کتاب: "منیر العین فی تقبیل الابہامین و باسمِ دُبُر الحمار الکافر فی احکام المضاف" کی طرف رجوع کریں۔
صحیح احادیث کا حصر
بہت سارے لوگ تشدد بے جا یا جہل و لاعلمی کی وجہ سے صحیح احادیث صرف صحیح بخاری یا صحیح مسلم یا کتبِ ستہ ہی سے مطالبہ کرتے ہیں اور اگر انہیں ان کتب کے علاوہ سے صحیح حدیث پیش کی جائے؛ تو اسے یہ کہہ کر رد کر دیتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح بخاری یا صحیح مسلم یا کتبِ ستہ میں نہیں ہے، گویا کہ صحیح احادیث ان میں سے بعض یا انہیں کتابوں میں منحصر ہیں، حالاں کہ ان کا یہ طریقہ محدثین کرام کے خلاف اور تشدد و تعنت سے ناشی ہے، ملاحظہ فرمائیں:
امام ابن صلاح رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "امام بخاری و مسلم رحمہما اللہ نے اپنی کتابوں میں صحیح احادیث کا احاطہ نہیں کیا اور نہ ہی آپ حضرات نے صحیح احادیث کے احاطہ کرنے کا التزام کیا، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ’الجامع‘ میں صحیح حدیث کے علاوہ کوئی دوسری حدیث شامل نہیں کی اور طوالت کے خوف سے دوسری صحیح احادیث چھوڑ دیں۔" (مقدمہ ابن الصلاح، النوع الاول معرفة الصحیح، ص ۱۷، ط: دار الرائد القدسی)
نیز امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "مجھے ایک لاکھ صحیح احادیث اور دو لاکھ غیر صحیح احادیث یاد ہیں۔" (مقدمہ ابن الصلاح، النوع الاول معرفة الصحیح، ص ۱۷، الحدیث المحمدون، محمد ابو زہو، ص ۳۹۶، ط: المكتبة التوفيقية، مصر)
امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "میں نے یہ کتاب لکھی ہے اور میں نے یہ کہا ہے کہ اس کی احادیث صحاح ہیں، میں نے یہ نہیں کہا کہ اس کتاب میں جس حدیث کی میں نے تخریج نہیں کی وہ ضعیف ہے۔" (توجیہ النظر الی اصول الاثر، طاہر بن صالح الجزائری، ج ۱، ص ۲۲۹، ط: مکتبۃ المطبوعات الاسلامیۃ، حلب، الحدیث و المحدثون، محمد محمد ابو زہو، ص ۳۹۲-۳۹۳)
امام عبد الحئی لکھنوی رحمہ اللہ سننِ اربعہ اور دیگر کتبِ احادیث سے متعلق تفصیلی گفتگو کرنے کے بعد فرماتے ہیں: "دوسرے سوال کے جواب میں جو باتیں میں نے لکھی ہیں شاید اس کے ذریعہ غور و خوض کرنے والا یہ سمجھ جائے کہ بعض عوام کے ذہن جو یہ بات ذہن نشین ہو چکی ہے کہ کتبِ سنن کی ہر حدیث قابلِ احتجاج ہے، یہ قابلِ اعتبار نہیں اور اسی طرح بعض کے ذہن میں جو یہ بات بیٹھ چکی ہے کہ کتب ستہ یا کتب سبعہ کے علاوہ میں جو موجود ہے، وہ حدیث ضعیف ہے، یہ بات بھی قابلِ توجہ اور قابلِ احتجاج نہیں۔" (الاجوبۃ الفاضلۃ للاسئلۃ العشرۃ الکاملۃ، عبدالحئی لکھنوی رحمہ اللہ، ص ۱۱، ط:مکتب المطبوعات الاسلامیۃ،بیروت)
مزید تفصیل کے لیے راقم الحروف کا مقالہ: 'احادیث صحیحہ صحیح بخاری یا صحیحین یا کتب ستہ میں محدود و ؟! قارئین کا منصفانہ جائزہ'، مطالعہ کریں۔
