| عنوان: | امام احمد رضا اور علوم حدیث (قسط: چہارم) |
|---|---|
| تحریر: | فیضان المصطفیٰ قادری |
| پیش کش: | فاطمہ خاتون |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
نجاشی کی غائبانہ نمازِ جنازہ کی روایت پر بحث
فتاویٰ رضویہ [ج: 4، ص: 69] پر نجاشی شاہِ حبشہ کی غائبانہ نمازِ جنازہ سے متعلق ایک حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت فرمائی، جس کو صحاحِ ستہ کے حوالہ سے نقل فرمایا، حدیث یہ ہے:
إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى لَهُمُ النَّجَاشِيَّ صَاحِبَ الْحَبَشَةِ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، وَقَالَ: اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ، وَصَفَّ بِهِمْ فِي الْمُصَلَّى فَصَلَّى عَلَيْهِ وَكَبَّرَ عَلَيْهِمْ أَرْبَعًا۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے شاہِ حبشہ حضرت نجاشی کے انتقال کی خبر اسی دن سنائی جس دن ان کا وصال ہوا، فرمایا: “اپنے دینی بھائی کے لیے مغفرت کی دعا کرو”، پھر حضور نے ایسے میدان میں جہاں عموماً عید کی نماز ہوتی تھی صف بندی فرمائی اور نمازِ جنازہ پڑھتے ہوئے چار تکبیریں کہیں۔
اس حدیث سے بعض حضرات غیر مقلدین نے غائبانہ نمازِ جنازہ اور اس کی تکرار کو جائز کہا تھا، امام احمد رضا محدث بریلوی نے ایسی تمام احادیث کو نقل فرما کر جواز و عدمِ جواز کی روایات میں تطبیق و جمع بین الاحادیث کا نہایت شاندار نقشہ کھینچ دیا ہے:
“زمانہ اقدس میں صدہا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دوسرے مواضع میں وفات پائی، کبھی کسی حدیثِ صحیح صریح سے ثابت نہیں کہ حضور نے غائبانہ ان کے نمازِ جنازہ پڑھی ہو، کیا وہ محتاجِ رحمت والا نہ تھے؟ کیا معاذ اللہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ان پر یہ رحمت و شفقت نہ تھی؟ کیا ان کی قبور اپنی نمازِ پاک سے پر نور نہ کرنا چاہتے تھے؟ کیا جو مدینہ طیبہ میں مرتے انہیں کی قبور محتاجِ نور ہوتیں اور جگہ اس کی حاجت نہ تھی؟ یہ سب باتیں بداہۃً باطل ہیں، تو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا عام طور پر ان کی نمازِ جنازہ نہ پڑھنا ہی دلیلِ روشن و واضح کہ جنازہ غائب پر نماز ناممکن تھی، جس امر سے مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بے عذرِ مانع بالقصد احتراز فرمائیں وہ ضرور امرِ شرعی و مشروع نہیں ہو سکتا۔”
آگے فرماتے ہیں:
“دوسرے شہر کی میت پر صلوٰۃ کا ذکر صرف تین واقعوں میں روایت کیا جاتا ہے، ایک یہی واقعہ نجاشی، دوسرا واقعہ معاویہ لیثی، تیسرا واقعہ امرائے معرکہ موتہ۔”
واقعہ اولیٰ: اس واقعہ کی ایک روایت گزری، دوسری روایات مسند احمد وغیرہ میں حضرت عمران بن حصین سے یوں ہے کہ ہم نے حضور کے پیچھے نماز پڑھی اور ہم یہی اعتقاد کرتے تھے کہ حضرت نجاشی کا جنازہ ہمارے آگے موجود ہے۔
حضرت ابن عباس کی روایت میں یوں آیا کہ حضور کے لیے ظاہر کر دیا گیا حضور نے اس کو دیکھا اور اس پر نماز جنازہ پڑھی۔
