Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

ماہِ محرم میں رائج بدعات و رسومات|محمد عارف رضا قادری امجدی

ماہِ محرم میں رائج بدعات و رسومات
عنوان: ماہِ محرم میں رائج بدعات و رسومات
تحریر: محمد عارف رضا قادری امجدی
پیش کش: جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی

إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللّٰهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۚ ذٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ ۚ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنْفُسَكُمْ [سورۃ التوبۃ: 36]

بیشک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں، اللہ کی کتاب میں، جس دن اس نے آسمان اور زمین بنائے، ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔ یہی سیدھا دین ہے، تو ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔

آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے۔ جن میں سے چار حرمت والے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا: “زمین و آسمان کی تخلیق کے دن سے زمانہ گردش میں ہے۔ سال بارہ مہینوں کا ہے جن میں سے چار حرمت والے ہیں۔ تین مسلسل ہیں: ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم جبکہ ایک مہینہ رجب ہے۔” [صحیح البخاری، رقم الحدیث: 3197، صحیح مسلم، رقم الحدیث: 4383]

ان مہینوں کو حرمت والا اس لیے کہتے ہیں کہ ان میں ہر ایسے کام سے جو فتنہ و فساد اور امن عامہ کی خرابی کا باعث ہو، بالخصوص منع فرما دیا گیا ہے۔ مثلاً آپس میں لڑائی جھگڑا اور ظلم و زیادتی وغیرہ نافرمانی کے کام کر کے اپنی جانوں پر ظلم کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ ان حرمت والے مہینوں میں قتال کر کے ان کی حرمت پامال کر کے اللہ کی نافرمانی کا ارتکاب نہ کرو۔ ہاں اگر کفار ان مہینوں میں بھی تمہیں لڑنے پر مجبور کر دیں تو لڑائی کرنا درست ہی نہیں بلکہ فرض بھی ہے۔

محرم الحرام میں مسنون عمل

ماہ محرم میں مسنون عمل بالخصوص روزے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ آپ ماہ محرم میں بکثرت روزے رکھتے تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی اس مہینے میں روزے رکھنے کی ترغیب دلاتے، جیسا کہ حدیث نبوی میں رمضان کے علاوہ نفلی روزوں میں محرم کے روزوں کو افضل قرار دیا گیا ہے۔ فرمان نبوی ہے:

أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَهْرُ اللّٰهِ الْمُحَرَّمُ [صحيح مسلم، كتاب الصيام، باب فضل صوم المحرم، رقم الحديث: 1163]

ماہ رمضان کے بعد افضل ترین روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں۔

ماہ محرم میں مروجہ بدعات و رسومات

واقعہ کربلا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور دین محمدی کی تکمیل کے تقریباً 50 سال بعد پیش آیا۔ یہ ایک تاریخی سانحہ ہے لیکن واقعہ شہادت حسین رضی اللہ عنہ کی وجہ سے شیطان کو بدعتوں اور ضلالتوں کے پھیلانے کا موقع مل گیا، چنانچہ کچھ لوگ ماہ محرم کا چاند نظر آتے ہی اور بالخصوص دس محرم میں نام نہاد محبت کی بنیاد پر سیاہ کپڑے زیب تن کرتے ہیں۔ سیاہ جھنڈے بلند کرتے ہیں۔ نوحہ و ماتم کرتے ہیں۔ تعزیے اور تابوت بناتے ہیں۔ منہ پیٹتے اور روتے چلاتے ہیں۔ بھوکے پیاسے رہتے ہیں۔ ننگے پاؤں پھرتے ہیں۔ گرمی ہو یا سردی، جوتا نہیں پہنتے۔ نوحہ اور مرثیے پڑھتے ہیں۔ عورتیں بدن سے زیورات اتار دیتی ہیں۔ ماتمی جلوس نکالے جاتے ہیں۔ زنجیروں اور چھریوں سے خود کو زخمی کیا جاتا ہے۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور دیگر شہداء کی نیاز کا شربت بنایا جاتا ہے۔ پانی کی سبیلیں لگائی جاتی ہیں۔

حالانکہ اس دن روزہ رکھنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مسنون اور افضل عمل ہے۔ عاشوراء محرم کے دوران شادی و خوشی کی تقاریب نہ کرنا (جبکہ شریعت محمدی میں اس کی کوئی ممانعت نہیں ورنہ باقی سارا سال بھی دیگر جید صحابہ کی شہادت کے سوگ مناتے گزر جائے گا) شہادت کا سوگ ہر سال منانا، یہی نہیں بلکہ عظیم صحابہ و اسلاف کو گالیاں دینا، طعن و تشنیع کا نشانہ بنانا اور دیگر مختلف قسم کی خود ساختہ خرافات، ان صحابہ و اسلاف کی طرف منسوب کرنا اور ان بے گناہ لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لینا جو دین اسلام کے اولین راوی ہیں، جن کے بغیر دین اسلام کا کوئی شعبہ مکمل نہیں ہوتا، جنہیں واقعات کربلا سے دور و نزدیک کا بھی کوئی تعلق نہیں تھا۔