ہمارے ممدوح محدث بریلوی رحمہ اللہ محدثین کے شانہ بشانہ چلتے ہوئے اسی تشدد و سخت اور مہمل کارد کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "اور استناد کا روایات صحیحہ مرفوعہ متصلۃ الاسانید میں حصر اور صحاح کا صرف کتب ستہ پر قصر جیسا کہ 'صاحبِ مآۃ مسائل' سے یہاں واقع ہوا، جہلِ شدید و سفہِ بعید ہے، حدیثِ حسن بھی بالاجماع حجت ہے، غیر عقائد و احکامِ حلال و حرام میں حدیثِ ضعیف بھی بالاجماع حجت ہے، ہمارے ائمہ کرام حنفیہ و جمہور ائمہ کے نزدیک حدیثِ مرسل غیر متصل الاسناد بھی حجت ہے، ہمارے امامِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک حدیثِ موقوف غیر مرفوع قولِ صحابی بھی حجت ہے کہ یہ سب مسائل ادنیٰ طالب علم پر بھی روشن ہیں اور حدیثِ صحیح کا ان چار کتابوں میں محصور نہ ہونا بھی علمِ حدیث کے ابجد خوانوں پر بَین و برہن مگر 'لکن الولایاۃ قومٌ تتکملون'۔ (فتاویٰ رضویہ مترجم، محدثِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ، ج 9، ص 651، ط: گجرات)
نیز اسی جہل اور ہٹ دھرمی سے پردہ چاک کرتے ہوئے حصرِ احادیث کے متعلق محدثِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ مزید گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "رابعاً ان حضرات کا دابِ کلی ہے کہ جس امر پر اپنی قاصر نظر ناقص تلاش میں حدیث نہیں پاتے اس پر بے اصل و بے ثبوت ہونے کا حکم لگا دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی صرف اس بنا پر اسے ممنوع و ناجائز ٹھہراتے ہیں... صاحبو! لاکھوں حدیثیں اپنے سینوں میں لے گئے کہ اصلاً دوین میں بھی نہ آئیں، امام بخاری کو چھ لاکھ حدیثیں حفظ تھیں، امام مسلم کو تین لاکھ، پھر صحیحین میں صرف سات ہزار حدیثیں ہیں، امام احمد کو دس لاکھ محفوظ تھیں، مسند میں فقط تئیس ہزار، خود شیخین وغیرہ ائمہ سے منقول کہ ہم سب احادیث کا استیعاب نہیں چاہتے، اور اگر ادعائے استیعاب فرض کیجیے: تو لازم آئے کہ افرادِ بخاری، امام مسلم اور افرادِ مسلم، امام بخاری اور صحاحِ افرد سنن اربعہ، دونوں اماموں کے نزدیک صحیح نہ ہوں، اور اگر اس ادعا کو آگے بڑھایئے! تو یوں ہی صحیحین کی وہ متفق علیہ حدیثیں جنہیں امام نسائی نے مجتبیٰ میں داخل نہ کیا، ان کے نزدیک حلیہ صحت سے عاری ہوں وهو کما تریٰ"۔ (فتاویٰ رضویہ مترجم، محدثِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ، ج 3، ص 294)
صحیح احادیث کے حصر کا مفسد و کتنا زیادہ خطرناک ہے خود امام محدثِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے اس علمی تبصرہ سے بخوبی واضح و ظاہر ہے مگر بے جا تشدد و تعنت کا انجام چوں کہ قعرِ مذلت ہی میں گرتا ہے 'اسی لیے وہابیہ اور ان کے ہم نوا بولتے ہیں مگر سمجھتے نہیں۔'
حدیثِ معلق
حدیثِ معلق: وہ ہے جس کی سند کے شروع سے ایک یا ایک سے زائد راوی صیغہ جزم کے ذریعہ ایک ساتھ حذف کر دیے گئے ہوں۔ (تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی، محدث سیوطی رحمۃ اللہ علیہ، ص 250، ط: دار طیبہ)