حضرت حذیفہ بن اسید کی روایت اس طرح آئی کہ حضور نے حبشہ کی جانب منہ کر کے چار تکبیریں کہیں۔
واقعہ ثانیہ: حضرت معاویہ لیثی نے مدینہ طیبہ میں انتقال کیا حضور نے تبوک میں ان پر نماز جنازہ پڑھی حدیث اس طرح ہے کہ حضرت ابو امامہ باہلی فرماتے ہیں:
إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَى NABIYYA صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَاتَ مُعَاوِيَةُ فِي الْمَدِينَةِ، أَتُحِبُّ أَنْ أَطْوِيَ لَكَ الْأَرْضَ؟ فَرُفِعَ بِهِ سَرِيرُهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ، وَخَلْفَهُ صِفَافٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، كُلُّ صَفٍّ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ۔
“حضرت جبرئیل علیہ السلام نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی یا رسول اللہ! معاویہ بن معاویہ مزنی نے مدینہ میں انتقال کیا تو کیا حضور چاہتے ہیں کہ میں حضور کے لیے زمین لپیٹ دوں تاکہ حضور ان پر نماز پڑھیں۔ فرمایا: ہاں، جبرئیل نے اپنا پر زمین پر مارا، جنازہ حضور کے سامنے آگیا اس وقت حضور نے ان پر نماز پڑھی فرشتوں کی دو صفیں حضور کے پیچھے تھیں ہر صف میں ستر ہزار فرشتے تھے دوسری روایت میں اتنا اور زائد یہ کہ حضرت ابو امامہ نے فرمایا یہاں تک کہ ہم نے مکہ مدینہ کو دیکھا اسی طرح حضرت انس کی روایت میں بھی ہے۔”
واقعہ سوم: جنگ موتہ میں حضور نے حضرت زید بن حارثہ کو امیر لشکر بنا کر بھیجا اور فرمایا اگر یہ شہید ہو جائیں تو جعفر طیار امیر ہوں گے اور یہ بھی شہادت سے سرفراز ہو جائیں تو عبد اللہ بن رواحہ اور یہ بھی جام شہادت پی لیں تو تم لوگ جس کو چاہو اپنا امیر چن لینا جب جنگ شروع ہوئی تو حضور کے فرمان کے مطابق ہوا۔ حدیث مختصراً یوں ہے اور اس کے راوی عاصم بن عمر بن قتادہ اور عبد اللہ بن ابی بکر ہیں:
لَمَّا الْتَقَى النَّاسُ بِمُؤْتَةَ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَكُشِفَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الشَّامِ، فَهُوَ يَنْظُرُ إِلَى مَعْرَكَتِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ: أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ فَمَضَى حَتَّى اسْتُشْهِدَ، فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ وَدَعَا لَهُ وَقَالَ: اسْتَغْفِرُوا لَهُ، وَقَدْ دَخَلَ الْجَنَّةَ فَهُوَ يَطِيرُ فِيهَا بِجَنَاحَيْنِ حَيْثُ شَاءَ۔
جب مقام موتہ میں لڑائی شروع ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اللہ عز وجل نے حضور کے لیے پردے اٹھا دیے کہ ملک شام اور وہ معرکہ حضور دیکھ رہے تھے اتنے میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زید بن حارثہ نے نشان اٹھایا اور لڑتا رہا یہاں تک کہ شہید ہوا حضور نے انہیں اپنی صلوۃ و دعا سے مشرف فرمایا اور صحابہ سے ارشاد فرمایا کہ اس کے لیے استغفار کرو بیشک وہ دوڑتا ہوا جنت میں داخل ہوا حضور نے پھر فرمایا جعفر بن ابی طالب نے نشان اٹھایا اور لڑتا رہا یہاں تک کہ شہید ہوا حضور نے ان کو بھی اپنی صلوۃ و دعا سے مشرف فرمایا اور صحابہ کو ارشاد ہوا کہ اس کے لیے استغفار کرو وہ جنت میں داخل ہوا اس میں جہاں چاہے اپنے پروں سے اڑتا پھرتا ہے ان تینوں واقعات سے متعلق امام احمد رضا محدث بریلوی کی جو تحقیقات ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں لکھتے ہیں:
