| عنوان: | امام احمد رضا اور اسرائیلیات (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا کمال احمد علیمی نظامی (جمدا شاہی، یوپی) |
| پیش کش: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
قرآن کریم اللہ کی مقدس کتاب ہے، جس میں بندوں کی عبرت و نصیحت کے لیے امم سابقہ کے بہت سارے واقعات و حادثات مذکور ہیں، بالخصوص یہود و نصاریٰ سے متعلق واقعات و اخبار۔ ان واقعات کا ذکر عموماً اجمال کے ساتھ ہوتا ہے، کیوں کہ قرآن کا مقصد اصلی ہدایت و نصیحت ہے، قصہ گوئی نہیں، اسی لیے اخبار ماضیہ کے صرف انہیں پہلوؤں کو ذکر کیا جاتا ہے جن کا تعلق مقصد اصلی سے ہوتا ہے، مگر انسان کی طبیعت میں تجسس ہے، اجمال کی تفصیل تلاشنا اس کی فطرت ہے، اسی لیے جب اس طرح کی آیات کا نزول ہوتا تو صحابہ کرام کبھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے تو کبھی علمائے یہود و نصاریٰ سے ان کی تفصیل و تفسیر معلوم کرتے۔ قرآنی تفسیر کا وہ حصہ جو ان علمائے یہود و فضلائے نصاریٰ سے منقول ہے اسی کو بعد میں “اسرائیلیات” کے نام سے موسوم کیا گیا۔
زیر تحریر مقالہ چونکہ “اسرائیلیات” سے متعلق ہے اس لیے اولاً “اسرائیلیات” کی تعریف ضروری ہے۔
اسرائیلیات کی لغوی تحقیق
لغوی اعتبار سے لفظ “اسرائیلیات” منسوب ہے “اسرائیل” کی طرف، جو لقب ہے اللہ کے نبی حضرت یعقوب علیہ السلام کا، جن کی طرف بنو اسرائیل منسوب ہیں، جنہیں عرف میں “یہود” کہتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد بن محمد ابو شہبہ “اسرائیلیات” کی لغوی تحقیق کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
الْإِسْرَائِيلِيَّاتُ جَمْعُ إِسْرَائِيلِيَّةٍ، نِسْبَةً إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَالنِّسْبَةُ فِي مِثْلِ هَذَا تَكُونُ لِعَجُزِ الْمُرَكَّبِ الْإِضَافِيِّ لَا لِصَدْرِهِ، وَإِسْرَائِيلُ هُوَ يَعْقُوبُ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَيْ عَبْدُ اللَّهِ، وَبَنُو إِسْرَائِيلَ هُمْ أَبْنَاءُ يَعْقُوبَ، وَمَنْ تَنَاسَلُوا مِنْهُمْ فِيمَا بَعْدُ إِلَى عَهْدِ مُوسَى وَمَنْ جَاءَ بَعْدَهُ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، حَتَّى عَهْدِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ وَحَتَّى عَهْدِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ عُرِفُوا بِالْيَهُودِ أَوْ بِيَهُودَ. [الْإِسْرَائِيلِيَّاتُ وَالْمَوْضُوعَاتُ فِي كُتُبِ التَّفْسِيرِ، ص: 12، مَكْتَبَةُ السُّنَّةِ قَاهِرَة، مِصْر]
یعنی “اسرائیلیات” جمع ہے “اسرائیلیۃ” کی، جو منسوب ہے بنو اسرائیل کی طرف، اور اس طرح کی نسبت میں اعتبار مضاف الیہ کا ہوتا ہے مضاف کا نہیں، اور “اسرائیل” سے مراد حضرت یعقوب علیہ السلام ہیں، جس کا لغوی معنی اللہ کا بندہ ہے، بنو اسرائیل سے مراد حضرت یعقوب کے بیٹے، اور حضرت عیسیٰ بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک تک پیدا ہونے والی ان کی اولاد ہیں، جو یہود کے لقب سے مشہور ہوئے۔
مذکورہ لغوی تحقیق سے یہ بات واضح ہو گئی کہ حقیقت کے اعتبار سے “اسرائیلیات” کا لفظ انہیں اخبار و روایات پر ہونا چاہیے جو یہود سے مروی ہیں، مگر تغلیباً ان مرویات پر بھی لفظ اسرائیلیات کا اطلاق ہوتا ہے جو علمائے نصاریٰ یا ان کی کتابوں سے منقول ہوں، چنانچہ ڈاکٹر محمد حسین ذہبی اس سلسلے میں رقم طراز ہیں:
لَفْظُ الْإِسْرَائِيلِيَّاتِ وَإِنْ كَانَ يَدُلُّ بِظَاهِرِهِ عَلَى اللَّوْنِ الْيَهُودِيِّ لِلتَّفْسِيرِ وَمَا كَانَ لِلثَّقَافَةِ الْيَهُودِيَّةِ مِنْ أَثَرٍ ظَاهِرٍ فِيهِ، إِلَّا أَنَّا نُرِيدُ بِهِ مَا هُوَ أَوْسَعُ مِنْ ذَلِكَ وَأَشْمَلُ، فَنُرِيدُ بِهِ مَا يَعُمُّ اللَّوْنَ الْيَهُودِيَّ وَاللَّوْنَ النَّصْرَانِيَّ لِلتَّفْسِيرِ وَمَا تَأَثَّرَ التَّفْسِيرُ مِنَ الثَّقَافَتَيْنِ الْيَهُودِيَّةِ وَالنَّصْرَانِيَّةِ. [التَّفْسِيرُ وَالْمُفَسِّرُونَ، ج: 1، ص: 165]
اس عبارت کا حاصل یہ ہے کہ لفظ اسرائیلیات اگرچہ اپنے ظاہری معنی کے اعتبار سے ان مرویات پر دلالت کرتا ہے جو یہود سے منقول ہوں یا ان کی تہذیب و ثقافت سے متعلق ہوں، مگر تغلیباً ان واقعات و روایات پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے جو نصاریٰ سے متعلق ہیں۔
اسرائیلیات کی اصطلاحی تحقیق
اسرائیلیات کی لغوی تحقیق سے اصطلاحی معنی کو سمجھا جا سکتا ہے، تاہم یہاں پر مختلف عبارتوں میں اسرائیلیات کی اصطلاحی تعریف پیش ہے:
-
الْإِسْرَائِيلِيَّاتُ: الْأَحَادِيثُ الْمَوْضُوعَةُ الْمَنْقُولَةُ مِنْ كُتُبِ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ.
-
الْأَخْبَارُ الْمَنْقُولَةُ مِنَ الْيَهُودِ فِي كُتُبِ التَّفْسِيرِ وَالتَّارِيخِ وَغَيْرِهِمَا.
-
الْإِسْرَائِيلِيَّاتُ إِصْطِلَاحٌ أَطْلَقَهُ الْمُدَقِّقُونَ مِنْ عُلَمَاءِ الْإِسْلَامِ عَلَى الْقَصَصِ وَالْأَخْبَارِ الْيَهُودِيَّةِ وَالنَّصْرَانِيَّةِ الَّتِي تَسَرَّبَتْ إِلَى الْمُجْتَمَعِ الْإِسْلَامِيِّ بَعْدَ دُخُولِ جَمْعٍ مِنَ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى إِلَى الْإِسْلَامِ أَوْ تَظَاهُرِهِمْ بِالدُّخُولِ فِيهِ. [الْإِسْرَائِيلِيَّاتُ وَأَثَرُهَا فِي كُتُبِ التَّفْسِيرِ، ص: 37، لِلدُّكْتُور رَمْزِي نَعْنَاعَة، دَارُ الْقَلَمِ دِمَشْق]
ان تمام تعریفات کا حاصل یہ ہے کہ اسرائیلیات کا لفظ ان احادیث، اخبارات، اور قصص پر بولا جاتا ہے جو علمائے یہود و نصاریٰ اور ان کی آسمانی کتابوں توریت و انجیل سے منقول ہیں۔
تفسیر قرآن میں اسرائیلیات کی آمیزش کا آغاز
جزیرۂ عرب میں یہود کے بہت سارے خاندان آباد تھے، جب اسلام کی برکتیں ظاہر ہوئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لے گئے، تو یہودی ثقافت اور اسلامی تہذیب میں اختلاط کا دور شروع ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام یہود سے بغرض تبلیغ ملاقات فرماتے تھے، تبلیغی کوششوں سے بہت سارے علمائے یہود مشرف بہ اسلام ہوئے، جن میں حضرت کعب احبار، عبد اللہ بن سلام، اور حضرت وہب بن منبہ کا نام قابل ذکر ہے۔ انسان کی فطرت میں تجسس و تحقیق کا داعیہ موجود ہوتا ہے، اسی لیے جب قرآن کریم میں کوئی واقعہ انبیائے سابقین، بنی اسرائیل، یا دیگر اقوام و ملل سے متعلق نازل ہوتا، تو اس کی تفصیل جاننے کے لیے مذکورہ علما سے رجوع کیا جاتا۔ قرآن میں چونکہ ہر بات مفصل مذکور نہیں ہے اس لیے علمائے یہود جو مشرف بہ اسلام ہو چکے تھے وہ اپنے علم یا گزشتہ آسمانی کتابوں کی روشنی میں قرآنی قصص و اخبار کی تفصیل بیان فرماتے، مثلاً حضرت ذوالقرنین، اصحاب کہف، یاجوج و ماجوج وغیرہ سے متعلق قرآن میں صرف انہیں واقعات کا ذکر ہے جن سے بنی نوع انسانی کو عبرت و نصیحت حاصل ہوتی ہے، مگر مسلمان ان کی تفصیل جاننے کے متمنی رہتے، اسی لیے وہ علمائے یہود سے ان واقعات کی تفصیل معلوم کرتے، اس طرح سے اسرائیلیات کی تفسیر قرآن میں آمیزش ہوئی۔
عہد صحابہ میں صرف ضرورت بھر اسرائیلیات سے استفادہ کیا گیا، مگر عہد تابعین میں یہ سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا گیا، بعد کے مفسرین نے اسرائیلیات کو کتب تفسیر کا جزو لاینفک بنا دیا۔
اسرائیلیات کے اقطاب اربعہ
حضرت کعب احبار (متوفی 32ھ)، عبد اللہ بن سلام (متوفی 43ھ)، حضرت وہب بن منبہ (متوفی 110ھ) اور عبدالملک بن عبد العزیز بن جریج (متوفی 150ھ) اسرائیلیات کے اقطاب اربعہ کہلاتے ہیں۔
مشہور رواۃ اسرائیلیات
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنه (متوفی 57ھ)، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنه (متوفی 68ھ)، عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنه (متوفی 63ھ) اور تمیم داری رضی اللہ عنه اسرائیلیات کے مشہور راویوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔
مشہور کتب تفسیر جن میں اسرائیلیات کی کثرت ہے
تَفْسِيرٌ كَبِيرٌ لِمُقَاتِلِ بْنِ سُلَيْمَانَ، جَامِعُ الْبَيَانِ فِي تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ لِلْإِمَامِ مُحَمَّدِ بْنِ جَرِيرٍ، الْكَشْفُ وَالْبَيَانُ عَنْ تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ لِلْإِمَامِ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الثَّعْلَبِيِّ، مَعَالِمُ التَّنْزِيلِ لِلْبَغَوِيِّ، الْمُحَرَّرُ الْوَجِيزُ فِي تَفْسِيرِ الْكِتَابِ الْعَزِيزِ لِابْنِ عَطِيَّةَ، الْكَشَّافُ عَنْ حَقَائِقِ التَّنْزِيلِ وَعُيُونِ الْأَقَاوِيلِ فِي وُجُوهِ التَّأْوِيلِ لِلْعَلَّامَةِ مَحْمُودِ بْنِ عُمَرَ الزَّمَخْشَرِيِّ، مَفَاتِيحُ الْغَيْبِ لِلْإِمَامِ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ فَخْرِ الدِّينِ الرَّازِيِّ، الْجَامِعُ لِأَحْكَامِ الْقُرْآنِ لِلْإِمَامِ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْقُرْطُبِيِّ، مَدَارِكُ التَّنْزِيلِ وَحَقَائِقُ التَّأْوِيلِ لِلْإِمَامِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ النَّسَفِيِّ، لُبَابُ التَّأْوِيلِ فِي مَعَانِي التَّنْزِيلِ لِلْإِمَامِ عَلَاءِ الدِّينِ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْخَازِنِ، وغیرہ مشہور کتب تفسیر ہیں جن میں اسرائیلی روایات کی کثرت ہے، ان میں سے اکثر نے بغیر نقد کے جبکہ کچھ مفسرین نے اسرائیلیات پر نقد کے ساتھ ان کو نقل فرمایا ہے۔
اقسام اسرائیلیات
مختلف اعتبار سے اسرائیلیات کی متعدد قسمیں ہیں، چنانچہ سند و متن کے اعتبار سے اسرائیلیات کی تین قسمیں ہیں:
-
اسرائیلیات جو صحیح ہیں سند و متن کے اعتبار سے۔
-
اسرائیلیات جو ضعیف ہیں سند یا متن کے اعتبار سے۔
-
اسرائیلیات جو موضوع ہیں۔
یوں ہی اسرائیلیات اپنے موضوع اور مضمون کے اعتبار سے تین قسموں پر منقسم ہیں:
-
اسرائیلیات جو عقائد سے متعلق ہیں۔
-
اسرائیلیات جو احکام سے متعلق ہیں۔
-
اسرائیلیات جو مواعظ و نصائح سے متعلق ہیں۔
اسی طرح سے اسرائیلیات شریعت مصطفویہ سے موافقت یا مخالفت کے اعتبار سے بھی تین قسموں میں منحصر ہیں:
-
اسرائیلیات جو شریعت محمدیہ کے موافق ہیں۔
-
اسرائیلیات جو شریعت محمدیہ کے مخالف ہیں۔
-
اسرائیلیات جو شریعت محمدیہ کے نہ موافق نہ مخالف، یعنی مسکوت عنہا ہیں۔
اسرائیلیات کا حکم
اس حوالے سے ڈاکٹر رمزی نعناعۃ فرماتے ہیں:
فَكُلُّ رِوَايَةٍ مِنْ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ الْإِسْرَائِيلِيَّةِ إِنْ صَدَّقَهَا الشَّارِعُ فَهِيَ مَقْبُولَةٌ يَقِينًا، وَإِنْ كَذَّبَهَا فَهِيَ مَرْدُودَةٌ يَقِينًا، وَإِنْ كَانَ الشَّارِعُ سَاكِتًا عَنِ التَّصْدِيقِ وَالتَّكْذِيبِ لَهَا فَيُسْكَتُ عَنْهَا فَلَا تُصَدَّقُ وَلَا تُكَذَّبُ. [الْإِسْرَائِيلِيَّاتُ وَأَثَرُهَا فِي كُتُبِ التَّفْسِيرِ، ص: 79]
یعنی تقسیم ثالث کے تحت آنے والی اقسام میں سے پہلی قسم کا حکم یہ ہے کہ وہ صحیح و مقبول ہے، دوسری مردود ہے، جبکہ تیسری متوقف فیہ ہے، ہاں قسم ثالث کی روایت جائز ہے، کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: لَا تُصَدِّقُوا أَهْلَ الْكِتَابِ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ، یعنی اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو نہ تکذیب۔
اسرائیلیات کے اصل مصادر
دو ہیں:
-
توریت
-
انجیل
علمائے یہود توریت سے استدلال و استخراج روایات کرتے ہیں، جبکہ علمائے نصاریٰ انجیل سے، مثلاً حضرت آدم سے متعلق تفصیلی روایات کا ذکر توریت میں ملتا ہے، جبکہ انجیل میں حضرت عیسیٰ سے متعلق روایات کا ذکر موجود ہے۔
توریت و انجیل آسمانی کتاب ہونے کے ناطے معظم و محترم ہیں، اہل اسلام کے لیے ان پر ایمان لانا ضروری ہے، مگر ان دونوں کتابوں میں اس قدر تحریف و تبدیلی کی گئی کہ اصل و نقل میں تمیز مشکل ہے۔
امام احمد رضا اور اسرائیلیات
فن و موضوع سے متعلق اتنی گفتگو بہت ہے، اب اصل موضوع سے گفتگو مقصود ہے۔
امام احمد رضا کے علم و فضل اور ان کی عظمت و کرامت کا ہر کوئی معترف و مداح ہے، آپ نے مختلف علوم و فنون پر کام کیا، تجدیدی شان کے مالک امام موصوف نے پچپن سے زائد علوم و فنون پر داد تحقیق دی ہے، یوں تو آپ کا خصوصی شغف فقہ و فتاویٰ کی طرف تھا، اور آپ کی تحریروں کا اکثر حصہ اسی فن سے متعلق ہے، مگر دیگر فنون کو بھی آپ کے قلم سیال نے فیض یاب کیا ہے، تقریباً تمام علوم دینیہ اور اکثر علوم دنیویہ میں آپ نے طبع آزمائی فرمائی، دیگر علوم کی طرح علم تفسیر میں بھی آپ کو ملکہ تامہ اور خصوصی درک حاصل تھا، آپ کے مخالفین کا الزام ہے کہ آپ حدیث و تفسیر میں قلیل البضاعۃ تھے، مگر حقیقت میں امام اہل سنت فقہ و افتا کی طرح حدیث و تفسیر کے بھی امام نظر آتے ہیں، آپ کے فتاویٰ میں ہزاروں احادیث اور سینکڑوں آیات ہیں جن سے آپ نے مسائل کا استنباط فرمایا ہے، عظیم محقق و ماہر رضویات، حضرت علامہ محمد حنیف خان رضوی بریلوی نے ان آیات و احادیث کو یکجا کیا تو یہ حیرت انگیز حقیقت سامنے آئی کہ امام اہل سنت کی تصنیفات و فتاویٰ میں تقریباً دس ہزار حدیثیں اور چھ سو آیات کی تفسیر موجود ہیں جو انہیں ان دونوں فنوں میں مرتبہ امامت پر فائز کرنے کے لیے کافی ہیں، یہ بھی ملحوظ رہے کہ یہ تعداد ان تصانیف و فتاویٰ سے ماخوذ ہے جو علامہ موصوف کے دسترس میں تھے، جن کی تعداد تین سو ہے، باقی سینکڑوں تصنیفات و فتاویٰ جہاں تک محقق موصوف کی رسائی نہ ہو سکی ان میں مندرج آیات و احادیث اس شمار سے باہر ہیں۔
دیگر مفسرین کی طرح امام اہل سنت نے بھی آیات و احادیث کی تفسیر و توضیح میں اسرائیلیات کا ذکر چھیڑا ہے، مگر اکثر رد کے ارادے سے اور کہیں کہیں قبولیت کی نیت سے، اس سلسلے میں آپ کے اصول اور شرطیں کیا تھیں، ان شاء اللہ عنقریب ان کا ذکر پیش کروں گا۔
