| عنوان: | امام احمد رضا اور علوم حدیث (قسط: سوم) |
|---|---|
| تحریر: | فیضان المصطفیٰ قادری |
| پیش کش: | فاطمہ خاتون |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
علم اختلاف الحدیث
علومِ حدیث کے باب میں سب سے نازک و اہم اختلاف الحدیث کا فن ہے، روایتِ حدیث کی حد تک اس فن کی ضرورت نہیں پڑتی لیکن مقامِ استدلال میں جب کوئی حدیث پہنچتی ہے تو وہاں اس فن کی ضرورت سخت سے سخت تر ہو جاتی ہے، کیوں کہ جب بظاہر متعارض حدیثیں جمع ہو جائیں تو وہاں حتی المقدور جمع و تطبیق پیدا کرنا ضروری ہے۔
علامہ ابن امیر الحاج فرماتے ہیں:
الْجَمْعُ مُتَعَيِّنٌ عِنْدَ الْإِمْكَانِ [الأجوبة الفاضلة: 197]
احادیثِ متعارضہ میں جب تک ممکن ہو موافقت ہی متعین ہے۔ علامہ محمد بن عبدالرسول برزنجی مدنی فرماتے ہیں:
الْجَمْعُ أَوْلَى مِنْ إِسْقَاطِ بَعْضِ الرِّوَايَاتِ وَلَا شَكَّ أَنَّهُ مُقَدَّمٌ عَلَى التَّرْجِيحِ مَهْمَا أَمْكَنَ [الإشاعة في أشراط الساعة: 161]
بعض روایتوں کو ساقط کرنے سے بہتر موافقت ہے اور بے شک جب تک ممکن ہو ترجیح پر تطبیق مقدم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں جہاں امکانِ جمع کے باوجود محققین نے نسخ کا قول کیا وہاں ناقدین نے تعاقب فرما کر حکمِ نسخ کو باطل قرار دیا۔ چنانچہ امام حازمی اپنی کتاب “الاعتبار” میں متعدد مقامات پر ارشاد فرماتے ہیں:
ادِّعَاءُ النَّسْخِ مَعَ إِمْكَانِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْحَدِيثَيْنِ عَلَى خِلَافِ الْأَصْلِ [الاعتبار: 69]
احادیثِ متعارضہ میں امکانِ جمع کے باوجود نسخ کا دعویٰ خلافِ اصل ہے۔ نیز فرمایا:
لَا حَاجَةَ بِنَا إِلَى النَّسْخِ بِإِمْكَانِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْإِخْبَارَيْنِ [الاعتبار: 255]
احادیثِ متعارضہ میں امکانِ جمع موجود ہو تو ہمیں نسخ کا قول کرنے کی ضرورت نہیں۔ نیز فرمایا:
مَهْمَا أَمْكَنَ الْجَمْعُ بَيْنَ الْأَحَادِيثِ تَعَذَّرَ النَّسْخُ [الاعتبار: 226]
جب احادیثِ متعارضہ میں تطبیق ممکن ہو تو نسخ ممنوع ہے۔ حضرت امام نوویؒ ایک حدیث پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
كَيْفَ يُصَارُ إِلَى النَّسْخِ مَعَ إِمْكَانِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْأَحَادِيثِ [الأجوبة الفاضلة: 187]
احادیثِ متعارضہ میں جب تطبیق ممکن ہو تو نسخ کی طرف راہ کیوں کر پیدا ہوگی۔ لیکن جمع و تطبیق اس قدر مشکل امر ہے کہ بڑے بڑے محدثین بھی ورطۂ حیرت میں پڑ گئے۔ اس کے لیے علومِ حدیث میں مہارت کے ساتھ دولتِ فقہ سے بھی مالا مال ہونا ضروری ہے۔ حافظ ابوبکر رازیؒ فرماتے ہیں:
ذَلِكَ مِنْ وَظِيفَةِ الْفُقَهَاءِ لِأَنَّ قَصْدَهُمْ ثَبَاتُ الْأَحْكَامِ وَمَجَالُ نَظَرِهِمْ فِي ذَلِكَ مُتَّسِعٌ [شروط الأئمة الخمسة: 27]
یہ فقہاء کا کام ہے کیوں کہ ان کا مقصد احکام ثابت کرنا ہے اور اس سلسلے میں انہیں وسعتِ نگاہ حاصل ہے۔ امام نوویؒ فرماتے ہیں:
إِنَّمَا يَكْمُلُ لَهُ الْأَئِمَّةُ الْجَامِعُونَ بَيْنَ الْفِقْهِ وَالْحَدِيثِ وَالْأُصُولِيُّونَ الْغَوَّاصُونَ عَلَى الْمَعَانِي [التقريب: 413]