“ان میں اول اور دوم بلکہ سوم کا بھی جنازہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حاضر تھا، تو نماز غائب پر نہ ہوئی، بلکہ حاضر پر، اور دوم سوم کی سند صحیح نہیں، اور سوم صلاۃ بمعنی نماز میں صریح نہیں، ان کی تفصیل بعونہ تعالیٰ ابھی آتی ہے، اگر فرض ہی کر لیجیے کہ ان تینوں واقعوں میں نماز پڑھی تو باوصف حضور کے اس اہتمام عظیم وموفور اور تمام اموات کے اس حاجتِ شدیدۂ رحمت و نورِ قبور کے صدہا پر کیوں نہ پڑھی؟ وہ بھی محتاجِ حضور و حاجت مندِ رحمت و نور، اور حضور ان پر رؤف و رحیم تھے، نماز سب فرضِ عین نہ ہونا اس اہتمامِ عظیم کا جواب نہ ہوگا، نہ تمام اموات کی اس حاجتِ شدیدہ کا علاج، حالانکہ ’حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ‘ ان کی شان ہے، دوا یک کی دست گیری فرمانا اور صدہا کو چھوڑنا کب ان کے کرم کے شایان ہے، ان حالات و اشارات کے ملاحظہ سے عام طور پر ترک اور صرف دو ایک بار وقوع خود ہی بتا دے گا کہ وہاں کوئی خصوصیتِ خاصہ تھی جس کا حکم عام نہیں ہو سکتا، حکم وہی عدمِ جواز ہے جس کی بنا پر عام احتراز ہے۔ اب واقعہ بیرِ معونہ ہی دیکھئے، مدینہ طیبہ کے ستر جگر پاروں، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص پیاروں، اجلہ علمائے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو کفار نے دغا سے شہید کر دیا، مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا سخت شدید غم و الم ہوا، ایک مہینہ کامل خاص نماز کے اندر کفارِ ناہنجار پر لعنت فرماتے، مگر ہرگز منقول نہیں کہ ان پیارے محبوبوں پر نماز پڑھی ہو،... اہل انصاف کے نزدیک کلام تو اسی قدر سے تمام ہوا، مگر ہم ان وقائعِ ثلاثہ کا بھی باذنہ تعالیٰ تصفیہ کریں۔”
واقعہ اولیٰ سے متعلق لکھتے ہیں:
اولاً: پہلی دونوں روایتیں (ابو ہریرہ و عمران بن حصین) کی اس حدیثِ مرسل اصولی کی عاضدِ قوی ہیں جس کو امام واحدی نے اسبابِ نزولِ قرآن میں حضرت ابنِ عباس سے نقل کیا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ تعالیٰ علیہ وسلم کے لیے نجاشی کا جنازہ ظاہر کر دیا گیا تھا، حضور نے اس کو دیکھا اور اس پر نماز پڑھی، ان تینوں روایتوں سے ثابت ہوا کہ حضرت اصحمہ نجاشی پر نماز جنازہ غائبانہ نہیں تھی بلکہ جنازہ سامنے موجود تھا۔
ثانياً: بلکہ جب تم مستدل ہو ہمیں احتمال کافی، نہ کہ جب خود باسانیدِ صحیحہ ثابت ہے۔ امام قسطلانی نے مواہبِ شریف میں یہ جواب نقل کیا اور مقرر رکھا، کسی نے ابو ہریرہ اور عمران بن حصین کی روایات پر یوں معارضہ قائم کیا تھا کہ مجمع بن جاریہ کی روایت میں تو یہ ہے کہ ”وَمَا نَرَى شَيْئًا“ ”ہم کچھ نہ دیکھ رہے تھے۔“ [رواہ الطبرانی] اس کا جواب آپ نے اس طرح دیا:
