Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

واہ رے تمہاری عقیدت اور عشقِ حسین!|عالمہ مدحت فاطمہ ضیائی گھوسی

واہ رے تمہاری عقیدت اور عشقِ حسین!
عنوان: واہ رے تمہاری عقیدت اور عشقِ حسین!
تحریر: عالمہ مدحت فاطمہ ضیائی گھوسی
پیش کش: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

ہماری قوم کا بھی بڑا عجیب حال ہے، عاشورہ کا دن ہے، سڑکوں پر ایسا ماتم اور سینہ کوبی کہ دیکھنے والے بھی دنگ رہ جائیں۔ کچھ کم فہم لوگ جن کے دل میں نورِ علم نہیں پہنچا، سر پر چھریاں مار کر اور زنجیریں خون میں شرابور کر کے خون بہانے میں سب سے آگے ہیں، لیکن ذرا ان عاشقوں سے کوئی یہ پوچھ لے کہ “بھائی جان! آج آپ کی ظہر اور عصر کی نمازیں کس چوک پر فوت ہوئیں؟” تو چاروں طرف سناٹا چھا جائے گا۔

عشق کا دعویٰ تو محض فلک شگاف ہے، انہیں بس اتنا رٹا ہوا ہے کہ امام رضی اللہ عنہ مظلوم تھے اور پیاسے شہید کر دیے گئے۔ لیکن شاید تاریخ کے وہ صفحات اپنی سہولت کے لیے پھاڑ دیے ہیں جن میں لکھا تھا کہ جس حسین رضی اللہ عنہ کے نام پر تم نے سڑکیں بلاک کی ہوئی ہیں، اس نے کربلا کے میدان میں تیروں کی بارش کے بیچ بھی نماز نہیں چھوڑی تھی۔ تم سے تو پرامن سڑکوں پر اذان کی آواز سن کر بھی مسجد کا رخ نہیں کیا جاتا۔ کیا غضب کی “عزاداری” ہے! سر کٹاتے وقت بھی سجدے کی مہلت مانگنے والے کا ماتم؛ نمازیں قضا کر کے منایا جا رہا ہے۔۔۔ تعجب ہے!

اور ہماری قوم کی نادان خواتین کی عقیدت کا تو کیا ہی کہنا!

تعزیہ اور جلوس دیکھنے کے لیے گھروں سے ایسی شاندار تیاریوں اور میک اپ کے ساتھ بن سنور کر نکلتی ہیں جیسے محرم نہیں، کوئی ثقافتی میلہ لگا ہو۔ انہیں بس اتنا یاد رہ گیا کہ کربلا کے میدان میں خواتین خیموں میں نڈھال اور پریشان تھیں، اِس قوم کی نا سمجھ مائیں اور بہنیں ان کی روایت ادا کرنے اپنے شہر کی مصنوعی کربلا کی طرف نکلتی ہیں، لیکن وہ یہ تاریخ پڑھنا بالکل بھول گئیں کہ ان سیدانیوں نے خیمے جل جانے، مال چھن جانے، قافلہ لٹ جانے اور اسیر ہونے کے بعد بھی اپنے حجاب اور حیا پر ہلکی سی آنچ نہیں آنے دی تھی۔ اور یہاں عقیدت کے نام پر بے پردگی اور رش کا پورا میلہ سجا ہوتا ہے۔

غرضیکہ؛ ہم نے بڑی ہوشیاری سے کربلا کو صرف ایک “رونے دھونے کی رسم” بنا لیا ہے تاکہ ہمیں عمل نہ کرنا پڑے۔ کربلا کا اصل پیغام نماز کی پابندی، حق پر ڈٹ جانا اور حیا کی حفاظت۔۔۔ اسے ہم نے بڑی سہولت سے ماتم کے شور میں دبا دیا ہے۔ إِلَّا مَا شَاءَ اللّٰهُ۔

آج کے دن چاروں طرف پھیلی اس غفلت اور جہالت کو دیکھ کر ایک درد مند دل کے ساتھ فقط یہی صدا بلند ہو رہی ہے: الٰہی! کر بلائیں رد شہیدِ کربلا کے واسطے۔

بارگاہِ ایزدی میں دعا گو ہوں؛ اللّٰهُ جَلَّ وَعَلَا ہم تمام کو محض نعرے لگانے والا نہیں، بلکہ امام حسین رضی اللہ عنہ اور جملہ شہدائے کربلا کے اصل کردار کو اپنانے والا بنائے، آمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!