| عنوان: | امام احمد رضا اور علوم حدیث (قسط: پنجم) |
|---|---|
| تحریر: | فیضان المصطفیٰ قادری |
| پیش کش: | فاطمہ خاتون |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
چھوت کی بیماری سے متعلق روایتوں کے تعارض کا حل
فتاویٰ رضویہ حصہ نہم میں ایک حدیث نقل فرمائی جو تیرہ صحابہ کرام سے مروی ہے اور حدیث جلیل عظیم صحیح مشہور بلکہ متواتر ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ۔
چھوت کی بیماری، بدشگونی، الو کا جاہلانہ تصور، اور صفر کی جاہلانہ کارروائی کوئی چیز نہیں۔ اس حدیث کے معارض ہے وہ حدیث کہ حضرت ابو ہریرہ سے بھی مروی ہے۔ فرماتے ہیں:
فِرَّ مِنَ الْمَجْذُومِ كَمَا تَفِرُّ مِنَ الْأَسَدِ۔
جذام سے اس طرح بھاگو جس طرح شیر سے بھاگتے ہو۔
پھر اس کے معنی میں متعدد حدیث نقل فرمائیں۔ اس پر امام احمد رضا محدث بریلوی کا محققانہ کلام بلاغت نظام ملاحظہ کیجیے:
صحیحین و سنن ابی داؤد و شرح معانی الآثار امام طحاوی وغیرہ میں حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے: جب حضور اقدس نے یہ فرمایا کہ بیماری اڑ کر نہیں لگتی، تو ایک بادیہ نشین نے عرض کی: یا رسول اللہ! پھر اونٹوں کا کیا حال ہے کہ انھیں میں داخل ہوتے ہیں جیسے ہرن یعنی صاف شفاف بدن ایک اونٹ خارش والا آ کر ان میں داخل ہوتا ہے جن سے خارش ہو جاتی ہے، حضور پر نور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:
فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ؟
اس پہلے کو کس کی اڑ کر لگی؟
احمد و مسلم و ابو داؤد و ابن ماجہ کے یہاں حدیث ابن عمر سے ہے، ارشاد فرمایا:
ذَلِكُمُ الْقَدَرُ، فَمَنْ أَجْرَبَ الْأَوَّلَ؟
یہ تقدیری باتیں ہیں، بھلا پہلے کو کس نے کھجلی لگا دی، یہ ہی ارشاد احادیث عبداللہ ابن مسعود، عبداللہ بن عباس، ابو امامہ باہلی اور عمیر بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں مروی ہوا۔
حدیث اخیر میں اس توضیح کے ساتھ ہے کہ فرمایا:
أَلَمْ تَرَوْا إِلَى الْبَعِيرِ يَكُونُ فِي الصَّحْرَاءِ فَيُصْبِحُ وَفِي بَطْنِهِ نُكْتَةٌ مِنْ جَرَبٍ لَمْ تَكُنْ قَبْلَ ذَلِكَ، فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ؟
کیا دیکھتے نہیں کہ اونٹ جنگل میں ہوتا ہے، یعنی الگ تھلگ کہ اس کے پاس کوئی بیمار اونٹ نہیں۔ صبح کو دیکھو تو اس کے بیچ سینے یا پیٹ کی نرم جگہ میں کھجلی یا دانہ موجود ہے، بھلا اس سے پہلے کو کس کی اڑ کر لگ گئی۔
حاصلِ ارشاد یہ ہے کہ قطعِ تسلسل کے لیے ابتدا بغیر دوسرے سے منتقل ہوئے خود اسی میں بیماری پیدا ہونے کا ماننا لازم ہے۔ تو حجتِ قاطعہ سے ثابت ہے کہ بیماری خود بخود بھی حادث ہو جاتی ہے، اور جب یہ مسلم تو دوسرے میں انتقال کے سبب پیدا ہونا محض وہم و تخییل و ادعا بلا دلیل رہا۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 9، ص: 245]
اب بتوفیق اللہ تحقیقی حکم سنیے!