اس روایت میں حمران بن اعین رافضی ضعیف ہے، علاوہ ازیں ہر راوی نے اپنا حال بیان کیا، لہٰذا کوئی تعارض نہیں، ورنہ پہلی صف کے علاوہ کسی کی نماز ہی صحیح نہ ہو۔
ثالثاً: حضرت نجاشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال دار الکفر میں ہوا، وہاں ان پر نماز نہ ہوئی تھی، لہٰذا حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہاں پڑھی، اسی بنا پر امام ابو داؤد نے اپنی کتاب سنن میں اس حدیث کے لیے یہ باب وضع کیا ”الصَّلَاةُ عَلَى مُسْلِمٍ فِي بَلَدِ أَهْلِ الشِّرْكِ فِي بَلَدٍ آخَرَ“۔ دوسرے شہر میں ایسے مسلم کی نمازِ جنازہ جس کے قریب صرف اہل شرک ہیں۔ اس پر حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں کہا: یہ احتمال تو ہے مگر کسی حدیث میں یہ اطلاع میں نے نہ پائی، کہ نجاشی کا اہل شہر میں سے کسی نے ان کی نمازِ جنازہ نہ پڑھی۔
علامہ زرقانی نے لکھا: یہ الزام دونوں طرف سے مشترکہ ہے، کیوں کہ کسی حدیث میں یہ بھی مروی نہیں کہ ان کے اہل شہر میں سے کسی نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھی تھی، امام ابو داؤد نے اسی پر جزم کیا، جب کہ وسعتِ حفظ میں ان کا مقام معلوم ہے۔
اس پر امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: “یہ احتمال مان کر علامہ زرقانی نے ہمارا بوجھ خود ہی اتار دیا ہے۔”
رابعاً: بعض (منافقین) کو ان کے اسلام میں شبہ تھا، یہاں تک کہ بعض نے کہا: حبشہ کے ایک کافر پر نماز پڑھی، لہٰذا اس نماز سے مقصود ان کی اشاعتِ اسلام تھی کہ ”بیان القول کے مقابل, بیان بالفعل اقویٰ“، لہٰذا مصلیٰ میں تشریف لے گئے کہ جماعت کثیر ہو، ان تمام جوابات کا خلاصہ یہ ہوا کہ نجاشی کی نمازِ جنازہ کن خصوصیات کی بنا پر پڑھی گئی، جس سے حکمِ امام ثابت نہیں ہو سکتا۔ حکمِ امام وہی عدمِ جواز کہ جس کی بنا پر عام اعتراض ہے، یہاں غیر مقلدین کے بھوپالی امام نواب صدیق حسن خان کی ایک عجوبہ روزگار تحقیق پر تنبیہ فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:
غیر مقلدین کے بھوپالی امام نواب صدیق حسن خان نے "فوت الباری" میں حدیث نجاشی کی نسبت کہا: اس سے ثابت ہوا کہ غائب پر نماز جائز ہے۔ اگرچہ جنازہ غیر جہت میں ہو اور نمازی قبلہ رو۔
اقول: یہ اس مدعی اجتہاد کی کورانہ تقلید اور اس کے ادعا پر مثبت جہل شدید ہے، نجاشی کا جنازہ حبشہ میں تھا اور حبشہ مدینہ طیبہ سے جانب جنوب ہے اور مدینہ طیبہ کا قبلہ جنوب ہی کو ہے، تو جنازہ غیر جہت قبلہ کو کب تھا؟
لَا جَرَمَ لَمَّا نَقَلَ الْحَافِظُ فِي الْفَتْحِ قَوْلَ ابْنِ حِبَّانَ أَنَّهُ إِنَّمَا يَجُوزُ ذَلِكَ مَنْ فِي جِهَةِ الْقِبْلَةِ، قَالَ: حُجَّتُهُ الْجُمُودُ عَلَى قِصَّةِ النَّجَاشِيِّ۔
