Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

سلام عام کرو، سلام عام کرو|محمد حسان عطاری

سلام عام کرو، سلام عام کرو
عنوان: سلام عام کرو، سلام عام کرو
تحریر: محمد حسان عطاری
پیش کش: جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج

اسلام میں سلام کی بہت اہمیت ہے۔ اس کے ذریعے مسلمانوں کے درمیان خوبصورت تعلقات اور آپس میں محبت و مودت نیز ملنساری بھی پیدا ہوتی ہے، نیز اس کے ذریعے سے ایک دوسرے کی پہچان بھی ہوتی ہے۔ سلام یہ ایک کلمہ نہیں بلکہ آپس میں محبت قائم کرنے اور نفرت کو مٹانے کا ایک بہترین فارمولا ہے۔ جو دشمن ہے اس کو دوست بنانے، جو دور ہے اس کو نزدیک کرنے کا ہتھیار ہے۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کو خوب خوب عام کرنے کی ہم سب کو ترغیب ارشاد فرمائی ہے۔

لیکن افسوس! تو اس بات پر ہے کہ جس پیاری سنت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عام کرنے کا حکم دیا ہے اس کو آج ہم سستی و کاہلی کی وجہ سے چھوڑ دیتے ہیں۔

اس کی متعدد وجوہ ہو سکتی ہیں۔ انہیں میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ ہمارا دل گناہوں کی وجہ سے اتنا خراب ہو چکا ہے کہ نیکیاں جمع کرنے کی جانب ہماری توجہ مبذول نہیں ہو پاتی اور یہ ہے کہ ہم اس لیے بھی سلام نہیں کرتے کہ اس میں بظاہر نیکیاں کم نظر آتی ہیں۔

پہلی وجہ کے بارے میں سنیے

ویسے ہم بہت کچھ بولتے رہتے ہیں۔ صبح نیند سے اٹھتے ہیں تو زبان چلنا شروع ہوتی ہے اور رات کو سوتے وقت ہی ہماری گفتگو ختم ہوتی ہے۔ فضول گپیں، ہنسی مذاق، گالیاں، چغلیاں، نہ جانے کیا کیا فضول گناہ کرتے رہتے ہیں مگر سلام کرتے وقت خدا جانے ہمیں کیوں مشکل ہوتی رہتی ہے؟ جبکہ اچھے اور بااخلاق مسلمان کی عادت میں آپس میں سلام کرنا شامل ہوتا ہے اور چھوٹے بڑے سب مسلمانوں کو سلام کرتے ہیں۔

اے کاش! ہمارا بھی ذہن نیکیاں جمع کرنے والا بن جائے اور ہم بھی سلام کی سنت کو عام کرنے والے بن جائیں!

دوسری وجہ کے بارے میں سنیے

ہو سکتا ہے کہ آپ کو بظاہر سلام کی نیکیاں کم لگ رہی ہوں کہ صرف 30 نیکیاں ہی تو ہیں۔ یاد رکھیے، اس کو کم نہ سمجھیے۔ کیوں کہ ایک نیکی جو مقبول بارگاہ ہو جائے، بخشش و مغفرت کے لیے کافی ہو جایا کرتی ہے۔

ایک حدیث پاک سنیے اور غور کیجیے

حدیث پاک میں ہے، بندہ قیامت کے دن نیکی اور گناہ لے کر آئے گا، اس کا حساب شروع ہوگا، نیکیاں گناہوں کے ذریعے مٹتی جائیں گی، آخر بندے کے پاس صرف ایک نیکی بچے گی، اسی ایک نیکی کے صدقے اللہ پاک اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔ [المعجم الکبیر، ج: 5، ص: 115]

اس سے معلوم ہوا کہ بندے کے پاس اخلاص والی مقبول نیکی صرف ایک بھی ہو تو اس کی جزا جنت ہے۔ اب کیا معلوم کہ سلام کرنے کی برکت سے جو 30 نیکیاں ہمیں مل رہی ہیں بارگاہ قدس میں مقبول ہو جائیں اور ہمارا بیڑا پار ہو جائے۔ اس لیے سلام کرنے کو اپنے اوپر لازم کریں اور ڈھیر ساری نیکیاں اپنے اعمال نامے میں جمع کرنے میں کامیابی حاصل کریں۔