پھر واقعہ کربلا کی جو کتابیں پڑھی جاتی ہیں، وہ زیادہ تر اکاذیب و اباطیل کا مجموعہ ہیں جن کا مقصد فتنہ و فساد کے نئے دروازے کھولنا اور امت میں پھوٹ ڈالنا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ یہ تمام بدعات و خرافات ایک خاص مذہب کی ترویج و تبلیغ اور اس کو سہارا دینے کے لیے ایک سوچی سمجھی پلاننگ کا نتیجہ ہیں جن کی ادائیگی میں امن عامہ قائم نہیں رہ سکتا۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں، اسلام امن و آشتی کا دین ہے۔ دیکھا دیکھی، ہمارے اہل سنت بھائیوں نے بھی اس نسبت سے ایسے کام شروع کر دیے جن کا شریعت اسلامیہ میں کوئی وجود نہیں، جو سراسر بدعات و ضلالت پر مبنی امور ہیں، جن کی دین اسلام قطعاً اجازت نہیں دیتا۔ یہ حضرات اپنے زعم میں اس مہینے کا احترام کرتے ہوئے اس کی تقدیس و احترام کو پامال کر دیتے ہیں اور ثواب حاصل کرنے کے بجائے گناہوں کا بوجھ اپنے اوپر مسلط کر لیتے ہیں اور گنہگار بن کر اللہ اور اس کے رسول کے نافرمانوں کی لسٹ میں اپنا نام درج کروا لیتے ہیں۔

ماہ محرم الحرام میں عام دستور و رواج کے مطابق شہادت حسین رضی اللہ عنہ اور واقعات کربلا کے حوالے سے، بازاروں، دکانوں، ریڈیو، ٹی وی اور دیگر مجالس میں لوگوں کے سامنے مکذوبہ، موضوعہ اور ضعیف من گھڑت خود ساختہ داستانیں اور قصے بڑی رنگ آمیزی سے بیان کیے جاتے ہیں جس میں وہ خود بھی روتے ہیں اور سننے والوں کو بھی رلاتے ہیں۔ سب سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ جو لوگ کربلا کا فسانہ اور شہید مظلوم کی خود ساختہ داستانیں اور ان پر پانی بند ہونے کے جھوٹے قصے لوگوں کو سنتے سناتے ہیں، وہی محرم کے مہینے شربت کے مٹکے اور قسم قسم کے گانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ شہادت تو ایک انمول اعزاز کو کہتے ہیں جس پر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ فائز ہوئے۔ شہید زندہ ہوتا ہے نہ کہ مردہ۔

ہمارے بہت سے سنی بھائی، بہن رافضی حضرات کی دیکھا دیکھی بھی اور کچھ ان کے وسیع پروپیگنڈے کے شکار ہو کر بھی درج ذیل بدعات کا ارتکاب کرتے ہیں:

  1. مجالس شہادت: جن میں سنی عوام گریہ و زاری کا وہی منظر پیش کرتے ہیں جو مجالس روافض سے زیادہ مختلف نہیں ہوتا۔

  2. ویڈیو، ٹی وی اور دیگر مجالس میں سنے گئے نوحے اور مرثیے پڑھتے ہیں۔

  3. محرم کی دس تاریخ کو چولہے اوندھے کر دیے جاتے ہیں۔

  4. نو بیاہی عورتیں یوم عاشوراء اپنے اپنے میکے میں گزارتی ہیں۔

اس کے علاوہ توہم پرست لوگوں نے اور بھی بہت سے باطل خیال قائم کر لیے ہیں۔ مثلاً مہینے کے پہلے دس دنوں میں اگر کوئی اپنی بیوی سے ہم بستری کرے گا تو اولاد منحوس ہوگی یا ناقص العقل ہوگی۔ اس قسم کا خیال عرب کے جاہل لوگوں کا تھا۔ ماہ شوال کو منحوس سمجھتے اور اس میں شادی نہیں کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس خیال باطل کو توڑنے کے لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے شادی ماہ شوال میں کی اور رخصتی بھی اسی مہینے میں ہوئی۔