جب حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں ابن حبان کا قول نقل کیا کہ صرف اسی غائب کی نماز جنازہ ہوسکتی ہے جو سمت قبلہ میں ہو تو اس پر یہ کہا کہ ان کی دلیل واقعہ نجاشی پر جمود ہے، تو ان مجتہد صاحب کا جہلِ قابلِ تماشہ جن کو سمت قبلہ تک معلوم نہیں، پھر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ان کے نماز جنازہ پر ان کی غیر سمت پڑھنے کا ادعا دوسرا جہل ہے۔
حدیث میں تصریح ہے کہ حضور نے جانب حبشہ نماز پڑھی، [رواہ الطبراني عن حذيفة بن أسيد رضي الله عنه]۔
واقعہ دوم
اس واقعہ سے متعلق محدث بریلوی رضی اللہ عنہ نے دو جواب دیے ہیں:
اولاً: ان تمام احادیث کو ائمہ حدیث عقیلی، ابن حبان، بیہقی، ابو عمر بن عبدالبر، ابن جوزی، نووی، ذہبی اور ابن الہمام وغیرہہم نے ضعیف بتایا۔ پہلی دو حدیثوں کی سند میں مغیرہ بن ولید مدلس ہے، اور اس نے معنعنہ کہا، یعنی عمرو بن زیاد سے اپنا سننا نہ بیان کیا بلکہ کہا ابنِ زیاد سے روایت ہے معلوم نہیں راوی کون ہے۔ بہ العلم المحقق فی الفتح۔ ذہبی نے کہا یہ حدیث منکر ہے نیز اس کی سند میں نوح بن عمر ہے۔ ابنِ حبان نے اسے اس حدیث کا چور بتایا، یعنی ایک سخت ضعیف شخص اسے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتا تھا، اس سے اس نے چرا کر بقیہ کے سر باندھی، تسیری حدیث کی سند میں محبوب بن ہلان مزنی ہے، ذہبی نے کہا یہ شخص مجہول ہے اور اس کی یہ حدیث منکر ہے۔ چوتھی حدیث کی سند میں ملا د بن یزید ثقفی ہے، امام نووی نے خلاصہ میں فرمایا: اس کے ضعیف ہونے پر تمام محدثین کا اتفاق ہے۔ امام بخاری و ابنِ عدی اور ابو حاتم نے کہا: وہ منکر الحدیث ہے۔ ابو حاتم و دارقطنی نے کہا: متروک الحدیث ہے۔ امام علی بن مدینی استاذِ امام بخاری نے کہا: وہ حدیث دل سے گڑھتا تھا، ابنِ حبان نے کہا: یہ حدیث بھی اس کی گڑھی ہوئی ہے، اس سے چرا کر ایک شامی نے بقیہ سے روایت کی۔ ابو الولید طیالسی نے کہا: علاء کذاب تھا۔ عقیلی نے کہا: علاء کے سوا جس جس نے یہ حدیث روایت کی سب علاء ہی جیسے ہیں یا اس سے بھی بدتر۔ ابو عمرو بن عبدالعزیز نے کہا: اس حدیث کی سب سندیں ضعیف ہیں اور دربارۂ احکام اصلاً حجت نہیں، صحابہ میں کوئی شخص معاویہ بن معاویہ نام معلوم نہیں۔ ابنِ حبان نے بھی یوں ہی فرمایا کہ مجھے اس خدام کے صاحب صحابہ میں یاد نہیں۔
ثانیاً: فرض کیجیے کہ یہ احادیث اپنے طرق سے ضعیف نہ رہیں، کما اختارہ الحافظ فی الفتح یا بفرضِ غلط لذاتہ صحیح نہیں، پھر اس میں کیا ہے۔ خود اسی میں تصریح ہے کہ جنازہ حضور کے پیشِ نظر انور کر دیا گیا تھا، تو نماز جنازہ حاضر پر ہوئی نہ کہ غائب پر، بلکہ طرزِ کلام مشیر ہے کہ نمازِ جنازہ پڑھنے کے لیے جنازہ سامنے ہونے کی حاجت سمجھی گئی، جبھی تو حضرت جبریل نے عرض کی: حضور نمازِ جنازہ پڑھنا چاہیں تو زمین لپیٹ دوں تاکہ حضور نماز پڑھیں۔