یہ ان ہی کے لیے جو ائمہ حدیث و فقہ کے جامع ہیں اور وہ اصولیین جو معانی کی گہرائی میں اترے ہوئے ہیں۔ امام بخاریؒ فرماتے ہیں:
هَذَا فَنٌّ تَكَلَّمَ فِيهِ الْأَئِمَّةُ الْجَامِعُونَ بَيْنَ الْفِقْهِ وَالْحَدِيثِ وَقَوَاعِدُهُ مُقَرَّرَةٌ فِي أُصُولِ الْفِقْهِ [تنقيح الأنظار، ج: 2، ص: 421]
اس فن پر ان لوگوں نے گفتگو کی ہے جو حدیث وفقہ کے جامع ہیں اور اس کے قواعد اصول فقہ کی کتابوں میں منضبط ہیں۔ امام احمد رضا محدث بریلوی صرف محدث ہی نہ تھے، بلکہ فقیہ اعظم بھی تھے، اس لیے علم اختلاف الحدیث میں آپ کو منصبِ امامت حاصل تھا، محلِ استدلال میں جہاں کہیں بھی متعارض حدیثیں نظر آتیں بآسانی تطبیق و توفیق کی راہ اپناتے، ہاں متعذر ہونے کی صورتیں اس سے مستثنیٰ ہیں۔ یہاں اس کی چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں:
“الْأَمْنُ وَالْعُلَى” میں بحوالہ مشکوٰۃ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ایک حدیث نقل فرمائی:
لَا تَقُولُوا مَا شَاءَ اللّٰهُ وَشَاءَ فُلَانٌ، وَلٰكِنْ قُولُوا مَا شَاءَ اللّٰهُ ثُمَّ شَاءَ فُلَانٌ
نہ کہو جو چاہے اللہ اور چاہے فلاں، بلکہ یہ کہو جو چاہے اللہ پھر چاہے فلاں۔ اس حدیث کے ساتھ ایک منقطع روایت شرح السنہ سے یوں مذکور ہے:
لَا تَقُولُوا مَا شَاءَ اللّٰهُ وَمَا شَاءَ مُحَمَّدٌ وَقُولُوا مَا شَاءَ اللّٰهُ وَحْدَهُ
نہ کہو جو چاہے اللہ اور جو چاہے محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، یوں کہو کہ جو چاہے ایک اللہ۔ اس روایتِ منقطعہ کو نقل کر کے امام الوہابیہ نے “تقویۃ الایمان” میں لکھا تھا “یعنی جو کہ اللہ کی شان ہے اور اس میں کسی مخلوق کو دخل نہیں، سو اس میں اللہ کے ساتھ کسی مخلوق کو نہ ملاوے گو کیسا ہی بڑا ہو۔ مثلاً یوں نہ بولو کہ اللہ و رسول چاہے گا تو فلاں کام ہو جائے گا کہ سارا کاروبار جہان کا اللہ کے چاہنے سے ہوتا ہے، رسول کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا”۔
اب امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ کی اس پر مضبوط دلائل کے ساتھ گرفتیں ملاحظہ کریں۔ فرماتے ہیں: ہم اس مطلب کی احادیث ذکر کریں پھر بتوفیقہ تعالیٰ ثابت کر دکھائیں کہ یہ ہی حدیثیں اس (امام الوہابیہ) کے شرک کا کیسا سر توڑتی ہیں۔ اس کے بعد امام احمد رضا محدث بریلوی نے چند احادیث ذکر فرمائی ہیں جو مختصر یوں ہے: مسند احمد و سنن ابو داؤد میں مختصر اور سنن ابن ماجہ میں مطولاً بسندِ حسن یوں ہے:
أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَأَى فِي النَّوْمِ أَنَّهُ لَقِيَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَقَالَ: نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا تُشْرِكُونَ، تَقُولُونَ مَا شَاءَ اللّٰهُ وَشَاءَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ ذَالِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَمَا وَاللّٰهِ إِنْ كُنْتُ لَأَعْرِفُهَا لَكُمْ، قُولُوا: مَا شَاءَ اللّٰهُ ثُمَّ مَا شَاءَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