شیخ الاسلام امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا صیغہ جزم کے ساتھ حدیث روایت کرنے کے متعلق فرماتے ہیں: "اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ صیغہ جزم جیسے قال فلان کو ان بعض احادیث میں بھی استعمال کرتے ہیں جن کو آپ نے اپنے شیوخ سے نہیں سنا پھر ان شیوخ اور اپنے درمیان دوسری جگہ واسطہ کے ذریعہ حدیث ذکر کرتے ہیں، جیسا کہ التاریخ میں آپ نے فرمایا قال ابراھیم بن موسیٰ حدثنا ھشام بن یوسف، اس کے بعد حدیث ذکر کیا، پھر فرماتے ہیں، حدثونی بھذا عن ابراھیم، لیکن یہ بات آپ کی ہمیشہ جزم کے ساتھ ذکر کی گئی حدیث کے بارے میں نہیں کہہ سکتے، لیکن جب تک یہ احتمال باقی ہے اس وقت تک اس صیغہ سے ذکر کی گئی حدیث کو ان کے اپنے شیوخ سے سماع پر محمول کرنا درست نہیں۔"
اس بیان سے امام عراقی رحمۃ اللہ علیہ کی جانب امام ابن صلاح رحمۃ اللہ علیہ کی پیش کردہ مثال پر کیا ہوا اعتراض بھی دفع ہو گیا، مثال یہ ہے فقال: عفان و قال: القعنبی، یہ دونوں امام بخاری کے شیوخ سے ہیں، اگرچہ ان سے امام کی روایت سماع میں صراحت والے صیغے سے نہیں وہ اتصال پر محمول ہے ۔۔۔ پھر اس تقسیم میں ہمارا یہ کہنا کہ صیغہ جزم کی حدیث معلق امام بخاری کی شرط کے ساتھ ملحق ہوگی اور یہیں کہا کہ امام کی شرط پر ہے: 'کیوں کہ یہ حدیث اگرچہ صحیح ہے مگر صحیح مسند کی قسم سے نہیں۔' (تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی، محدث سیوطی رحمۃ اللہ علیہ، ج 135)
امام عراقی رحمۃ اللہ علیہ کا اعتراض اس لیے دفع ہو گیا: کیوں کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی حدیث معلق ان کے شیوخ کے ذریعہ متصل تو ہوتی ہے مگر احتمال کی وجہ سے بعض احادیث کے متعلق اپنے شیوخ سے سماع مشکوک ہوتا ہے۔
امام محدثِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ عدوی کے ثبوت اور عدمِ ثبوت پر گفتگو کرتے ہوئے، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی اسی طرح کی حدیثِ معلق کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں، ملاحظہ فرمائیں: "رہیں قسمِ اول کی حدیثیں، وہ اس درجہ عالیہ صحت پر ہیں جس پر احادیثِ نفی ہیں۔۔۔ صرف حدیثِ اول کی تصحیح ہو سکتی ہے مگر وہی حدیث اس سے اعلیٰ درجہ پر جو صحیح بخاری میں آئی خود اسی میں ابطالِ عدوی موجود۔۔۔ مع ہذا صحت میں اس کا پایہ بھی دیگر احادیث سے گرا ہوا ہے کہ اسے امام بخاری نے مسنداً روایت نہیں کیا بلکہ بطورِ تعلیق۔ چنانچہ امام بخاری نے فرمایا: عفان نے کہا، یہ عفان اگرچہ جب کچھ نا عاقبت اندیشوں نے صرف صحیح حدیث کو قابلِ احتجاج قرار دینے کی کوشش کی: تو امام محدثِ بریلوی علیہ الرحمہ نے حدیثِ حسن کو میدانِ احتجاج میں صحیح کے مشارک ہونے کی بات فاش کرتے ہوئے، اس حدیث کی انہیں دو اقسام کی طرف بھی اشارہ کیا اور فرمایا: 'اگر صحیح سے مقابلِ حسن مراد ہو تو ہرگز حجت اس میں منحصر نہیں، صحیح لِذاتہ و صحیح لِغیرہ و حسن لِذاتہ و حسن لِغیرہ وہ سب حجت اور خود مثبتِ احکام ہیں۔'" (فتاویٰ رضویہ مترجم، محدثِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ، ج 25، ص 190، ط: مرکز اہل سنت برکاتِ رضا، گجرات)
النوع الثانی، حدیثِ حسن
حدیثِ حسن کی دو اقسام ہیں: حسن لذاتہ، حسن لغیرہ، ان دونوں اقسام کی تعریف ملاحظہ فرمائیں:
حدیثِ حسن لذاتہ: "وہ حدیث جس کی سند شذوذ و علت کے بغیر عدول اور خفیف ضبط راوی کے ذریعہ متصل ہو"۔
حدیثِ حسن لغیرہ: "وہ حدیث ہے جس کا حسن اختصار کے سبب ہو، جیسے مستور راوی کی حدیث جو متعدد طرق سے مروی ہو"۔ (نزہۃ النظر فی توضیح نخبۃ الفکر، محدث ابن حجر رحمہ اللہ، ص 48، ط: مطبعۃ سفیر، الریاض)
نیز فرماتے ہیں: "اور حسن کی یہ دونوں اقسام میدانِ احتجاج میں صحیح حدیث کے ساتھ شریک ہیں"۔ (ایضاً)
جب کچھ ناعاقبت اندیشوں نے صرف صحیح حدیث کو قابلِ احتجاج قرار دینے کی کوشش کی: تو امام محدثِ بریلوی علیہ الرحمہ نے حدیثِ حسن کو میدانِ احتجاج میں صحیح کے مشارک ہونے کی بات فاش کرتے ہوئے، اس حدیث کی انہیں دو اقسام کی طرف بھی اشارہ کیا اور فرمایا: "اگر صحیح سے مقابل حسن مراد ہو تو ہرگز حجت اس میں منحصر نہیں، صحیح لذاتہ و صحیح لغیرہ و حسن لذاتہ و حسن لغیرہ وہ سب حجت اور خود مثبتِ احکام ہیں"۔ (فتاویٰ رضویہ مترجم، محدثِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ، ج 25، ص 190، ط: مرکزِ اہلِ سنت برکاتِ رضا، گجرات)
حدیثِ حسن کی تقسیم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید فرماتے ہیں: "دوسرا درجہ احکام کا ہے کہ ان کے لیے اگرچہ اتنی قوت درکار نہیں پھر بھی حدیث کا صحیح لذاتہ خواہ لغیرہ یا حسن لذاتہ یا کم سے کم لغیرہ ہونا چاہیے"۔ (فتاویٰ رضویہ مترجم، محدثِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ، ج 5، ص 486)
نیز حدیثِ حسن کے قابلِ احتجاج ہونے کا ثبوت پیش کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: "حدیثِ حسن بھی بالاجماع حجت ہے"۔ (فتاویٰ رضویہ مترجم، محدثِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ، ج 5، ص 251)
مزید بطورِ احتجاج حدیثِ حسن ذکر کرنے کے بعد صاحبِ 'العلیۃ' کی عبارت نقل فرماتے ہیں، جس سے وضاحت ملتی ہے کہ صحیح حدیث کی طرح حدیثِ حسن بھی قابلِ احتجاج ہے، عبارت ملاحظہ فرمائیں: "امام ترمذی نے فرمایا: اس سلسلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کوئی چیز سندِ صحیح سے ثابت نہیں، ان کا یہ قول حدیثِ حسن اور اس کے مثل کے وجود کی نفی نہیں کرتا، اور مطلوب کا ثبوت صرف صحیح حدیث پر موقوف نہیں بلکہ اس سے ثابت ہونے کی طرح حدیثِ حسن سے بھی ثابت ہوتا ہے"۔ (فتاویٰ رضویہ مترجم، محدثِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ، ج 5، ص 330؛ ج 1 ص 240)