وہابیہ کے امام شوکانی نے نیل الاوطار میں یہاں عجیب تماشہ کیا اولاً: استیعاب سے نقل کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے معاویہ بن معاویہ لیثی پر نماز پڑھی، پھر کہا: استیعاب میں اس قصہ کا مثل معاویہ بن مقرن کے حق میں ابو امامہ سے روایت کیا، پھر کہا: اس کا مثل انہیں سے ترجمہ معاویہ میں بھی معاویہ مزنی روایت کیا، اس میں یہ وہم دلانا ہے کہ گویا یہ تین صحابی جدا جدا ہیں، جن پر نمازِ غائب مروی ہے۔ حالاں کہ یہ محض جہل یا تجاہل ہے، وہ ایک ہی صحابی ہیں، معاویہ نام جن کے نسب و نسبت میں راویوں سے اضطراب واقع ہوا، کسی نے مزنی کہا، کسی نے لیثی کہا، کسی نے معاویہ بن معاویہ، کسی نے معاویہ بن مقرن، ابو عمر نے معاویہ بن مقرن مزنی کو ترجیح دی کہ صحابہ میں معاویہ بن معاویہ کوئی معلوم نہیں۔
حافظ نے اصابہ میں معاویہ بن معاویہ مزنی کو ترجیح اور لیثی کہنے کو ثقفی کی خطا بتایا، اور معاویہ بن مقرن کو ایک صحابی مانا جن کے لیے یہ روایت نہیں، بہرحال صاحبِ قصہ شخص واحد ہیں۔ اور شوکانی کا الہام تثلیث محض باطل۔
ابن الاثیر نے اسد الغابہ میں فرمایا: معاویہ بن معاویہ مزنی ہیں، ان کو لیثی بھی کہا جاتا ہے اور معاویہ بن مقرن مزنی بھی، ابو عمر نے کہا: یہی صواب سے نزدیک تر ہے، پھر حدیث انس کے طریقِ اول سے پہلے طور پر نام ذکر کیا، اور طریقِ دوم سے دوسرے طور پر اور حدیث امامہ سے تسیرے طور پر۔
واقعہ سوم
اس واقعہ کے پانچ جواب دیتے ہیں، پہلے دو الزامی اور باقی تین تحقیقی ہیں۔
اولاً: یہ حدیث دونوں طریق سے مرسل ہیں، عاصم بن عمر رؤساء تابعین سے ہیں، قتادہ بن نعمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی کے پوتے اور یہ عبد اللہ بن ابی بکر بن محمد بن حزم صغارِ تابعین سے ہیں، عمر بن حزم صحابی کے پرپوتے۔
ثانياً: خود واقدی کو محدثین کب مانتے ہیں، یہاں تک کہ ذہبی نے ان کے متروک ہونے پر اجماع کیا، یہ دونوں جواب الزامی ہیں، ورنہ ہم حدیثِ مرسل کو قبول کرتے ہیں، اور امام واقدی کو ثقہ مانتے ہیں۔
ثالثاً: عبد اللہ بن ابی بکر سے راوی امام واقدی کے شیخ عبد الجبار بن عمارہ مجہول ہیں۔ کما فی المیزان تو یہ مرسل نا معتضد ہے۔
رابعاً: خود اسی حدیث میں صاف تصریح ہے کہ پردے اٹھا دیے گئے تھے، معرکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پیش نظر تھا۔
لیکن یہاں اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ جنگ موتہ ملکِ شام بیت المقدس کے قریب 8ھ میں ہوئی اور خانہ کعبہ 2ھ میں قبلہ قرار پا چکا تھا اور نمازِ جنازہ کا صرف روایت کافی نہیں بلکہ جنازہ نمازی کے سامنے ہو۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ نمازِ مقصود رابعاً سے غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھنے والوں کا رد ہے۔ اور وہ اتنی ہی بات سے ہو گیا کہ حدیث میں یہ ہے کہ پردے اٹھا دیے گئے تھے۔
خامساً: کیا دلیل ہے کہ یہاں صلاۃ بمعنی نمازِ معہود ہے بلکہ بمعنی درود ہے اور ’دعالہ‘ عطف تفسیری نہیں بلکہ تعمیم بعد تخصیص ہے اور سوق روایت اسی میں ظاہر، کہ حضور پر نور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا اس وقت منبرِ اطہر پر تشریف فرما ہونا مذکور، اور منبرِ انور دیوارِ قبلہ کے پاس تھا، اور معتاد یہی کہ منبرِ اطہر پر رو بہ حاضرین و پشت بہ قبلہ جلوس ہو۔ اور اس روایت میں نماز کے لیے منبر سے اترنے اور پھر تشریف لے جانے کا کہیں ذکر نہیں۔