ماہ محرم میں ایک اور خلاف شرع کام یہ کیا جاتا ہے کہ محرم کے آغاز سے ہی قبروں کی لیپا پوتی کا کام شروع ہو جاتا ہے۔ جوں جوں 10 محرم قریب آتا جاتا ہے قبرستانوں میں رونق کے اندر اضافہ ہو جاتا ہے۔ 10 محرم کا سورج طلوع ہوتے ہی لوگ جوان بہو، بیٹیوں کو لے کر قبرستانوں کی جانب نکل پڑتے ہیں۔ پھولوں اور اگربتیوں کے اسٹال لگائے جاتے ہیں۔ قبروں کی لیپا پوتی کی جاتی ہے۔ ان پر مرد و زن اکٹھے مٹی ڈالتے ہیں جس سے کئی ایک غیر شرعی قباحتیں لازم آتی ہیں مثلاً بے پردگی، محرم کے بغیر گھر سے نکلنا وغیرہ۔ پھر مٹی ڈالنے کے بعد قبر پر کھڑے ہو کر شیرینی تقسیم کی جاتی ہے، اور کہا جاتا ہے اگر کوئی مٹی ڈالنے کے بعد شیرینی تقسیم نہ کرے تو قبر والے پر بوجھ رہتا ہے۔ یہ سب من گھڑت اور بدعات و خرافات پر مبنی افعال ہیں۔ قبروں کی زیارت کا حکم تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے دیا ہے کہ اس سے آخرت کی یاد تازہ ہوتی رہے، اگر وہاں پر اس قدر پر رونق سماں پیدا کیا جائے تو بلاشبہ یہ شرعی مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ اور شریعت اسلامیہ نے قبروں کی زیارت کے لیے کوئی خاص دن بھی مقرر نہیں کیا، لہذا کسی خاص دن زیارت کو مقید کر دینا بھی شریعت اسلامیہ کے منافی عمل ہے۔

شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ نے اپنی کتاب “صراط مستقیم” میں تحریر فرمایا ہے: “پاک و ہند میں تعزیہ سازی کی جو بدعت رائج ہے یہ شرک تک پہنچا دیتی ہے کیونکہ تعزیہ میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی قبر کی شبیہ بنائی جاتی ہے اور پھر اس کو سجدہ کیا جاتا ہے اور وہ سب کچھ کیا جاتا ہے جو بت پرست اپنے بتوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ اور ان معانی میں یہ پورے طور پر بت پرستی ہے۔ (اعاذنا اللہ منہ)” [صراط مستقیم، ص: 95]

تاریخ کی کتابوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہود ہمیشہ ہی سے اسلام کے دشمن رہے۔ عبداللہ بن سبا نامی یہودی نے یہ تحریک چلائی اور کامیاب رہا۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو 84 سال کی عمر میں لگاتار شدید محاصرہ کر کے 31 دن بھوکا پیاسا تڑپا تڑپا کر شہید کیا گیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور بی بی عائشہ رضی اللہ عنہا میں جنگ کروائی، اپنے بچاؤ کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی آڑ لی مگر جب آپ بھی ان کے حسب مرضی کام نہ آسکے تو انہیں بھی شہید کر دیا۔ ان کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو مذل المومنین کہا، انہیں زخمی کیا اور ان کو شہید کرنے پر تل گئے مگر وہ بچ کر مدینہ پہنچنے کے بعد واصل بحق ہو گئے۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو گھیر گھار کر مکہ سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ جب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کوفہ سے تین منزل کے فاصلے پر پہنچے تو انہیں بھی معلوم ہو گیا کہ میرا بھی وہی حشر کرنے والے ہیں جو اس سے پہلے میرے بھائی اور باپ کا کر چکے ہیں، وہ اسی مقام سے خلیفہ تک پہنچنے کے لیے دمشق روانہ ہوئے مگر جب وہ کربلا کے مقام پر پہنچے تو انہیں بھی شہید کر دیا گیا۔ حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والے کوفی تھے اور کوفی شیعہ تھے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “اہل عراق مکھی قتل کرنے کے متعلق پوچھ رہے تھے حالانکہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو شہید کر دیا۔” [صحیح البخاری]

اے ایمان والو! ان لوگوں کو دوست نہ بناؤ جو تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنائے ہوئے ہیں۔ [سورۃ المائدۃ: 58]

خبردار! خبردار! عاشورے کے دن رافضیوں میں ہرگز مشغول نہ ہو جانا، جیسا کہ مرثیہ خوانی، چلانا، ماتم کرنا یہ سب کام مسلمانوں کے نہیں ہیں۔ [الصواعق المحرقۃ، ص: 112]

تعزیہ داری میں تماشا دیکھنا کیسا؟

اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ چونکہ تعزیہ بنانا ناجائز ہے، لہذا ناجائز بات کا تماشا دیکھنا بھی ناجائز ہے۔ [ملفوظات، ص: 286]

تعزیہ پر منت ماننا کیسا؟

اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تعزیہ پر منت ماننا باطل اور ناجائز ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 24، ص: 501]

تعزیہ پر چڑھاوا چڑھانا اور اس کا کھانا کیسا؟

اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تعزیہ پر چڑھاوا چڑھانا ناجائز ہے اور پھر اس چڑھاوے کو کھانا بھی ناجائز ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 21، ص: 246]

اللہ رب العزت ہمیں کہنے سننے سے زیادہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!