یعنی اہل اسلام سے کسی کو خواب میں ایک کتابی ملا، وہ بولا تم بہت خوب لوگ ہو اگر شرک نہ کرتے، تم کہتے ہو جو چاہے اللہ اور جو چاہیں محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، ان مسلم نے یہ خواب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے عرض کی، فرمایا: سنیے! خدا کی قسم! تمہاری اس بات پر مجھے بھی خیال گزرتا تھا، یوں کہا کرو: جو چاہے اللہ پھر جو چاہے محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔
سنن ابن ماجہ میں دوسری روایت ابن عباس سے یوں ہے:
إِذَا حَلَفَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَقُلْ مَا شَاءَ اللّٰهُ وَشِئْتَ، وَلٰكِنْ يَقُلْ مَا شَاءَ اللّٰهُ ثُمَّ شِئْتَ
جب تم میں کوئی شخص قسم کھائے تو یوں نہ کہو کہ جو چاہے اللہ اور میں چاہوں، ہاں یوں کہے کہ جو چاہے اللہ پھر میں چاہوں۔ تیسری روایت ام المومنین سے نحوہ ہے۔ چوتھی روایت مسند احمد میں طفیل سے اس طرح آئی کہ مجھے خواب میں کچھ یہودی ملے، میں نے ان پر اعتراض کیا کہ تم حضرت عزیر علیہ السلام کو خدا کا بیٹا کیوں کہتے ہو؟ انہوں نے جواب میں کہا: تم خاص کامل لوگ ہو اگر یوں نہ کہو کہ جو چاہے اللہ اور جو چاہے محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، پھر کچھ نصاریٰ ملے، ان سے بھی اس طرح کی گفتگو ہوئی، میں نے پورا خواب حضور کی خدمت میں عرض کی، حضور نے خطبہ دیا اور حمد و ثناء الٰہی کے بعد فرمایا:
إِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَقُولُونَ كَلِمَةً كَانَ يَمْنَعُنِي الْحَيَاءُ مِنْكُمْ أَنْ أَنْهَاكُمْ عَنْهَا، لَا تَقُولُوا مَا شَاءَ اللّٰهُ وَمَا شَاءَ مُحَمَّدٌ
تم لوگ ایک بات کہا کرتے تھے، مجھے تمہارا لحاظ روکتا تھا کہ تمہیں اس سے منع کر دوں، یوں نہ کہو جو چاہے اللہ اور جو چاہے محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔ سنن نسائی میں قتیلہ بنت صیفی سے روایت ہے:
أَنَّ يَهُودِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّكُمْ... وَإِنَّكُمْ تُشْرِكُونَ، تَقُولُونَ مَا شَاءَ اللّٰهُ وَشِئْتَ، وَتَقُولُونَ وَالْكَعْبَةِ، فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادُوا أَنْ يَحْلِفُوا أَنْ يَقُولُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ وَيَقُولُ أَحَدُكُمْ مَا شَاءَ اللّٰهُ ثُمَّ شِئْتَ
ایک یہودی نے خدمتِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر عرض کی: بے شک تم لوگ اللہ کے برابر ٹھہراتے ہو، بے شک تم لوگ شرک کرتے ہو، یوں کہتے ہو کہ جو چاہے اللہ اور جو چاہو تم، اور کعبہ کی قسم کھاتے ہو۔ اس پر سیدِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو حکم فرمایا: قسم کھانا چاہیں تو یوں کہیں ربِ کعبہ کی قسم، اور کہنے والا یوں کہے: جو چاہے اللہ پھر جو چاہو تم۔ مسند احمد میں روایت یوں آئی کہ یہود کے ایک عالم نے خدمتِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر عرض کی: اے محمد! آپ بہت عمدہ لوگ ہیں، اگر شرک نہ کریں۔ فرمایا: سبحان اللہ! یہ کیا؟ کہا: آپ کعبہ کی قسم کھاتے ہیں، اس پر سیدِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کچھ مہلت دی، یعنی کچھ مدت تک کچھ ممانعت نہ فرمائی، پھر فرمایا: یہودی نے ایسا کہا تھا تو آپ جو قسم کھائے ربِ کعبہ کی قسم کھائے۔ دوسری روایت میں اس طرح آیا: یہودی نے کہا اے محمد! آپ بہت عمدہ لوگ ہیں، اگر آپ اللہ کے برابر والا نہ ٹھہرائے، فرمایا: سبحان اللہ یہ کیا؟ کہا: آپ کہتے ہیں جو چاہے اللہ اور جو چاہو تم، اس پر سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک مہلت تک کچھ نہ فرمایا، بعدہٗ فرما دیا: اس یہودی نے ایسا کہا ہے تو اب جو کہے کہ جو چاہے اللہ تعالیٰ تو دوسرے کے چاہنے کو جدا کر کے کہے کہ پھر چاہو تم۔ ان تمام روایتوں کو نقل کر کے محدث بریلوی فرماتے ہیں:
امام الوہابیہ نے ان سب کو بالائے طاق رکھ کر شرح السنۃ کی ایک روایت منقطع دکھائی، اور بحمد اللہ اس میں بھی کہیں اپنے حکمِ شرک کی بو نہ پائی، اب بحمد اللہ ملاحظہ کیجیے کہ یہ ہی حدیثیں اس کے دعوائے شرک کو کس طرح جہنم رسید کرتی ہیں؟
اولاً: احادیث سے ثابت کہ صحابہ کرام کا یہ جملہ کہ “اللہ و رسول چاہے تو یہ کام ہو جائے” یا “اللہ اور تم چاہو تو ایسا ہوگا”، شائع و ذائع تھا، حضور اس پر مطلع تھے، بلکہ عالمِ یہود کے ظاہر الفاظ تو یہ تھے کہ خود حضور بھی ایسا فرماتے تھے اور امام الوہابیہ اس کو شرک کہتا ہے، معاذ اللہ! تو اس کے نزدیک سب مشرک ہوئے۔
ثانياً: حدیثِ طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں تو یہ بھی ہے کہ حضور نے فرمایا: “اس لفظ کا خیال مجھے بھی گزرتا تھا مگر تمہارے لحاظ سے منع نہ کرتا تھا”، تو معاذ اللہ امام الوہابیہ کے نزدیک حضور نے دانستہ شرک کو گوارہ فرمایا، اور صحابہ کے لحاظ پاس کو اس میں دخل دیا۔
ثالثاً: گویا یہودی کے قول سے ممانعت ہوئی اور سچی توحید اس مشرک نے سکھائی۔
رابعاً: قتیلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث سے تو یہ ثابت کہ ایک عرصہ تک حضور نے ممانعت نہ فرمائی اور پھر خیال آیا۔
خامساً: ان سب کے باوجود حضور نے جو تعلیم دی وہ یہ تھی کہ (اور) نہ کہا کرو بلکہ (پھر) کہا کرو۔ یعنی شرک سے بچنے کی تعلیم ایسی دی کہ پھر بھی وہ شرک ہی ٹھہری، معاذ اللہ! ان تمام مواخذوں کے بعد معارضہ قائم کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
مسلمانو! للہ انصاف، جو بات خاص شانِ الٰہی عزوجل ہے اور جس میں کسی مخلوق کو کچھ دخل نہیں، اس میں دوسرے کو خدا کے ساتھ (اور) کہہ کر ملایا تو کیا اور (پھر) کہہ کر ملایا تو کیا، شرک سے کیوں کر نجات ہو جائے گی؟ مثلاً: زمین و آسمان کا خالق ہونا، اپنی ذاتی قدرت سے تمام اولین و آخرین کا رازق ہونا، خاص خدا کی شانیں ہیں، اگر کوئی یوں ہی کہے کہ “اللہ و رسول خالق السماوات والارض ہیں”، “اللہ و رسول اپنی ذاتی قدرت سے رازقِ عالم ہیں” جب بھی شرک ہے؟ اور اگر کہے کہ “اللہ پھر رسول خالق السماوات والارض ہیں”، “اللہ پھر رسول اپنی ذاتی قدرت سے رازقِ جہان ہیں” تو شرک نہ ہوگا۔ مسلمانو! گمراہیوں کے امتحان کے لیے ان کے سامنے یوں ہی کہہ کر دیکھو کہ “اللہ پھر رسول عالم الغیب ہیں”، “اللہ پھر رسول ہماری مشکلیں کھولیں”، دیکھو تو یہ حکمِ شرک جُڑتے ہیں یا نہیں؟ اسی لیے تو عیارِ مشکوٰۃ کی اس حدیثِ متصلِ صحیحِ ابو داؤد کی مہر بھری بچا گیا تھا، جس میں لفظ “پھر” کے ساتھ اجازت ارشاد ہوئی تھی، تو ثابت ہوا کہ اس مردک کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہودی کا اعتراض پا کر بھی جو تبدیلی کی وہ خود ہی خود شرک کی شرک ہی رہی۔
یہ تو ان (امام الوہابیہ اور اس کے اذناب) کے طور پر نتیجۂ احادیث تھا، ہم اہل حق کے طور پر پھر پوچھو تو۔ اقول: وباللہ التوفیق وبحمد اللہ تعالیٰ نہ صحابہ نے شرک کیا اور نہ معاذ اللہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے شرک سن کر گوارہ فرمایا، کسی کے لحاظ پاس کو کام لانا ممکن نہ تھا نہ یہودی مردک تعلیمِ توحید کو کر سکتا تھا، بلکہ حقیقتِ امریہ ہے کہ مشیتِ حقیقیہ ذاتیہ مستقلہ اللہ عزوجل کے لیے خاص ہے، اور مشیتِ غلبۂ تابعہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ نے اپنے عباد کو عطا کی ہے، مشیتِ محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو کائنات میں جیسا کچھ دخلِ عظیم بعطائے رب جلیل وکریم جل جلالہ ہے وہ ان تقریباتِ جلیلہ سے کہ ہم نے زیرِ حدیث 126 (حضرت علی کے لیے سورج پلٹانا) ذکر کیں، واضح و آشکار ہے۔ جب اس یہودی خبیث نے جس کے خیالات امام الوہابیہ کے مثل تھے، اعتراض کیا اور معاذ اللہ شرک کا الزام دیا، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی رائے کریمہ کا رجحان اسی طرف ہوا کہ ایسے لفظ کو جس میں احمق بد عقل مخالف جائے طعن جانے، دوسرے سہل لفظ سے بدل دیا جائے کہ صحابہ کرام کا مطلب تبرک و توسل برقرار رہے اور مخالف کج فہم کو گنجائش نہ ملے، مگر یہ بات طرزِ عبارت کے ایک گونہ آداب سے تھی، معناً تو قطعاً صحیح تھی، لہذا اس کافر کے بکنے کے بعد بھی چنداں لحاظ نہ فرمایا گیا، یہاں تک کہ طفیل بن سخرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب خواب دیکھا اور رویاۓ صادقہ القائے ملک ہوتا ہے، اب اس خیال کی زیادہ تقویت ہوئی اور ظاہر ہوا کہ بارگاہِ عزت میں یہی ٹھہرا ہے کہ یہ لفظ مخالفوں کا جائے طعن ہے بدل دیا جائے، جس طرح رب العزت جل جلالہ نے “راعنا” کہنے سے منع فرمایا تھا کہ یہود سند سے اپنے مقصدِ مردک کا ذریعہ کرتے ہیں، اور اس کی جگہ “انظرنا” کہنے کا ارشاد ہوا تھا۔ ولہذا خواب میں کسی بندۂ صالح کو اعتراض کرتے نہ دیکھا کہ یوں تو بات فی نفسہ محلِ اعتراض نہ ٹھہرتی، بلکہ خواب بھی دیکھا تو انھیں یہود و نصاریٰ اس امام الوہابیہ کے خیالوں کو معترض دیکھا تاکہ ظاہر ہو کہ صرف دہن دوزیِ مخالفات کی مصلحت داعیِ تبدیلِ لفظ ہے۔ اب حضور نے خطبہ فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ یوں نہ کہو کہ اللہ و رسول چاہیں تو کام ہوگا، بلکہ یوں کہو کہ اللہ پھر اللہ کا رسول چاہے تو کام ہوگا۔ (پھر) کا لفظ کہنے سے وہ توہمِ مساوات کہ ان وہابی خیالات کے یہود و نصاریٰ یا یوں کہے کہ ان خیالات و وہابیوں کو گزرتا ہے، باقی نہ رہے گا۔ الحمد للہ علی تواتر الاہ والصلوۃ والسلام علی انبیاء اہل انصاف، و دین ملاحظہ فرمائیں کہ یہ تقریرِ منیر کہ فیضِ قدیر سے قلبِ فقیر پر القا ہوئی، کیسی واضح و مستنیر ہے، جسے ان احادیث کو مسلسل مسلکِ گوہریں میں منظوم کیا اور تمام مدارج و مراتب مرتبہ بجدہ تعالیٰ نورانی نقشہ کھینچ دیا، الحمد للہ کہ یہ حدیث فہمی ہم اہلِ سنت ہی کا حصہ ہے، وہابیہ وغیرہ ہم بد مذہبوں کو اس سے کیا علاقہ ہے، ذالک فضل اللہ الخ۔ [الامن والعلیٰ: 221]