برخلافِ نجاشی اس میں نمازِ صحابہ بھی نہیں، نہ یہ کہ حضور نے ان کو نمازِ جنازہ کے لیے فرمایا، اگر یہ نماز تھی تو صحابہ کو شریک نہ فرمانے کی کیا وجہ ہے؟ نیز اس معرکہ میں تسیری شہادت حضرت عبد اللہ بن رواحہ کی ہے، ان پر صلاۃ کا ذکر نہیں، اگر نماز ہوتی تو ان پر بھی ہوتی، ہاں درود کی ان دو کے لیے تخصیص وجہِ وجیہ رکھتی ہے، اگر چہ وجہ کی ضرورت و حاجت بھی نہیں، کہ وہ احکامِ عامہ سے نہیں، وجہ اس حدیث سے ظاہر ہو گئی کہ جس میں ان دو کرام کا حضرت ابن رواحہ سے فرق ارشاد ہوا، اور وہ یہ ہے کہ ان کو جنت میں منھ پھیرے ہوئے پایا کہ معرکہ میں قدرے اعراض ہو کر اقبال ہوا تھا۔
اور سب سے زائد یہ کہ وہ شہدائے معرکہ ہیں، نمازِ غائب جائز ماننے والے شہیدِ معرکہ پر نماز ہی نہیں مانتے، تو باجماعِ فریقین صلاۃ بمعنی دعا ہونا لازم، جس طرح خود امام نووی شافعی، امام قسطلانی شافعی اور امام سیوطی شافعی رحمہم اللہ نے صلاۃ علی قبور شہدائے احد ہی ذکر فرمایا کہ یہاں صلاۃ بمعنی دعا ہونے پر اجماع ہے، کما اثرنا فی النہی الحاجز۔ حالاں کہ وہ تو "صلّٰی علیٰ اھل احد صلاتہ علی المیت" ہے، یہاں تو اس قدر بھی نہیں۔ وہابیہ کے بعض جاہلانِ بے خرد مثل شوکانی صاحب نیل الاوطار ایسی جگہ اپنی اصول دانی یوں کھولتے ہیں کہ صلاۃ بمعنی نماز حقیقتِ شرعیہ ہے اور بلا دلیل حقیقت سے عدول ناجائز۔
اقول: اولاً: ان مجتہد بننے والوں کو اتنی خبر نہیں کہ حقیقتِ شرعیہ صلاۃ بمعنی ارکانِ مخصوصہ ہے، یہ معنی نمازِ جنازہ میں کہاں؟ کہ اس میں رکوع ہے نہ سجود و قراءت ہے نہ قعود، الثالث عندنا والبواقی اجماعاً۔ لہٰذا علما تصریح فرماتے ہیں کہ نمازِ جنازہ صلاۃِ مطلقاً نہیں، اور تحقیق یہ ہے کہ وہ دعائے مطلق اور صلاۃِ مطلقہ میں برزخ ہے، کما أشار الیہ البخاري في صحيحہ وأطال فیہ۔ لاجَمَعَ امام محمود عینی نے تصریح فرمائی کہ نمازِ جنازہ پر اطلاقِ صلاۃ مجازاً ہے، صحیح بخاری میں ہے:
سَمَّاهَا صَلَاةً لَيْسَ FĪHĀ رُكُوعٌ وَلَا سُجُودٌ۔ [ج: 1، ص: 172]
عمدۃ القاری میں ہے:
لَكِنَّ التَّسْمِيَةَ لَيْسَتْ بِطَرِيقِ الْحَقِيقَةِ وَلَا بِطَرِيقِ الِاشْتِرَاكِ وَلَكِنْ بِطَرِيقِ الْمَجَازِ۔
ثانياً: صلاۃ کے ساتھ جب علیٰ فلان مذکور ہوئی ہرگز اس سے حقیقتِ شرعیہ مراد نہیں ہوتی اور نہ ہو سکتی ہے۔ قال اللہ تعالیٰ:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا۔
اللہم صل وسلم وبارک علیہ وعلی آلہ کما تحب وترضیٰ۔
وقال تعالیٰ:
صَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ۔
وقال صلی اللہ علیہ وسلم:
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى۔
کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ الٰہی تو ابی اوفیٰ پر نماز پڑھ، یا ان کا جنازہ پڑھ؟ کیا "صلاۃ علیہ" شرع میں بمعنی درود نہیں، ولکن الوہابیۃ قوم لا یعقلون۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 4، ص: 745]
حدیث فہمی اور تطبیق بین الاحادیث کی ایسی نادر مثالیں محقق بریلوی کی تصانیف میں بھری پڑی ہیں۔