سلام کی خصوصیات

جب کوئی بندہ کسی چیز کو لینے یا کسی کام کو کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی خصوصیات کو بھی جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ سلام بھی ایک ایسا کام ہے جس کا کرنا بہت ثواب کا کام ہے اور اس میں بہت ساری خصوصیات ہیں۔ جن میں سے چند ذیل میں نقل کی جاتی ہیں:

سلام کرنا بھی بہت کمال کی عادت ہے

  1. (1) اسلامی سلام دنیا کے تمام طریقوں سے اچھا، نرالا اور بہت باکمال ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں ”حیاک اللہ“ کہا جاتا تھا۔ یہ بھی اچھی دعا ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ زندگی بغیر سلامتی کے عذاب بن جایا کرتی ہے، جبکہ سلامتی زندگی کا ایک خاص پہلو سلام کو عام کرنے میں بھی پنہاں ہے۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سلام کا حکم ارشاد فرمایا کہ ہم جہاں بھی رہیں سلامت رہیں، بس شرط یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کو سلام کرنے کی عادت بنا لیں۔

سلام آپسی محبت کا ایک ذریعہ ہے

  1. (2) سلام کرنا آپس میں محبت پیدا کرنا ہے۔ اس کا اثر سیدھا دل پر ہوتا ہے۔ حدیث پاک میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک ایمان نہ لے آؤ اور تم اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتے جب تک آپس میں محبت قائم نہ کر لو، پھر فرمایا: کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جس پر عمل کرنے سے تمہاری آپس میں محبت بڑھ جائے گی؟ فرمایا:

    أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ۔ [سنن أبي داود، ص: 809]

    آپس میں سلام کو عام کرو۔ حدیث مذکور کو پڑھنے سے یہ درس حاصل ہوتا ہے کہ آپس میں محبت قائم کرنا بھی ایک مومن کامل کی نشانی ہے اور اس نشانی کو بروئے کار لانے میں سب سے پر اثر معاون ایک دوسرے کو سلام کرنا بھی ہے۔

سب کو سلام کرو

  1. (3) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اسلام کی کون سی چیزیں سب سے اچھی ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھانا کھلاؤ اور جس کو پہچانتے ہو اور نہیں پہچانتے ہو سب کو سلام کرو۔ [صحیح البخاری، ص: 1522]

تکبر سے بری کون ہے

  1. (4) ایک اور حدیث پاک میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص پہلے سلام کرتا ہے وہ تکبر سے بری ہے۔ [شعب الایمان، ج: 6، ص: 449]

پہلے سلام کرو پھر کلام کرو!

  1. (5) ایک اور حدیث پاک میں جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلام کو کلام سے پہلے ہونا چاہیے اور کسی کو کھانے کے لیے نہ بلاؤ جب تک وہ سلام نہ کر لے۔ [سنن الترمذي، ج: 4، ص: 321]

بچوں کو بھی سلام کیا جائے

  1. (6) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے سامنے سے گزرے اور بچوں کو سلام کیا۔ [المرجع السابق، ج: 4، ص: 170]

پیارے اسلامی بھائیو!

مذکورہ تمام باتوں سے پتہ چلا کہ سلام کے مزید بہت سے فضائل و خصوصیات ہیں جن کا احاطہ سبب طوالت اور باعث بے چینی ہے۔ اب ہمیں چاہیے کہ ان فضیلتوں کو حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کو جب کبھی ملاقات ہو سلام کریں۔ ہر کسی کو سلام کریں۔ عقلمند را اشارہ کافی است۔ باتیں کہنے کو بہت ہیں لیکن عاقلین کے لیے کلام مذکور کافی ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو خوب خوب سلام عام کرنے کی سعی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!