اقول وباللہ التوفیق! احادیثِ قسمِ ثانی تو اپنے افادہ میں صاف صریح ہے کہ بیماری اڑ کر نہیں لگتی، کوئی مرض ایک دوسرے طرف سرایت نہیں کرتا، کوئی تندرست بیمار کے قریب اختلاط سے بیمار نہیں ہو جاتا، جیسے پہلے شروع ہوئی اس کو کس کی اڑ کر لگی؟ ان متواتر و روشن و ظاہر ارشاداتِ عالی کو سن کر یہ خیال کسی طرح گنجائش نہیں پاتا کہ واقع میں بیماری اڑ کر لگتی ہے، مگر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے زمانہ جاہلیت کے وسوسے اٹھانے کے لیے مطلقاً اس کی نفی فرمائی ہے، پھر حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم و اجلہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی عملی کارروائی مجذوموں کو اپنے ساتھ کھلانا ان کا جوٹھا پانی پینا، ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ سے پکڑ کر برتن میں رکھنا، خاص ان کے کھانے کی جگہ نوالہ اٹھا کر کھانا، جہاں منہ لگا کر انہوں نے پانی پیا بالقصد اسی جگہ منہ رکھ کر نوش کرنا، یہ اور واضح کر رہا ہے کہ “عدویٰ” یعنی ایک بیماری دوسرے کو لگ جانا محض خیالِ باطل ہے، ورنہ اپنے کو بلا کے لیے پیش کرنا شرع ہرگز روا نہیں رکھتی۔
قال تعالیٰ:
وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ۔
اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔
اُنہیں قسمِ اول (مجذوموں سے دور رہنے) کی حدیثیں وہ اس درجہ عالیہ صحت پر نہیں، جس پر احادیثِ نفی ہیں، ان میں اکثر ضعیف ہیں اور بعض غایت درجہ حسن ہیں، صرف حدیثِ اول کی تصریح ہو سکی ہے مگر وہی حدیث اس سے اعلیٰ درجہ پر جو صحیح بخاری میں آئی، خود اس میں ابطالِ عدویٰ موجود، کہ مجذوم سے بھاگو، اور بیماری اڑ کر نہیں لگتی، تو یہ حدیث خود واضح فرما رہی ہے کہ بھاگنے کا حکم اس وسوسہ اور اندیشہ کی بناء پر نہیں لہٰذا صحت میں اس کا پایہ بھی دیگر احادیثِ نفی سے گرا ہوا ہے، اسے امام بخاری نے مسند روایت نہ کیا، بلکہ بطورِ تعلیق لہٰذا اصلاً کوئی ثبوت عدویٰ میں نص نہیں، یہ تو متواتر حدیثوں میں فرمایا کہ بیماری اڑ کر نہیں لگتی اور یہ ایک حدیث میں بھی نہیں آیا کہ عادی طور پر اڑ کر لگ جاتی ہے۔
ہاں وہ حدیث کہ جذامیوں کی طرف نظر جما کر نہ دیکھو، ان کی طرف تیز نگاہ نہ کرو۔
صاف یہ احتمال رکھتی ہے کہ ادھر زیادہ دیکھنے سے تمہیں گھن آئے گی، نفرت پیدا ہو گی، ان مصیبت زدوں کو تم حقیر سمجھو گے، ایک تو یہ خود حضرتِ عزت کو پسند نہیں، پھر اس سے ان گرفتارِ بلا کو ناحق ایذا پہنچے گی، اور یہ روا نہیں۔
قولِ مشہور و مذہبِ جمہور کہ دوری و فرار کا حکم اس لیے ہے کہ اگر قرب و اختلاط رہا اور معاذ اللہ قضا و قدر سے کچھ مرض اسے بھی حادث ہو گیا تو ابلیسِ لعین اس کے دل میں وسوسہ ڈالے گا کہ دیکھ بیماری اڑ کر لگ گئی، اول تو یہ ایک امرِ باطل کا اعتقاد ہوگا، اس قدر فساد کے لیے کیا کم تھا، پھر متواتر حدیثوں میں سن کر کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے صاف فرمایا ہے کہ بیماری اڑ کر نہیں لگتی، یہ وسوسہ دل میں جمنا سخت خطرناک اور باطل ہوگا۔ لہٰذا ضعیف الیقین لوگوں کو اپنا دین بچانے کے لیے دوری بہتر ہے، ہاں کامل الایمان وہ کریں جو صدیقِ اکبر، فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہما نے کیا، اور کس قدر مبالغہ کے ساتھ کیا، اگر عیاذاً باللہ کچھ حادث ہوتا ان کے خواب میں بھی خیال نہیں گزرتا کہ یہ عدوائے باطلہ سے پیدا ہوا، ان کے دلوں میں کوہِ گراں شکوہ سے زیادہ مستقر تھا کہ:
لَنْ يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا۔
بے تقدیرِ الہی کچھ نہیں ہو سکے گا، اسی طرح اس قول و فعل حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہدایت فرمائی کہ اپنے ساتھ کھلایا اور فرمایا:
كُلْ ثِقَةً بِاللَّهِ وَتَوَكُّلًا عَلَيْهِ۔
