| عنوان: | امام احمد رضا اور اسرائیلیات (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا کمال احمد علیمی نظامی (جمدا شاہی، یوپی) |
| پیش کش: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
توریت و انجیل کے بارے میں امام اہل سنت کا ارشاد
ایک موقع پر توریت و انجیل میں تحریف و تبدیل کے اسباب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
“توریت و انجیل کچھ تو ملعون احباروں نے اپنے اغراضِ ملعونہ سے روپئے لے کر اپنے مذہبِ ناپاک کے تعصب سے قصداً بدلیں اور کچھ ایسے ہی ترجمہ کرنے والوں نے اس خلط و خبط کی بنیادیں ڈالیں، مرورِ زمانہ کے بعد وہ اصل و زیادتی ملا کر سب ایک ہو گئیں، کلامِ الٰہی و کلامِ بشر مختلط ہو کر تمیز نہ رہی، الحمد للہ نفسِ قرآن میں اگرچہ یہ امر محال ہے، تمام جہان اگر اکٹھا ہو کر اس کا ایک نقطہ کم و بیش کرنا چاہے ہرگز قدرت نہ پائے۔” [فتاویٰ رضویہ جدید، ج: 23، ص: 164]
توریت و انجیل اور دیگر کتبِ سماویہ کے بارے میں صحیح اسلامی عقیدہ بیان کرتے ہوئے ایک جگہ رقم طراز ہیں:
“نصوصِ قرآنیہ (اپنی مراد پر واضح آیاتِ فرقانیہ) و احادیثِ مشہورہ متواترہ (شہرت و تواتر سے مؤید و اجماعِ امتِ مرحومہ مبارکہ، کہ جن پر قصرِ شریعت کے اساسی ستون ہیں اور شبہات و تاویلات سے پاک، ان سے ہر دلیلِ قطعی، یقینی واجب الاذعان و الثبوت ان) سے جو کچھ دربارۂ الوہیت (ذات و صفاتِ باری تعالیٰ) و رسالت (و نبوتِ انبیاء و مرسلین و وحیِ رب العالمین و کتبِ سماوی و ملائکہ و جن و بعث و حشر و نشر و قیامِ قیامت، قضا و قدر) و ما کان و ما یکون (جملہ ضروریاتِ دین) ثابت (اور ان دلائلِ قطعیہ سے مدلل، ان براہینِ واضحہ سے مبرہن) سب حق ہیں، اور ہم سب پر ایمان لائے۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 29، ص: 62]
اسی صفحہ پر آگے چل کر فرماتے ہیں:
“یوں ہی یہ کہنا بھی یقیناً کفر ہے کہ پیغمبروں نے اپنی اپنی امتوں کے سامنے جو کلامِ الٰہی بتا کر پیش کیا وہ ہرگز کلامِ الٰہی نہ تھا، بلکہ وہ سب انہیں پیغمبروں کے دلوں کے خیالات تھے جو فوارے کے پانی کی طرح انہیں کے قلوب سے جوش مار کر نکلے اور انہیں کے دلوں پر نازل ہو گئے۔”
اقطاب اسرائیلیات کے متعلق امام اہل سنت کی رائے
گزشتہ سطور میں ان چار حضرات کا ذکر کیا گیا تھا جن سے اسرائیلی روایات کثرت سے مروی ہیں، ان میں سے جو صحابی ہیں ان کی عدالت و ثقاہت میں شک نہیں، مگر جو تابعی یا تبع تابعی ہیں ان پر کچھ لوگوں نے کلام کیا ہے۔ امام اہل سنت نے بھی ان میں سے چند حضرات کے تعلق سے کچھ مفید باتیں ذکر فرمائی ہیں:
کعب احبار رضی اللہ عنہ
آپ کے تعلق سے امام اہل سنت فرماتے ہیں:
“کعب احبار تابعینِ اخیار سے ہیں، خلافتِ فاروقی میں یہودی سے مسلمان ہوئے، کتبِ سابقہ کے عالم تھے، اہل کتاب کی احادیث اکثر بیان کرتے، انہیں میں سے یہ خیال تھا جس کی تغلیط ان اکابرِ صحابہ نے قرآنِ عظیم سے فرما دی، تو ”کذب کعب“ کے یہ معنی ہیں کہ کعب نے غلط کہا، نہ یہ کہ معاذ اللہ قصداً جھوٹ کہا، کذب بمعنی اخطأ محاورہ حجاز ہے، اور خراشِ یہودیت بمشکل چھوٹنے سے یہ مراد کہ ان کے دل میں جو علمِ یہود بھرا ہوا تھا وہ تین قسم ہے: باطلِ صریح، حقِ صحیح، اور مشکوک، کہ جب تک اپنی شریعت سے اس کا حال نہ معلوم ہو حکم ہے کہ اس کی تصدیق نہ کرو، ممکن کہ ان کی تحریفات یا خرافات سے ہو، نہ تکذیب کرو ممکن کہ توریت یا تعلیمات سے ہو۔ اسلام لا کر قسمِ اول کا حرف حرف قطعاً ان کے دل سے نکل گیا۔ قسم دوم کا علم اور مسجل ہو گیا۔ یہ مسئلہ قسمِ سوم بقایائے علمِ یہود سے تھا جس کے بطلان پر آگاہ نہ ہو کر انہوں نے بیان کیا اور صحابہ کرام نے قرآنِ عظیم سے اس کا بطلان ظاہر فرما دیا، یعنی یہ نہ توریت سے ہے نہ تعلیمات سے، بلکہ ان خبیثوں کی خرافات سے، تابعین صحابہ کرام کے تابع و خادم ہیں، مخدوم اپنے خدام کو ایسے الفاظ سے تعبیر کر سکتے ہیں، اور مطلب یہ ہے جو ہم نے واضح کیا واللہ الحمد۔” [جامع الاحادیث، ج: 9، ص: 100]
ایک دوسری جگہ پر فرماتے ہیں:
“کعب احبار رضی اللہ عنہ سے جو مروی ہوا کہ یاجوج و ماجوج نطفہ احتلامِ سیدنا حضرت آدم علیہ السلام سے بنے ہیں، اول کعب ہی سے اس کا ثبوت صحت کو نہ پہنچا، اس کا ناقل ثعلبی حاطبِ لیل ہے، نجومی نے حسبِ عادت ان کا اتباع کیا، پھر کعب صاحب اسرائیلیات ہیں، ان کی روایت کہ مقرراتِ دین کے خلاف ہو، مقبول نہیں۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 6، ص: 278؛ جامع الاحادیث، ج: 8، ص: 363]
حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ
فواتح الرحموت کے حوالے سے ایک جگہ امام اہل سنت آپ کے بارے میں فرماتے ہیں:
“بحر العلوم حضرت علامہ عبد العلی رحمۃ اللہ علیہ نے فواتح الرحموت میں فرمایا: یہ خیال ہو سکتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی بات پر اعتماد ہونا چاہیے کہ وہ بلاشبہ سچے تھے، اور ان کی بات میں تو جھوٹ کا احتمال نہیں، لیکن اس کا جواب یہ ہے کہ انہوں نے تو اسی محرف کو کلامِ الٰہی سمجھ کر سیکھا ہوگا، کیونکہ تحریف تو ان کے پیدا ہونے سے پہلے ہی ہو چکی تھی۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 28، ص: 284]
اسی طرح حضرت عبد اللہ بن سلام کے ایمان لانے کا واقعہ ذکر کرتے ہوئے بیہقی کے حوالے سے فرماتے ہیں:
“تذییلِ سوم: بیہقی دلائل میں حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے راوی، جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چرچا سنا اور حضور کی صفت و نام و ہیأت اور جن جن باتوں کی ہم حضور کے لیے توقع کر رہے تھے سب پہچان لیں تو میں نے خاموشی کے ساتھ اپنے دل میں رکھا، یہاں تک حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے، مجھے خبرِ رونق افروزی پہنچی، میں نے تکبیر کہی، میری پھوپھی بولی، اگر تم موسیٰ بن عمران علیہ السلام کا آنا سنتے تو اس سے زیادہ کیا کرتے؟ میں نے کہا اے پھوپھی! خدا کی قسم وہ موسیٰ بن عمران کے بھائی ہیں، جس بات پر موسیٰ بھیجے گئے تھے اسی پر یہ بھی مبعوث ہوئے ہیں، وہ بولی اے میرے بھتیجے! کیا یہ وہ نبی ہیں جن کی ہم خبر دیے جاتے تھے کہ وہ قیامت کے ساتھ مبعوث ہوں گے، میں نے کہا ہاں۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 15، ص: 699]
ابن جریج
ایک حدیث کی تصحیح کرتے ہوئے امام اہل سنت حضرت ابن جریج اور عطا بن ابی رباح دونوں کے بارے میں فرماتے ہیں:
“ہما ما ہما یعنی یہ دونوں مقام میں مسلم ہیں۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 8، ص: 123]
ایک مقام پر ابن جریج کے حوالے سے فرماتے ہیں:
“رہے ابن جریج تو انہوں نے صحیح روایتوں کا قصد نہ کیا، انہوں نے ہر آیت کی تفسیر میں جو کچھ صحیح و سقیم مذکور ہوا روایت کر دیا۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 10، ص: 28]
وہب بن منبہ
آپ کی مرویات کو امام اہل سنت نے قبول فرمایا ہے، چنانچہ مسئلہ ختمِ نبوت پر احادیثِ کثیرہ پیش فرمانے کے بعد فرماتے ہیں:
“تسجیلِ جمیل: بحمد اللہ میں احادیثِ علویہ کے علاوہ خاص مقصود محمود ختمِ نبوت پر یہ ایک سو ایک حدیثیں ہیں، اور مع تذییلات ایک سو اٹھارہ، جن میں 90 مرفوع اور ان کے رواۃ و اصحاب 71، 11 تابعی صحابہ و تابعین جن میں صرف 11 تابعی۔”
اس کے بعد 11 تابعین کا شمار کراتے ہوئے گیارہویں نمبر پر وہب بن منبہ کا ذکر فرمایا ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 15، ص: 144] علاوہ ازیں متعدد مقامات پر آپ کی روایتوں سے استدلال بھی فرمایا ہے۔
کتب تفاسیر میں اسرائیلیات کے بارے میں امام اہل سنت کی رائے
اس حوالے سے ایک مقام پر چند کتبِ تفسیر اور ان میں موجود اسرائیلی مرویات پر نقد کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
“میں کہوں گا اور یہ معالم التنزیل ہے جو امام بغوی کی تصنیف ہے، با وصف یہ کہ بہت سی رائج تفسیروں کے مقابل غلطیوں سے محفوظ ہے اور طرفہ حدیث سے قریب ہے، بہت ضعیف و شاذ اور واہی، منکر روایتوں پر مشتمل ہے، اور ایسا بہت ہوتا ہے کہ اس کی روایت کی سندیں ان پر دورہ کرتی ہیں جن کا نام ضعف و جرح کے ساتھ لیا جاتا ہے، جیسے ثعلبی، واحدی، کلبی، سدی، اور مقاتل و غیرہم، جن کا ہم نے تم سے بیان کیا، اور جن کا بیان نہ کیا تو تمہارا گمان ان کے ساتھ کیسا ہے، جنہیں علمِ حدیث کا علم نہیں اور ستھرے کو میلے سے الگ کرنے کی قدرت نہیں، جیسے قاضی بیضاوی اور ان کے علاوہ جو بیضاوی کے طریقے پر چلتے ہیں، تو ان کے پاس ان باطل اقوال کا حال نہ پوچھو جن کے لیے نہ لگام ہے نہ بندش کی رسی، اس خیال کو اپنے سے دور رہنے دو، کاش یہ لوگ اسی پر بس کرتے، مگر ان میں سے کچھ لوگ اس سے آگے بڑھے اور ایسے رستے چلے جو ہلاکتوں کی طرف کھینچ کر لے جائیں، تو انہوں نے قرآن کی تفسیر میں ایسی باتیں داخل کر دیں جن سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور دل انہیں ناپسند کرتے، اور کان انہیں پھینکتے ہیں، اس لیے انبیائے کرام و ملائکہ عظام کے قصوں میں ایسی باتوں کو مقرر رکھا جن سے ان کی عصمت نہیں رہتی اور جاہلوں کے دل میں ان کی عظمت کم ہو جاتی ہے یا زائل ہو جاتی ہے، چنانچہ یہ بات آدم و حوا، و داؤد و اوریا اور سلیمان اور ان کی کرسی پر پڑے ہوئے جسم اور حضور علیہ السلام کی تلاوت کے دوران شیطان کے القا اور غرانیق عُلیٰ کے واقعات اور ہاروت و ماروت کا قصہ اور بابل کا ماجرا کا مطالعہ کرنے والے پر ظاہر ہے، تو اللہ ہی کی پناہ اسی سے ان کی شکایت ہے، تو ان کی ان باتوں سے وہ مرض لگا جو ان مصنفینِ واقعاتِ سیرت و مغازی کو صحابہ کے اختلافات کو نقل کرنے سے لگا۔”
مزید فرماتے ہیں:
“اور بے شک ہمارے علما نے دونوں فریقوں کو بھرپور نصیحت کی چنانچہ انہوں نے دونوں حریف کی سخت مذمت کی یعنی واہی تفاسیر اور سیرت کی ناپسندیدہ کتابوں کی تو انہوں نے ان کتابوں کا ناپسندیدہ ہونا ظاہر کیا اور ان کا عیب کھولا... یہیں ابو حیان نے بات کو سہل و نرم کیا کہ انہوں نے کہا جیسا کہ امام سیوطی نے نقل کیا کہ مفسرین نے ایسے اسبابِ نزول اور فضائل میں وہ حدیثیں جو ثابت نہیں اور نامناسب حکایات اور تواریخِ اسرائیل کو ذکر کیا ہے حالاں کہ اس کا ذکر تفسیر میں مناسب نہیں۔ یہی سبب تھا کہ سیوطی اس درجہ عاجز ہوئے کہ تمام تفسیروں سے بیزاری فرمائی اور صرف تفسیر ابن جریر کی طرف رہنمائی پر بس کیا۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 28، ص: 532]
اسرائیلیات کے قبول و رد کے بارے میں امام اہل سنت کے اصول
اس حوالے سے امام اہل سنت نے وہی روش اختیار فرمائی ہے جو محتاط مفسرینِ اہل سنت نے طے فرمائی ہے، اور انہیں اصول پر کاربند رہے، جو شریعت و سنت سے ثابت ہیں؛ ایک موقع پر اس حوالے سے رقم طراز ہیں:
“اور یقیناً تمہیں معلوم ہے کہ اس لا علاج مرض کا بیشتر حصہ تفاسیر میں جہالتِ سند کے دروازے سے گھسا، اور ایسے مقامات میں جب سند معروف نہ ہو مآل کار بات کو پرکھنا ہے، تو جو بات نصوص سے ٹکراتی اور منصوص کو رد کرتی ہو یا اس میں رسل و انبیا کی تنقیص ہو یا اور کوئی بات جو قابل قبول نہ ہو ہم جان لیں گے کہ یہ قول دھو دینے کے قابل ہے اور اگر خرابیوں سے بری، علتوں سے پاک ہو ہم اسے قبول کر لیں گے، باوجود یکہ اسے قبول کرنے میں اور دوسرے قول کو قبول کرنے میں عظیم تفاوت ہے، اور تفسیر بالرائے کے باب سے نہیں ہے جس سے ہمیں روکا گیا۔ اور یوں ہی جب ہمیں ان میں کوئی قول ایسا پہنچے جس میں ظاہرِ معنی سے عدول ہو اور وہ اس سے ثابت ہو جس کا خلاف ہمیں نہیں پہنچتا یا کوئی حاجت ہو جو ظاہر سے عدول کیے بغیر پوری نہ ہو تو اسے قبول کرنا متعین ہے، ورنہ کلامِ الٰہی کی دلالت قیل و قال چھوڑ کر اعتماد کے زیادہ لائق ہے۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 28، ص: 110]
وہ اسرائیلی روایات جو مقرراتِ دین کے خلاف ہوں امام اہل سنت انہیں قبول نہیں فرماتے ہیں۔ اسرائیلیات بیان کرنے والے رواۃ کے بارے میں امام اہل سنت کی رائے یہ ہے کہ خلافِ قیاس مرویات اگر ایسے راوی پر موقوف ہوں جو اسرائیلیات سے شغف نہ رکھتا ہو تو وہ مرفوع کے حکم میں ہیں، اور اگر اسرائیلیات کی روایت کرنے والے سے مروی ہوں تو موقوف ہی ہوں گی۔
امام اہل سنت کے نزدیک وہ صحابی جو اہل کتاب سے روایت نہ قبول کرتا ہو اس کی روایت قطعاً مقبول بلکہ مرفوع کے درجہ میں ہوتی ہے چاہے خلافِ قیاس ہو یا موافقِ قیاس۔ گزشتہ شریعت کے احکام و اقوال پر آنکھ بند کر کے اعتماد کرنا جائز نہیں جب تک کہ ہماری شریعت سے اس کی تائید نہ ہو جائے، چنانچہ امام اہل سنت فرماتے ہیں:
“گزشتہ شرائع کے احکام ہمارے لیے دلیل نہیں جب تک قرآن و حدیث میں اس کا بیان بلا انکار نہ ہو... اہل کتاب کے قول کا کوئی اعتبار نہیں، اور جو ان کی کتاب سے ثابت ہو اس کا بھی، کہ ان لوگوں نے آسمانی کتابوں میں تحریف کر دی ہے، اور اسی طرح اہل کتاب اسلام لانے والوں کی بات کا بھی بھروسہ نہیں کہ ان لوگوں نے انہیں محرف کتابوں میں دیکھا ہوگا، یا انہی کی جماعت سے سنا ہوگا۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 28، ص: 284]