امام اجل امین، امام الفقہاء والمحدثین امام اہلِ الجرح والتعدیل امام اہلِ التسہیل والتعلیل حدیث و فقہ دونوں کے حاوی سیدنا امام ابو جعفر طحاوی نے شرح معانی الآثار شریف میں دربارۂ نفی عدوی احادیث روایت کر کے یہی تفسیر بیان فرمائی، بالجملہ مذہبِ معتمد و صحیح و راجح و نجیح یہ ہے کہ جذام، کھجلی، چیچک، طاعون وغیرہا اصلاً کوئی بیماری ایک کی دوسرے کو ہرگز ہرگز اڑ کر نہیں لگتی، یہ محض اوہام ہے۔ اصل میں کوئی وہم پکائے جائے تو کبھی اصل بھی ہو جاتا ہے کہ ارشاد ہوا:
أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي۔
وہ اس دوسرے کی بیماری اسے نہ لگی۔ بلکہ خود اس کی باطنی بیماری کی وہم پروردہ کی صورت پکڑ کر ظاہر ہو گئی۔ اس لیے اور نیز کراہت و اذیت خود بینی و تحقیر مجذوم سے بچنے کے واسطے دور اندیشی سے کی، مبادا! اسے کچھ پیدا ہوا اور ابلیس لعین وسوسہ ڈالے کہ دیکھ بیماری اڑ کر لگ گئی۔ اور معاذ اللہ اس امر کی حقانیت اس خطرے میں گزرے گی۔
جسے مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم باطل فرما چکے، یہ اس مرض سے بھی بدتر مرض ہوگا، ان وجوہ سے شرع حکیم و رحیم نے ضعیف الیقین لوگوں کو حکمِ استحبابی دیا ہے کہ اس سے دور رہیں۔ اور کامل ایمان بندگانِ خدا کے لیے کچھ حرج نہیں کہ وہ ان سب مفاسد سے پاک ہیں۔
خوب سمجھ لیا جائے کہ دور ہونے کا حکم ان حکمتوں کی وجہ سے ہے نہ یہ کہ معاذ اللہ بیماری اڑ کر لگتی ہے، اسے تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم رد فرما چکے، جل جلالہ و صلی اللہ علیہ وسلم۔
اقول: پھر از آنجا کہ یہ حکم ایک احتیاطی استحبابی ہے واجب نہیں، لہذا ہرگز کسی واجبِ شرعی کا معارضہ نہ کرے گا، مثلاً معاذ اللہ جسے یہ عارضہ ہو کہ اس کی اولاد و اقارب و زوجہ سب اس احتیاط کے باعث اس سے دور بھاگیں اور اسے تنہا و ضائع چھوڑ جائیں، یہ ہرگز حلال نہیں۔ بلکہ زوجہ ہرگز اسے ہم بستری سے بھی منع نہیں کر سکتی، لہٰذا ہمارے شیخین مذہب امامِ اعظم و امام ابو یوسف رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے نزدیک جذامی شوہر سے عورت کو درخواستِ فسخِ نکاح کا اختیار نہیں۔ اور خدا ترس بندے تو ہر بے کس بے چارے کی اعانت اپنے ذمہ لازم سمجھتے ہیں۔
حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اللَّهَ اللَّهَ فِيمَنْ لَيْسَ لَهُ إِلَّا اللَّهُ۔
اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، اس کے بارے میں جس کا کوئی نہیں سوائے اللہ کے۔
لہٰذا علمائے کرام کا اتفاق ہے کہ جذام کے پاس بیٹھنا اٹھنا مباح ہے اور اس کی خدمت گزاری و تیمار داری موجبِ ثواب ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 9، ص: 253]
اس تفصیل سے جملہ احادیث میں توفیق و تطبیق بروجہِ اتم ظاہر ہوئی اور اصلاً کسی کو مجالِ دم زدن نہ رہی۔ واللہ الموفق وهو ولی التوفیق۔
بلاشبہ ایسی تحقیقات عالیہ محدث بریلوی کا حصہ ہیں۔
اس طرح کے مباحث تمام تصنیفات میں پھیلی ہوئی ہیں جو آپ کے فنِ اصولِ حدیث میں امامت و قیادت پر دلیل ہیں۔
مختصر یہ ہے کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی جہاں دیگر علومِ عقلیہ ونقلیہ میں یکتائے روزگار تھے وہیں علومِ حدیث میں بھی امامِ مطلق تھے، جس نے بنظرِ انصاف آپ کو پڑھا، اس کے ضمیر کا یہی فیصلہ ہے۔ وہ جو کچھ تھے اور جس بلندی پر فائز تھے اس کا تعارف چند سطری مقالے میں ممکن نہیں، اس کے لیے کئی زندگیاں درکار ہیں، یہ چند سطور تو صرف امتثالِ حکم پر لکھا، اور اس مقالہ میں مقدمہ جامع الاحادیث سے کچھ زیادہ ہی استفادہ کیا، مولیٰ تعالیٰ مصنف کو اجرِ عظیم عطا فرمائے۔ اور بارگاہِ اعلیٰ حضرت میں یہ حقیر نذرانہ قبول فرمائے۔ آمین بجاہِ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔
